مذہبی اقلیتیں ہمیں بہت اچھی لگتی ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمیں مذہبی اقلیتوں پر بڑا غصہ ہے، وہ ہمارا اعتبار ہی نہیں کرتے۔ حالانکہ صاف ظاہر ہے کہ ہمیں اقلیتوں سے پیار ہے۔ اسی لیے تو ہم اقلیتوں میں اضافے کے اتنے خواہاں رہتے ہیں اور باقاعدہ بندوبست کرتے ہیں تحریکیں چلاتے ہیں۔ پاکستان بننے سے ہی ہم نے کوشش شروع کر دی تھی کہ اقلیتوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے اور آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہمیں کامیابی بھی نصیب ہوئی ہے۔ احمدیوں کی مثال آپ کے سامنے ہیں۔ پاکستان بنتے وقت وہ اقلیت نہیں تھے لیکن اب انہیں یہ رتبہ آئینی طور مل چکا ہے اور وہ اس کے مزے بھی لے رہے ہیں۔

ہم نے نہ صرف انہیں اقلیت قرار دیا ہے بلکہ اس بات کا خیال رکھتے ہیں وہ کسی وقت بھی غفلت میں تن آسان نہ ہو جائیں۔ شاید ہی کوئی لمحہ ایسا گزرتا ہو جس میں انہیں یہ بھولتا ہو کہ وہ اس ملک میں ایک مذہبی اقلیت ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ بات جب چل نکلی ہے تو صرف احمدیوں پر رک نہیں جائے گی۔ حالات سے صاف ظاہر ہے کہ کئی اور گروپس لائین میں لگا دیے گئے ہیں۔ تحریکیں جاری ہیں اور وہ دن دور نہیں جب اس ملک میں صرف اقلیتیں ہی ہوں گی۔ ایک چھوٹی سی اقلیت ہی اکثریت کہلائے گی اور وہ بھی اپنے اندر سے ایک اور ٹکڑا توڑنے کی کوشش کر رہی ہو گی۔ یہ جو دو قومی نظریے کو ہم نے طول دیا ہے اس سے اس میں اور بھی ”برکت“ پڑ گئی ہے اور یہ سو قومی نظریے کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

میں پاکستان کی مذہبی اقلیتوں سے خوش نہیں ہوں۔ وہ ہر وقت اپنے ایک مذہبی اقلیت ہونے کے رتبے سے نیچے گر کر پاکستانی شہری کے طور پر اپنے آپ کو منوانا چاہتے ہیں۔ وہ یہ شکایت کرتے بھی نظر آتے ہیں کہ مختلف سہولتوں میں انہیں پورا حصہ نہیں ملتا۔ ان کی یہ بات بالکل غلط ہے۔ مثال کے طور پر پچھلی دہائی میں دھماکے اور حملے میسر تھے اور ان میں پاکستانی شہریوں کو دھڑا دھڑ شہادت کے مواقع مل رہے تھے تو اس دوران میں اقلیتوں کو بالکل بھی نظرانداز نہیں کیا گیا۔ حقائق کے مطابق، 1997 سے 2012 تک اقلیتوں پر بھی 86 حملے کیے گئے۔ جو کہ ایک معقول حصہ ہے کیونکہ مذہبی اقلیتوں کی تعدار تو چار فیصد سے بھی کم ہے۔ شکایت بہر حال پھر بھی اقلیتوں کو رہتی ہے۔

اسی سلسلے میں 19 جون کو اسلام آباد میں ایک تقریب منعقد ہوئی۔ یہ تقریب 19 جون 2014 کے ایک عدالتی فیصلے کی یاد منانے کے لیے منعقد کی گئی تھی۔ اس تقریب میں بھی کوئی نئی بات نہیں کی گئی۔ اقلیتوں کے ساتھ کیے جانے والے وعدوں کو سراہا گیا۔ انہی وعدوں میں ایک 19 جون 2014 کا فیصلہ بھی موجود ہے جس کی یاد میں یہ تقریب منائی جا رہی تھی۔

یہ تقریب بہت زبردست تھی۔ اس میں سپریم کورٹ کی 19 جون 2014 کی ججمنٹ کی بہت تعریف کی گئی اور یہ بتایا گیا کہ اس ججمنٹ پر عمل کرتے ہوئے صورت حال کو کیسے بہتر کیا جا سکتا ہے۔ اس غیر اہم تقریب میں حکومت یا ریاست کے کسی ایسے نمائندے نے شرکت نہیں کی جو اس سلسلے میں کچھ کر بھی سکتا ہو۔ لیکن ہم نے جنگل میں مور کے ناچنے کو خوب انجوائے کیا۔

حکومتی نمائندوں کے اس تقریب میں شرکت نہ کرنے کی دو وجوہات بتائی گئی ہیں۔ ایک تو یہ کہ انہیں ان ساری فضول باتوں کا علم تھا جو اس تقریب میں دہرائی جانی تھیں اور دوسرا یہ کہ وہ اس دن کچھ ضروری کاموں میں مصروف تھے۔ میڈم منسٹر کا ”مورال“ پچھلے کئی دنوں سے اسمبلی میں خاموش بیٹھنے کی وجہ سے ”لو“ چل رہا تھا تو فواد چوہدری صاحب نے انہیں کینڈی کرش کھیلنے کا مشورہ دیا ہوا تھا۔ ایک وزیر صاحب ڈالر گننے میں مصروف تھے کہ آئی ایم ایف کے منہ پر ادھار سے زیادہ مار کر آئی ایم ایف کو کہیں زخمی نہ کر دیں۔

ایک وزیر صاحب کو درس پر جانا تھا تاکہ آٹھ بجے والے ٹی وی شو کے لیے تیار ہو سکیں۔ ایک وزیر صاحب نے ٹی ٹی پی کی قیادت کو ان کے مفادات کے تحفظ کا یقین دلانا تھا۔ اور پی ایم صاحب نے خود کرکٹ ٹیم کے تربیتی ٹویٹس کے بعد شہر سے باہر ایک دربار پر وجدان حاصل کرنے جانا تھا۔ تبدیلی لانا اور حکومت کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔

خیر بات دور نکل گئی واپس آتے ہیں پاکستان کی ناشکری مذہبی اقلیتوں کی جانب۔ تو یاد رہے کہ نا شکری اچھی بات نہیں ہے۔ آپ لوگوں کو خوش ہونا چاہیے کہ آپ کا سٹیٹس بالکل واضح ہے۔ جب کہ ہم مسلمانوں کی صورت حال ابھی واضح نہیں ہے۔ سو قومی نظریائی تحریکیں چل رہی ہیں اور ہم میں سے کسی کا بھی سٹیٹس تبدیل ہو سکتا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ جنہیں ہم خود اقلیت بناتے ہیں ان پر ہماری مہربانیاں بھی کچھ زیادہ ہی ہوتی ہیں۔ ایک دفعہ پھر احمدی کمیونٹی کی مثال آپ کے سامنے ہے۔

اقلیتوں کو چاہیے کہ ہمارے وعدوں پر اعتبار کیا کریں۔ ہم 19 جون 2014 والی سپریم کورٹ کی ججمنٹ میں دی گئی تجاویز پر بھی عمل کریں گے بس ہم امہ کے بین الاقوامی مسائل سلجھا لیں، عربی زبان کو سکولوں اور اسمبلیوں میں لازمی قرار دے لیں اور ٹرمپ، مودی اور نتن یاھو کو دھول چٹا لیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 217 posts and counting.See all posts by salim-malik