آمر اور سیاستدان کا فرق یہ ہے
عمران خان نے اپنی افتاد طبع کے مطابق جس طرح اپنی سیاست کو گالم گلوچ آمریت پسندی اور حقائق سے دوری پر استوار کیا اسی طرح اپنے پیروکاروں کی تربیت بھی کی اور انھیں ایک عجیب و غریب ”سیاسی شعور“ فراہم کیا جہاں سے بے سروپا اور حقائق سے ماورا سوالات بہم اُٹھ رہے ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سوالات صرف جمہوریت سیاست اور سیاستدانوں پر اُٹھائے جا رہے ہیں، اس کی پہنچ نہ کسی عہدِ آمریت تک ہے نہ کسی آمر کے گریبان تک
الزام و زم کی قمچیاں بنتی زبانوں کی زد میں نہ ایبڈو کا سرکس سجاتا ایوب خان آتا ہے، نہ ملک کو دولخت کرتا یحیٰی خان نہ کوڑوں اور پھانسیوں کے بازار سجانے والا ضیاء الحق اور نہ ملک کو آگ میں جھونک کر فرار ہونے والا پرویز مشرف بلکہ صرف وہ لوگ آتے ہیں جو جمہوری جدوجہد کے حامی بنتے ہیں۔
یہ سوالات ہیں بھی کیا؟
محض بے معنی بہتان ترازی، گالم گلوچ اور چور چور کی بے بنیاد تکرار جسے دھرانے والوں کو خود بھی نہیں معلوم کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور ان کا مقصد و منزل کیا ہے بلکہ ”طوطا زبانی“ انہیں بے سمت راھوں اور بے درک سنگ میلوں کے بھٹکتے راھی بنا چکی ہے۔
ظاہر ہے ان بے سر و پا سوالات پر بحث ایک کار فضول ہی ہے لیکن آمروں اور سیاستدانوں کا تقابل کرنے میں حرج کیا ہے؟
ایوب خان اس ملک کا پہلا ڈکٹیٹر تھا اس کا تعلق ہری پور کے ایک عام گھرانے سے تھا لیکن دس سال تک بزور قوت حکومت کرنے کے بعد وہ ”باعزت“ طور پر گھر چلے گئے تو آمریت کی روایت اور اپنے بیٹوں کے لئے انڈسٹریل ایمپائر (گندھارا انڈسٹریز ) کے علاوہ گوہر ایوب سے عمر ایوب تک ہمارے لئے وراثت میں چھوڑ گئے۔ اور پھر ٹرکوں پر ”تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد“ جیسے دلفریب جملے کے ساتھ اس کے تصاویر ”کہیں“ سے اچانک نمودار ہونے لگے
یحٰی خان وہ ڈکٹیٹر تھے جس نے الیکشن میں اکثریت حاصل کرنے والے شیخ مجیب الرحمن کو اقتدار سونپنے سے انکار کیا حتی کہ ملک کو دو لخت کیا لیکن جیل تو دور کی بات ہے کوئی جی آئی ٹی تک نہیں بنی یہاں تک کہ حمود الرحمن کمشن رپورٹ بھی پردہِ اخفا میں چلی گئی
کیونکہ یحیی خان سیاستدان نہیں ملکہ ایک آمر تھے۔
ضیاء الحق اس ملک کے ایک خوفناک ڈکٹیٹر تھے، منتخب وزیراعظم کا نہ صرف تختہ اُلٹ دیا بلکہ اسے پھانسی پر بھی چڑھایا، پیپلز پارٹی کے کتنے کارکنوں پر کوڑے برسائے اور کتنوں کو پھانسیاں دیں لیکن موصوف کا بیٹا آج بھی ایوب خان کے خاندان کی مانند اسمبلی میں بیٹھا نظر آئے گا۔ رہا بھٹو کا عدالتی قتل اور اس کے بارے میں تحقیقات تو اسے ہاتھ لگانا تو اس کی بیٹی بے نظیر بھٹو کی بس میں بھی نہ تھا سو
یہ خونِ خاک نشیناں تھا رزقِ خاک ہوا
پرویز مشرف نے اپنے پیشرو جنرل ضیاء کی روایت نبھائی اور منتخب وزیراعظم نواز شریف کا نہ صرف تختہ اُلٹا بلکہ خاندان سمیت جیلوں میں ڈالا اور بعد میں جلا وطن کیا، موصوف ایک پراسرار جنگ ایک ٹیلیفون کال پر اپنے ملک لے آیا اور دو عشروں تک اس ملک کے دروبام خُون سے نہلا دیے لیکن ”کمردرد“ نے اس کے گرد ایسا حصار کھینچا کہ آئین و قانون قریب بھی نہ پھٹک سکے۔
اب آتے ہیں سیاست اور سیاستدانوں کی جانب،
ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان ایک بھرے جلسے میں مار دیے گئے پتہ نہیں اس نوابزادے نے وراثت میں اپنی نفیس اور پڑھی لکھی بیوی رعنا لیاقت علی خان کے علاوہ کیا چھوڑا۔ کسی کو نہیں معلوم
سیاستدان فیروز خان نون وزیراعظم نہ بنتے تو سونے کی چڑیا گوادر شاید آج بھی شاید دوسرے ملک اومان کا حصہ ہوتا،
فیروز خان نون کی وراثت کا تو کسی کو نہیں معلوم لیکن ملک کے اس عظیم محسن کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کا سب کو علم ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو بے حوصلہ موسموں اور پُر آشوب حالات میں وزیراعظم بنے تو پہلا کام یہ کیا کہ بد ترین دشمن ہندوستان کی قید سے وطن کے نوے ہزار بیٹوں کو چھڑا کرلے آئے اور آمریتوں کے شکار ملک کو ایک متفقہ آئین دیا لیکن یہی محسن ایک تاریک رات کو پھانسی پر جھول گئیے اور اس کی بیوی اور بیٹی کو وراثت میں قید و بند ہی ملی، صنم بھٹو کے علاوہ تمام بہن بھائی غیر طبعی موت مرے، بے نظیر بھٹو ساری عمر آمریتوں سے ٹھکراتی رہی اور پھر ایک سڑک پر خون میں لت پت اس کی لاش پڑی تھی جبکہ شوہر آج بھی جیل میں ہے کیونکہ وہ ایک سیاستدان ہے اور اس ملک میں صرف عمران خان یا شیخ رشید مارکہ سیاست کی اجازت ہے ورنہ آپ یا تو غدار ہیں یا چور!
نواز شریف بھی چونکہ ایک سیاستدان اور جمہوریت کے شدید حامی ہیں، اس لئے بیک وقت غدار بھی ہیں اور چور بھی۔
سو یہ غدار ملک کو دفاعی طور پر مضبوط بنانے کے لئے ایٹمی دھماکے کرے یا ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لئے سی پیک اور موٹرویزکا جال بچھادے۔ رہے گا غدار ہی۔
یا سزا صرف اقامے پر کاٹتا رہے گا کیونکہ وہ ایک، چور ہے، اور یہ ”غدار اور چور“ آج بھی کوٹ لکھپت جیل میں پابند سلاسل ہے وہ بھی کسی کمر درد کے بغیر کیونکہ وہ قمیض شلوار میں ملبوس اور عوام سے ووٹ لیتا ایک سیاستدان ہی ہے، اور یہ بھی یاد رہے کہ جہاں سے ڈکٹیٹر مشرف خوفزدہ ہو کر بھاگ رہا تھا وہاں ”یہ چوراور غدار“ مشکل حالات میں سزا کاٹنے واپس آرہا تھا اور یہ صرف وزرا اعظم پر کیا موقوف فاطمہ جناح، عبدالغفار خان، ولی خان، جی ایم سیّد، اکبر بگٹی، بزنجو، مفتی محمود، مودودی، عطا اللہ مینگل اور جام ساقی تک ایک دراز سلسلہ ہے جس میں ہزاروں لاکھوں سیاسی کارکن بھی شامل ہیں۔ کوئی غدار ٹھہرا تو کوئی چور
سو کہنا یہی ہے کہ سیاستدانوں کی کمزوریوں پر بے شک سوال اُٹھائے جائیں لیکن دوسری سمت موجود آمر طبقے کو سوال سے مبّرا سمجھنا نہ ہی انصاف ہے اور نہ ہی دانائی
کیونکہ وہ زمانہ تو کب کا چلا گیا جب ذہن سازی ریڈیو پاکستان یا پی ٹی وی کے خبرنامے کے ذریعے کروائی جا تی تھی بلکہ ٹرکوں کے پیچھے کسی ڈکٹیٹر کی تصویر اور اس پر لکھے کسی دلفریب جملے کے ذریعے بھی۔ کیونکہ یہ اس زمانے میں آسانی کے ساتھ قابو آنے والا چلتا پھرتا میڈیا تھا


