حنا، گورکن اور نواز شریف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ محبت کا جذبہ ہی ہے جو سسی کو ویرانوں کی خاک چھاننے پر مجبور کردیتا ہے۔ یہی جذبہ دو عام لوگوں کو ہیر اور رانجھا جیسا لازوال کردار بنادیتا ہے۔

یہ سچ ہے کہ آپ کسی کو کسی کی محبت میں مبتلا ہونے سے نہیں روک سکتے۔ شاہدرہ کے سجاد کو بھی اندازہ نہیں تھا۔ بعض دفعہ محبت زندگی میں بڑے سخت امتحان لیتی ہے۔ پھر بھی اس نے محبت کی۔ محبت میں ساری زندگی کے لیے دونوں ہاتھوں سے محروم ہونے کے بعد آج بھی وہ اپنی محبت پر قائم ہے۔ 13 جولائی 2018 کو لاہور ائیرپورٹ پر نواز شریف اورمریم نواز شریف کی گرفتاری کی خبر کارکنوں پر بجلی بن کر گری ٹھیک اسی دن حناکو اپنے شوہر کو کرنٹ لگنے کی خبر ملی۔

سجاد بھی جانتا تھا کہ اس کے لیڈر نواز شریف کو وطن واپسی پر گرفتار کرلیا جائے گا اس کے باوجود وہ اپنے قائد کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا چاہتا تھا وہ اپنے قائد کے لیے استقبالی فلیکس لگارہا تھا کہ کرنٹ کے زبردست جھٹکے نے اس کی جان لینے کی کوشش کی پاس موجود لوگوں نے کہا یہ جان کی بازی ہار گیا ہے۔ ہسپتا ل لے جایا گیا زندگی ابھی باقی تھی مگر ہاتھ کاٹنا ضروری ہوگیا تھا ہاتھ کے ساتھ بازو کا کچھ حصہ بھی ضائع کرنا پڑا۔

ہسپتال والوں نے سجاد کی بیوی حنا کو کہا یہ گوشت پھینک دیجیے۔ اس نے کہا گوشت پھینکا نہیں جاتا یہ تو پھر بھی میرے زندگی بھر کے ساتھی کے جسم کا حصہ ہے میں اسے دفن کروں گی۔ جناح ہسپتال کے قریبی قبرستان گئی تو گورکن نے 500 ر وپے معاوضہ مانگ لیا۔ صدمے میں ٹوٹ جانے والی حنا نے اسے بتایا کہ اس کے پاس صرف 200 روپے ہیں۔ گورکن نے 200 لیا اور ترس کھا کر بیلچا حنا کے ہاتھ میں تھما دیا، اس نے خود کھدائی کی اپنے شوہر کے جسم کا گوشت دفن کردیا۔

حنا اپنے شوہر پر بیتا وقت یاد کرے تو اس کی آواز کانپ جاتی ہے، آنکھوں میں پانی اتر آتا ہے۔ وہ سماج کے بھیانک چہرے سے نقاب اتارنا چاہتی ہے۔ حادثے کے بعد مسلم لیگ ن کا مقامی رہنما ان کے پاس آیا 30 ہزار کی رقم تھمادی اور مستقل مالی امداد کا وعدہ کیا، مگر پھر کبھی لوٹ کر نہیں آیا۔ بتانے والوں نے بتایا نئی حلقہ بندی کے بعد سجاد کا گھر جس کالونی میں ہے اب اس کے حلقے میں نہیں آتا۔ اپنے ہاتھوں سے کماکر اپنے 3 بچوں کو پالنے والا سجاد اب چل پھر تو سکتا ہے لیکن دونوں ہاتھوں سے محروم ہونے کے بعد اب وہ کھانے سے لے کر پانی کا گلاس پینے تک کسی کا محتاج ہے۔

اس کی باہمت بیوی اسے خود نہلاتی ہے، خودکھلاتی ہے اور صبح کے وقت لوگوں کے گھروں میں کام کر کے اپنے تین بچوں کے ساتھ ساتھ اپنے شوہر کا پیٹ بھی پال رہی ہے۔ ایک کمرے کے کرائے کے گھر میں رہنے والا یہ خاندان لوگوں کے گھر سے آئے ہوئے سالن پر گزارہ کرتا ہے۔ عیدپر ہمیشہ نئے کپڑے پہننے والے بچوں کو حنا اور سجاد مل کر بھی یہ نہ سمجھا پائے کہ اس عید پر نئے کپڑے کیوں نہیں بنائے گئے۔ اس خاندان کی عید کے رنگ اتنے پھیکے تھے کہ عید والے دن کھانے کے لالے پڑے تھے۔

آج اس بدقسمت خاندان کا ساتھ ان کے رشتے دار بھی چھوڑ چکے ہیں۔ یہ سب ہونے کے بعد بھی حنا کمزور نہیں ہے وہ کہتی ہے ان سینکڑوں متوالوں، جیالوں، انصافیوں کوسوچنا چاہیے کہ وہ ہر دم پارٹی پر جان چھڑکتے نظر آتے ہیں کہ اگرخدانخواستہ ان کے ساتھ کوئی حادثہ ہوجائے تو ان کے گھر والوں پر کیابیتے گی؟ دوسری طرف سجاد ہے جو آج بھی اپنے قائد نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کے لیے دعائیں کرتا ہے لوگ حادثے کی یاد دلاتے ہوئے پارٹی کو لاکھ برا بھلا کہیں لیکن اس کی زبان پر اپنی محبت (نواز شریف) کے لیے کوئی شکوہ نہیں۔ تنہائی میں وہ اپنے رب سے دعا مانگتا ہے کہ اسے اپنا اور اپنے بچوں کا سر چھپانے کے لیے کوئی چھت مل جائے۔ سجاد خدا کے حضور ہاتھ اٹھا کر التجا کرنا چاہتا ہے مگر اب اس کے پاس ہاتھ نہیں ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •