وجود ”بیوقوف“ سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چاچو فرید چار ماہ کی اگٹھی تنخواہ وصول کرکے لاہور سے بذریعہ بس راولپنڈی اپنے گھرکے لئے روانہ ہوئے۔ ابھی بس نے راوی کا پل بھی عبور نہیں کیا تھا کہ ان کی اپنے ساتھ بیٹھے شخص سے گہری دوستی ہوگئی۔ دوستی کی وجہ دونوں کے ایک جیسے حالات و خیالات تھے۔ دونوں اپنے بھائیوں اور بھتیجوں کی لالچ سے تنگ اور سخت نالاں تھے۔ دونوں کا شعر و ادب سے لگاؤ بھی برابر تھا، جو کہ صفر تھا۔

چند ہی لمحوں میں جب دوستی ہمالہ سے اونچی ہو گئی تو دوست نے انہیں کھانے کے لئے مٹھائی پیش کی جو چاچو نے ذیابیطس کا مرض ہونے کے باوجود دوستی کی لاج رکھتے ہوئے کھا لی۔ دو دن بعد جب چاچو کو ہوش آیا تو وہ نقدی اور ہم خیال دوست، دونوں سے محروم ہوچکے تھے۔ بچھڑے دوست کہاں ملتے ہیں لیکن اس کو پکڑنے کے لئے چاچو کے بھتیجوں نے جو ہاہا کار مچائی اس نے چند دن گاؤں میں خوب رونق لگائے رکھی۔ بس کا سفر ہمیشہ سے بیوقوفوں کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہوا ہے۔

خاندانی حکیم دو سو سالہ خاندانی تجربے کا بوجھ اٹھائے بس میں سوار ہوتا ہے اور اپنے خاندان کی بر صغیر میں صحت کے لئے خدمات پر فخریہ انداز میں روشنی ڈالتے ہوئے معدے کے تمام بیماریوں بشمول کھٹی ڈکاریں آنا، معدے کی سوزش، تبخیر معدہ اور السر کے لئے بنائی جانے والی آزمودہ پھکی پیش کرتا ہے۔ بس میں موجود فخر یہ پیشکش کے خریداروں کے شور سے اندازہ ہوتا ہے ہمارے ملک میں معدے کے کتنے مسائل ہیں۔ ہر مریض ہاتھ کھڑا کر اور اِدھر اِدھر کا شور مچا کر حکیم سے جلد از جلد دوا حاصل کرنا چاہتا ہے۔

لوگ نہیں جانتے کہ مکار شخص کو تو خود بیوقوف انسان کو ”پھکی“ دینے کی بہت جلدی ہوتی ہے۔ اسی طرح ہمارے ایک اور جاننے والے نے ٹرین میں سفر کرتے ہوئے اصلی راڈو کی گھڑی، جس کی بازار میں قیمت پچاس ہزار روپے سے کم نہیں ہوگی، صرف دو ہزار روپے میں خرید لی۔ گھر پہنچتے ہی گھڑی مذہبی سی ہوگئی، دو گھنٹے پیچھے ہو کر سعودی عرب کا وقت بتانے لگ گئی۔ چند دنوں بعد پاکستان کے معیاری وقت سے پانچ گھنٹے پیچھے ہوکر برطانیہ کا وقت بتایا اور پھر اگلے دن وفات پا گئی۔ وفات کے وقت اس کی سوئیاں اس کے میکے ملک سوئٹزرلینڈ کا وقت بتا رہی تھیں۔ راڈو نے مرنا تھاسو مر گئی لیکن جب تک زندہ رہی گھر میں رونق بپا کیے رکھی۔

برطانیہ کے ذکر سے یاد آیا، ہمارے گاؤں کے سبزی فروش اجمل کو بچپن سے برطانیہ جا کر پاؤنڈ کمانے کا بہت شوق تھا۔ خدا خدا کرکے اسے ایک سچا اور ایماندار ایجنٹ ملا جس کے کہنے پر اس نے پاسپورٹ بنوا لیا۔ پاسپورٹ بنتے ہی اس نے سبزی کی دکان ختم کردی کیونکہ اسے اب روپوں میں تجارت کا فائدہ محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ اجمل نے جب دس لاکھ روپے کسی سے ادھار مانگ کر ایجنٹ کو دیے تو بڑی بڑی باتیں کرنے لگ گیا۔ ایک دفع اس نے ہمیں بتایا کہ بجٹ کے بعد مہنگائی میں اضافے کا سبب اشئیا کی قیمتوں کا بڑھنا نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ عوام کی قوت خرید کا کم ہونا ہے۔ ہم نے اس کی منت کی کہ ایسی باتیں نہ کیا کرو حکومت پہلے ہی ماہر معاشیات تلاش کر رہی ہے۔ تمہارا پتہ چل گیا تو تمہیں برطانیہ نہیں جانے دے گی۔ دو سال رونق لگانے کی بعد آج کل اجمل ہر ملنے والے شخص سے پوچھتا ہے تم گجرات میں کسی پولیس والے کو جانتے ہو؟ ایجنٹ گجرات کا رہنے والا تھا۔

ان پڑھ بیوقوف تو ایک طرف، تعلیم یافتہ بیوقوف بھی کائنات کے وجود میں خوب رنگ بھرتے ہیں۔ ایک سول انجینئر ایسے پلاٹ کی قسطیں ادا کرتے رہے جو صرف نقشے پر پیدا ہوا تھا۔ زمین سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ تمام قسطیں ادا کرنے کے بعد جب وہ اپنا پلاٹ دیکھنے گئے تو ان کا نقشے سے ایسا اعتبار اٹھا کہ وہ دن اور آج کا دن، انہیں نین نقش تک دھوکہ لگتے ہیں۔

میرے ایم بی اے کے کلاس فیلو نے وارن بفٹ سے متاثر ہو کر اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی۔ شروع شروع میں وہ بہت خوش رہا کیونکہ اس کے تمام شئیرز مارکیٹ میں روز سر اٹھا رہے تھے۔ پھر اچانک مارکیٹ کو ایسی نظر لگی کہ شئیرز میں وہ جان نہ رہی۔ ساتھ میرے دوست کی بھی ٹانگوں میں سے جان نکل گئی۔ اس لیے اب وہ گھر سے باہر نہیں نکلتا۔ کہتا ہے تقسیم ہند کے بعد دوسری دفع گورے نے نقصان پہنچایا ہے۔ آئندہ کسی گورے سے متاثر نہیں ہونا۔

میرے دوست جمیل کا کہنا ہے کہ اگر زمین پر آکسیجن، پانی اور بیوقوف نہ ہوں تو اس پر زندگی کہ آثار بھی نہ ہوں۔ اپنے مفروضے کے حق میں وہ یہ دلیل پیش کرتا ہے کہ عقلمند بندہ اکیلا ہو تو کتنی بیزاری محسوس کرتا ہے۔ اس کا دل چاہتا ہے بوریت ختم کرنے کوئی آجائے چاہے عزرائیل ہی کیوں نہ ہو۔ ہاں اگر کوئی شخص تنہائی میں اپنے ساتھ وقت گزار کر خوش ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے وہ مجسم بیوقوف ہے۔ آپ اس مفروضے پر زیادہ غور نہ کیجیے گا کیونکہ یہ جمیل کے ذہن میں اس وقت آیا تھا جب وہ گھر میں اکیلا خوش بیٹھا ہوا تھا۔ میرے خیال میں بیوقوف لوگ عقلمند لوگوں سے لاکھ درجہ بہتر ہوتے ہیں کیونکہ وہ دل کے صاف اور نیت کے اچھے ہوتے ہیں۔

ہمارے محلے کی ایک خاتون نے سونا دُگنا کرنے کے لئے ایک پیر کے حوالے کیا۔ پیر بابا نے اسے آنکھیں بند کرکے دل میں ”بابا بابا بلیک شیپ“ پڑھنے کو کہا۔ تھوڑی دیر بعد جب خاتون نے آنکھیں کھولیں تو گھر سُونا ہو چکا تھا۔ اس کے خاوند کو نقصان کاپتہ چلا تو اس نے اسے کہا، ”میں تم سے بالکل خائف نہیں ہوں کیونکہ تمہاری بیوقوفی اپنی جگہ لیکن کم از کم تمہاری نیت تو ٹھیک تھی۔ تم نے جو بھی سوچا اور کیا، خاندان کی معاشی بہتری کے لئے کیا“۔
اب یہ معلوم نہیں ہے کہ معاشی حالت بہتر کرنے کے لئے صرف نیت کا اچھا ہونا ضروری ہے یا پھر آنکھیں بھی کھلی رکھنی چاہئیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •