سائیکل پر بٹیرے سے مرسڈیز پر طوطے تک، مبارک  ہو مبارک ہو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور میں آپ اگر قرطبہ چوک فیروز پور روڈ سے کلمہ چوک کی طرف جائیں تو ڈسٹرک جیل کے بعد بائیں ہاتھ پر شادمان سے پہلے ٹولنٹن مارکیٹ آتی ہے۔ ٹولنٹن مارکیٹ کی وجہ شہرت بہت سی ہیں جن میں سے ایک عام اور نایاب پرندوں کی خرید و فروخت ہے۔ میں اور میرا محترم دوست شیر زمان اکثر بٹیرے لینے ٹولنٹن مارکیٹ جاتے رہتے ہیں۔ پچھلے دنوں وہاں جانا ہوا تو نئی مرسیڈیز سے اترتے ہوئے اک شخص پر نظر پڑی۔ جانا پہچانا سا چہرہ۔ لیکن ذہن میں میں نہ آئے کہ کون ہے اور کہاں دیکھا ہے۔ کہاں ملے ہیں؟ میں اسی شش و پنچ میں مبتلا تھا کہ شیر زمان نے اس شخص سے پوچھ لیا جناب آپ کو کہیں دیکھا ہے۔ وہ شخص مسکرایا اور کہنے لگا جی ہاں چند سال پہلے میں اسی مارکیٹ میں سائیکل پہ بٹیرے بیچا کرتا تھا۔ اس کے جواب نے ہمیں اور بھی حیران کردیا کہ سائیکل پہ بیٹروں سے نئی مرسیڈیز تک کا سفر کیسے؟ ہم نے متجسس ہو کر اس سے پوچھ ہی لیا جناب یہ سائیکل سے مرسیڈیز تک ۔۔۔ ماجرا کیا ہے۔

اس شخص نے لمبی سانس لی اور بولا کہانی کچھ یوں ہے کہ اک دفہ میں نے اپنی پیرنی کے کہنے پہ بٹیروں کے ساتھ بیس طوطے بھی پال لیے تھے۔ طوطے پنجرے میں کیا آئے، میرے تو دن پھر گئے۔ کچھ مہینوں میں بیس سے دوسو ہو گئے۔ اگلے چند مہینوں میں دو سو سے دو ہزار۔ پھر چل سو چل۔ پہلے میں صرف لاہور میں طوطے بیچتا تھا۔ پھر پورے ملک میں سپلائی شروع کر دی۔ اب کئی ممالک میں ایکسپورٹ کررہا ہوں۔ اسی کی بدولت زمین، جائیداد اور مرسیڈیز تک جا پہنچا۔

اس کہانی میں بہت کچھ ہے۔ شاید ایسی ہی کسی کہانی کو سن کر صدر مملکت نے ایوان صدر میں طوطوں کے لیے انیس لاکھ اڑتالیس ہزار کا نئے پنجروں کا ٹینڈر دیا تھا۔ پاکستان کے معاشی حالات دگرگوں ہیں اور بیرونی قرضہ شیطان کی آنت کی طرح بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ اسی لیے گلشن کا کاروبار چلانے کے لیے حکومت کو آئی ایم ایف اور دوسرے ممالک سے امداد کی درخواست کرنا پڑتی ہے۔

اگلے وقتوں میں تو بادشاہ لوگ ٹوپیاں سی کر گزارہ کر لیتے تھے۔ لیکن اب اخراجات بڑھ گئے ہیں اوپر سے پچھلے حکمرانوں نے عوام کو اتنی ٹوپیاں پہنائی ہیں کہ اب ٹوپیوں پہ گزارہ نہیں ہوگا۔ اسی لیے فیصلہ ہوا ہے اب ایوان صدر میں طوطے پلیں گے۔ اور طوطے بھی کوئی عام نہیں، دنیا کے مہنگے ترین اور جہازی سائز کے مکاؤ طوطے۔ جن کی قیمت بھی لاکھوں میں ہے۔ اسے کہتے ہیں ملک و قوم کی خدمت کرنا۔

اب وہ دن دور نہیں جب ایوان صدر میں لاکھوں کروڑوں طوطے پلیں گے۔ جن کو بیچ کر خیال چوہدری کی طرح دو سو ارب ڈالر کا زرمبادلہ کمایا جائے گا۔ جی ہاں دوسو ارب ڈالر۔ جس میں سے سو ارب تو باہر دنیا کے منہ پہ مارا جائے گا اور سو ارب عوام پہ لگایا جائے گا۔ یہ حکومت کی انصاف پسندی ہے جو انسانوں کے ساتھ جانوروں پہ بھی مہربان ہے۔ اسی لیے انڈوں اور کٹوں سے ہوتی ہوئی وایا بھینس، بکری اب طوطوں پہ آگئی ہے۔ دیکھیں کیسے حاسدین کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے ہیں۔

خدا کا شکر ہے کسی طرح چمن میں دیدہ ور پیدا ہوا ورنہ نرگس ایسے ہی بے نور روتی رہتی۔ عوام نے چڑی مار اور گھوڑا پال صدر بھی دیکھے ہیں۔ اور تاریخ میں بھیس بدل کر عوام کی خیر خواہی کرنے والے شہنشاہوں کا ذکر بھی آیا ہے۔ لیکن اب طوطے پال کرعوام کی خدمت کرنے والے صدر کی باری ہے۔ صدر صاحب کا موڈ اک تیر سے کئی شکار کرنے کا ہے۔ عقل مندوں کو اشارہ ہی کافی۔

جناب صدر اگلے مرحلے میں پچاس لاکھ طوطا گھر یعنی پیرٹ ہاؤس بنا کر پچاس لاکھ گھر بنانے کا حکومتی خواب بھی اسی طرح پوار کردیں گے جس طرح وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنایا گیا ہے۔ اس کے بعد پچاس لاکھ پیرٹ ہاؤس پر دو دو ملازم بھی رکھے جائیں گے تو ایک کرورڑ نوکریاں بھی پیدا ہوجائیں گی۔ جو طوطے پنجرے سے آڑ جائیں ان کو پکڑنے کے لیے غیر ملکیوں کو بھی نوکری پہ رکھ لیں۔ اس طرح باہر سے بھی لوگ نوکریاں ڈھونڈنے آجائیں گے۔

آخری مرحلے میں ایوان صدارت کو طوطا یونیورسٹی بنادیا جائے جس میں ان تمام چاہنے والوں طوطوں کو داخلہ دیا جائے گا جو حکومت کی ہر بونگی کا دل و جان سے دفاع کرتے ہیں۔

جناب صدر کو اس اعلیٰ اور بے مثال کارکردگی پر بقول علامہ طاہر القادری مبارک ہو ، مبارک ہو ، مبارک ہو۔ مبارک ہو ہو ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •