آدمی کو انسان بھی ہونا چاہیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اُس شخص کا تو آپ کو معلوم ہی ہے جو خط لکھ رہا تھا ساتھ ایک مجہول کھڑا تھا اور خط پڑھے جا رہا تھا۔ خط لکھنے والے نے خط میں لکھا۔ ”کچھ اور بھی لکھتا مگر ایک بے وقوف ’میرے لکھنے کے دوران‘ خط پڑھ رہا ہے“ اس پر اُس مجہول شخص نے احتجاج کیا کہ میں تو خط پڑھ ہی نہیں رہا اور آپ نے مجھے بے وقوف کا خطاب دے دیا ”جس طرح ہم سڑک پر تھوکتے ہیں یا انگلی کو ناک کی مفصل سیر کراتے ہیں یا خلقِ خدا کے سامنے بغلیں کھجاتے ہیں یا ہمارے دکاندار حضرات (سب نہیں کچھ) گاہک کے سامنے ’قمیض آگے سے اٹھا کر‘ میلی واسکٹ سے کرنسی نوٹ نکالتے ہیں۔

 اسی طرح ایک کثیف یعنی خبیث عادت یہ بھی ہے کہ دوسروں کی پرائیویسی پر بھر پور حملے کریں۔ کچھ دن ہوئے ایک صاحب کے ہاں دعوت تھی۔ ہم سب مہمان ان کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے۔ سائیڈ ٹیبل پر ڈاک کا لفافہ پڑا تھا۔ خط اس میں نہیں تھا۔ جو بزرگ سائیڈ ٹیبل کی بغل میں تشریف فرما تھے۔ انہوں نے اچھی خاصی تکلیف کر کے اپنی کسی جیب سے عینک نکالی۔ اسے ناک پر جمایا پھر لفافہ اٹھایا اور ایڈریس پڑھا۔ یہ بھی کہ کس نے بھیجا ہے۔

 وہ تو غنیمت ہے کہ صاحب خانہ سے وہ خط نہیں منگوایا جو اس کے اندر تھا اور خوش قسمتی سے نکال لیا گیا تھا۔ کوئی پوچھے کہ یہ لفافہ جس کے بھی نام تھا اور جس نے بھی ارسال کیا تھا آپ کا اس معاملے سے کیا تعلق؟ یہ کتنی بدتمیزی ہے کہ جب معلوم ہو مخاطب کے بچے نہیں تو پہلے تو اظہار تاسف کریں گے“ اوہو! ”پھر سوال داغیں گے شادی کو کتنا عرصہ ہوا؟ اسی پر بس نہیں کریں گے۔ کھردرے پن کی آخری حد چھوئیں گے کہ میڈیکل چیک اپ کرایا ہے؟

 ہر کوئی دوسرے سے تنخواہ پوچھ رہا ہے ’یا یہ کہ ووٹ کسے دیا تھا؟ جن ملکوں سے جمہوریت لے کر ہم نے اس جمہوریت میں کھوٹ ملایا‘ وہاں میاں بیوی سے باپ بیٹے سے ’بھائی بہن سے نہیں پوچھتا کہ ووٹ کسے دو گے یا کسے دیا ہے؟ ایک نامناسب سوال جناب ظفر اقبال نے بھی محبوب سے پوچھا ہے ؎ کوئی گڑ بڑ اگر نہیں ہے تو پھر کیوں لیے پھر رہے ہو ساتھ کموڈ ہمارے دوست اور برخوردار‘ ہمایوں تارڑ صاحب نے کچھ پند نصیحتیں یکجا کی ہیں۔

