نواز شریف اور زرداری کے خلاف وائٹ پیپر تو آئے گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس زمانے میں ابھی نجی ٹی وی چینلز تو ہوتے نہیں تھے۔ حکومت کا سارا پراپیگنڈا سرکاری ٹی وی اور ریڈیو پر جاری ہوا کرتا تھا۔ 24 جولائی 1978 کی رات اچانک پاکستان کے سرکاری ٹی وی اور ریڈیو پر ایک بھونچال سا آ گیا۔ آج کی زبان میں بریکنگ نیوز دینی شروع کر دی گئی تھی۔ جنرل ضیاء کی آمرانہ حکومت نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف قرطاس ابیض، وائٹ پیپر تیار کر لیا ہے۔ اس وائٹ پیپر کو عنوان دی کنڈکٹ آن جنرل الیکشنز ان مارچ 1977 دیا گیا۔

یہ ایک ہزار چوالیس صفحات پر مشتمل دستاویز تھی جس میں تین سو بیالیس ضمیمہ جات تھے۔ اس ساری دستاویز کا اصل مقصد صرف ایک تھا کہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ 1977 کے عام انتخابات مکمل طور پر دھاندلی زدہ تھے اور بھٹو حکومت درحقیقت عوامی مقبولیت کی حامل نہیں تھی۔ وائٹ پیپر 25 جولائی کو سامنے لایا گیا اس وقت تک بھٹو حکومت ختم ہوئے 385 دن گزر چکے تھے اور وہ وقت تھا کہ جب ذوالفقار علی بھٹو پر مقدمہ قتل کی کارروائی اپنے حتمی انجام کی طرف بڑھ رہی تھی۔

اس وائٹ پیپر کو اس وقت جاری کرنے کا صرف ایک مقصد تھا کہ پراپیگنڈے کے ذریعے رائے عامہ اور بین الاقوامی برادری کوآئندہ آنے والے اقدامات کے لئے ذہنی طور پر تیار کیا جائے تا کہ جب ذوالفقار علی بھٹو کو سزا دی جائے تو اس کے لئے ان کی دانست میں ماحول تیار ہو۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ وائٹ پیپر کا عربی ترجمہ بھی جاری کیا گیا۔ عربی ترجمہ جاری کر کے عرب دنیا میں ذوالفقار علی بھٹو کے لئے ہمدردی کی لہر کو ماضی کا حصہ بنانے کی کوشش کی گئی۔

حالانکہ اس وائٹ پیپر میں لگائے گئے دھاندلی کے الزامات کے ریاستی سطح پر کو خود جنرل ضیاء نے اپنی پریس کانفرنس میں مسترد کر دیا تھا۔ جنرل ضیاء نے کہا تھا کہ وہ ایسے تمام الزامات کو بے معنی قرار دیتے ہیں کہ تمام حلقوں میں دھاندلی ہوئی تھی۔ جنرل ضیاء نے کہا تھا کہ فوج کے پاس ثبوت موجود ہے کہ مسٹر بھٹو اس دھاندلی کے ذمہ دار نہیں تھے۔ اس کے علاوہ یہ کہنا بھی غلط ہے کہ پی پی پی کی فتح دھاندلی کی وجہ سے ہوئی۔ اگر دھاندلی نہ بھی ہوتی تو بھی پارٹی جیت جاتی۔

جنرل ضیاء نے کہا تھا کہ اگر کوئی دھاندلی ہوئی تھی تو یہ انفرادی سطح پر کی گئی تھی۔ خیال رہے کہ جنرل ضیاء کے اس بیان کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اقتدار کے ابتدائی دن تھے اور وہ ابھی کچھ جانتے نہیں تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ 1977 کے انتخابات کے بعد ہی اس حوالے سے جنرل ضیاء کے حکم پر تحقیق شروع کر دی گئی تھی۔ کچھ ٹیمیں اس پر کام کر رہی تھی۔ سول میں سے بھی انگریزی ہفت روزہ آؤٹ لک کے ایڈیٹر آئی ایچ برنی کی خدمات مارشل لاء نافذ کرنے سے قبل لے لی گئی تھی۔

جنرل ضیاء اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ جو کہہ رہے ہیں وہ درست ہے۔ یہ اور بات ہے کہ وہ اپنے الفاظ پر قائم نہ رہتے ہوئے وائٹ پیپر بنانے کی طرف چل پڑے وہ الزامات جن کو وہ خود مسترد کر چکے تھے۔ اور صرف انہوں نے ہی مسترد نہیں کیا بلکہ مستقبل کی تاریخ نے وائٹ پیپر کو اٹھا کر کوڑے دان کے سپرد کر دیا۔ حالانکہ اس وائٹ پیپر کے ذریعے ذوالفقار علی بھٹو کی شہرت پر زبردست حملہ کیا گیا تا کہ ان کو ایک اور عدالتی فیصلے کے ذریعے قصہ پارینہ بنایا جا سکے۔

آج یہ وائٹ پیپر کہاں ہے۔ بس تاریخ میں ایک گمنام دھبہ اور کچھ نہیں۔ لیکن کہانی پھر دوہرائی جانے لگی ہے۔ حکومت کے نو دن سے 90 دن اور پھر 100 دن کے معاشی دعووں کی ایک اینٹ بھی سلامت نہیں رہی ہے۔ معاشی بدحالی صاف ہے کہ سابقہ دور حکومت میں حاصل کردہ تقریباً 6 فیصد شرح ترقی کا موجودہ دور میں آدھا ہو جانا ہر بات بیان کر رہا ہے۔ مہنگائی کی لہر کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے۔

ایسے میں عوام کو معاشی ابتری کے اصل مسئلے سے ہٹانے کی غرض سے پچھلے 10 سالوں کے قرضے کی جانچ کے لئے کمیشن بنایا جا رہا ہے۔ تا کہ پرانے گانے کو نئی کمپوزیشن کے ساتھ پیش کیا جا سکے۔ کہ ہم ناکام اس لئے ہو رہے ہیں۔ حالانکہ آنکھوں میں دھول جھونکنا ممکن نہیں رہا۔ لیکن کوشش پھر بھی جاری ہے۔ قرضے کہاں خرچ ہوئے اس کے لئے کمیشن؟ سرکاری خرچوں کا ایک ایک ریکارڈ متعلقہ اداروں کے پاس ہر وقت دستیاب رہتا ہے۔ ریکارڈ منگوا لیں اور پارلیمنٹ میں پیش کر دے۔ مگر اگر ایسا کیا تو پراپیگنڈہ اور سارا ٹھس ہو جائے گا۔ اگر پراپیگنڈہ سارا ٹھس ہو گیا تو نواز شریف کی سیاست پر مزید حملہ کیسے ہو گا۔

اور نواز شریف کا قصور بھی بڑا ہے کہ وہ وزیر اعظم کے منصب کو وزیر اعظم کا منصب ہی تصور کرتا ہے۔ اور جب آپ ایسے شخص کے ساتھ ہوں گے تو اسحاق ڈار کو جلا وطن ہی رہنا پڑے گا۔ چاہے معاشی ترقی کو اپنے دور میں دوگنا کر دیا ہو۔ حمزہ شہباز ہو خواجہ برادران یا کامران مائیکل ان کو نظریے کی قیمت چکانی پڑے گی۔ آصف زرداری اس قصور کے کیسے بری ہو سکتے ہیں کہ وہ بینظیر بھٹو کے شوہر بنے۔ اب ان کو بار بار رگیدنا تو بنتا ہے کوئی وائٹ پیپر تو آئے گا۔ ہاں البتہ اس وائٹ پیپر کی حیثیت بھی خلیل جبران کو زبردستی رابندناتھ ٹیگور بنانے جتنی ہی ہو گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •