اے پی ایس والدین کا احتجاج اور ریاستی سنگدلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"mehwish\"سولہ دسمبر دو ہزار چودہ ایک ایسی ہولناک تاریخ ہے جس سے ہر پاکستانی واقف ہے۔ پاکستان کیا بلکہ دنیا کی تاریخ کے سیاہ ترین لمحات میں سے شمار کیا جانے والا یہ دن۔ آنے والی کئی کئی نسلوں کو نہیں بھول پائے گا۔ بھولنے والا واقعہ ہی نہیں۔ بس ہر کسی کا یاد کرنے کا طریقہ ضرور مختلف ہوگا۔ ہم جیسے بد بخت ہر سال سولہ دسمبر کو اپنی سوشل میڈیا پہ تصویر کالی کر لیں گے۔ تاکہ سب کو یاد رہے کہ ہمیں یاد ہے۔ پھر ٹیلی ویژن والے ہر سال اس تاریخ پہ درد بھرے نغمے اور تصویر دکھا کہ سب کی آنکھیں نم کر دیں گے۔ اور  بتائیں گے کہ انہیں یاد ہے۔ بڑی بڑی گاڑیوں میں سے اترنے والے بڑے بڑے صاحبان گرامی پوڈیم پہ کھڑے ہو کے دہشت گردی کے خلاف نعرے لگایں گے۔ اور لوگ تالیاں بجائیں گے۔

اس تمام منظرنامے میں اگر کہیں ذکر نہیں ہے تو ان والدین کا جو آنسو تو پونچھ کے بیٹھ گئے۔ ان خاندانوں کا جن کو ابھی بھی ایک صاف شفاف انکوائری کا انتظار ہے۔ سنا تھا کچھ ملزمان کو بذریعہ ملٹری کورٹس پھانسی ہوگئی ہے۔ لیکن وہ کون تھے۔ ان کا سرغنہ کون تھا۔ انہوں نے ایسی گھناؤنی حرکت کرنے کا سوچا بھی کیوں اور کیسے؟ سوگواران روتے رہے۔ سینہ پیٹتے رہے۔ اور آگے بڑھنے والے آگے بڑھ گئے۔

کچھ ماہ پہلے عمران خان کے آگے شور مچا بیٹھے۔ انہیں کیا معلوم کے سب شور برابر نہیں ہوتے۔ دھاندلی کا شور ریڈ زون میں دھڑلے سے مچایا جا سکتا ہے۔ مگر ریڈزون میں غمزدہ ماں باپ اپنے بچھڑے ہوئے لخت جگر کے لئے رو نہیں سکتے۔ میڈیا پہ بھی کوریج زیادہ نہ آ سکی۔ بھائی ہمیں تو دنیا کو منہ دکھانا ہے نا۔ نواز شریف افتتاح کرنے تو پاکستان بھر میں کہیں بھی جا سکتے ہیں۔ مگر چارسددہ کا دورہ نہیں کر سکتے۔ سری لنکا اور مالدیپ کا دورہ کر سکتے ہیں۔ مگر گاہے بگاہے ان خاندانوں کی دل جوئی نہیں کر سکتے کیونکہ ہم تو یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ سب ٹھیک ہے۔ راحیل شریف دہشت گردوں کو سخت سے سخت سزا دلوانے کا بیان تو دے سکتے ہیں۔ مگر یہ نہیں بتا سکتے کہ آخر وہ کون سا دہشتگرد ہے جو ابھی تک ہم سب میں چھپا بیٹھا ہے۔ جب دہشتگردوں کی کمریں ٹوٹ گئی ہیں تو ہمارے زخم بھرتے کیوں نہیں؟ آج بھی ہر ماں اپنے بچے کو سکول بھیجنے سے کیوں ڈرتی ہے؟ آج بھی یہ خوف کیوں ہے کہ ہمارے مستقبل کو خطرہ ہے؟

سچ تو یہ ہے جناب کہ ہم سب سیاست ہی کر رہے ہیں۔ جس نے جو کھونا تھا وہ کھو چکا۔ اسےانصاف نہ ملا۔ آج بھی وہ دربدر کی ٹھوکریں کھاتا پھر رہا ہے، ریاست اسے خونخوار آنکھوں سے دیکھتے ہے۔۔۔ کیونکہ یہ ریاست ماں نہیں بلکہ ایک جن ہے۔ اس جن کے آگے نہ سوال کیا جا سکتا ہے نہ احتجاج کیا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ احتجاج بھی بس چند لوگوں کا حق ہے۔ سب کا نہیں۔

ظلم پہ ظلم ہوا جا رہا ہے اور میں سوچ میں غرق ہوں کہ کیا لکھوں۔ خواب لکھوں کہ عذاب لکھوں۔ میں بھی ایک ماں ہوں۔ میرے دو چھوٹے بیٹے ہیں جو اس وقت موج مستی میں کھیل رہے ہیں۔ ان کو ہلکا سا بخار ہوجائے یا باہر کی کسی چیز کے کھانے سے پیٹ تک خراب ہوجائے تو آئندہ وہاں سے کھانا نہ منگواؤں۔ اور یہاں کیا پڑھ رہی ہوں کہ ریڈ زون میں اے پی ایس کے پیارے بچوں کے والدین آنا چاہتے تھے اور وہاں سے ان کو واپس بھیج دیا گیا۔ یہ کیسا انصاف ہے۔ یہ کسی سنگدلی ہے۔ یہ کیا ریاست ہے۔ اتنے بڑے سانحے سے گزرنے کے بعد بھی نہ ہم میں شرمندگی آئی نہ ہی دردمند کے دکھ کو سمجھنے کی عقل۔

آخر وہ غریب ماں باپ ایسا کونسا سوال پوچھ رہے تھے جس کی وجہ سے انہیں واپس گھر بھیج دیا گیا؟ آخر ان کے لبوں پہ اپنے پیاروں کو کھونے کے علاوہ ایسا کونسا شکوہ تھا جو ہمارے بڑے صاحبان کو پسند نہ آیا؟ آخران کا گریہ ہمارے لئے سبق آموز کیوں نہیں؟

کیونکہ ہم ابھی بھی کسی خوش فہمی کا شکار ہیں کہ ہم دنیا کی سب سے طاقتور اور با عزت قوم ہیں۔ پانی والی گاڑی چلا سکتے ہیں، اسرائیل کو جمعہ کے خطبے سے نیست و نابود کر سکتے ہیں اور زید حامد کے مشوروں پہ چل کر ہم پورا نہیں تو کم از کم آدھا ایشیا تو قابو کر ہی سکتے ہیں۔ چاہے اس خمار میں ہمارے بچے ہم سے بچھڑ جائیں اور ان کو پال پوس کے بڑا کرنے والے رو رو کے ہلکان کیوں نہ ہو جائیں۔ راستہ دو، ہم ایشین ٹائگر ہیں، ہم تبدیلی ہیں، ہم بہادر ہیں، ہم مغرور ہیں۔

بس ریڈ زون میں نہتے سوال کرنے والوں کے آگے مجبور ہیں۔ ہٹو یہاں سے۔ راستہ دو۔ پاکستان ترقی کی راہ پہ گامزن ہے۔ اپنا رونا دھونا ہٹاؤ۔ وہ دیکھو۔ شاہراہ دستور پہ لگا ہر جھنڈا۔ سلوٹ مارو۔ اور گھر جا کے اپنے لاڈلوں کی تصویروں کو پیار کر کے سو جانا۔ اس ریاست کا اندھا انصاف یہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply