بدتہذیب کی مہمان داری
وہ میرے ایک قریبی دوست عباس کے جاننے والوں کی حویلی تھی۔ چوڑ چپٹ، کسی گاؤں میں بڑے زمیندار کے ڈیرے جیسی۔ کھلا صحن، صحن میں مرغیوں، کبوتروں، کے کچے ڈربے، ایک طرف بڑے خطرناک منہ والا دم کٹا ہیبت ناک راہل ٹپکاتا گلٹری کتا بندھا تھا۔ جو ہر آنے والے کو بھونک کر خوش آمدید کہتا۔ ایک میری پسند کی اور بڑے مزے کی بات یہ تھی کہ صحن میں نیم کا ایک پرانا پیڑ تھا جسے یہ حویلی بناتے وقت بالکل نہیں چھیڑا گیا تھا۔ اس نیم کے پیڑ کے نیچے مٹی کے کیڑی مار پانی اور باجرے سے بھرے پڑے تھے۔ چڑیاں کوئے لالیاں (گرسل) باجرہ کھا رہے تھے اور پانی کے برتنوں میں پر پھیلائے اٹکھیلیاں کر رہے تھے۔
حویلی کے بڑے بڑے کمرے تھے۔ ہر کمرے میں دو دو سنگل بیڈ، مہنگے ریشمی پردے جن کا رنگ فرنیچر سے میچ کر کے بنایا اور سجایا گیا تھا۔ شہر کے بیچوں بیچ ایک محلے کی تنگ گلیوں میں ایسی حویلی کا تصور بھی دیوانے کا خواب لگے۔ عباس کیوں کہ میرا لنگوٹیا یار ہے تو وہ مجھے ہمیشہ کہتا بابا جی ”میرے ایک یار نے اپنے شہر میں بنگلہ بنایا ہے۔ کسی دن کوئی ٹائم نکالو، آپ کی ملاقات کرواتا ہوں۔ میرا وہ یار بے شک دیہات سے آیا ہے مگر اسے شاعری افسانوں اور ناول پڑھنے سے حد درجے کا لگاؤ ہے اور مزے کی بات اس نے ابھی ابھی وکالت کی ڈگری بھی لی ہے۔ آپ کا غائبانہ تعارف تو میں کئی بار اسے کرواچکا ہوں، بس ملاقات کروانا باقی ہے۔“
عباس کے دوست اکثر شرابی زانی اور جواری ہی ہوتے تھے۔ شاید اس لیے وکالت کی ڈگری کا بتا کر وہ مجھے آمادہ کر رہا تھا اور مجھے یقین دلا رہا تھا کہ وہاں شراب شباب جیسا کوئی خطرہ نہیں۔ میں اکثر جب عباس کے ساتھ کسی پارٹی یا دعوت میں جاتا تو واپسی پر عباس کو گھر تک پہنچانا کافی صبر آزما کام ہوا کرتا تھا۔ ہمیشہ زیادہ پینے سے اس حالت غیر ہوجایا کرتی تھی۔ ہر بار عباس میرے ساتھ شراب نہ پینے کا وعدہ کرکے اور بچپن کی دوستی کا واسطہ دے کر مجھے اپنے ساتھ پارٹیوں فنگشنز میں لے جاتا، سچ بات تو یہ ہے کہ میرا وقت بھی صرف عباس کے ساتھ ہی اچھا گزرتا۔
اپنا وقت اچھا گزارنے کے لیے میں بھی تھوڑی بہت ضد اور انکار کے بعد ہمیشہ ہی اس کے ساتھ جانے کو تیار ہو جاتا۔ لہذا آج بھی میں اس کے ساتھ جانے کو تیار ہوگیا۔ جب ہم اس حویلی میں پہنچے تو دیکھ کر حیرانی ہوئی۔ لاکھوں روپے فضول لگا دیے گئے تھے۔ ہر کمرے میں مہنگے فرنیچر پہ گرد مٹی کے ٹیلے جمے تھے۔ چھتوں پہ چھپکلیوں مکڑیوں نے کئی طرح کی ڈیزائننگ کر رکھی تھی۔ جس کمرے میں ہم جا کر بیٹھے اس کمرے میں رکھے گئے ڈریسنگ ٹیبل میں لگے قدآور آئینے پر مکھیوں نے اپنی من پسند کشیدہ کاری کر رکھی تھی۔
چھت میں لٹک رہے مہنگے فانوس پہ بیٹھی مکھیاں شہد کی مکھیوں کے چھتے کا منظر پیش کر رہی تھیں۔ بظاہر تو ایک نوکر بھی حویلی میں ٹہل رہا تھا، مگر وہ نوکر کم اور لڑکیاں اور شراب سپلائی کرنے والا سیلز مین زیادہ لگتا تھا کیوں کہ نوکروں کا چال چلن ایسا نہیں ہوا کرتا جیسا اس نوکر کا انداز تھا۔ وہ نوکر تو کمرے میں اچھلتی مستیاں کرتی بھورے رنگ کی بلی سے بھی بدتہذیب بدتمیز تھا۔ وہ بلی تو صرف ہمارے پیروں ٹانگوں اور کپڑوں کو منہ لگا رہی تھی مگر نوکر نے تو بغیر دھلے گلاس اور پلاسٹک کے میلے کچیلے جگ میں پانی لاکر ہی ہمارے سامنے رکھ دیا تھا۔ بے شک میں نے کبھی نوکر نہیں رکھا مگر نوکر دیکھے ضرور ہیں۔ ویسے بھی جہاں نوکر ہوں اس گھر کی اور اس گھر کے برتنوں کی حالت ایسی نہیں ہوا کرتی۔
خیر۔ تھوڑی دیر بعد حویلی کے گیٹ کے باہر گاڑی کے ہارن کی آواز آئی اور نوکر نے بھاگ کر حویلی کا بیرونی آہنی گیٹ کھولا۔ ایک بڑی بڑی مونچھوں والا گندمی رنگ کا پینتیس چالیس سال کا شخص وکیلوں والی وردی میں ملبوس پوٹھوہار جیپ سے اترا۔ جیپ سے اترتے ہی اپنے نوکر سے بولا۔ ( لالو، موٹر سائیکل چھک۔ تے ایہہ گھن موبائل نمبر، بازار ونج، بازار پوہنچ تے ہینہ نمبر تے فون کریں، میرے مہمان ہن گھدی آ۔ ) ”لالو موٹر سائیکل نکالو اور بازار جاؤ، یہ موبائل نمبر لو، بازار جا کے اس نمبر پہ فون کرنا۔ میرے مہمان ہیں ان کو لے آؤ۔“ وکیل صاحب نے مہمانوں کا نمبر اور کچھ روپے دے کر لالو کو روانہ کردیا۔
وکیل صاحب پہلے مرغیوں اور کبوتروں کے ڈربے کی طرف گئے۔ پھر کتے کے سر پر ہاتھ پھیرنے اور پیار کرنے کے بعد کمرے میں آتے ہی اپنی بلی سے لپٹ گئے۔ اپنی تمام بری عادات سے فارغ ہوکر وکیل صاحب نے عباس کو مخاطب کیا۔ ”عباس کیا حال ہے؟ اور یہ کون صاحب ہے تیرے ساتھ۔“ میری طرف اشارہ کرکے وکیل صاحب نے عباس سے دریافت کیا۔
عباس۔ خان جی یہ بابا جیونا ہے۔ جس کا میں نے آپ سے ذکر کیا تھا۔
عباس نے میری تعریفوں کے پل باندھنا شروع کردیے۔ اب میں سوچ رہا تھا۔ عباس میری تعریف کر رہا ہے یا بہت قابل صاحب علم بندہ خان صاحب کی خدمت میں لاکر خود شاباشی حاصل کر نا چاہتا ہے۔ کیوں کہ نہ تو میں اتنا صاحب علم تھا نہ اتنا بڑا لکھاری، مگر عباس میری تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملائے جا رہا تھا۔ عباس نے تو یہاں تک کہہ دیا خان صاحب دیکھتے جائیں باباجیونا آنے والے کل کا بہت بڑا نام ہوگا۔ عباس کے اپنے لیے تعریفی کلمات سن کر مجھے اپنے کم علم ہونے پہ ندامت ہورہی تھی۔
خان صاحب۔ اچھا اچھا یہ وہ ہی بابا جیونا ہے؟ جس نے عیاش کی بیوی افسانہ لکھا تھا۔
عباس۔ جی جی خان جی۔ اب پہچانا آپ نے۔
خان صاحب۔ بابا جی آپ کا افسانہ عیاش کی بیوی، پڑھ کر بہت مزہ آیا دشمن کا فوجی مارنے والی بات بہت مزے کی تھی۔ کاش خان صاحب کو میرا افسانہ عیاش کی بیوی پڑھ کر مزہ آنے کی بجائے وہ سبق مل جاتا جو میں اپنی اس تحریر میں دینا چاہتا تھا۔ مگر افسوس خان صاحب جیسے بہت سوں کو میری تحریر عیاش کی بیوی پڑھ کر صرف مزہ ہی آیا۔ خیر۔
خان صاحب نے ہاتھ دھوئے بغیر ہی فریج سے دوبوتلیں نکال کر میز پہ رکھ دیں۔ ایک تو پیپسی تھی دوسری کسی مہنگے برانڈ کی شراب او ر عباس سے کہا ”جا کچن سے تین گلاس لے آ“ اب میں خان صاحب کی نظر میں عباس کی حیثیت سمجھ چکا تھا۔ خان صاحب نے بڑے خلوص سے تین پیگ بنائے۔ عباس سے کہا۔ ”لے اٹھ کر اپنے بابا جی کو گلاس دے“ عباس نے منہ بسوڑتے ہوئے کہا ”خان جی یہ شراب نہیں پئیں گے“ اور ہنسنے لگا۔
خان صاحب۔ ”بابا جی یہ شیرنی کا دودھ ہے اور لکھاریوں کے لیے تو امرت ہے امرت۔ دو گھونٹ پی کر دیکھو دل دماغ کی سبھی تہیں کھل جائیں گی۔ پھر آپ کبھی عیاش کی بیوی نہیں لکھو گے۔ بلکہ حسیناؤں کے تھرکتے وجود ڈھونڈو گے۔ بیلی ڈانس کرتی دوشیزائیں دیکھنا چاہو گے۔“ اور دونوں زور زور سے ہنسنے لگے۔ میں چپ چاپ بیٹھا دونوں کی باتیں سن رہا تھا۔ یہ وہی لوگ تھے جو عیب کو عیب شمار نہیں کرتے۔ جن کا مقصد صرف زندگی کو رنگین بنا نا ہے چاہے رنگوں سے، کسی انسان کے لہو سے یا کسی کی عزت کے خون سے۔ آج مجھے اپنا دوست عباس بہت چھوٹا لگ رہا تھا۔
جب خان صاحب اور عباس نشے میں دھت ہوگئے تو خان صاحب نے غلیظ گالی دے کر کہا ”پتہ نہیں لالو کہاں مر گیا ہے؟ ابھی تک آیا نہیں۔ اب نمکو کھا کھا کے تنگ آگیا ہوں، کچا گوشت چاہیے اب۔ کیا ظالم بلا ہے عباس، آتی ہو گی، دیکھنا اسے دیکھ کر تیرا یہ بابا کیا نام بتایا تھا تونے؟ ہاں۔ بابا جیونا۔ بھی ہنکارے بھرنے لگے گا۔ یہ جو کہتا ہے ناں کہ میں شراب نہیں پیتا۔ ( میری طرف انگلی کا اشارہ کرکے ) اور عیاش کی بیوی افسانہ لکھتا ہے، اُس قیامت کی گھڑی اور ننگی تلوار جیسی جادوگرنی کو دیکھ کر ہونٹوں پہ جیب نہ پھیرنے لگا تو پھر کہنا۔ پورے پچاس ہزار کی شاپنگ کی ہے آج ۔ ۔ ۔ ۔ کی بچی نے، تب جا کے ٹائم دیا ہے۔ اور گانے کے انداز میں کہنے لگا لالو آجا، لالو آجا۔ نیلم آجا۔ نیلم آجا۔ ۔ نیلم یقینا اس بازاری عورت کا نام تھا جسے خان صاحب پچاس ہزار سکہ رائج الوقت کی شاپنگ کروا کر آئے تھے۔
تھوڑی دیر بعد لالو ایک برقع پوش خاتون کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی اس خاتون نے برقع اتار کر ایک طرف رکھ دیا اور شکاری بلی کی طرح شراب کی بوتل پہ جھپٹ پڑی۔ گلاس ڈکا ڈک پی کر کہنے لگی ”خان جی آپ نے تو کہا تھا میں اکیلا ہی ہوں یہاں تو تین تین ڈشکرے بیٹھے ہیں۔“ خان صاحب نے کہا ”سوہنیو! میں اکیلا ہی ہوں یہ تو مہمان ہیں اور لالو نوکر ہے اس کا تو حق بنتا ہے مالکوں کی بچی کھچی کھانا، اور عباس بھی منہ مار لے گا تو تیرا کیا جائے گا۔ بیچارہ خوش ہو جائے گا۔ “
اس نیلم نامی لڑکی نے میری طرف اشارہ کرکے کہا۔ ”تو یہ؟“ ۔ خان صاحب نے ہنستے ہوئے کہا۔ ”اگر تو اسے راضی کرلے تو ہم سب تجھے معاف کردیں گے۔ “ نیلم نے ایک ادا سے میرے بالوں میں ہاتھ مار کر کہا ”کیوں لڑکے بیمار ہے کیا؟“ تو لالو سمیت سب ہنسنے لگے۔ سچ مچ وہ بہت خوبصورت بلا تھی۔ اس کا حسن، گہرے سیاہ بال، گول دودھیا چہرہ۔ بھرا بھرا وجود پتلی صراحی جیسی کمر، دائیں ہونٹ کے اوپر گلابی سا تل سچ مچ کسی کو پاگل کردینے کے لیے کافی تھے۔
مگر میں اندھا بہرہ گونگا اس محفل میں نہ کچھ سن رہا تھا نہ دیکھ رہا تھا اور کچھ بولنا تو ویسے ہی میرے الفاظ کی توہین تھی۔ پاکستان کی اعلی ڈگری کا حامل اور ایک تعلیم یافتہ شخص، نیلم نامی اس خوبرو حسینہ کو بازؤں میں اٹھا کر انسانیت کی تذلیل کرنے دوسرے کمرے میں جاچکا تھا۔ لالو اور عباس شاپر سے چرغے سلاد رائتہ نکال کر گدھوں کی طرح نوچ نوچ کر کھانے لگے۔ آج سچ مچ مجھے عباس ایک جانور لگ رہا تھا۔ اور مجھے اپنا آپ وحشی جانوروں کی کمین گاہ میں بیٹھے الو جیسا لگ رہا تھا جس نے چار گھنٹے اس تعفن زدہ ماحول میں گزارے مگر ایک گلاس پانی تک نہ پیا۔ بس میرا صرف اتنا فائدہ ہوا کہ مجھے لکھنے کے لیے ایک نیا افسانہ مل چکا تھا۔


