مصیبت میں گھرے مہاجرین کو دیکھ کر اپنا ناشکرا پن دکھائی دیتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملک اور والدین سے انسان کا رشتہ، جب تک کہ ملک اور والدین دونوں موجود ہوں، بڑا ڈھیلا ڈھالا، سرسری، بے قدری پر مبنی اور مقابلتاً برائے نام سا ہوتا ہے۔ ملک کی لگآئی گئیں قدغنیں، قانون اور ضابطے اور والدین کی تنبیہات اور بعض اوقات روا رکھے گئے درشت رویے بہت برے لگتے ہیں۔ لیکن دونوں کی جدآئی کے بعد دونوں کی اہمیت، ضرورت اور ناقدری کا احساس بہت شدید ہوجاتا ہے۔ یقین نہیں اتا تو سات عشرے پہلے اپنی مرضی سے بھارت سے پاکستان ائے ہوئے مہاجرین آج بھی دہلوی اور جالندھری کہلانے پر سکون پاتے ہیں۔ نہ وطن کی محبت کی پیاس وطن کے پانی کے بغیر کسی اورمشروب سے بجھتی ہے اور نہ والدین کا کوئی نعم البدل ہے۔

ایک وقت تھا بھارت میں کسی کی بھینس بھی گم ہوجاتی تو بھارتی، پاکستان کی خفیہ ایجنسی کا نام لے لے کر شور مچاتے۔ اب وہاں خاموشی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس فائز عیسی کی کیس کے سلسلے میں اکٹھے ہونے والے مستند وکیلوں کی شور سن کر احساس ہوا کہ اب یہاں اگر کسی کا کٹا کھل جائے تو وہی شور مچ جاتا ہے جو کبھی بھارتی مچاتے تھے۔

سوشل میڈیا پر چھایا ہوا بے حسی پر مبنی یہ خود تباہ کن رویہ دن بدن مشہور ہوتا جا رہا ہے۔ ایک وقت تھا پاکستان کے میچ کے دوران قوم نفلیں پڑھتی اور دعائیں مانگتی۔ اب میچ سے پہلے اپنی ٹیم کے ہارنے پر شرطیں لگاتی ہے اور ہارنے کے بعد استہزآئی اور حقارت آمیز پوسٹیں۔

چند دن پہلے، بے سروپا حکومت نے، قوم کو کیکڑے کی تیل کی خوشخبری سنانے کے بعد نفلوں میں مشغول ہونے کی ہدایت کی۔ احساس زیاں اتنا ناپید ہوچکا ہے کہ تیل نہ ملنے کی بری خبر کو قوم کے ایک بڑے حصے اور کئی سیاسی لیڈران نے باقاعدہ سیلیبریٹ کرکے انجوائے کیا۔ یوں لگا پاکستان کا نہیں پی ٹی آئی کا کھدا ہوا کنواں خشک نکلا۔

میرے سامنے ایک کھنڈر اور زخم زخم جنگ زدہ شامی شہر کی تصویر پڑی ہے۔ بھوت بنے شہر کے درمیانی شاہراہ پر غمزدہ لٹے پٹے اور پریشاں حال شامی شہریوں کا جم غفیر ہے۔ محاورتا نہیں تل دھرنے کو حقیقت میں کوئی جگہ نہیں۔ کھوے سے کھوا چھلتا ہے۔ لیکن کسی کو پریشانی کی وجہ سے احساس نہیں کہ اس کے ساتھ لگا ہوا انسان شیعہ ہے کہ سنی۔ بس تباہی اور پریشانی ہے جس نے دونوں کو اکٹھا اوریکجا کیا ہے۔ لیکن جب یہ شہر زندہ روشن اور آباد تھا تو اس میں شیعوں اور سنیوں کے الگ الگ علاقے، مدرسے، مساجد، گروہ اور مفادات تھے۔

مباحثے مناظرں میں، مناظرے فتووں میں تبدیل ہوئے تو انسان مسلکوں فرقوں کے بعد بھیڑیوں میں تبدیل ہوگئے۔ پھر ایران کے ہمنواوں کے علاقے میں امریکی میزائیل گرتا تو سعودیہ کے ہمنواوں کے علاقے سے اللہ اکبر کی اواز بلند ہوتی اورسعودیہ کے ہمدردوں کے علاقے میں بم پھٹتا تو ایران کے ہمدموں کے علاقے سے ویسی صدا سنائی دیتی۔

جب شہر کھنڈر اور مساجد زمین بوس ہوئیں، گلیاں قتل گاہ اور قبرستان پناہ گاہ بنے تو آج دونوں اس ویراں شہر میں برسات کے پتنگوں کی طرح ایک ساتھ پریشاں دکھتے ہیں۔ کاش مشترکہ پریشانی کی یہ بیماری اس شہر کے باشندوں کو شہر کی بربادی سے پہلے لگی ہوئی ہوتی تو نہ پھٹے ہوئے خیموں میں ان کے کم وزن اورقبل ازوقت بچے پیدا ہوتے اور نہ ان کے بزرگ پلاسٹک کی شیٹوں اور بستروں میں دفن کیے جاتے۔ نہ ان کی بیٹیاں یورپ میں جسم فروشی پر مجبور ہوتیں نہ ان کے بیٹے نامعلوم سیلن زدہ تہہ خانوں میں موت کا انتظار کرتے۔

میں جانتا ہوں پنجابیوں کے مفادات سندھیوں بلوچوں اور پختونوں کے مفادات سے ٹکراتے ہیں اور یہی صورت حال دوسری طرف بھی ہے۔ لیکن میں نے اپنی انکھوں سے سیالکوٹ اور فیصل آباد کے پنجابی صنعتکاروں اور سرمایہ داروں کو سوات آپریشن کے دوران مردان کے سکولوں میں عارضی رہائش پذیر سوات کے پختونوں کے درمیان دولت سے بھری ہوئی بوریاں اور بریف کیس تقسیم کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ تین جدید لینڈ کروزروں میں سوار بے نام پنجابی بلال مسجد کے قریب پرائمری سکول میں ائے سکول کے دروازے بند کروائے۔

ہرآئی ڈی پی سے ماہانہ راشن کا کوپن جمع کیا اور بدلے میں نقد رقم دیدی اور بعد میں راشن کے کوپن بھی واپس کردیے۔ ایسا ہی نظارہ صدی کے بدترین سیلاب کے بعد میں نے نوشہرہ کے سڑکوں پربھی دیکھا ہے۔ جب پنجاب کے دولتمندوں نے کسی پبلسٹی کے بغیر اپنی جیبیں اور بریف کیس سیلاب کے متاثرین میں خالی کردئے اور دعاؤں کی گٹھڑیاں لے کر پنجاب روانہ ہوئے۔

نوے کی دہائی میں مشہد ریلوے سٹیشن کے ڈائننگ ہال میں کھانا کھاتے ہوئے تہران جانے والی ٹرین کا منتظر تھا۔ ٹوٹے ہوئے بٹنوں والی فوجی وردی پہنے ایک جوان بڑی یاسیت سے کھانے کو دیکھ رہا تھا۔ میں نے اسے کھانے کی دعوت دی تو اس نے کہا کہ بھوک تو لگی ہے لیکن گھر جانے کا کرایہ نہیں ہے۔ کھانے کے دوران معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ لازمی فوجی سروس پوری کرکے گھر جا رہا تھا۔ میں نے اسے ٹکٹ خرید کر دیا تو اس نے ممنونیت میں خمینی صاحب اور خامنہ ای کی دو پوسٹ کارڈ سائز تصاویر تحفتاً دیدیں۔ بھوکا تھا وردی پھٹی ہوئی تھی لیکن اپنے ملک اور مشاہیر کی محبت سے سینہ روشن تھا۔

ایک دفعہ چین میں تاشقورغان سے اورمچی کے لئے بس میں سفر کر رہا تھا۔ ختن کے قریب ایک فیکٹری مزدور اس حالت میں ساتھ والی خالی سیٹ پر آ کر بیٹھ گیا کہ جب کبھی بس جھٹکا کھاتی تو اس کے کپڑوں اور بالوں سے باقاعدہ دھول کا ایک مرغولہ اٹھ کرہوا میں منتشر ہو جاتا۔ اس نے جیب سے سگریٹ کا ایک ٹکڑا نکالا اور ماچس کی غرض سے میری طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ میں نے اسے لائٹر کے ساتھ سگریٹ بھی دیدیا جو اس نے شی شی کرتے ہوئے لے لیا۔ بڑے گہرے گہرے آسودہ کش لے کر سگریٹ پیا اور جب اترنے کا مقام آیا تو میرا ہاتھ دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر بار بار اپنی زبان میں پاک چین دوستی زندہ باد کہتا رہا۔ گرد الود تھا تھکا ہوا تھا۔ ایک مکمل سگریٹ کا مالک بھی نہیں تھا۔ لیکن چین کی دوستی اور محبت سے مامور دل لے کر جی رہا تھا۔

میں اکثر پریشانی کی حالت میں سوچتا ہوں نہ لازمی فوجی سروس ہے نہ جبری مشقت لیکن پھر بھی پتہ نہیں کیوں ہم ناشکرے پن کے شکار ہیں۔ بس یہ یاد رہے ملک اور والدین کی محبت اورقدرومنزلت کا احساس زیاں کے بعد ہوتا ہے اور شدید ہوتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •