عمران کا سونامی یا میاں کا پانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"adnan-khan-kakar-mukalima-3\"

ہم لاہوری سہمے ہوئے بیٹھے ہیں۔ کل عمران خان صاحب نے سونامی کا اعلان کر دیا ہے۔ ابھی کل ہی سونامی کے بغیر ہی انہوں نے اپنے دفتر کے باہر ایک بڑی سڑک کو بند کر کے ہمیں بڑا تنگ کیا تھا۔ اب سونامی کے بعد تو پتہ نہیں کیا ہو گا۔ بہرحال یہ وقت ایسا ہے کہ لاہوری حضرات جاننا چاہتے ہیں کہ عمران کا سونامی لاہوریوں کو بہا لے جائے گا یا میاں کی سڑکیں ان کو راہ نجات دیں گی۔ ان پریشان لاہوریوں کی راہنمائی کے لیے ہم نے تحریک انصاف کے جانثار خان مظلوم اور مسلم لیگ ن کے اچھی بٹ صاحبان سے ملنے کا فیصلہ کیا۔

ہم: جانثار خان مظلوم، آپ کے ساتھ ہمیشہ دھاندلی ہو جاتی ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ اب آپ میاں صاحب کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں۔ وہ موٹر وے اور سڑکیں بناتے تھے، تو اب تین سال بعد آپ نے بھی یکلخت جاگ کر مقابلہ شروع کر دیا ہے اور کرپشن وغیرہ کی بجائے سڑکوں کا مقابلہ کرنے لگے ہیں۔

جانثار خان مظلوم: دیکھیں بھائی جان۔ ہم نے قوم کو ہر روز سو سو مرتبہ بتایا کہ میاں صاحب کرپشن کرتے ہیں اور یہ سڑکیں اور پل وغیرہ وہ کرپشن کرنے اور اتفاق فاونڈری کا لوہا لگانے کے لیے بناتے ہیں۔ ایک ایک سڑک پر وہ اربوں کھربوں روپے کی کرپشن کر جاتے ہیں اور دن دگنے رات چوگنے امیر ہو رہے ہیں۔ اب ہم نے سوچا کہ ہم بھی یہی کرتے ہیں اور میاں صاحب کی طرح الیکشن جیت جاتے ہیں۔

\"imran-khan-3\"

ہم: خدا آپ کو بھی ویسی ہی ترقی دے۔ مگر پہلے آپ ان سب چیزوں کو برا کہتے تھے۔ اب خود وہی کر رہے ہیں۔ لوگ تو سوچیں گے کہ آپ کی سوچ بلند نہیں ہے۔

جانثار خان مظلوم: بلند کیوں نہیں ہے؟ وہ اقبال نے کہا تھا نہ ”تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر“، تو اب عمران خان صاحب نے بھی یہ نیچے نیچے سے پل اور زمین پر گری ہوئی سڑکیں بنانے کی بجائے پٹواریوں کو ایسا چیلنج دیا ہے کہ وہ اس وقت غش کھا چکے ہوں گے کہ خان صاحب کی فکر کتنی بلند ہے۔

ہم: اوہ۔ کیا کر دیا خان صاحب نے؟

جانثار خان مظلوم: انہوں نے مالم جبہ کے پہاڑوں پر چیئر لفٹ لگا دی ہے اور سیدھے چٹانوں پر جا کر اترے ہیں۔ نیچے سڑک پر لوگ رینگتے ہوئے جب چار گھنٹے میں چوٹی تک پہنچتے ہوں گے، تو اوپر سے گزرتی خان صاحب کی چیئر لفٹ میں لوگوں کو بیس منٹ میں وہاں پہنچتے دیکھ کر خان صاحب کی بلند نگاہی کی داد دیتے ہوں گے۔ خان صاحب وزیراعظم بنتے ہی لاہور میں بھی چیئر لفٹ لگا دیں گے۔ ایک چیئر لفٹ نہر پر ٹھوکر نیاز بیگ سے جلو موڑ تک چلے گی اور دوسری مال روڈ پر اور تیسری جیل روڈ پر۔ بلکہ ہم تو ملتان روڈ سے رائے ونڈ روڈ تک بھی چیئر لفٹ لگائیں گے۔

\"imran-khan-4\"ہم: وہ کیوں؟

جانثار خان مظلوم: ہمارے ٹائیگر اس پر بیٹھ کر رائے ونڈ پیلس جائیں گے اور دھرنا دیں گے۔

ہم: یہ تو بڑی اچھِی بات ہے۔ ویسے خان صاحب کا ظرف بہت بڑا ہے۔ محمود اچکزئی کے جس انداز میں چادر اوڑھنے پر وہ اعتراض کر رہے تھے کہ زنانہ ہے، چیئر لفٹ پر وہ خود چادر اوڑھے بیٹھے تھے۔

جانثار خان مظلوم: وہ تو انہوں نے افواہوں کو ختم کیا ہے۔ پٹواری کہہ رہے تھے کہ خان صاحب اور پرویز خٹک کے اختلافات ہو گئے ہیں۔ اب چیئر لفٹ پر خان صاحب نے خٹک صاحب کی چادر کا پلو پکڑ کر آدھی خود اوپر لے لی۔

ہم: واہ۔ یہ تو خوب کیا۔ اب تو کوئی ان دونوں پر اختلاف کا الزام نہیں لگا سکتا ہے۔ اب تو یہ دونوں دوپٹہ بدل بھائی بن چکے ہیں۔ ویسے یہ پہلا موقع ہے جب خان صاحب کو تحریک انصاف کے دو رنگے دوپٹے کی بجائے کوئی دوسری چادر اوڑھے دیکھا ہے۔ لگتا ہے کہ ان میں وسعت قلب پیدا ہو رہی ہے۔

جانثار خان مظلوم: ہاں جی۔ جیسے ہی خان صاحب سارے پٹواریوں، جیالوں اور مولاناؤں کو مار مار کر زمین چٹا دیں گے، تو پھر ان کی اصل برداشت کی سب ایسے ہی داد دیں گے۔


\"lakshmi-chowk-1971\"ہم خان صاحب کی رحم دلی اور وسعت القلبی سے متاثر ہو کر مسلم لیگ ن کے مشہور لاہوری لیڈر اچھی بٹ صاحب کے پاس پہنچے۔

ہم: سلام بٹ صاحب۔ یہ کل تحریک انصاف ریلی نکال رہی ہے۔ آپ پریشان تو نہیں ہیں؟

اچھِی بٹ: ہاہاہا۔ پریشان ہم کیوں ہوں گے؟ ہمارا سعد رفیق تو پوری ریل نکالتا ہے، وہ بھی دن کی دس گاڑیاں۔ یہ تانگہ پارٹی تو بس سال کی ایک چھوٹی سی ریلی نکالتی ہے۔

ہم: ابھی برسات کا موسم چل رہا ہے۔ پچھلے تیس پینتیس سال سے بیشتر وقت یہاں میاں صاحبان کی حکومت رہی ہے اور سڑکوں پر پانی کھڑا ہونے کے مسئلے میں کوئی ترقی دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ یہ دیکھیں 1970 کی تصویر۔ اس میں جو پانی کھڑا ہے، وہی حال ابھی بھی ہے۔

اچھِی بٹ: آپ سونامی کے بندے لگتے ہیں۔ ترقی کیوں نہیں ہے۔ یہ دیکھیں۔ اس تصویر میں لکشمی چوک میں پانی اس بندے کے گڈے (ٹخنے) تک آ رہا ہے۔ یہ دیکھیں تازہ تصویریں۔ اب پانی بندے کے پیٹ تک آ رہا ہے۔ ترقی کیسے نہیں ہوئی ہے۔ میاں صاحب کے دور میں تو لاہور میں پانی پانی ہو گیا ہے اور ادھر پیپلز پارٹی کی حکومت میں تھر میں لوگ پانی کی ایک ایک بوند کو ترس رہے ہیں۔

\"lahore-water-3\"ہم: مگر یہ بچارا تو موٹر سائیکل سمیت پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔

اچھِی بٹ: دیکھیں فری میں نہا رہا ہے۔ اور موٹر سائیکل دیکھیں دھل کر کیسے لشک رہی ہے۔

ہم: مگر جس طرح یہ گرا ہے، اسے چوٹ بھِی تو لگ سکتی ہے۔ مر بھی تو سکتا ہے۔

اچھِی بٹ: کفر مت بولو بادشاہو۔ جس کی جتنی لکھی ہے اور جہاں لکھی ہے، وہیں پوری ہونی ہے۔ میاں صاحب اس میں کچھ نہیں کر سکتے ہیں۔ خدا کا حکم تو پورا ہوتا ہی ہے، چاہے سڑک پر پانی ہو یا ریت۔

ہم: یہ کچھ گاڑیاں تو تقریباً پوری ڈوبی ہوئی ہیں۔

اچھِی بٹ: بادشاہو، انگریز کے زمانے میں لاہور کی سڑکوں پر چھڑکاؤ ہوا کرتا تھا تاکہ مٹی بیٹھ جائے۔ اب دیکھو ترقی۔ میاں سرکار کی طرف سے فل پانی لگا کر سڑک کے علاوہ پوری گاڑی بھی دھل رہی ہے۔ ویسے سروس سٹیشن پر یہ گاڑی دھلوانے جائیں تو اگلے تین سو روپے چارج کر لیتے ہیں۔ یہاں دیکھو ان کی مفت میں موجیں لگی ہوئی ہیں۔

\"lakshmi-chowk\"

ہم: اچھا یہ عمران خان کل سونامی لا رہا ہے۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے آپ کیا کر رہے ہیں؟

اچھِی بٹ: سونامی۔ یعنی بہت زیادہ پانی۔ بادشاہو، پہلے وہ اس سے زیادہ پانی لا کر دکھائے تو مانیں جتنا اس وقت لاہور میں ایک بارش میں کھڑا ہو جاتا ہے تو ہم اس کی کارکردگی کے بارے میں سوچیں گے۔ میاں صاحب سے مقابلہ کرنے چلا ہے۔ اب الیکشن سے پہلے میاں صاحب نے بس قوم کو ٹی وی پر یہ بتانا ہے کہ سونامی میں بندے کی گردن گردن تک پانی آ جاتا ہے، اور عمران خان لاہور میں سونامی لانے کا وعدہ کر رہا ہے، پھر دیکھنا ن لیگ کو دھڑا دھڑ کیسے ووٹ پڑتے ہیں۔ اس کمر کمر پانی سے ہی لوگ تنگ آ چکے ہیں تو گردن گردن کے نام پر ہی انہوں نے ہاتھ جوڑ دینے ہیں۔

ہم حیران ہوتے ہوئے واپس ہوئے۔ اگست کا مہینہ ہے۔ مون سون جوبن پر ہے۔ ہر دوسرے دن لاہور میں شدید بارش ہوتی ہے اور آدھا لاہور ڈوب جاتا ہے۔ اور عمران خان لاہور میں سونامی لانے کی یقین دہانی کرا رہے ہیں۔ اور میاں صاحب بھری برسات میں آدھا لاہور کھود چکے ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1431 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments