ٹرمپ کی ایران پالیسی خطرناک انجام سے دوچار ہوسکتی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صدر ٹرمپ کی طرف سے ایران پر حملہ کا فیصلہ واپس لینے سے مشرق وسطیٰ اور دنیا ایک بڑے بحران سے فوری طور پر تو محفوظ رہی ہے لیکن اگر دونوں ملکوں کے درمیان تند و تیز بیانات اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہا تو کسی بھی وقت کوئی تصادم رونما ہو سکتا ہے۔

 اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گتیریس کے علاوہ روس کے صدر دلادیمیر پیوتن نے بھی تناؤ کم کرنے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈروں نے اس تنازعہ کو غیرضروری قرار دیا ہے۔ سابق نائب صدر اور آئیندہ برس صدارتی دوڑ میں ڈیموکریٹک پارٹی کا امید وار بننے کے خواہشمند جو بائیڈن نے ایک بیان میں ٹرمپ کی ایران پالیسی کو ’خود کش سانحہ‘ کہا ہے۔

ایران نے جمعرات کو آبنائے ہرمز کے کنارے ہرزمگان کے علاقے میں ایک امریکی ڈرون مار گرانے کا اعلان کیا تھا۔ یہ ڈرون آر کیو 4 گلوبل ہاک قسم کا تھا اور پاسبان ایران کے اعلان کے مطابق ایرانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا مرتکب ہؤا تھا۔ پاسدارانِ انقلاب کے جنرل امیر علی حاجی زادہ نے جمعرات کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ’ امریکی ڈرون گرا کر ایران نے ایک واضح پیغام بھیجا ہے۔ ہماری سرحدیں ہمارے لیے سرخ لکیر کی مانند ہیں اور جو بھی انہیں پار کرنے کی کوشش کرے گا اسے تباہ کر دیا جائے گا۔‘ انہوں نے کہا کہ ہم اعلانیہ کہتے ہیں کہ ہم کسی ملک کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے لیکن ہم اس کے لئے تیار ہیں۔

ایران کی طرف سے امریکی ڈرون گرائے جانے کے فوری بعد امریکہ نے اس کی تردید کرنے کی کوشش کی تھی تاہم جلد ہی یہ تسلیم کرلیا گیا تھا کہ ایران نے بغیر پائیلٹ کا ایک امریکی ڈرون مار گرایا ہے۔ شروع میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس واقعہ کو غیر اہم قرار دیتے ہوئے کہا تھا ’ایک معمولی واقعہ پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے‘ لیکن چند گھنٹے بعد ہی ان کا لہجہ کرخت ہو گیا اور انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس واقعہ کو ایران کی سنگین غلطی قرار دیا۔ اسی رات ایران کی متعدد تنصیبات پر فضائی حملہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاہم نامعلوم وجوہات کی بنا پر امریکی صدر نے حملہ کا حکم دینے کے بعد اسے واپس لینے کا فیصلہ کیا۔

نیویارک ٹائمز نے سب سے پہلے یہ خبر دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ایرانی راڈار سسٹم اور میزائل تنصیبات پر حملےکرنے کا حکم دے دیا گیا تھا اور امریکی طیارے جمعہ کی صبح حملہ کرنے کے لئے اڑان بھر چکے تھے کہ صدر نے اپنا فیصلہ تبدیل کرلیا اور امریکی حملہ روک دیا گیا۔ اس طرح دنیا فوری طور پر ایک بڑے تصادم سے محفوظ رہی۔ لیکن کوئی بھی یقین سے یہ بتانے کی پوزیشن میں نہیں ہے کہ ایران یا مشرق وسطیٰ کے بارے میں امریکی پالیسی کیا ہے اور کیا ایران پر حملہ کا ارادہ مستقل طور سے ترک کردیا گیا ہے یا آنے والے دنوں میں امریکہ ایک بار پھر حملہ کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز اور دیگر امریکی میڈیا میں ایران پر حملہ کا حکم دینے اور پھر منسوخ کرنے کی خبر سامنے آنے کے بعد اپنے ٹوئٹ پیغامات میں اس کی تصدیق کی ۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ’ تین جگہوں پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ جب میں نے پوچھا کہ ان حملوں میں کتنے لوگ مارے جائیں گے تو مجھے بتایا گیا کہ تقریباً 150 لوگ ہلاک ہوجائیں گے۔ میں نے سوچا کہ بغیر پائیلٹ کے ایک ڈرون کا انتقام لینے کے لئے اتنے لوگوں کی جان لینا مناسب نہیں ہے۔ اس لئے حملہ سے دس منٹ پہلے میں نے یہ حکم واپس لے لیا‘۔ اپنے ٹوئٹ پیغام میں صدر ٹرمپ نے البتہ ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ امریکی فوج ہمہ وقت تیار ہے اور دنیا کی بہترین صلاحیتوں سے لیس ہے۔ ایران پر عائد ہونے والی اقتصادی پابندیوں نے اپنا اثر دکھانا شروع کردیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کل رات ایران پر مزید پابندیں بھی لگائی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرسکتا اور امریکہ یا دنیا کے لئے خطرہ نہیں بن سکتا۔

صدر ٹرمپ کی غیر واضح باتوں اور ٹوئٹ کے ذریعے دھمکانے اور کسی دوسرے ملک پر حملہ کرنے کی کوشش سے صورت حال بے حد پیچیدہ اور مشکل ہو چکی ہے۔ کوئی مبصر خود کو یہ بتانے کی پوزیشن میں نہیں سمجھتا کہ امریکہ، ایران سے نمٹنے کے لئے کیا حکمت عملی اختیار کرنا چاہتا ہے یا اس کی مشرق وسطیٰ کے تنازعہ کے بارے میں کیا پالیسی ہے۔ ایک مبصر کا کہنا ہے کہ ’سابقہ امریکی صدور کے ادوار میں یہ کہا جاسکتا تھا کہ حکومت کی کسی معاملہ پر کیا پالیسی ہے۔ لیکن صدر ٹرمپ رات کے کسی پہر برگر کھاتے ہوئے ایک غیر ذمہ دارانہ اور بچگانہ ٹوئٹ کے ذریعے کوئی بھی حکم صادر کرسکتے ہیں ۔ اس لئے کوئی بھی یہ یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اگلے لمحے کیا ہونے والا ہے‘۔

دنیا بھر کے لیڈروں کے علاوہ امریکی رہنما بھی اس صورت حال پر پریشانی کا اظہار کررہے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی امریکی ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے کہا ہے کہ امریکہ کو’ ایران کے ساتھ جنگ کی ضرورت نہیں ہے‘۔ امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹس کے رہنما چک شومر نے کہا ہے کہ ’صدر شاید جنگ نہ چاہتے ہوں مگر ہمیں فکر ہے کہ وہ اور انتظامیہ جنگ تک پہنچ جائیں گے‘۔ اسی بے یقینی کا حوالہ دیتے ہوئے روس کے صدر ولادیمیر پیوتن نے خبردار کیا ہے کہ’ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ایک ایسا سانحہ ہو گا جس کے نتائج کی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی‘۔ ڈرون مار گرائے جانے کے واقعہ سے پہلے چین نے بھی مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھانے سے متنبہ کیا تھا اور امریکہ سے کہا تھا کہ ایران پر غیر ضروری دباؤ میں اضافہ نہ کیا جائے۔

امریکی خطرے اور صدر ٹرمپ کی دھمکیوں کے پس منظر میں ایران نے امریکہ کو ہر قسم کی جارحیت سے باز رہنے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کا دفاع کرے گا۔ ایران کے دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اشتعال انگیزی کا ردعمل ہوگا جس کے نتائج کچھ بھی ہو سکتے ہیں‘۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے ڈرون گرانے کے بعد ایک ٹوئٹ پیغام میں کہا ہے کہ ’ امریکہ ایران کے خلاف اقتصادی دہشت گردی کا مرتکب ہورہا ہے۔ اب ہماری سرحدوں کی خلاف ورزی کی کوشش کی گئی ہے۔ ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن ہم اپنی سرزمین اور فضائی و بحری حدود کی پوری قوت سے حفاظت کریں گے‘۔

دنیا کے بیشتر لیڈروں کے لئے ایران کے ساتھ تنازعہ کو بڑھا کر تصادم کے قریب لانے کے بارے میں امریکی صدر کی پالیسی ناقابل فہم ہے۔ امریکہ نے پہلے دیگر پانچ ملکوں کے ساتھ سابق صدر اوباما کے دور میں ایران کے ساتھ کئے گئے جوہری معاہدہ کو یک طرفہ طور سے ختم کیا ۔ پھر اقتصادی پابندیوں میں اضافہ کرتے ہوئے بھارت اور چین جیسے ملکوں کو بھی ایران کا تیل خریدنے کا استثنیٰ دینے سے انکار کردیا۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز میں امریکی بحری بیڑا بھیجا گیا ہے اور جمعرات کو امریکی ڈرون گرائے جانے کے واقعہ سے ایک روز پہلے ہی مزید ایک ہزار امریکی فوجی مشرق وسطیٰ بھیجنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ امریکہ گزشتہ ہفتہ کے دوران خلیج فارس میں دو آئل ٹینکرز پر تخریب کاری کا الزام ایران پر عائد کرتا ہے۔ اس حوالے سے ایک غیر واضح ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ اس ویڈیو میں ایرانی پاسداران انقلاب کو ایک آئل ٹینکر سے بارودی سرنگ ہٹاتے دیکھا جاسکتاہے۔ ایران ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات کو امریکی سیاسی پس منظر میں بھی سمجھنے کی کوشش کی جاسکتی ہے جہاں آئیندہ برس منعقد ہونے والے انتخابات میں ٹرمپ دوبارہ منتخب ہونے کے خواہشمند ہیں۔ ایران کو دھمکا کر اور مشرق وسطیٰ پر امریکی تسلط کو یقینی بناتے ہوئے وہ خود کو امریکی عوام کی نظر میں ’مرد آہن ‘ کے طور پر پیش کرنے کے خواہشمند بھی ہوسکتے ہیں۔ لیکن اس تصویر کا ایک غیر معمولی پہلو یہ بھی ہے کہ صدر ٹرمپ کی طرف سے اس تنازعہ اور اشتعال انگیزی کے باوجود بار بار ایران کو مذاکرات کی دعوت دی جارہی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ تو ایران کو غیر مشروط مذاکرات کی پیش کش بھی کرچکے ہیں۔ اس حوالے سے تازہ ترین خبر یہ ہے کہ امریکہ نے سلطنت اومان کے ذریعے تہران کو مذاکرات کی پیش کش کی ہے بصورت دیگر سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی ہے۔ تاہم ایران کے سپریم لیڈر علی خامینائی امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے امکان کو مسترد کرچکے ہیں۔

ایران کا مؤقف ہے کہ امریکہ نے جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کرکے عہد کی خلاف ورزی کی ہے۔ وہ اگرایران کے ساتھ مراسم کو معمول پر لانا چاہتا ہے تو اسے معاہدےمیں واپس آجانا چاہئے۔ صدر ٹرمپ کی حکمت عملی یہ ہے کہ ایران پر اقتصادی اور فوجی دباؤ بڑھا کر اسے بات چیت پر آمادہ کیا جاسکے اور جوہری معاہدہ کے علاوہ عراق، شام، یمن اور لبنان میں ایران کو اپنا اثر و رسوخ محدود کرنے پر آمادہ کیا جائے۔ ایسا کوئی معاہدہ خواہ 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدہ سے بہت مختلف نہ بھی ہو لیکن صدر ٹرمپ یہ دعویٰ کرسکیں گے کہ انہوں نے ایران کو امریکی شرائط ماننے اور ٹرمپ کے عزم کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا ہے۔ ایران موجودہ حالات میں امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا مطالبہ تسلیم کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اسے ایران کی شکست سمجھا جائے گا اور یہ ایرانی خودداری کے خلاف ہوگا۔

ٹرمپ کی ایران پالیسی نقائص سے پر ہے اور اس کے کامیاب ہونے کا امکان نہیں ہے۔ لیکن اس قسم کے اشتعال انگیز ماحول میں حادثاتی طور پر شروع ہونے والے کسی تصادم کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ امریکہ کا خیال ہے کہ اقتصادی بدحالی سے تنگ آئے ہوئے ایرانی عوام اپنی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے اور تہران کی حکومت امریکہ سے مذاکرات پر مجبور ہوجائے گی۔ لیکن اس طرح وہ ایران کے انتہا پسند مذہبی عناصر کو مضبوط کرنے کا سبب بھی بن رہے ہیں، جس کی وجہ سے ایران میں سیاسی اصلاحات کا عمل مکمل طور سے رک چکا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1280 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali