جنس، طاقت اور ذائقہ
مجھ سے میرے ایک امریکی دوست نے پوچھا کہ ایک اوسط پاکستانی کی زندگی کا خلاصہ بیان کرو۔ تو میں نے سوچنا شروع کیا کہ وہ کیا نقاط ہیں جن میں ایک عام پاکستانی کی زندگی کو سمویا جا سکے۔ تو پیشِ خدمت ہیں ایک عام پاکستانی کی زندگی کے چیدہ چیدہ نقاط۔
1۔ معشوق، معشوقہ، بیوی، شوہر، جنس، گرل فرنڈ، بوائے فرنڈ، ریلیشنشپ، ازدوج، خاندان، بچے وغیرہ وغیرہ۔ میری نظر میں یہ سب زندگی کے ایک ہی باب کے مختلف الفاظ ہیں۔ گو کہ میں اس کو زندگی کی ایک طویل کتاب کا ایک چھوٹا سا باب مانتا ہوں لیکن سچ پوچھیے تو جہاں بھی جاتا ہوں سب سے زیادہ بات اسی باب کی ہوتی ہے۔ کچھ رنگ ڈھنگ مختلف ضرور ہو سکتا ہے لیکن بات سب اسی جنس کی چھتری کے اندر کرتے ہیں۔ کوئی فلم دیکھ لیجیے، کوئی اشتہار دیکھ لیجیے، کوئی گانا سن لیجیے، کسی جمعہ کا خطبہ سن لیجیے یا اخبار پر ایک نگاہ ڈال لیجیے۔
کیوں مجھے بس اس ایک ہی موضوع ہر ہر جگہ بات ہوتی نظر آتی ہے؟ اور جو لوگ اس سب کے خلاف بات کرتے ہیں، بات تو دراصل وہ بھی اسی موضوع کی ہی کر رہے ہیں نا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ جب جب میں سگرٹ نوشی کے خلاف کچھ دیکھتا ہوں، مجھے سگرٹ کی اور طلب ہوتی ہے۔ میں تو نہ جانے امریکہ کو کیا سمجھ بیٹھا تھا، بات یہ سب بھی ایک اسی موضوع کی ہی کرتے ہیں۔ بس انگریزی میں کرتے ہیں تو انجان کان کو اوچھے محسوس نہیں ہوتے۔
سوچیے ذرا اور مجھے بھی بتائیے کہ وہ دنیا کی کون سی ایسی مصنوعات ہیں جو جنس کے ذریعے نہیں بیچیں جا سکتیں۔ سوچ لیا؟ غالب گمان ہے کہ جو آپ نے سوچا ہے وہ دنیا میں کہیں جنس کی بنیادوں پر بک رہا ہے۔ اور جب میں کہتا ہوں کہ بک رہا ہے تو میری مراد صرف ٹیلیویژن پر دکھنے والے اشتہارات نہیں ہیں۔ اس میں ہر وہ روز مرہ کی گفتگو بھی شامل ہے جو ہم جانے انجانے میں کرتے ہیں۔
2۔ اگر آپ کو جنس نہیں بیچا جا رہا تو یقین کر لیجیے آپ کو پیسا بیچا جا رہا ہے۔ پیسا؟ پیسا کہاں بکتا ہے؟ صاحبوں و صاحبات، یقین کیجیئے بکتا ہے۔ اور آپ نے خود کتنی دفعہ خریدا ہے۔ سب سے پہلے یہ مال آپ کو آپ کے اپنے گھر والے ہی بیچتے ہیں۔ ”بیٹا خوب محنت کر کے پڑھو تا کہ آپ کا اچھے سے کالج میں داخلہ ہو سکے اور پھر آپ کو ایک اچھی سی نوکری (یا شوہر) مل سکے۔ اور پھر آپ ایک اچھی سی گاڑی اور گھر لے سکو گے۔ “ کیوں پھر یاد آیا کہ یہ منجن آپ کو کس نے بیچا تھا؟ تو آپ سب بیروزگار نوجوانوں اور نا خوش شادی شدہ لوگوں سے میری گزارش ہے کہ براہ کرم اس شخصیت کو رابطہ کیجیئے جس نے آپ کو یہ منجن بیچا تھا۔
اکثر مواقعوں پر یہ دونوں منجن اکٹھے بکتے ہیں۔ ”بیٹا شادی کر لو، آنے والی اپنا رزق ساتھ لے کر آتی ہے۔ “ اس ایک جملے نے اکیلے نجانے کتنی زندگیاں برباد کی ہوں گی۔ ”بیٹا اچھا پڑھو اور حسین بھی رہو تاکہ اچھا شوہر یا بیوی ملے۔ “ اور میرا پسندیدہ ”ایسا کرو گے تو کون رشتہ دے گا؟ “ ”
ویسے تو زندگی کے ان دو ابواب میں عمومیت کی زندگی کا احاطہ ہو جاتا ہے۔ آپ کی زندگی کے تمام ارادے، تمام اعمال، تمام ایمانیات اور رات و رات امیر ہونے کے تمام کمال خیالات، سب زندگی کی بہت طویل کتاب کے دو بہت چھوٹے سے ابواب میں سمو جاتے ہیں۔ اور یہ دو وہ معمے ہیں جو کم از کم اس ناچیز نے کسی کی زندگی میں حل ہوتے نہیں دیکھے۔
3۔ لیکن ان دو ابواب سے زندگی کا ایک اور باب جنم لیتا ہے۔ کچھ لوگ اس تک پہنچنے کے لئے پہلے دو موضوعات سے ابھر کر آتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگوں کو اس کا اتنا نشہ ہوجاتا ہے کہ ان کے لئے باقی سب بے معنی ہو جاتا ہے۔ اس سب کے باوجود بہت کم لوگ اس کو حقیقی معنوں میں پانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ باب ہے طاقت کا۔
ہم سب نے زندگی کے کسی نا کسی موڑ پر، مختلف حالات میں طاقت کا مزہ ضرور چکھا ہے۔ وہ چاہے چھوٹے بہن بھائیوں کی صورت میں ہو، بیوی یا اولاد ہو یا آپ کے کمزور دوست ہی کیوں نا ہوں۔ ہر جگہ پر ہر گروہ میں کہیں نا کہیں ایک باس ضرور ہوتا ہے۔ اور آپ بھی کہیں کے باس ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہر ایک کو طاقت پسند ہوتی ہے۔ کیونکہ میں نے کبھی کسی کو اپنی طاقت کو چھوڑتے نہیں دیکھا۔ بلکہ میں نے تو اکثر طاقتور کو اپنی طاقت بچانے کے لئے رعایا پر ظلم کرتے دیکھا ہے۔
اب چاہے وہ قوم کے وسیع تر مفاد میں عوام کا قتل ہو یا بچے کے سوال پوچھنے پر آپ کا جھانپڑ ہو۔ ”بڑوں کے آگے زبان چلاتا ہے نالائق۔ “ وہ سب جو طاقتور کی طاقت پر سوال اٹھائے، اسے دبا دو، مار دو، جلا دو بس ختم کر دو یہاں تک کہ کوئی تمہیں ختم کرے۔ یہ طاقت کا دائرہ ہے۔ یوں ہی چلتا آیا ہے۔ مگر امید ہے کہ کبھی تبدیل ہو گا۔
اب دیکھیے نا شادی کا ادارہ کتنا مزے کا ہے۔ کتنا اچھا لگتا ہے نا کہ آپ بس ایک آواز لگائیں اور پانی کا گلاس آپ کے ہاتھ میں نمودار ہو جائے۔ بتائیے لگتا ہے نا اچھا۔ مجھ سے نا پوچھیے، مجھے کیا معلوم، میں تو گھر کا سب سے چھوٹا ہوں۔ تو یہ ادارہ آپ کو طاقت کا مزہ بھی دیتا ہے اور جنس کا بھی۔ پیسے کے لئے بہرحال تگ و دو کرنی پڑتی ہے۔ اور اچھی خاصی کرنی پڑتی ہے۔ لیکن اس عام آدمی کو تو کچھ اور بتایا گیا تھا۔
”شادی کر لو، بچے پیدا کرو، وہ اپنا رزق خود لے کر آئیں گے۔ “ اور پھر عام آدمی نے پوچھا کہ ”یہ تو آ گئے لیکن رزق میں فراغت نہیں ہوئی! “ اور پھر اسے احساس دلایا جاتا ہے کہ ”ہم کیا کریں؟ بہرحال اب یہ تمہاری ذمے داری ہیں۔ خیال رکھو۔ “ اور پھر یہ دائرہ دوبارہ گھومتا ہے اگلی نسل پر۔ اولاد بیک وقت آپ کا اثاثہ بھی ہیں، آپ کی سرمایہ کاری بھی اور آپ کی ذمے داری بھی۔ اور پھر ایک وقت آتا ہے کہ آپ کی طاقت آپ کی ریاست کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے، آپ کی اولاد کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے اور وہ اس طاقت کا ویسا ہی استعمال کرتے ہیں جیسا کہ انہیں سکھایا گیا ہوتا ہے۔ آپ کی بے لوث محبت بھی تب تک ہی بے لوث ہوتی ہے جب تک محبوب آپ کے قبضے میں ہو۔
4۔ ایک آخری باب ہے، بہت غیر اہم سا ہے لیکن عمومیت کی زندگی میں بہت کثرت سے پایا جاتا ہے۔ وہ ہے کھانا۔ کھانا بہت سے موقعوں پر باقی تمام ابواب پر گفتگو کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ آپ کسی کے ساتھ، کسی کے گھر کھانے پر جاتے ہیں اور وہاں کیا گفتگو کرتے ہیں یہ تو آپ ہی بہتر بتا سکتے ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک اپنے طور پر کھانے اور ذائقوں کا ماہر ہے۔ ہم غالباً وہ قوم ہیں جو کھانوں کے لئے نہیں بلکہ کھانے کے لئے جانے جاتے ہیں۔
اور میری ناقص رائے میں جو کچھ ہم کھانے کے نام پر تھورتے ہیں اس میں اس میں کدو کسی چیز کا ذائقہ نہیں ہوتا۔ میں جب بچپن میں کہتا تھا کہ مجھے کھانوں کا ذائقہ نہیں آتا تو وہ ہنستے تھے۔ ”اوئے تمہیں لاہوری ہوتے ذائقہ نہیں آتا؟ ہا ہا ہا۔ “ کسی بھی چیز کو میٹھا کر دیجیئے تو وہ عوام کا پسندیدہ ہو جاتا ہے۔ پھر چاہے وہ لسی ہو، شیرمال، کوکا کولا، جامِ شیریں، مٹھائی یا چائے۔ اور پھر جن کھانوں پر بہت ناز کرتے ہیں ان میں کھانوں کا نہیں بلکہ مسالوں کا ذائقہ ہوتا ہے۔ ہم میں سے اکثریت گوشت اور سبزیوں کے ذائقوں سے نا آشنا ہے۔ بس جو سب نے کہ دیا کہ ذائقہ دار ہے ہم نے اسے ذائقہ دار مان لیا۔ کھانے میں ہم نے شاید ہی کبھی اپنی ترجیہات کو پنپنے کا موقعہ دیا ہو۔ سب کو حلوہ پوری کیسے پسند ہو سکتی ہے؟
میں تو ایک ایسی دنیا کی تلاش میں نکلا تھا جہاں ان موضوعات پر اتنی ہی گفتگو ہو کہ جتنا کہ آپ کے نام کے متعلق ہوتی ہے۔ جہاں کسی بھی کی زندگی کی کتاب میں ان ابواب میں کسی کا بھی کوئی عمل دخل نہ ہو، چاہے وہ افراد ہوں یا ادارے یا ریاست۔ جہاں یہ خوشی اور کامیابی کا معیار نہ ہوں۔ خیر معیار کیا بات کیجیئے۔ جو بنی نوع انسان دو لٹکتے ماس کے لوتھڑوں کو سیکس سمبل بنا سکتی ہے، اس کے معیارات پر مجھے شدید تحفظات ہیں۔
ان ابواب کی اہمیت سے انکار نہیں ہے۔ ان کی کثرت اشاعت سے تکلیف ہے۔ تو اگر آپ کی محافل میں ان موضوعات کے علاوہ کوئی بات ہوتی ہے، اگر آپ مسائل کے حل کی بات کرتے ہیں، اگر آپ نئے خیالات کی بات کرتے ہیں، اگر آپ ان ابواب کے علاوہ زندگی کا کوئی اور باب کھولے بیٹھے ہیں تو آپ میری اکیس توپوں کی سلامی قبول کیجیئے۔ آپ مہان ہیں بلکہ آپ تو پرش ہی نہیں۔


