بریک اپ کے بعد کیا کرنا چاہیے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تعلق کا ٹوٹنا ایک شدید نفسیاتی جھٹکا ہوتا ہے۔ ایک بے وقعتی کا احساس، رائگانی اور وقت کے ضائع ہونے کا پچھتاوا اتنا آسان نہیں ہوتا کہ اس سے آسانی سے نکلا جا سکے۔ یہ نفسیاتی جھٹکا انسان کی زندگی پہ گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ کچھ لوگ اس صدمے سے نکلنے میں بہت وقت لیتے ہیں۔ لیکن اصل مسئلہ ان لوگوں کا ہے جو اس سے نکلنا ہی نہیں چاہتے۔ اس بات کا پچھتاوا جو گزرے ہوئے وقت کے حوالے میں ہوتا ہے دکھ سے ابھرنے ہی نہیں دیتا۔

اور کچھ صورتوں میں یہ احساس اتنا شدید ہوتا ہے کہ انسان آگے بڑھ ہی نہیں پاتا۔ مسئلہ اتنا سادہ نہیں ہے کہ اسے ریاضیاتی بنیادوں پہ حل کر لیا جائے۔ کوئی ٹائم پریڈ سیٹ کر کے کہہ دیاجائے کہ اتنے وقت میں آپ اس سے نکل سکتے ہیں۔ یہ دراصل انسان کی اپنی سوجھ بوجھ اور جذباتی مضبوطی پہ منحصر ہے۔ پہلی بات اس حقیقت کو قبول کرنا ہے کہ تعلق ختم ہو چکا ہے۔ پیچ اپ کی کوشش یا انتظار بے کار ہے۔ اکثر انسان الجھتا اسی وجہ سے ہے کہ اسے کسی ان ہونی کی امید ہوتی ہے۔

جب یہ سوچ لیا جائے کہ یہ معاملہ ختم ہو چکا ہے تو آگے بڑھنا قدرے آسان ہوتا ہے۔ دوسری بات ایک غیر جانب دار تجزیہ ہے۔ جب بھی ہم کسی جذباتی وابستگی میں ہوتے ہیں اس دوران ہم ایک ٹرانس میں ہوتے ہیں جہاں محبوب کی خامیاں نظر نہیں آتی نہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیاں محسوس ہوتی ہے۔ تعلق توڑنے والے لوگ کہیں نہ کہیں تحکمانہ (Authoritative) ہوتے ہیں اور وہ اپنے پارٹنر کو یہ باور کروانے کی کوشش میں ہوتے ہیں کہ اس میں خامیاں ہیں۔

 ایسے لوگ یقیناً حکمرانی کے جذبے سے مغلوب ہوتے ہیں۔ ایک بار ٹھنڈے دل سے تجزیہ کرنا کہ اگر یہ رشتہ برقرار رہتا تو کیا نتائج ہو سکتے تھے ریلیف میں مدد کرتا ہے۔ ساتھ ہی ذاتی تجزیہ بے لاگ ہونا چاہیے کہ اس میں آپ خود کہاں غلطی پہ تھے تاکہ صرف بلیم گیم کھیل کے آپ اس سے آگے نہ بڑھیں۔ حقیقت بہرحال حقیقت ہوتی ہے۔ اسے جلد یا بدیر سامنے آنا ہوتا ہے۔ بجائے اس کے کہ وہ تب سامنے آئے جب آپ خود کو بری کر چکے ہوں اور دوبارہ تکلیف میں دھکیل دے۔

 اپنی غلطی کو بھی تسلیم کر لینا چاہیے۔ تیسری بات اس حقیقت کو سمجھنا ہے کہ انسان کوئی اٹل نفسیات اور احساسات رکھنے والی مخلوق نہیں ہے کہ جس پہ ریاضیاتی فارمولا اپلائی ہو سکے کہ اگر ایک انسان ویسا ہے تو سبھی ایک سے ہوں گے۔ یہ گمان کہ ایک بار زندگی میں برا ہو چکا ہے اور سب لوگ ایسے ہی ہیں۔ ڈپریشن میں دھکیل دیتا ہے۔ آپ کے اردگرد ایسے دوست اور خاندان کے افراد موجود ہوتے ہیں جن سے آپ اپنے مسائل بانٹ سکتے ہیں اور اس صورتحال سے نکل سکتے ہیں۔

چوتھی بات یہ تسلیم کرنا ہے کہ جو وقت بیت گیا اسے واپس نہیں لایا جا سکتا۔ اس پہ پچھتانا یا اسی پچھتاوے میں ایک غلط رشتے میں جڑے رہنا جو تکلیف کا باعث ہو بہت بڑی غلطی ہے۔ اور یہ غلطی اکثر لوگ کرتے ہیں۔ غلطی سدھارنے کے لیے مزید غلطیاں اسے بگاڑتی ہیں سدھارتی نہیں۔ پانچویں بات جو بالخصوص ہمارے سماج کا حصہ ہے۔ وہ ترس و رحم کے جذبات ہیں۔ عموماً طلاق کی صورت میں باقاعدہ مرگ والی صورتحال پیدا کی جاتی ہے۔ جیسے تعلق نہیں ختم ہوا، کوئی آفت آئی ہے۔

ہمدردی ہونا اچھی بات ہے لیکن یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آپ کی ہمدردی اور اکثر مزہ لینے کے لیے مصنوعی ہمدردی کسی کے دکھ کو کم نہیں کرتی بلکہ اسے گھسیٹ کے واپس اذیت میں جھونک دیتی ہے۔ اپنی مصروفیات کو بدلیں۔ یہ وہ وقت ہے جب آپ جان جاتے ہیں کہ زندگی کا آپ پہ بھی حق ہے۔ اور آپ کو اسے اپنے لیے جینا ہے۔ زندگی کا اپنا ایک بہاؤ ہے اس کے ساتھ بہنا آسانی پیدا کرتا ہے۔

 ایسے جذباتی بحران کے دوران خود کو وقت دینا اور اہمیت دینا کافی بہتری کا باعث ہو سکتا ہے۔ نجانے ہم لوگ دکھ اوڑھ کے خوش کیوں ہوتے ہیں۔ ہمیں دکھ میں رہنا کیوں پرکشش لگتا ہے۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ دوسروں کو یہ اپنا فرض کیوں لگتا ہے کہ ایسے کسی فرد کو جو پہلے سے جذباتی توڑ پھوڑ کا شکار ہے اسے اجڑے ہوئے حلیے میں درد کی بکل مارے دیکھیں۔ بات سادہ سی ہے ہم نفسیاتی طور پہ بیمار لوگ ہیں۔ ہمیں خوشی اور ہمت کی داد دینے سے زیادہ چچ چچ کر کے ہمدردی کرنا پسند ہے تاکہ ہم کسی کے دکھ کے لاشے پہ اپنی نام نہاد منافقت زدہ انسانیت کے بت کو بلند کر سکیں۔

ایسے لوگوں سے بچیں۔ یہ آپ کے دوست نہیں ہوتے بلکہ سلو پوائزنگ کا کام کرتے ہیں۔ آگے بڑھنا زندگی کا حسن ہے۔ زندگی کبھی کہیں کسی کے بغیر نہیں رکتی۔ احساسات، جذبات اور خیالات جس فرد سے منسلک رہے ہوں ضروری نہیں کہ اس کی خامیاں تلاش کر کے اس نفرت کی بنیاد پہ ہی آگے بڑھا جائے۔ لیکن اس لاشے کو کندھے پہ اٹھا کے اور اسے معیار بنا کے اگر آپ جانچ کرتے رہیں گے تو زندگی آگے نہیں بڑھے گی۔ اس لیے اپنا وقت لیں ہر بات پہ غور کریں اسے سمجھیں اور سیکھ کے آگے بڑھیں۔

یہ دنیا کسی ایک فرد تک محدود نہیں ہے۔ اس میں بہت سے رنگ ہیں ان رنگوں کو دیکھنے کے لیے، محسوس کرنے کے لیے آپ کو اپنی آنکھوں سے پٹی اتارنا پڑے گی۔ تب آپ آگے بڑھیں گے۔ انسان خود اور انسانی معاملات بلاشبہ بہت پیچیدہ ہیں۔ کسی فارمولا کے تحت ہم انہیں حل نہیں کر سکتے لیکن خود کو ڈپریشن اور تکلیف میں مبتلا ہونے سے بچانے کی کوشش ضرور کر سکتے ہیں۔ زندگی کی اہمیت کا احساس اور ایک مثبت سوچ کے ساتھ اسے گزارنا اہم ہے۔ اس بات کا ادراک کہ زندگی کا ہر پل اہم اور نیا ہے یہ زندگی آپ کی ہے اور اسے خوشی سے گزارنا آپ کا حق ہے، ضروری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •