بلیک واٹر، را، محب وطن…. ہے کوئی مشتری؟


 \"wajahat\"چار خبروں پر نظر ڈال لیجئے، دو اہم اور دو غیر اہم…. وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز فرماتے ہیں کہ پاکستان کی عالمی تنہائی کا تاثر بالکل غلط ہے۔ دنیا میں سامنے آنے والی نئی صف بندیوں میں ہم تاریخ کے صحیح رخ پر کھڑے ہیں۔ گلگت میں فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ مودی ہو یا را، ہم دشمنوں کی ہر سازش اور چال کو سمجھ چکے ہیں اور درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ اہم خبریں ختم ہوئیں۔ مردان میں ضلع کچہری کے گیٹ پر خود کش دھماکے میں دس افراد جاں بحق ہوگئے۔ مرنے والوں میں پولیس اہلکار اور وکیل بھی شامل ہیں۔ ادھر صبح سویرے پشاور میں مسیحی کالونی کے دروازے پر محافظوں سے فائرنگ کے تبادلے میں چار خود کش حملہ آور ہلاک ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق موثر حفاظتی انتظامات کی مدد سے ایک بڑے سانحے کو روک دیا گیا۔ ان چاروں خبروں میں ایک غیر اہم سی خبر نظر انداز ہوگئی اور وہ یہ کہ ہمارے چوکس، ذہین اور باخبر وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی ولولہ انگیز قیادت میں غیر ملکی ایجنڈے کی حمایت کرنے والی درجنوں تنظیموں کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ ان تنظیموں کے دفتر بند کئے جا رہے ہیں۔ بینکوں سے لین دین ختم کیا جا رہا ہے۔ ان تنظیموں کے اہلکار تھانوں میں اکڑوں بیٹھے ہیں۔ واضح رہے کہ آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان شروع ہونے کے بعد جن درجنوں تنظیموں کو کالعدم قرار دیا گیا تھا وہ خدا کے فضل سے پوری طرح فعال ہیں۔ ان کے دفاتر کی رونقیں برقرار ہیں۔ ان کالعدم تنظیموں کے رہنما خارجہ پالیسی اور دوسرے اہم امور پر قوم کی قرار واقعی رہنمائی کر رہے ہیں۔ یہ امر واضح ہے کہ نائن الیون سے پہلے اور بعد کے برسوں میں ہزاروں پاکستانیوں کی جان لینے والی دہشت گردی کا پردہ چاک کر دیا گیا ہے۔ قوم جان چکی ہے کہ ملک کے مغربی صوبے بلوچستان میں بدامنی کا ذمہ دار مشرقی ہمسایہ ہے۔ دہشت گردوں کی مالی مدد کراچی کی ایک لسانی تنظیم کر رہی تھی نیز یہ کہ عالمی سطح پر پاکستانی پاسپورٹ کی توقیر ان غیر محب وطن تنظیموں نے خراب کی ہے جو عورتوں پرتیزاب پھینکنے کی مخالف ہیں، مذہبی اقلیتوں کے لئے تحفظ کا مطالبہ کرتی ہیں، جنہوں نے فرقہ واریت کے خلاف تب آواز اٹھائی جب محب وطن عناصر ڈنڈا اٹھا کر بلیک واٹر کا تعاقب کر رہے تھے۔ ہمارے عظیم رہنما عدالت کے بغلی کمرے میں بیٹھے ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کا انتظام کر رہے تھے۔ اگرچہ وطن عزیز کے خلاف سازش کا تانا بانا پورے طور پر سامنے آ چکا ہے تاہم چند سوالات کے جواب ابھی باقی ہیں۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ نیک محمد، الیاس کشمیری اور حکیم اللہ محسود کس این جی او کے اہل کار تھے۔ یہ وضاحت بھی ابھی نہیں ہو سکی کہ خیبر ایجنسی میں امن مشاعرہ منعقد کرنے والے زرطیف آفریدی شہید کا کس دہشت گرد تنظیم سے تعلق تھا؟ ملتان کے راشد رحمان کس غدار وطن کا دفاع کر رہے تھے؟ کراچی کی پروین رحمان کس تاجر سے بھتہ مانگ رہی تھیں؟ سبین محمود نے خود کش جیکٹ تیار کرنے والے کارخانے کہاں لگا رکھے تھے؟ امید رکھنی چاہئے کہ چاق و چوبند وزیر داخلہ، محب وطن صحافی اور مستعد دفتر خارجہ جلد ہی ان تمام معاملات کی تہہ تک پہنچ جائیں گے۔

قابل اجمیری بہت اچھے شاعر تھے۔ ایک مصرع ان کا ضرب المثل ہوگیا، وقت کرتا ہے پرورش برسوں…. مصرع کیا ہے، صدیوں کی تاریخ کو عنوان دے دیا تھا۔ اجازت دیں تو شعیب بن عزیز کا ایک تازہ مصرع سنا دیا جائے، یہ مری آستیں سے نکلا ہے…. یہ دو متفرق مصرعے نہیں، انہیں وہ حادثہ جانیے جس کی پرورش برسوں کی جاتی ہے۔ ہندوستان کی تقسیم کا بنیادی سبب یہ تھا کہ ہندوستان کی آزادی مانگنے والے رہنما قابل عمل آئینی سمجھوتے پر پہنچنے میں ناکام رہے۔ اس موضوع پر لکھے گئے تاریخ کے دفتر محض حب الوطنی کے حاشیے ہیں۔ نائن الیون کا المیہ کیوں سامنے آیا؟ سرد جنگ دو سیاسی و معاشی نمونوں میں کشمکش تھی۔ معیشت کے نمونے پہ جھگڑا تھا۔ سیاسی بندوبست کی صورتوں پہ اختلاف تھا۔ سرمایہ دار نظام نے اپنی معیشت کے استحصالی پہلوو¿ں پر بحث دبانے کے لئے سرد جنگ کو مذہب اور الحاد کی لڑائی بنا دیا۔ ذوالفقار بخاری نے کیا خوب کہا تھا….

یہ برہم ہونے والی محفل خود ہی برہم ہو جاتی
ہم کہہ کے ہوئے بدنام کہ ساقی رات گزرنے والی ہے

منضبط اور مداخلت کار معیشت کھلی منڈی کی حرکیات کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی۔ ریاست کے تنخواہ دار اہلکار جمہوری آزادیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔ سرد جنگ میں اشتراکیت کو بہرصورت شکست کھانا تھی۔ اصل ناکامی یہ ہوئی کہ جنگ کے ہنگام غلط نعرے اٹھائے گئے۔ ایسے ہتھیار استعمال کئے گئے جو واجب نہیں تھے۔ سرمایہ داری نے عوام دشمن آمریتوں کی حمایت کی۔ سیاست، فلسفے اور سماجی افکار کی توپوں کا رخ ان زاویوں پر رکھا کہ یہ گولے ہوا میں تیرتے ہوئے بالاخر اپنے ہی مورچوں پر گرنا تھے۔ اس سے ورلڈ ٹریڈ سنٹر تباہ ہو گیا، افغانستان کھنڈر ہو گیا، عراق میں معصوم بچیاں بازار میں فروخت کی گئیں، شام کے بچے بے بسی کی تصویر بن گئے۔ کہیں ساحلوں پراوندھے منہ پڑے ہیں، کہیں کیمرے کو بندوق سمجھ کر ہاتھ بلند کر دیتے ہیں، کہیں ایمبولنس میں بے حس و حرکت پڑے ہیں۔ یہ ایک خواب کے دھندلانے کی کہانی ہے۔ اس خواب کی آنچ پاکستان تک پہنچی ہے۔ لیفٹننٹ جنرل عاصم باجوہ نے بتایا ہے کہ ہماری ریاست پوری قوت سے داعش کا پیچھا کر رہی ہے۔ پاکستان میں داعش کا وائرس لانے والے درجنوں دشمن گرفتار ہو چکے ہیں۔ باقی منہ چھپائے پھر رہے ہیں۔ تاہم جاننا چاہیے کہ پاکستان کی لڑائی مسیحی کالونی کے دروازے پر خود کش حملہ آوروں سے دست بدست لڑائی تک محدود نہیں۔ مردان ضلع کچہری کے دروازے پر بہادر محافظوں کا ڈٹ جانا ملک بچانے کے لئے کافی نہیں۔ دہشت گردی ہمارے ریاستی موقف میں جڑیں پکڑ چکی ہے۔ دہشت گردی کے پودے کو سینچنے والا جھوٹ ہمارے نصاب میں شامل ہے۔ ہمارا صحافی رگیں پھلا پھلا کر دہشت گردوں کی عذر خواہی کرتا ہے۔ کبھی ڈرون حملوں کی دہائی دیتا ہے، کبھی جوتا ہاتھ میں پکڑ کر بلیک واٹر کے پیچھے لپکتا ہے، کبھی ڈھول کی تھاپ پر را کے نعرے بلند کرتا ہے۔ ڈرون، بلیک واٹر، را اور خود کش حملہ آوروں کی یہ سب بلائیں حقیقت میں موجود ہیں لیکن ان کا مقابلہ کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ عالمی تنہائی سے انکار کرنے کی بجائے اس نکتے پر غور کیا جائے کہ دنیا ہم سے خائف کیوں ہوئی؟ ہمسایہ ملک چین ہماری زمین پر اتنی بڑی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ سرمائے کی دنیا میں ہمارا اعتبار قائم کیوں نہیں ہوتا؟ ہمارے وکیل بیٹے مارے گئے ہیں، ہمارے قانون دانوں اور ریاست میں یکجہتی نظر کیوں نہیں آتی؟ ہمارے اخبارات کے صفحہ اول اور ادارتی صفحے میں ہم آہنگی کیوں نہیں ؟ ہمارے گیت کے بول اور ساز کے آہنگ میں سروں کا بہاو¿ یکسو کیوں نہیں؟ ہم نے ابھی اپنے دشمن کو پہچانا ہی نہیں۔ ہم 2016 کی روبوٹ منڈی میں سرد جنگ کے چابی سے چلنے والے کھلونے بیچ رہے ہیں۔ ہم نے راہداری کے دونوں طرف دو ڈویژن فوج کھڑی کر دی ہے مگر سڑک کے بیچوں بیچ رکاوٹیں موجود ہیں اور رکاوٹیں ہٹانے والا عملہ چوہدری نثار علی خان صاحب کی قیادت میں ملک کے دشمن ڈھونڈنے گیا ہے۔ ہم معیشت کی ترقی تو چاہتے ہیں لیکن یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ معیشت کے ٹھیلے پر اہل وطن کا احترام رکھ کر بیچنے نکلیں گے تو ہماری آواز ن م راشد کے اندھے کباڑی کی طرح مدھم ہوتے ہوتے بیٹھ جائے گی:

خواب لے لو خواب
اور لے لو ان کے دام بھی….

Facebook Comments HS

Comments are closed.