ان میں سے کچھ ان کی تالیف ہیں اور کچھ تصنیف۔ افادۂ عام کے لئے یہاں درج کی جا رہی ہیں۔ ملاقات کے دوران ایسے سوالات نہ پوچھیں جو ذاتی نوعیت کے ہیں۔ جیسے“ ابھی تک آپ نے گھر کیوں نہیں خریدا؟ ”“ گاڑی کیوں نہیں رکھی ہوئی؟ ”پیچھے آنے والے کے لئے دروازہ کھول کر رکھیں خواہ وہ مرد ہے یا عورت! حسن سلوک کی یہ معمولی سی جھلک آپ کے بارے میں بہت کچھ بتاتی ہے۔ کوئی دوسرا آپ کے لئے دروازہ کھول کر رکھتا ہے تو شکریہ ضرور ادا کیجیے۔

کسی شخص کو دوبار سے زیادہ کال مت کریں۔ کال اٹینڈ نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ مصروف ہے۔ یا آپ کی کال سننا نہیں چاہتا۔ جب بھی ادھار لیں، وقت کا تعین کریں۔ ایک روپیہ ہے یا کروڑ ’وقت پر واپس کریں۔ نہیں کر سکتے تو مقررہ وقت پر‘ ذاتی طور پر حاضر ہو کر، توسیع کی اجازت لیں۔ اگر آپ سے کوئی قرض لیتا ہے اور وقت پر واپس کرتا ہے نہ شکل دکھاتا ہے، تو آئندہ اسے قرض دینے سے احتراز کریں۔ کوئی دعوت پر ریستوران لے جائے تو مہنگے مہنگے کٹیّ کھول کر نہ بیٹھ جائیں۔

مناسب یہ ہے کہ میزبان ہی کھانے کا آرڈر دے۔ کسی سے مذاق کر رہے ہیں اور وہ لطف اندوز نہیں ہو رہا تو رک جائیں۔ بعض اوقات مذاق، تضحیک کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ دوسرے کی تعریف لوگوں کے سامنے کریں۔ اور تنقید ’یا نصیحت‘ تنہائی میں! کسی کے موٹاپے پر تبصرہ کرنا ’خلاف آداب ہے ہاں اگر وہ خود اس پرگفتگو کرنا چاہیے تو متانت سے بات کیجیے۔ اچھا مشورہ دیجیے۔ بھد نہ اڑائیے۔ کوئی اپنے فون پر تصویر دکھاتا ہے تو تصویر کے دائیں یا بائیں سوائپ نہ کریں۔

صرف اسی تصویر پر اکتفا کریں جو وہ دکھانا چاہتا ہے۔ دفتر یا کارخانے میں سینئرز سے جھک کر بات کرنا اور اپنے ماتحت‘ کلرک ’آفس بوائے یا ڈرائیور سے اکڑ کر‘ سخت لہجے میں بات کرنا ’یا مصافحہ‘ معانقہ کرنے سے احتراز، آپ کے خاندانی پس منظر کے بارے میں بہت کچھ بتا دیتا ہے عہد شاخِ پُر میوہ سر بر زمیں میوہ دار ٹہنی جھکی ہوئی ہوتی ہے اور خزاں زدہ ’بانجھ شاخ‘ اکڑ فوں میں رہتی ہے۔ کسی سے گفتگو کر رہے ہیں یا اس کی بات سن رہے ہیں تو اس دوران بار بار اپنے موبائل کی طرف توجہ نہ دیں۔

اگر ضروری پیغام بھیجنا ہے یا کال کرنی یا سننی ہے تو سامنے بیٹھے ہوئے شخص سے معذرت کر کے اجازت لیں۔ پوچھے بغیر مشورہ نہ دیں۔ اس سے آپ کے مشورے کی ناقدری ہو گی! دوسروں کے معاملے میں ٹانگ نہ اڑائیں۔ ٹوہ نہ لگائیں۔ کرید کرید کر نہ پوچھیں۔ کچھ باتوں کا معلوم نہ ہونا بھی بعض اوقات مصلحت پر مبنی ہوتا ہے۔ بحث کو طول دینا اور دوسرے سے بات منوانے کی سرتوڑ کوشش۔ ہمارا بہت بڑا المیہ ہے۔ کوئی آپ سے متفق نہ ہو تو جذباتی نہ ہوں۔

گلے کی رگیں سرخ کرنے اور منہ سے جھاگ اڑانے کی ضرورت نہیں! اپنے آپ میں رہیں۔ خاموش ہو جائیں۔ یا بحث کو پرامن موڑ دیں یہ کہہ کر کہ“ ہو سکتا ہے آپ درست کہہ رہے ہوں۔ تحقیق کر لیجیے ”کسی جنرل سٹوروغیرہ پر قطار میں لگے گاہک کے بالکل ساتھ کھڑا ہونا مناسب نہیں۔ ایک قدم پیچھے ہٹ کر کھڑے ہوں۔ خاص طور پر وہ جو کاؤنٹر پر ٹرانزیکشن کرنے میں مصروف ہے اسے ڈسٹرب نہ کریں۔ جب وہ ٹرانزیکشن مشین پر اپنا پاس ورڈ درج کرتا ہے تو اس کی طرف نہ دیکھیں یہ اس کی پرسنل سپیس ہے۔

 شب خوابی کے لباس میں بازار نہ جائیں۔ کسی کی گاڑی یا موٹر سائیکل کے پیچھے گاڑی کھڑی کرنا ’یہ سوچ کر کہ میں تو منٹ میں آ ہی جاؤں گا‘ حماقت ہے۔ ہو سکتا ہے آپ کو آدھا گھنٹہ لگ جائے اور یاد بھی نہ رہے کہ گاڑی غلط پارک کر کے آئے ہیں۔ اس لئے گاڑی ہمیشہ مناسب جگہ پر ’قانون کے مطابق، پارک کریں۔ اگر غلطی ہو بھی جائے تو معذرت کریں۔ غلطی پر اصرار کرنا، یا دوسرے کی شکایت پر توجہ نہ دینا، ایسی فرعونیت ہے جس کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔

بڑائی غلطی ماننے میں ہے! جو غلطی نہیں مانتے وہ نیچ اور پست ذہن ہوتے ہیں۔ آپ کا سابقہ ایسے مرد یا خاتون سے بھی پڑ سکتا ہے جو لمبی بات کرنے اور غیر ضروری تفصیل میں جانے کی عادی ہو۔ ایسے موقع پر صبر کی ضرورت ہے۔ کوئی ایسا کلمہ نہیں کہنا چاہیے جو سخت یا تمسخر آمیز ہو۔ دوسری طرف کسی کو اس بات کی اجازت بھی نہیں دی جا سکتی کہ آپ کا وقت ضائع کرے۔ ایک حل اس صورت حال کا یہ ہے کہ خاموش رہیں اور اس قسم کا ریسپانس نہ دیں کہ اچھا؟

پھر کیا ہوا؟ دوسرا حل یہ ہے کہ نرمی سے کہیں کہ لب لباب بتا دیجیے‘ مجھے کہیں پہنچنا ہے یا کوئی کام مکمل کرنا ہے۔ اس دنیا میں، اسی کرہ ارض پر، ایسے ملک بھی ہیں جہاں یہ سب کچھ، جس کی اوپر تلقین کی گئی ہے۔ معمول کی زندگی کا حصہ ہے! جہاں سامنے سے آنے والا مسکرا کر آپ کو ہیلو ’ہائے کہے گے۔ جہاں شکریہ ادا کرنا اور غلطی پر معذرت کرنا اتنا ہی لازمی ہے اور اتنا ہی عام جتنا سانس لینا! مگر یہ بھی طے ہے کہ خوش اخلاقی اور ادب آداب کا دور دورہ وہاں ہوتا ہے جہاں معاشرتی انصاف رائج ہو جہاں چند خاندانوں کا رُول نہ ہو بلکہ رُول آف لا ہو!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •