’ کپڑے نہیں خصلت بدلیے‘


ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ساتھ جہاں ایک طرف جرائم کی شرح میں بھی تشویش ناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے وہاں پولیس کی استعداد کار کو بڑھانے پر توجہ دینے کی بجائے اس کا یونیفارم بدلنے پر فوکس کیا جارہا ہے تاکہ عوام کی نظر میں پولیس  کی کارکردگی بہتر ہو نہ ہو لیکن  کم از کم پولیس کے تشخص کو ہی  بہتر بنایا جاسکے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ جس طرح بیل پر گینڈے کی کھال چڑھا دی جائے تو وہ گینڈا نہیں بن جاتا  بالکل اسی طرح پولیس اہلکاروں کی  وردی کا رنگ تبدیل کرنے سے  اس وقت تک بہتری نہیں آسکتی جب تک ان کی صلاحتیوں کو  نہیں نکھارا جاتا۔

اس وقت آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی پولیس کا یونیفارم تبدیل کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔

مزید پڑھیے

غیر تربیت یافتہ پولیس!

پولیس کانسٹیبل سے پی ایچ ڈی بننے تک کا سفر

سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور حکومت میں پنجاب پولیس کی  60 سال سے زیادہ  عرصے سے رہنے والی وردی جس میں خاکی پینٹ اور کالی شرٹ شامل تھی کو  دو سال  قبل تبدیل کر کے اسے سبز زیتون کے رنگ کی وردی پہنا دی گئی اور مقصد  صرف ایک تھا کہ عوام کی نظر میں پولیس کے تشخص کو بہتر بنانا۔

مستقبل میں پنجاب پولیس کی وردی ایف آئی اے کے اہلکاروں سے ملتی جلتی ہوگی یعنی ہلکے نیلے رنگ کی شرٹ اور گہرے نیلے رنگ کی پینٹ۔

یکم اپریل سنہ 2017 کو پنجاب پولیس کی زیتون رنگ کی یونیفارم تبدیل  کرنے کا مرحلہ وار آغاز ہوا اور صوبے کے 36 اضلاع میں اس منصوبے پر عملدرآمد  ایک سال میں مکمل ہوگیا۔ اعداد و شمار کے مطابق وردی کا رنگ تبدیل کرنے سے بھی نہ تو جرائم میں کمی واقع ہوئی اور نہ ہی پولیس کے رویوں میں۔

آئی جی پنجاب آفس کے ایک اہلکار کے مطابق صوبے کے36 اضلاع میں سالانہ اوسطاً سننگین نوعیت کے مقدمات کی تعداد دو لاکھ کے قریب ہے جبکہ پنجاب پولیس کے اہلکاروں کی تعداد ڈھائی لاکھ کے قریب ہے۔

اس وقت صوبہ پنجاب میں ایک سال کے دوران چھ لاکھ سے زیادہ مقدمات کا اندارج ہو رہا ہے۔

وردی کی تبدیلی سے متعلق پنجاب کے لوگوں کی رائے مختلف ہے۔

police

پنجاب پولیس کے سربراہ عارف نواز نے صوبے بھر کے 710 تھانوں  کے حوالات میں سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کے احکامات جاری کیے ہیں تاکہ دوران حراست  ملزمان کی ہلاکتوں کے واقعات کو روکا جا سکے

لاہور کے رہائشی محمد ذیشان کہتے ہیں کہ پنجاب پولیس کی کالی شرٹ اور خاکی رنگ کی پینٹ والی وردی میں ایک رعب و دبدبا تھا اور جرائم پیشہ عناصر پر بھی اسی وردی کا خوف تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ پنجاب پولیس کے حکام کی طرف سے وردی کا رنگ تبدیل کرنے سے اب جرائم پیشہ عناصر کے ذہنوں سے پولیس کا خوف آہستہ آہستہ ختم ہو رہا ہے۔

 اُنھوں نے کہا کہ جب سے پنجاب پولیس کی یونیفارم کو تبدیل کیا گیا ہے تو ان وردیوں میں ملبوس پولیس اہلکار قانون کے رکھوالے کم اور ڈاکیا یا پیغام رسانی کا کام کرنے والے زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔

محمد تنویر کے مطابق جب تک پولیس اہلکار خود قانو ن کا احترام نہیں کرتے اس وقت تک یونیفارم کے رنگ تبدیل کرنے کے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پنجاب پولیس کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں پر اس محکمے کے اہلکار سنگین مقدمات میں ملوث رہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر پولیس میں اتنا بگاڑ ہے تو پھر معاشرے میں اس محکمے کے تشخص کو بہتر بنانے کے لیے وردی کا رنگ تبدیل کرنے کی کوشش بےسود ہوگی۔

پنجاب پولیس کے حکام کا کہنا ہے کہ صوبے میں جرائم پیشہ عناصر کی تعداد آبادی کے تناسب کے ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ اس لیے پولیس کو عوام دوست بنانے کے لیے یونیفارم کا رنگ تبدیل کیا گیا۔

police

 جب سے پنجاب پولیس کی وردی کو تبدیل کیا گیا ہے اس کا موازنہ اگر کالی وردی سے کیا جائے تو پولیس اہلکاروں کے رویوں میں رتی بھر بھی فرق نہیں آیا بلکہ ان کے رویوں میں بہتری آنے کی بجائے اس میں مزید بگاڑ پیدا ہو رہا ہے۔

لاہور اور فیصل آباد میں مزدوروں یا خواتین کے احتجاجی ریلیوں کو ختم کرنے کا معاملہ ہو یا پھر ساہیوال میں مبینہ دہشت گردوں کی آڑ میں خواتین سمیت پانچ افراد کی ہلاکت کا واقعہ ہو ایسے بے شمار واقعات میں اگر کہیں ناکامی نظر آتی ہے تو وہ پولیس کی ہوتی ہے۔

پولیس مقابلوں سے لے کر تھانوں اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے مبینہ طور پر  بنائے گئے عقوبت خانوں میں لوگوں کا استحصال اسی طرح ہی جاری و ساری ہے۔

عورتوں کے ساتھ مبینہ جنسی تشدد کرنے کے ساتھ ساتھ عام آدمی سے رشوت لینے اور ان کی عزت نفس کو مجروح کرنے کے معاملات میں بہتری تو دور کی بات بلکہ حالات مزید خراب ہوتے جارہے ہیں۔

پنجاب پولیس کے محکمے سی آئی اے جہاں پر محتلف مقدمات کی تفتیش ہوتی ہے وہاں کے تفتیشی افسران نے کرائے پر گھر بھی حاصل کیے ہوئے ہیں جہاں پر ملزموں اور مشتبہ افراد کو رکھ کر ان سے تفتیش کی جاتی ہے۔

police

پنجاب بھر کے تھانوں کے ایس ایچ او صاحبان کے کمرے میں کلوز سرکٹ کیمرے لگائے گئے تاکہ ان پولیس افسران کے عوام کے ساتھ رویے کو مانیٹر کیا جاسکے: امجد جاوید سلیمی

پنجاب پولیس کے سابق سربراہ امجد جاوید سلیمی اس بات سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے دور میں پنجاب پولیس کے اہلکاروں کی مجموعی تعداد کا دس سے پندرہ فیصد حصہ اندرون اور بیرون ممالک تربیتی کورس حاصل کر رہے ہوتے ہیں تاکہ ان کی استعداد کار کو بڑھایا جاسکے۔

اُنھوں نے کہا کہ پنجاب بھر کے تھانوں کے ایس ایچ او صاحبان کے کمرے میں کلوز سرکٹ کیمرے لگائے گئے تاکہ ان پولیس افسران کے عوام کے ساتھ رویے کو مانیٹر کیا جاسکے۔

برصغیر میں جب انگریز حکمرانی کرنے کے لیے آئے تو اُنھوں نے دنیا کے اس خطے میں امن وامان  برقرار رکھنے کے لیے واچ اینڈ وارڈ یعنی  پولیس  کا نظام لےکر آئے۔

صوبہ پنجاب میں  انگریزوں کی حکمرانی کے  دور میں اور اب بھی کچھ گاوں ایسے ہیں جہاں پر لوگ اب بھی چوروں اور ڈاکوں سے بچنے کے لیے ٹھیکری پیرا دیتے ہیں۔

سنہ 1861 میں جو پولیس ایکٹ لایا گیا تھا اس میں بھی اس  ٹھیکری نظام کو بھی کافی اہمیت دی گئی تھی۔

اس ایکٹ کے تحت پولیس اہلکاروں کی وردی خاکی ہوتی تھی تاہم اس میں فرق صرف اتنا ہوتا تھا کہ نچلے رینک کے پولیس اہلکار لمبی نکریں پہنتے تھے جبکہ افسران خاکی پینٹ پہنتے تھے۔ یہ معمولی فرق کوئی معنی نہیں رکھتا تھا کیونکہ مقصد صرف ایک تھا اور وہ یہ کہ قانون کی بالادستی  قائم کرنا اور معاشرے میں امن وامان قائم رکھنا۔

سنہ 2002 میں جو پولیس آرڈیننس لایا گیا تھا تو اس آرڈیننس کا مرکزی نکتہ بھی واچ اینڈ وارڈ ہی تھا۔

امن وامان کی صورت حال پر نظر رکھنے والے لاہور کے مقامی ٹی وی چینل جیو کے کرائم رپورٹر احمد فراز کے مطابق پنجاب پولیس میں جہانزیب برقی اور مشتاق سکھیرا جیسے سخت مزاج پولیس افیسرز کی موجودگی  بھی پنجاب پولیس کو عوام دوست پولیس نہیں بنا سکی۔

police

سنہ 2002 میں جو پولیس آرڈیننس لایا گیا تھا تو اس آرڈیننس کا مرکزی نکتہ بھی واچ اینڈ وارڈ ہی تھا

انھوں نے کہا کہ  پولیس اہلکار سے لے کر افسر تک نہ صرف سیاسی وابسطگیاں رکھتے ہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کی قیادت کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں چاہے وہ پولیس مقابلے ہوں یا سیاسی مخالفین کے خلاف مقدمات کا اندراج۔ احمد فراز کے بقول پنجاب پولیس میں بگاڑ اس قدر زیادہ ہے کہ  بارہا  وردیوں کے رنگ تبدیل  کرنے کے باوجود بھی پنجاب پولیس کا رویہ ٹھیک نہیں ہوسکتا۔

انھوں نے کہا کہ اگر پنجاب پولیس کو ‘احرام ‘بطور یونیفارم بھی پہنا دیا جائے تو پھر بھی  ان کا  عوام کے ساتھ رویے تبدیل ہونا بہت مشکل ہے۔

انھوں نے کہا کہ جہاں پولیس درخواست گزار کو کلائنٹ سمجھنا شروع کردے تو وہاں بہتری کے آثار کم اور بگاڑ کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

پنجاب پولیس کے سربراہ عارف نواز نے صوبے بھر کے 710 تھانوں  کے حوالات میں سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کے احکامات جاری کیے ہیں تاکہ دوران حراست  ملزمان کی ہلاکتوں کے واقعات کو روکا جا سکے۔

سینئر صحافی شکیل انجم کہتے ہیں کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کی بجائے ان خفیہ سیلز کو ختم کرنے کی ضرورت ہے جہاں پر پولیس افسران ملزموں کو تفتیش کے لیے لے جاتے ہیں اور یہ معاملہ پولیس کے اعلیٰ افسران کے نوٹس میں بھی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر پنجاب پولیس کے سربراہ یہ بھی نہیں کرسکتے تو کم از کم ایسے پولیس اہلکاروں کے ضمیر کو بیدار کرنے کی ہی کوشش کریں اور ایسا کرنے سے قومی خزانے پر کوئی بوجھ بھی نہیں۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp