ہم کتنے جدید ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ عرصہ قبل وزیر اعظم عمران خان نے القادر یونیورسٹی کی افتتاحی تقریب میں تقریر کی اور کہا تھا کہ وہ سائنس کو روحیانیت سے ملاکر ایک ”سپر سائنس“ بنائیں گے۔ اس مقصد کے لیے پاکستان کے بہترین اور ذہین ترین طلبا و طالبات کو کہا جائے گا کہ وہ نظریہ پاکستان اور اسلام کا گہرائی سے مطالعہ کریں اور ان موضوعات پر تحقیق و تحریر کو آگے بڑھائیں۔

اس سے قبل ایک وفاقی وزیر نے کم عمری کی شادیوں کی اس طرح حمایت کی جیسے یہ کوئی مقدس فریضہ ہو جن پر سوال نہیں اٹھائے جاسکتے۔ اسی وزیر نے اسمبلی میں ایک غیر مسلم رکن اسمبلی کو دھمکایا بھی تھا۔

اسی طرح ایک اور وزیر کھلم کھلا ان تنظیموں کی حمایت کرتے رہے ہیں جن پر اب ایک بار پھر ”پابندی“ لگادی گئی ہے اور انہیں بظاہر کام کرنے سے روک دیاگیا ہے۔ رمضان اور پھرعید پر چاند ڈھونڈنے کا ڈراما ایک بار پھر دہرایا گیا اور خیبرپختونخوا اور باقی ملک میں عید مختلف دنوں میں منائی گئی۔

ہمارے ملک میں ”اللہ حافظ“ اور ”خدا حافظ“ کا تنازع بھی چلتا رہتا ہے اور رمضان کو رمدھان کہنے والے لوگ بھی موجود ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر رویت ہلال کمیٹی کی افادیت پر سوال اٹھا رہے ہیں اورایک کمیٹی بنانے کا اعلان کیا ہے جو پانچ سالہ قمری کیلنڈر جاری کرے گی۔ حیرت اس بات پر ہے کہ جو کام آج کل ایک کمپیوٹر کا ماہر نوجوان کرسکتا ہے اس کے لیے کمیٹی بنانے کی کیا ضرورت ہے اور اگر ضرورت ہے بھی تو صرف پانچ سال کا کیلنڈر کیوں؟

یہ باتیں ہمیں اس سوال پر لاتی ہیں جو اس مضمون کا عنوان ہے۔ یعنی ہم کتنے جدید ہیں؟ یہ سوال دو لحاظ سے بہت ہم ہے۔ ایک تو یہ کہ کیا ہم واقعی کسی جدید دور میں رہ رہے ہیں اور دوسرے یہ کہ کیا ہم اکیسویں صدی کے مطابق موضوعات پر بات کرتے ہیں یا نہیں؟

پچھلے بہتر( 72 ) سال سے ہم ان موضوعات میں الجھے ہوئے ہیں یا الجھائے گئے ہیں جن کا جدید دور سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ گوکہ ہم یہ دعوے کرتے نہیں تھکتے کہ ہمارے ملک میں بہت ٹیلنٹ ہے مگر یہ ٹیلنٹ یا صلاحیت اسی وقت کام آتی ہے جب ہم ملک سے باہر جاتے ہیں یا پھر ہماری صلاحیتیں اس ملک میں ضائع ہوجاتی ہیں۔

 ”جدیدیت“ کی کئی تعریفیں کی جا سکتی ہیں اور اس پر ہزاروں نہیں تو سینکڑوں کتابیں تو ضرور لکھی جا چکی ہیں۔ یہاں ہم مختصراً دیکھیں گے کہ ایک جدید معاشرے کے کیا لوازمات ہوتے ہیں۔

سب سے پہلے تویہ کہ جدید معاشرے برداشت اور رواداری پرمبنی ہوتے ہیں۔ یعنی ایک جدید ریاست اپنے باشندوں کے رنگ، نسل، مذہب اور فرقے سے قطع نظر سب کی خدمت کرتی ہے اور کسی ایک فرقے یا مذہب کی طرف داری نہیں کرتی اور نہ ہی ایک گروہ کی دوسرے گروہ کے خلاف حمایت کرتی ہے۔

اس طرح کی برداشت اور رواداری کا اطلاق تمام پڑوسی ملکوں سے تعلقات پر بھی ہوتا ہے۔ ایک جدید ریاست تمام پڑوسیوں سے بہتر تعلقات رکھنے کی کوشش کرتی ہے اور اپنے ہم سایوں کا ناک میں دم نہیں کیے رکھتی۔ اگر مسائل ہوں تو انہیں گفت و شنید کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرتی ہے اور اپنے موقف پر اڑی نہیں رہتی یعنی لچک داری کا مظاہرہ کرتی ہے۔

برداشت اور رواداری کا مظاہرہ اندرونی اور بیرونی دونوں سطح پر کرنا ہوتا ہے۔ مثلاً یہ بات اگر آپ چین پر لاگو کریں تو بین الاقوامی طور پر اس کے تعلقات تقریباً تمام ملکوں سے اچھے ہیں مگر اندرونی طور پر چین میں برداشت اور تحمل نہیں ہے جس کا مظاہرہ ہم تبت اور سنکیانگ کے علاقوں میں دیکھتے ہیں۔ اس طرح بھارت اندرونی اور بیرونی دونوں سطح پر برداشت اور رواداری کا مظاہرہ نہیں کرتا۔ جیسا کہ ہم کشمیر اور دیگر علاقوں میں دیکھتے ہیں۔

یہ بات ہم پاکستان پر بھی لاگو کرسکتے ہیں جس کے تعلقات اپنے تمام پڑوسیوں سے خراب ہیں سوائے چین کے اور اندرونی طور پر بھی برداشت اور تحمل یا روداری کا معاشرہ نہیں ہے جیسا کہ ہم بلوچستان میں دیکھتے ہیں اور اپنی مذہبی رنگا رنگی کو کچلتے ہیں۔

اس کے علاوہ ایک جدید معاشرہ روایت پرست نہیں ہوتا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی ساری روایات کھڑکی سے باہر پھینک دیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ جدید سماج ہر روایت پر سوال اٹھانے کی اجازت دیتا ہے۔ وہ رسوم و رواج جو صدیوں سے چلے آرہے ہوں انہیں جدید معاشرہ جدید حقائق کی روشنی میں پرکھتا ہے۔

اس جانچ پڑتال کے بغیر کوئی سماج جدید ہونے کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ اگر کوئی روایت اکیسویں صدی میں قابل فہم نہیں ہے تو اسے اصلاح کی ضرورت ہے تاکہ وہ جدید دور کے تقاضے پورے کرسکے اور اگر ایسا ممکن نہ ہوتو اس روایت کو ترک کیا جاسکے۔

اس طرح ہم جدید سماج کو قوانین پر مبنی سماج کہہ سکتے ہیں نہ کہ روایت پر مبنی۔ اس کا مطلب ہے کہ نئے قوانین بنائے جاتے ہیں جنہیں عوامی نمائندے تشکیل دیتے اور ان پر بحث کرتے ہیں۔

جب نئے قوانین بنتے ہیں تو پرانی روایات پس منظر میں چلی جاتی ہیں اور سماج خود کو نئے حالات کے مطابق جدید سانچے میں ڈھالتا ہے اور اپنے نقائص دور کرتا ہے۔

مثلاً اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا اعلان نامہ نسبتاً نئے قوانین کا مجموعہ ہے جس پر تمام جدید ریاستیں صاد کرتی ہیں اور اپنی روایات اور رسم و رواج کے پیچھے نہیں چھپتیں۔ ایک جدید سماج بین الاقوامی طور پر مسلمہ اور منظور شدہ قوانین کو اپنے مقامی قوانین اورروایات پر ترجیح دیتا ہے جو زیادہ تر خواتین دشمن اور انسانی حقوق کے خلاف ہوتے ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •