اپنی خوش نصیبی پر رشک کریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم اپنے اپنے گھروں میں چین سے بیٹھے ہیں ، ہم نہیں جانتے کہ ابتلا کیا ہوتی ہے۔ ہمیں موسم کے شداید کی شکایت ہے، اس بات کا شکوہ ہے کہ بجلی کبھی آتی ہے اورکبھی نہیں آتی، پانی کے لیے لوگ بطور خاص عورتیں اور بچے مارے مارے پھرتے ہیں۔ ان تمام مسائل کے باوجود ہم ان لوگوں کے بارے میں سوچ ہی نہیں سکتے جو اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور ہوئے۔

لاکھوں لوگوں نے اپنے اپنے ملکوں سے راہ فرار اختیار کی اور دوسری زمینوں میں پناہ گزین ہوئے۔گزشتہ برسوں میں ہم نے کتنے ہی لوگوں کے قافلے دیکھے جوگرتے پڑتے پناہ کی تلاش میں تھے۔ بہتوں کو ہم نے کشتیوں سے سمندر میں گرکر ہلاک ہوتے دیکھا۔ بچوں، عورتوں اور مردوں کی تصویریں دیکھیں۔ جائے امان اور جائے پناہ کی تلاش میں سرگرداں۔  ان میں مختلف رنگ ونسل، زبان و مسلک سے تعلق رکھنے والے،اقلیتی فرقوں کے لوگ جن پر زمین تنگ تھی۔ وہ بھی ہماری طرح اپنے اپنے گھروں میں رہتے تھے۔ان کے باورچی خانوں میں بھی چولہا گرم ہوتا تھا۔

نان، شوربے اور چاول کی خوشبو بچوں کو بھوک سے بے قرار کرتی تھی، مرد شیشے کے گلاس میں قہوہ پیتے تھے اور سگریٹ کا دھواں اڑاتے تھے اور اب وہ دوسروں کے سامنے ایک روٹی کے لیے قطار میں لگتے ہیں، ہاتھ پھیلاتے ہیں۔ ان کی عزت نفس سیاسی، نسلی اور مسلکی بنیادوں پر غاصبوں کے قدموں تلے روندی گئی، ان کی زمینیں چھینی گئیں۔ ان کی نوجوان لڑکیاں اور لڑکے جبرو تشدد کا نشانہ بنے۔

ان لوگوں کے بارے میں ’’پناہ گزینوں کے دن‘‘ کے موقعے پر اقوام متحدہ نے جو اعدادوشمار جاری کیے ہیں، ان کے مطابق 2018 کے آخر تک7 کروڑ 80 لاکھ انسانوں نے دنیا کے مختلف علاقوں سے ایذا دہی، ستم رانی اور مسلح تصادم سے بچنے کے لیے اپنے گھروں کو چھوڑا، خانہ بدوش اور بے وطن ہوئے۔ ان میں افغانستان، میانمار (برما) صومالیہ، سوڈان اور شام کے لوگوں کی اکثریت ہے۔ 70 برس کے دوران اتنے بڑے پیمانے پر انسانوں کی نقل مکانی ایک بہت بڑا انسانی سانحہ ہے۔

ترک وطن کرنا اور پناہ گزین ہونا، ہمارے بڑوں اور ہماری نسل نے 1947 اور پھر 1971 اور 72ء میں جھیلا ہے۔ اس بارے میں ہمارے یہاں بہت سی کہانیاں لکھی گئی ہیں۔ بہت سے اشعار کہے گئے ہیں۔ اس وقت مجید امجد کی ایک نظم ’’متروکہ مکان‘‘ یاد آ رہی ہے۔

یہ محلے، یہ گھروندے، یہ جھروکے، یہ مکاں…ہم سے پہلے بھی یہاں… بس رہے تھے سکھ بھرے آنگن، سنہری بستیاں…جانے والے گھرکی چاہت سے تہی پہلو نہ تھے… اتنے بے قابو نہ تھے… روکتا کون۔ اس جھکی محراب کے بازو نہ تھے… اک اٹل ہونی کی زنجیر میں جکڑے قافلے…ساتھ لے جاتے اسے…بات صرف اتنی کہ اس دیوارکے پائوں نہ تھے… اب وہ روحیں گونجتے جھکڑ میں گھلتی سسکیاں… ان کے مسکن یہ مکاں … منہدم ادوار کے ملبے پہ جلتی ارتھیاں… راکھ ہوتی ہڈیوں کے گرم گارے میں گندھی…گرتے اشکوں میں ڈھلی…اب یہی اینٹیں ہماری عظمتِ افتادگی…پڑگئے اینٹوں کے مڑتے زاویوں کے بس میں ہم… بھول کے سب اپنے غم اس دام خشت و خس میں ہم…بِھڑ گئے آپس میں ہم…یہ محلے، یہ منڈیریں، یہ محل ، یہ منڈلیاں…کون دیکھے اب یہاں…کھنچ گئی ہیں کتنی دیواریں دلوں کے درمیاں… بھر لیے ہم نے ان ایوانوں میں تھے جتنے شگاف…کون دیکھے آسماں کی چھت میں ہیں کتنے شگاف۔

یہ نظم انھوں نے 1960 میں لکھی تھی۔ اس وقت تک ترک وطن کے زخم ابھی تازہ تھے اور لوگوں کو اپنے اپنے گھر یاد آتے تھے جو صدیوںپرانے تھے۔ ایسی نظمیں لکھی جاتی تھیں کہ ’’ اے دیس سے آنے والے بتا کس حال میں ہیں یارانِ وطن ‘‘ لیکن اب ان احساسات پر 70 برس گزر گئے اورنئی نسل اپنی خوشی سے ترک وطن پر تیار ہے۔ کوئی اعلیٰ تعلیم کے لیے اورکسی کو خوشحال مستقبل کے لیے نئی زمینوں کی تلاش ہے۔ ایسے میں ہماری یہ نسل اپنے بزرگوں کے دکھ بھول چکی ہے اور انھیں یہ بھی یاد نہیں کہ اب سے 40 برس قبل افغانستان سے ایک نقل مکانی شروع ہوئی تھی جس کا باب ابھی بند نہیں ہوا۔

’’پناہ گزینوں کے عالمی دن‘‘ کے موقع پر ہم جہاں میانمار (برما) ، سوڈان، صومالیہ اور شام کے تارکین وطن کو یاد کرتے ہیں وہیں ہمیں افغان تارکین وطن بھی یاد آتے ہیں۔ ہم وہ ملک ہیں جس نے دنیا کے 40 لاکھ افغان پناہ گزینوں کو اپنی زمین پر آباد ہونے اور زندگی گزارنے کی سہولت دی۔ دونوں ملکوں کی سرحدیں ملی ہوئیں۔ پختونخوا کی زبان، رہن سہن اور ثقافت یکساں۔ دونوں کے خانوادے، خاندان، قرابت داریاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئیں۔

مذہب اور مسلک ایک۔ جب سوویت فوجوں کی یلغار ہوئی تو افغانوں کے لیے اس سے سہل کچھ نہ تھا کہ وہ سرحد عبورکریں اور پاکستان میں داخل ہوجائیں۔ پاکستان نے بھی چشم ما روشن، دل ما شاد کہہ کر ان کا استقبال کیا۔ وہ جوق در جوق آئے اور ہمارے سماج میں پھیلتے چلے گئے۔ انھوں نے بڑے اور چھوٹے پیمانے پر کاروبار کیا۔ گھر بار مال مویشی خریدے، شادیاں کیں،گزشتہ چالیس برس کے دوران ان کی دو نسلیں بڑی ہوئیں اور وہ پاکستان کا حصہ بن گئیں۔

’’پناہ گزینوں کے عالمی دن‘‘ کے موقع پر مختلف اخباروں میں ان کے بارے میں لکھا گیا۔ آسٹریلیا، جرمنی اور بعض دوسرے ملکوں میں ان کے ساتھ جو ناروا سلوک ہوا اس کے بارے میں بھی لکھا گیا۔ حکومتوں سے یہ کہا گیا کہ وہ افغان پناہ گزینوں کے ساتھ انسانی رویہ اختیارکریں۔

اس موقع پر افغان پناہ گزین لڑکی شربت گلا کو بھی یاد کیا گیا۔ جس کی تصویر 1985 میں امریکی جریدے نیشنل جیو گرافک کے سرورق پر چھپی تھی۔ شربت گلا کی حسین نیلی آنکھوں کی ساری دنیا میں دھوم مچ گئی۔ برسوں بعد نیشنل جیو گرافک کا فوٹوگرافر شربت گلا کو افغان پناہ گزین کیمپوں میں ڈھونڈتا پھرا لیکن اس کی یہ کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔ سالہا سال بعد وہ ملی تو اس کی نیلگوں آنکھوں کی گہرائی دھند لا گئی تھی اور چہرے کی معصومیت کو گردش زمانہ نے کچل دیا تھا۔ ایسی ہزاروں حسین نازنین، مہ جبین افغان لڑکیاں پناہ گزین کیمپوں میں غارت ہوئیں۔

تارکین وطن کا یہ قصہ نیا نہیں بہت پرانا ہے۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے دوران یورپ کے مختلف ملکوں اور شہروں سے خاک بہ سر، در بہ در لوگوں نے پناہ کی تلاش میں سیکڑوں، ہزاروں میل کا سفر کیا۔ کیسی دل دوزکہانیاں وجود میں آئیں۔ جس کو جہاں جگہ ملی وہ وہاں رہ گیا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران نازی مظالم نے آئین اسٹائن جیسے نابغہ روزگار کو اس پر مجبورکیا کہ وہ اپنا وطن چھوڑے اور امریکا میں پناہ لے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب روس، جرمنی اٹلی اور دوسرے ملکوں سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی۔ دانشوروں، ادیبوں، مصوروں، موسیقاروں اور سائنسدانوں کے لیے امریکا جائے پناہ تھا۔

برصغیر نے تارکین وطن کے قافلوں کو دیکھا ہے، ان کا رنج و الم دیکھا ہے۔ ایلن جنس برگ کی ایک مشہور نظم ’’جیسور روڈ پر ستمبر‘‘ ہے۔ اس طویل نظم کی چند سطریں ہمیں انسانوں کے عذاب کی یاد دلاتی ہیں:

لاکھوں بچے آسمان کو تکتے ہیں… ان کی آنکھیں پھٹی ہوئی ہیں اور ان کے پیٹ پھولے ہوئے ہیں… جیسور روڈ پر بانسوں کی جھونپڑیاں ہیں… لاکھوں باپ بارش میں بھیگتے ہیں… لاکھوں مائیں درد میں تڑپتی ہیں… دس لاکھ خالائیں روٹی کے ٹکڑے کے لیے مرتی ہیں… دس لاکھ چچا مرجانے والوں پر گریہ کرتے ہیں… لاکھوں نانا دادا بے گھر اور اداس ہیں… لاکھوں نانیاں اور دادیاں خاموش ہیں اور اپنے حواس کھو چکی ہیں… لاکھوں بیٹیاں کیچڑ میں چلتی ہیں… لاکھوں بچوں کو سیلاب بہا لے جاتا ہے۔

یہ نظم انسانی ابتلا میں مبتلا بے خانماں لوگوں کا ایسا نقشہ ہے جس پر ہم جتنا بھی گریہ کریں وہ کم ہے۔ یہ کسی ایک شہر، ایک قبیلے اور عذاب میں مبتلا لوگوں کی زندگی کا احوال ہے۔ ایسا احوال جسے جان کر رونگٹے کھڑے ہوجائیں۔

کوئی پناہ گزین آپ کو کہیں بھی ملے، اسے دھتکارنے کے بجائے اس کا ہاتھ تھام لیجیے اور اپنی خوش نصیبی پر رشک کیجیے کہ آپ اپنے پیاروں کے ساتھ گھر میں ہیں۔

بشکریہ روزنامہ ایکسپریس

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •