ڈاکٹر انور سجاد: ایک ”پرومیتھئیس“ استاد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے ساتھی کا کاندھا تھپتھپاتے ڈاکٹر انور سجاد صاحب نے کچھ اس انداز سے کہا جیسے وہ پوری قوم کے نوجوانوں سے مخاطب ہوں۔
ان کی دو شاگرد جو، ان کی چہیتی بھی تھیں اور اس وقت سے ان کے ساتھ کھڑی تھیں، جب تقریبا سارے نوجوان دل برداشتہ یا نوکری نا ملنے کی نا امیدی کے بعد ان کا ساتھ چھوڑ چکے تھے۔ امید تو ہمیں بھی نہیں تھی۔ کیونکہ یہ ادارے کا کام تھا ڈاکٹر انور سجاد کا نہیں۔ لیکن سیکھنے کا احساس ہمیں روز وہاں لے جاتا تھا۔ ایسے میں کئی سال بعد ان سے ملنے آنے والے نوجوان سے استاد محترم کا یہ جملہ ہم نے فوراً آڑے ہاتھوں لیا منہ سے بولا کچھ نہیں، سوالیہ نظروں سے ان کی طرف دیکھا تو گویا وہ انتظار میں ہی تھے۔ ہماری طرف دیکھ کر پراعتماد اسی طرح مستحکم لہجے میں بولے۔

” بھئی مجھے نوجوانوں سے بہت امیدیں ہیں ان پہ بڑی بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہے“ ۔
مجھے کراچی میں رہتے ہوئے نوجوانوں کی ان ذمہ داریوں کا کسی حد تک احساس تھا۔ یوں بلاواسطہ ہمارے ذمہ بھی ایک کام لگ گیا تھا شاید۔

میں کراچی کے حالات پر اکثر کڑھتی تھی۔ لکھنے کو یہاں بہت ہے۔ لیکن اس کی وسعت کا دائرہ صرف نوجوان ہیں۔ تو میں بات نوجوانوں کو مخاطب کر کے ہی کرنا چاہتی ہوں۔
نوجوان قوم کے معمار سمجھے جاتے ہیں دنیا کی ہرقوم اپنے آنے والی نسلوں کے لئے کام کرتی ہے اور یہ نسل قوم کی نمائندہ سمجھی جاتی ہے، پاکستانی سیاسی نظام کی طرح فرد واحد یا ایک خاندان کی نہیں۔

لیکن کئی دہائیوں پر مشتمل مضمحل متزلزل ملکی حالات اور منتشر ترین ”بہبودی“ کے جو لچھے نوجوانوں نے کھائے ہیں اس نے آپ نوجوانوں کے ذہن کو ماؤف کردیا ہے۔ آپ کہیں اکٹھے تو ہیں لیکن اپنے ہی جیسے دوسرے نوجوان کے احساس سے عاری۔ محض سیاسی محرکات آپ کو حرکت میں لے آتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کا کہیں کوئی کردار موجود نہیں ہے۔ آپ کسی گاؤں گوٹھ میں رہنے والے دیہاتی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے کیونکہ آپ اپنی اہمیت نہیں جانتے۔ شہری نوجوان ہو یا دیہاتی جسے صرف ووٹ ڈالتے وقت پوچھا جاتا ہے۔

لیکن جیسے ہی کسی سطح پر، کسی بھی لگی بندھی سوچ سے آپ نے انحراف کیا ہے تو آپ نافرمان، بد تمیز یہاں تک کے مجرم بنائے گئے ہیں، گالیاں کھائی ہیں اور ایسے ناموں سے نوازے گئے جن سے مہذب معاشرے اجتناب برتتے ہیں۔ ایسا آپ کے ساتھ حال ہی میں ہوا ہے۔

آئیے آج سے ذرا پیچھے کی طرف چلتے ہیں۔

جب کراچی کے شہری نوجوانوں نے ایک تنظیم کا ساتھ دیا جو نوجوانوں کے لئے نوکریوں کی خواہاں تھی، روزگار مانگ رہی تھی۔ حقوق میں حق تلفی پر اکٹھی تھی۔ الیکشن میں بھاری تعداد سے جیت کر کسی مستحکم جگہ پر آ کھڑی ہوئی تھی۔

اس نے کئی دہائیوں سے قابض نام نہاد ملائیت کو ہرایا تھا، اسی وقت کی سب سے مضبوط پارٹی اس کے نعرے روٹی کپڑا مکان پر روزگار کے نعرے کو ترجیح دی تھی۔ یہ نوکری یا روزگار ان کا حق بھی تھا اور اس میں ان کا شخصی وقار بھی قائم تھا خودداری بھی۔ خود مختاری بھی۔ روٹی کپڑا اور مکان پر بھلا ایک تعلیم یافتہ، باشعور شہری نوجوان کیوں کر قائل کیا جا سکتا تھا۔ سو قائل نہیں ہوا۔
آواز اٹھی، نوجوان پیچھے آئے اور ایکشن میں ووٹوں سے بازی جیت گئے۔

کراچی اور پورے ملک سے جو نتائج آئے اس نے کراچی کو ایک الگ جگہ پر لا کھڑا کیا۔ ایک دوسری سیاسی پارٹی نے جس کا سیاسی وجود محض مفاد پرستی، موقع پرستی پر کھڑا تھا۔ نوجوانوں کی اس تمام کاوشوں، ضرورتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اس پر لسانیت کا وہ گہرا چاقو گھونپا جو نوجوانوں کی جانیں لیتا چلا گیا۔

لسانیت کے نعرے تلے ان کی تمام توانائیاں سلب کر کے ان کو زندہ درگور کیا گیا۔

نفرت کے یہ بیج بونے والوں کی خود ذرا ملک سے محبت ملاحظہ کریں کے چار زبانیں چار قومیں۔ ان میں سب سے بھاری ان کی اپنی قوم پرستی ہے جو بڑا بڑا کر کے ہر جگہ پہنچ جاتی ہے۔ ان کی یہ قومیت، پاکستانی ہونے پر حاوی ہیں اب تک۔

بھلا لفظ مہاجر سے کوئی لسانیت کا پہلو نکال کر بتائے!

اور پھر یہ نفرتیں پھیلا کر کرسی ہتھیانے والے محب وطن تھے تو نوجوانوں کے مسائل تو حل کرتے انھوں نے یہ بھی ثابت کیا کے ہر نوجوان ان کا نوجوان نہیں ہے۔ اور موجودہ دور میں تو ان کا اپنا خاندان ہی ان کا نوجوان ہے۔ باقی سارے جائیں بھاڑ میں۔

نوجوان آگئے لسانیت کے غچے میں۔ اس کے بعد چند سال کراچی جیسے بڑے رونق والے شہر میں نوجوانوں کو جیسے زمین نگل گئی تھی۔ بوڑھے بچے اور عورتیں ہی نظر آتی تھیں۔ کبھی کبھی یہ فلسطین لگنے لگتا تھا۔

اس عرصہ زندہ دلان لاہور کا لاہور بنتا بھی رہا اور چلتا بھی رہا۔ اور وہاں کا نوجوان زندہ دل بنا، لسانیت کا ملبہ کراچی پر ڈالتا چلا گیا۔ وقت واقعی گھومتا ہے اور گھماتا بھی ہے۔ مفاد پرست سیاست کا بھی کچھ ایسا ہی کام ہے۔

ایک دن ڈاکٹر انور سجاد صاحب ادبی حلقے کا ذکر کر رہے تھے۔ ایک سوال کسی نے پوچھا تو انھوں نے کہا میں زندہ دلان لاہور کی بات کر رہا ہوں۔
”آپ کے لاہور میں مردہ ہی مردہ ہیں“ ۔

میں نے پہلی بار ڈاکٹر صاب سے بحث کرنے کی ٹھانی۔ ڈاکٹر صاب اپنی کرسی پر سیدھے ہو کر میری طرف متوجہ ہوئے۔ میں نے اپنی بات جاری رکھی

”زندہ دلان لاہور آپ کے وقت میں بہت ہوں گے لیکن اب کہیں چنیدہ چنیدہ ہی بچے ہیں معاف کیجئے گا۔ لیکن آپ کے ہاں نوجوانوں نے آپ سے صرف یہ لفظ ’زندہ دلان لاہور‘ اچکا ہے انھیں تو آپ کی موجودگی کا بھی پتہ نہیں ہے۔ تفریحات ہی ان کی ترجیحات ہیں۔ اس کو وہ زندہ دلی سمجھتے ہیں۔ دوسرے شہروں میں نوجوانوں کے ساتھ کیا ہورہا ہے انہیں خبر بھی نہیں ہے لسانیت کی گولیاں گھول کے دی ہیں ان کو۔ ان کو فکرات سے آزاد کرا دیا گیا ہے۔ کہ تمھارے حق محفوظ ہیں سب سے بڑے ہیں زیادہ بھی اور ملک کے ہر خطے میں ہیں۔ وہ کتنوں کا حق، حق جان کر کھا رہے ہیں ان کو اس کا پتہ بھی نہیں۔ یا وہ پتہ کرنا نہیں چاہتے۔ تو یہ عفریت کی وہ شکل ہے جو زومبی کہلاتی ہے۔ یہ عفریت اپنے ہی جیسا ہشاش بشاش زندہ نوجوان کھا جاتی ہے۔ یا اسے کاٹ کر اپنے جیسا بنا دیتی ہے، حصے بخرے کرتی ہے اور بس“ ۔

ڈاکٹر صاب نے ایک گہری نظر ڈالی اور کہا ”لکھو“
”میں تو کامک لکھنا چاہتی ہوں۔ سیاست میرا موضوع ہے نا مجھے صحافی بننے کا شوق ہے“ ۔
ڈاکٹر انور سجاد صاحب سے میری بات یہاں تمام ہو گئی تھی۔

لیکن جنھوں نے خود لسانیت پر صوبائی سطح پر وزیر اعلی کی کرسی گڑ پڑ کر غیرت جگا کے لکھوا لی تھی ان کی شان میں اس سے بہتر مثال ملنا نا ممکن ہے جو قابیل کی ہے جس نے اپنے بھائی کا قتل کیا اور رہتی دنیا تک ہر ہونے والے قتل میں اپنا حصہ ڈلوایا، بالکل اسی طرح کراچی میں اس کے بعد ہونے والے ہر نوجوان کا قتل ان کے سر جاتا ہے۔

اس کے بعد جو ہوتا گیا۔ اندوہناک تھا۔ اب حالات شاید سنبھل چکے ہیں۔ لیکن میں کامک لکھ نہیں سکی۔ اب بھی۔ ملکی سطح ہر کوئی اور اندوہناک واقعہ کسی دوسرے بڑے اندوہناک واقعے کو معمولی بنائے نگلتا جا رہا تھا۔ میں نے کامک لکھنے کا خیال ہی دل سے نکال دیا۔ مجھے ڈاکٹر انور سجاد صاحب سے بہتر سننے والا شاید ہی مل سکے البتہ ان کا ”لکھو“ کہنا قلم بنا نوکیں چبھاتا رہتا تھا۔

ڈاکٹر انور سجاد صاحب کراچی میں تھے۔
عموما وہ چھٹیوں پر لاہور چلے جایا کرتے تھے۔ میں اپنی پڑھائی مکمل کر چکی تھی۔
ڈاکٹر انور سجاد صاحب کا فین پیج بناچکی تھی۔

سوشل میڈیا پر ان کے بارے میں اور ان کے ادبی کام کے حوالے سے مواد نا ہونے جیسا تھا۔ اسکرپٹ کلاس کی کاوشیں شامل رہیں ہمیں جو ملا، ان کے فین پیج اورگروپ پر اپ لوڈ کرتے گئے۔
”نوجوانوں کے بارے میں کوئی ایسی بات تو کہیں جس سے ان کو اپنی صلاحیتوں کا ادراک ہو سکے۔ جیسے وہ پڑھیں اور سمجھیں؟“ ۔
میں نے فین پیج کے چکر میں بطور خاص ایک سوال نوجوانوں کے لئے پوچھا۔

ڈاکٹر صاب اپنے مخصوص انداز سے بولے۔
” ہاں۔ ں۔ ں۔ یار ہمارے وقتوں میں موبائل فون کی عفریت نہیں تھی۔ وقت بہت تھا۔ اب نوجوانوں کے پاس وقت ہی نہیں ہے کہ پڑھیں۔ کیا کہوں“
پھر بھی ڈاکٹر صاب پلیز۔
میں بضد رہی۔

”پڑھو! ۔

Educate yourselves? It’s the only revolution we need? you idiots!

وہ پرجوش انداز سے ایک ہی سانس میں کہہ گئے۔
ہم ان خوش نصیب طالبعلموں میں سے ہیں جنھیں ”پرومیتھئیس“ استاد ملے۔
آپ نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں، قوم کے معمار ہیں لیکن معمار بننے کے لئے اپنی صلاحیتوں کا ادراک ہونا بہت ضروری ہے۔

ڈاکٹر انور سجاد صاحب دنیا سے رخصت ہوئے۔ ان کی بات سے صبح نو کا آغاز کریں وہ صبح جو مستحکم معاشی لیکن فعال معاشرے کی بنیاد ڈال سکے۔ جو کبھی بھی کہیں بھی نفرتوں کا غچہ دے کر آپ کو منتشر نا کرے نا کوئی عفریت بنائے۔

ضروری ہے ”پڑھیں“ ۔
* پرومیتھیئس یونانی اساطیر کا مشہور کردار ہے۔ مزید جاننے کے لئے گوگل کر کے پڑھیں۔

×۔ ×۔ ×
تعارف:
ناہید وحید قریشی

نیشنل اکیڈمی پرفارمنگ آرٹ سے ہدایتکاری اور اسکرپٹ کی سند حاصل کر چکی ہیں۔ تھیٹر اکیڈمی میں بطور ہدایتکارہ کئی سال کام کیا اور تھیٹر پڑھایا۔ بعد ازاں نوجوانوں کے لئے یوتھ فیسٹول میں تھیٹر متعارف کرایا۔ اس پروگرام کو کئی سال منفرد انداز سے چلایا۔

بطور کانٹینٹ مینیجر ڈرامہ چینل کے لئے کام کیا۔ ٹیلی وژن و تھیٹر کے لئے ڈرامے لکھے۔ ان کے لکھے دو ناولٹ ”مقدمہ“ اور ”سرپرست“ آن لائین پڑھے جاسکتے ہیں۔ تحریر لکھنے کا منفرد انداز ہے۔ آزاد نظم کہنا اور فوٹوگرافی ان کا مشغلہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •