اپنے عہد کیلئے لکھنا اپنے لیے لکھنا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کا کالم میں اپنے بارے میں لکھ رہا ہوں،یہ سب کالمسٹوں اور ادیبوں کیلئے نہیں ہے، کیونکہ گہرے طبقاتی نظام میں تنکوں کی طرح بکھرے ہوئے سارے لکھاریوں کے اپنے اپنے نظریات اور اپنے اپنے مفادات ہیں، سب میری طرح اپنے اپنے مشن پر ہیں،اور کوئی کسی کو کسی کے مشن سے دستبردار کرانے کا حقدار نہیں.

یہ لکھنا بھی دوڑ کے مقابلے کی طرح ہوتا ہے، جس کے منصف قارئین ہوتے ہیں، کون سا لکھاری کس سیڑھی پر کھڑا ہوتا ہے کوئی لکھنے والا یہ بات کبھی خود نہیں جان سکتا،اپنے بارے میں ایک عرصہ سے سوچ رہا تھا کہ میں دوسروں کے بارے میں جو بہت کچھ لکھتا رہتا ہوں، ان کے ماضی کوکھنگھالتا ہوں، ان کی زندگی کے خفیہ گوشوں سے پردے اٹھاتا ہوں، بڑے بڑے پول کھولتا ہوں، کیا یہ سب میں اپنے بارے میں بھی لکھ سکتا ہوں؟

کیا میں دودھ کا نہایا ہوا ہوں؟ اس سوال کا ایک نامکمل سا جواب تو خود میرے اندر سے آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ میں جو کچھ بھی لکھتا ہوں وہ تخیلاتی نہیں ہوتا، میں وہی واقعات لکھتا ہوں جن کا ایک کردار میںخود ہوتا ہوں، لیکن دوسری جانب یہ بھی سچ ہے جس کا مجھے اعتراف کرنا چاہئے کہ میں نے بہت کم واقعات ایسے لکھے ہیں جن کا مرکزی کردار میں خودتھا، تو کیوں نہ آج اسی موضوع پر لکھا جائے کہ ایک لکھاری کو کیا لکھنا چاہئے اور کیا نہیں لکھنا چاہئے؟

عمومی طور پر تو ایسا ہی ہوتا ہے کہ جب کسی بھی لکھاری کے افکار شائع یا پبلک ہوتے ہیں، لوگ اس کی تعریف و توصیف میں قلابے ملاتے دکھائی دیتے ہیں، ہمارے معاشرے میں لکھاریوں پر تنقید کے نشتر چلانے کا رواج بہت کم ہو گیا ہے، یہاں تک کہ آپ کے قریب ترین دوست بھی آپ کے لکھے ہوئے سے اختلاف نہیں کرتے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک منفی رجحان ہے، ادب تنقید کے بغیر کبھی پھلتا پھولتا نہیں، ادب کے پودے کی آبیاری تنقید کے پانی سے ہوتی ہے، میرے دو چار دوستوں نے البتہ میری توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ تم نے ملک میں جمہوریت، جمہور اور انسانی حقوق کے لئے بہت جدوجہد کی ہے۔تمہیں اپنی اسی جدوجہد کو اپنے کالموں کا موضوع بنائے رکھنا چاہئیے.

 میں اپنے ان دوستوں کے اس مشورے سے اختلاف کرتا ہوں، میری کوئی جدوجہد میرے اپنے لکھنے کے لئے نہیں تھی، اگر میں نے اس غیر منصفانہ، تقسیم شدہ اور قدم قدم پر ناہموار معاشرے کے کیلئے رتی بھر کوئی کام کیا بھی ہے تو مجھے اس کی تکرار نہیں اس کے نتائج برآمد ہونے کا انتظار ہے، میںسمجھتا ہوں کہ وہ صبح ضرور آئے گی جس کے لئے ہم اندھیروں میں کالے پتھروں سے ٹکراتے رہے۔

ہم بات یہ کر رہے ہیں کہ ایک لکھاری کو کیا لکھنا چاہئے اور کیا نہیں؟ ایک ادیب کا معاشرتی کردار کیا ہے؟ اس کا مختصر ترین جواب ہے ’’اپنے دور کے لئے لکھنا‘‘ کوئی بھی لکھنے والا جس دور میں بھی پیدا ہو اس کا پہلا فرض اس دور کے معروضی حالات کا ادراک کرنا ہونا چاہئے، سرکاری ،درباری لکھنے والوں کو چھوڑ کر، ایک ادیب یا کالم نگار کو حریت ،خود مختاری اور انسانی زاویوں کا نقیب ہونا چاہئے، اسے استحصالی قوتوں کے خلاف مزاحمت کار ہونا چاہئے.

عام آدمی کے لئے لکھنے والے کو کبھی خود فریبی کے جال میں نہیں پھنسنا چاہئے، ہزاروں لوگ آپ کو خود فریبی کے جال میںدھکیل رہے ہوتے ہیں، یہ جال مچھلی کے جال سے ہزار گنا خطرناک ہوتا ہے، آپ خود کو ایک مقبول عام اور شہرت یافتہ رائٹر سمجھنے لگتے ہیں اور آپ کی توجہ آپ کے اصل کردار اور فرائض سے ہٹ جاتی ہے، یہی وہ لمحات و اوقات ہوتے ہیں جنہیں وقت کی خود کشی کہا جاتا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ بھنور میں پھنسے ہوئے وطن عزیز کو کنارے پر لگانے کے لئے جو کردار آج پاکستان کے ادیب اور شاعر ادا کر سکتے ہیں اتنی مدد سو عالمی مالیاتی ادارے مل کر بھی نہیں کر سکتے.

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے ادیبوں، شاعروں کو سیاسی، معاشرتی، اخلاقی اور نظریاتی زندگی میںریاکار نہیں ہونا چاہئیے، کیونکہ ریاکاری کی ایک فیصد گنجائش بھی باقی نہیں رہی، مہنگائی ، بے روزگاری، افراط زر جیسے عفریت تو خود پورے معاشرے کو ریا کاری کے سمندر میں دھکا دے رہے ہیں، ہمیں تو عام آدمی کو سمندرمیں کودنے سے بچانا ہے، ہر ادیب ، کالمسٹ اور شاعر کے اپنے اپنے نظریات زندہ رہنے چاہئیں مگر ان کے نظریات مخصوص مقاصد کے تابع نہیں ہونے چاہئیں.

لکھنے والوں کو اس حد تک بھی آزادی حاصل ہونی چاہئے کہ وہ مروجہ نظام کو رد کریں یا قبول کریں لیکن بائیس کروڑ عوام کے مفادات پرسودے بازی نہیں ہونی چاہئے، ہمیں اپنی آزادیوں کو عوام کی غلامی پرمقدم بھی نہیں رکھنا چاہئے۔

میں نے سولہ برس کی عمر میں جب لکھنا شروع کیا تو اس وقت اور کئی اشتراکی اور غیر اشتراکی ادیبوں کے ساتھ ساتھ ژاں پال سارتر اور خلیل جبران کی کئی کتابیں بھی پڑھ چکا تھا، اور تو اور ساٹھ کی اس دہائی میں ابن صفی کا کوئی جاسوسی ناول بھی نہیں چھوڑا تھا، ژاں پال سارتر کی تحریروں نے مجھے لکھنے پر اکسایا تھا تو خلیل جبران کے افسانوں نے مجھے بغاوت کرنا سکھائی تھی، خلیل جبران پیغام دیتا ہے کہ خدا کو صرف اس کی خدائی میں تلاش کیا جا سکتا ہے، وہ خوابوں کے بھنور سے نکلنے اور عمل کی راہ پر چلنے کا درس دیتا ہے، وہ صبح نو کو تراشنے کی ہمت پیدا کرنے کا پیغام سناتا ہے.

سارتر اور جبران ایک دوسرے سے لگاؤ نہیں کھاتے لیکن انقلاب لانے کے لئے فلسفہ سے آگہی روٹی کے ساتھ پانی کی طرح ضروری ہے، خلیل جبران بھی کوئی خالی فلاسفر ہی نہیں تھا ،اس نے بھی اپنے ناولوں اور دیگر تحریروں میں سماج کے نام نہاد ٹھیکیداروں کے چہروں سے نقاب اتارے، اس نے بھی پسے ہوئے طبقات کے ذہنی اور جسمانی استحصال کے خلاف اپنے قلم سے جہاد کیا اور رہتی دنیا تک کے لئے امر ہوگیا۔

 ژاں پال سارتر نے چھ سال کی عمر میں ہی لکھنا شروع کر دیا تھا، جس خاندانی ماحول میں اس کی پرورش ہوئی، اس نے اس کے اندر عشق کے دروازے بھی کھولے، سارتر کی محبتیں اس کی تصانیف سے بھی زیادہ ہیں، اس کی پہلی تصنیف انیس سو اٹھائیس میں سامنے آئی جو ناول کی شکل میں تھی نام تھا’’ناسیا‘‘ ناول کا مرکزی کردار ایک لکھاری ہوتا ہے، یہ کردار دنیا کے گورکھ دھندے کے معانی تلاش کرتا رہتا ہے، ناول کا یہ مرکزی کردار شاید خود سارتر تھا.

وہ محسوس کرتا ہے کہ اپنے سماج میں وہ جن حالات اور جن افراد کے درمیان گھرا ہوا ہے وہ سب کے سب بے معنی ہیں اور بے ہودگی کے استعارے ہیں، معاشرے کی بے معنویت کا احساس اس کے اندر اس قدر سرایت کر جاتا ہے کہ وہ فیصلہ کرتا ہے کہ اسے معاشرت کے صحیح معانی سامنے لانے چاہئیں، اپنے اس مشن کی تکمیل کے لئے وہ اپنے ہاتھوں میں ایک ہتھیار اٹھا لیتا ہے اور وہ ہتھیار ہوتا ہے اس کا قلم۔

وہ جو جو بھی لکھتا رہا اس کا لفظ لفظ سیاسی بڑھوتریوں کا عکس بنتا رہا، وہ اپنے معاشرے کے لئے جو آئینہ تیار کر رہا تھا وہ پوری دنیا کیلئے آئینہ بنا اور یہ ایساآئینہ ہے جو ٹوٹتا ہے اور نہ کبھی ٹوٹے گا، سارتر کے الفاظ کا آئینہ، اس نے ڈرامے لکھے تو وہ عالمی شہ پارے بن گئے، آج بھی دنیا کے کسی نہ کسی کونے میں وہ ڈرامے اسٹیج کی زینت بنے دکھائی دیتے ہیں، میں آخر میں اس کے ایک ڈرامے کا مکالمہ پیش کرتا ہوں،،،،، کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں، جنہیں کسی بھی جگہ کوئی لگاہوا بستر دیکھ کر اس سے اپنے گناہوں کی بو محسوس ہوتی ہے۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •