جب میں حریم شاہ سے ملا

پاکستان میں ٹک ٹاک ویڈیوز کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے. بہت سے لوگ انوکھے انداز اپنا کر دیکھنے والوں کی بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں۔  مگر ان سب سے مختلف طریقہ اپنایا دو لڑکیوں حریم شاہ اور صندل خٹک (حقیقی نام نہیں) نے ان کی ویڈیوز سرکاری دفاتر اور وزراء کے ساتھ منظر عام پر آئیں تو تہلکہ مچ گیا۔ صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان اینکر پرسن مبشر لقمان دونوں ابھی تک

Read more

مولانا کے کنٹینر کی چھت کمزور ہے!

ہر زبان پر مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں مولانا کتنی دیر کے لیے آئے ہیں، کب واپس جائیں گے، کیا لے کر جائیں گے؟ یہ چند سوالات ہیں جو ہر کوئی جاننا چاہتا ہے۔ مجھے متحدہ اپوزیشن کے اس مارچ کو لاہور اور بعد ازاں اسلام آباد میں کور کرنے کا موقع ملا۔ اب میں اس مارچ کو اپوزیشن کا آزادی مارچ کہوں تو بات جچتی نہیں۔ آزادی مارچ وہ میلہ ہے جس کے روح

Read more

رانا ثنا اللہ جیل میں کیوں خوش ہیں؟

شہریار آفریدی کا اصرار مجھے لاہور کی احتساب عدالت کھیینچ کرلے گیا۔ وطن عزیز کی خوش قسمتی ہے کہ اس وقت پاکستان پر صالح اور پاکباز حکمران حکومت کر رہے ہیں، کوہاٹ کے شہریار آفریدی انہی میں سے ایک ہیں۔ آفریدی قبیلے کے اس فرزند کا یہ قول ”میں نے جان رب کو دینی ہے“ ہی رانا ثنا اللہ کو گناہ گار قرار دینے کے لیے کافی ہے۔ ان الفاظ کی ادائیگی کے وقت ان کا چہرہ جس طرح سے

Read more

نواز شریف کی غیرت اور عدالت کا دروازہ

میاں نواز شریف کو ایک بار پھرکوٹ لکھپت جیل سے گرفتار کر کے لاہور کی احتساب عدالت لایا گیا تو عدالت میں سانس لینا مشکل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ عین اس وقت جب نیب حکام نواز شریف کو عدالت میں لے کر پہنچے تو امیر مقام اور برجیس طاہر سمیت پنجاب اسمبلی کے کئی اراکین عدالت سے باہر آچکے تھے۔ نواز شریف عدالت میں جانے سے پہلے اپنے دکھ کا اظہار کرگئے کہ کاش انہوں نے مولانا فضل الرحمن کی بات مان کر اسمبلیوں سے استعفی دے دیا ہوتا۔ اب مولانا کے آزادی مارچ میں شرکت کے حوالے سے وہ تمام تر ہدایات تحریری طور پر اپنے چھوٹے بھائی شہباز شریف کو دے چکے ہیں۔

Read more

پانچ من مینڈک کہاں جارہے تھے؟

20 ستمبر کی صبح شاہدرہ کے رہائشی اظہر اسحاق اور پرنس مسیح کو پولیس ناکے پر روکا گیا۔ دونوں کے پاس موجود تھیلوں کی تلاشی لی گئی تو پولیس اہلکار دنگ رہ گئے ان تھیلوں میں بڑی تعداد میں مینڈک موجود تھے۔ پولیس اہلکاروں نے ان سے پوچھ گچھ کی تو پتا چلا یہ مینڈک راولپنڈی کے نجی کالج میں پریکٹیکلز کے لیے بھجوائے جارہے ہیں۔ ناکے پر موجود سینئر اہلکار کو دونوں بھائیوں کی یہ بات کچھ سمجھ نہیں

Read more

پنجاب میں 8 ماہ کے دوران پولیس کے زیر حراست 16 ملزمان کی ہلاکت

میڈیا نے رپورٹ کیا، سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں نے ویڈیوز پوسٹ کیں اور یہ باور کروایا کہ پولیس حراست میں وفات پانے والا صلاح الدین ایک پاگل، چور، ڈکیت، جھوٹا، دھوکے باز، مجرم تھا۔ ایک لمحے کے لیے مان لیا جائے کہ اس کے بارے میں کی جانے والی ساری باتیں ٹھیک ہیں تو کیا اس کے بعد اس کو مارنا فرض ہوچکا تھا؟ اب تو خود مجھے بھی یقین ہونے لگا ہے وہ پاگل تھا۔ آپ اس کے پاگل پن کا اندازہ یہاں سے لگائیں کہ تھانے میں بیٹھ کر پولیس والوں سے کہہ رہا تسی مارنا کتھوں سکھیا (آپ نے مارنا کہاں سے سیکھا؟ ) ۔ صلاح الدین نے وہ سب پوچھ لیا جو ہم نہیں پوچھ سکے۔

Read more

وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کو رہا کرو

1973 ء میں جب ذوالفقار علی بھٹو نے سویلین چیف مارشل لا ء ایڈمنسٹریٹر کا عہدہ چھوڑ کر آئینی وزیراعظم کا منصب سنبھالا تو گجرات کے بوڑھے سیاست دان فضل الٰہی چوہدری کو صدارت کے منصب سے نوازا 1973 کے نئے آئین کے مطابق صدر کا عہدہ علامتی سربراہ مملکت کا تھا۔ صدر اتنا بے اختیار تھا کہ وزیراعظم اس کے دستخطوں کی تصدیق کرتا۔ جس تقریب میں صدر اور وزیراعظم دونوں نے شرکت کرنا ہوتی، بھٹو صاحب تقریب میں، اس وقت پہنچتے جب، صدر فضل الٰہی چوہدری پہنچ چکے ہوتے مقصد یہ ہوتا کہ انہیں اٹھ کر صدر کا استقبال نہ کرنا پڑے۔

Read more

کائرہ صاحب ہمیں معاف کردیجیے

چودھریوں کے گجرات سے ذرا ٓگے لالہ موسی ہے۔ جی ٹی روڈ کے ان راستوں سے کئی بار گزرنے کا اتفاق ہوا۔ مگر اس بار لالہ موسی کے قریب پہنچ کر مجھے اپنے سینے پر دباؤ سا محسوس ہونے لگا تھا۔ مین سڑک پر دور سے اس وسیع گھر پر لہراتا ہوا بھٹو کی پارٹی کا جھنڈا کوئی بھی دیکھ سکتا ہے۔ جی وہی لالہ موسی جب پنجاب کے بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی کا صفایا ہوچکا تھا تو بھی لالہ موسی کے عوام نے جیالوں کو اپنی خدمت کے لیے چنا تھا۔ سڑک کے ایک طرف قمرالزمان کائرہ کی رہائش گاہ جبکہ دوسری جانب ڈیرہ ہے۔ ویسے تو یہاں ہمیشہ چہل پہل رہتی ہے مگر اس مرتبہ فضاء میں کچھ عجیب سا غم تھا۔

Read more

اللہ جی مجھے معاف کردیں گے؟

آفس سے فارغ ہوا تو گھر جانے کی جلدی تھی صبح دوست کے ساتھ طے ہوا تھا کہ رات کو ملاقات ہوگی۔ مجھے آفس سے پہلے گھر جانا تھا وہاں سے دوست نے میری طرف آنا تھا یہی پلان تھا۔ گھر جانے کے لیے میں نے اوبر ایپ کے ذریعے گاڑی منگوائی۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی ڈرائیور نے پوچھا کہاں جانا ہے؟ میں نے راستہ سمجھانا شروع کردیا، اس نے سر کے اشارے سے بتایا کہ وہ راستہ سمجھ چکا ہے۔ گاڑی نے سفر شروع کیا تو ڈرائیورنے دوبارہ مجھے مخاطب کیا ”کیا یہاں پر کوئی مسجد ہے؟جی آگے کا پتا نہیں میرے آفس کے ساتھ ہی مسجد ہے میں نے جواب دیا۔ او ہ آگے کسی مسجد کا نہیں پتا آپ کو؟ چلیں میں خود ہی ڈھونڈ لیتا ہوں ڈرائیور نے سوال کر کے اس کا جواب بھی دے دیا۔ ”آ پ نے نماز پڑھنی ہے، کون سی نماز پڑھنی ہے؟ اس مرتبہ سوال میں نے پوچھا۔ عشاء کی نماز مختصر جواب آیا۔ مگر عشاء کی نماز تو آپ آرام سے پڑھ سکتے ہیں اس کا وقت تو ابھی ہے آ پ میرے گھر کے پاس والی مسجد میں نماز ادا کر لیجیے گا میں نے گاڑی چلانے والے لڑکے کی مشکل آسان کرنے کی کوشش کی۔

Read more

میں ہوں موٹیوشنل سپیکر

صبح دفتر جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا۔ فون کی گھنٹی بجی میں نے جلدی سے کال ریسیو کی۔ جی میں موٹیویشنل سپیکرحامد بول رہا ہوں، مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔ جی بتائیے حامد صاحب موٹیویشنل سپیکر کا لفظ سن کر میں نے سنبھل کر جواب دیا۔ ”مجھے پتا چلا ہے آپ صحافی ہیں سوچا آپ سے ہی بات کر کے دیکھوں بات دراصل یہ ہے مجھے جاب کی ضرورت ہے“ ہیں جی۔ موٹیویشنل سپیکر والا

Read more

بابر سے شہباز شریف تک اولاد کا دکھ اور خوشی

ظہیر الدین بابرنے ایک ایسی عظیم سلطنت کی بنیاد رکھی جو کابل و قندھار سے لے کرجنوبی ہندوستان تک پھیلی ہوئی تھی۔ جو ڈھائی سو سال تک قائم رہی جس نے ہندوستان کی تاریخ میں ہی نہیں بلکہ دنیا کی تاریخ میں عظیم سلطنت کا نام پایا۔ بابر نے اپنی چھوٹی عمر میں کئی جنگیں افغانستان میں لڑیں اور بھارت میں ابرہیم لودھی، رانا سانگا وغیرہ کی بھاری فوجوں سے مدمقابل ہوا۔ وہ صرف دس بارہ ہزار جنگوؤں کے ساتھ برصغیر میں داخل ہواتھا اور دہلی پر حکومت بنا لی لیکن صرف پونے چار سال کا دور حکومت اسے تاریخ میں امر کر گیا۔

Read more

سوتر منڈی کے حاجی صاحب اور فیاض الحسن چوہان

فیاض الحسن چوہان سے اطلاعات کی وزارت توواپس لے لی گئی مگر چوہان صاحب وزارت چھوڑتے ہوئے بہت سی یادیں ہمیں دے گئے ہیں۔ سابق صوبائی وزیر اطلاعات نے منسٹر بلاک کے آفس سے الحمرا میں ڈیرے لگائے تو یہاں کی گہما گہمی دیدنی تھی۔ الحمرا آرٹ کونسل میں واقع دفترمیں ہفتے کے سات دن چہل پہل اور بھرپور رونق رہتی تھی۔ فیاض الحسن چوہان ٹی ٹوئنٹی میچ پسند کرتے تھے انہیں ٹیسٹ میچ سے ”بوریت“ ہوتی تھی۔ وہ اپنی اننگز شاہد آفریدی کی طرح کھیلنا چاہتے تھے جس اننگز میں ہر بال پہ چھکا لگایا جاتا ہے مگر سیاست ٹیسٹ میچ ہے یہاں آپ کو مستقل طور پر اچھا پرفارم کر کے دکھانا پڑتا ہے۔ وہ بہت جلدی میں سب کچھ کرنے کے خواہشمند تھے ایسا محسوس ہوتا تھا وہ کم وقت میں بہت زیادہ کام کرنے کی آرزو دل میں رکھتے تھے۔

Read more

ابھے نندن کی واپسی اور شاکراللہ کے والدین

بتایا گیا تھا کہ رات کے اندھیرے میں زبردستی ہمارے ملک میں گھسنے کی کوشش کرنے والے زبردستی کے مہمان کو صبح کے اجالوں میں رہا کیا جائے گا۔ مجھے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی رہائی سے پہلے واہگہ بارڈر پہنچنا تھا۔

دو دن قبل بارڈر کے ساتھ واقع دیہات ”بھانوچک“ جانے کا بھی اتفاق ہوا سچ پوچھیں تو اس گاؤں کے لوگوں سے مل کر اچھا لگا۔ آپ سوچیے سرحد پر تناؤ ہودونوں ملکوں کے درمیان تلخیاں شدید سے شدید تر ہورہی ہوں اس سب کے باوجود بھانو چک کے مکینوں کے معمول میں کوئی فرق نہیں آیا تھا۔ بازار میں چند چھوٹی دکانیں جن کے باہر لوگ خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ بتایا گیا کہ بارڈر کی کشیدگی کا پتا تو چلا ہے لیکن یہ سب ان کے لیے نیا نہیں ہے۔

Read more

میرا دوست نواز شریف

پنجاب کی خزانے کی وزارت سے تین مرتبہ پاکستان کے وزیراعظم بننے والے نواز شریف کا سیاسی سفر کسی سے ڈھکا چھپانہیں مگر عام لوگوں کے لیے نواز شریف کی شخصیت ایک راز ہے ایسا راز جو ابھی تک لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہے۔ کچھ لوگ نواز شریف کوعاجزی و انکساری کا پیکر مانتے ہیں کچھ کے لیے یہ نرم گرم اور بہترین راہنما جبکہ کچھ پرانے دوست انہیں مغرور، گھمنڈی اور پرانے حساب برابر کرنے والا کہتے ہیں بہرحال کچھ بھی کہا جائے اس میں کوئی شک نہیں نواز شریف قسمت کے دھنی ہیں جب ان پر سارے دروازے بند نظر آتے ہیں تبھی چلتی ہوا انہیں اقتدار کی کرسی پہ لا بٹھاتی ہے۔ لوگ انہیں ناکام سیاست دان بھی کہیں تب بھی یہ حقیقت ہے کہ اس وقت وہ واحد آدمی ہیں جو تین مرتبہ پاکستان کے وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ بلاشبہ نواز شریف نے غیر معمولی قسمت پائی ہے۔ نواز شریف کی شخصیت کے حوالے ضیاء شاہد یاداشتیں ترتیب دی ہیں۔

Read more

کوٹ لکھپت جیل کا قیدی نمبر 4470 کیوں خاموش ہے؟

سیاست ٹیسٹ میچ ہے اسے آپ 20 اوورز کا میچ سمجھ کر نہیں کھیل سکتے۔ اس میں آپ پہلی اننگز ٹھیک نہ کھیل پائیں تو اگلی اننگز پہ فوکس کرکے میچ میں کم بیک کیا جاتا ہے۔ تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے نواز شریف کوٹ لکھپت جیل میں ہیں ٹی وی چینلز ان دنوں جمعرات کا دن قیدی نمبر ”4470 کے نام کرتے ہیں۔ جمعرات کی صبح سے جیل کے باہر رونق لگنا شروع ہوجاتی ہے کارکنان جمع ہوتے ہیں پارٹی قائدین آتے ہیں اپنے قائد سے ملتے ہیں اور کارکنان کو تسلیاں دے کر چلے جاتے ہیں۔ میاں نواز شریف ملاقاتیوں سے حال چال پوچھنے کے بعد خاموش ہوجاتے ہیں ملاقاتیوں میں کچھ جذباتی، کچھ سنجیدہ، کچھ دانا قسم کے رہنما، صحافی اوردوست بھی شامل ہیں۔ جیل میں ملنے والے پوچھتے ہیں حالات کب ٹھیک ہوں گے تو میاں صاحب اپنے مخصوص لہجے میں تسلی دیتے ہوئے دعا کے لیے کہتے ہیں۔

Read more

چند مغالطے

مندرجہ ذیل واقعات مجھے وٹس ایپ اور فیس بک پر پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ بل گیٹس کبھی پاکستان نہیں آئے مگر یہ واقعہ ان سے منسوب کیا جاتا ہے اسی طرح خلیل جبران نے جب pity the nation نظم لکھی ہوگی اسے بالکل بھی یقین نہیں ہوگا کسی دن اس کی تخلیق کے ساتھ یہ برتاؤ کیا جائے گا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے روسی صدر پیوٹن کے نام سے جانے کون اپنے ”افکار“ عام کر رہا ہے۔ یہ سوشل میڈیا

Read more

شریف خاندان اور احسان فراموشوں کی فہرست

کہتے ہیں وقت سب سے بڑا مرہم ہے یہ جیسے جیسے گزرتا ہے آپ کے زخم ٹھیک ہوتے چلے جاتے ہیں مگر شاید سیاست میں گنگا الٹی بہتی ہے۔ یہاں ہر گزرتا لمحہ زخموں کو پھر سے تازہ کردیتا ہے۔ کون جانتا تھا کہ کہانی یہ رخ بھی اختیار کرے گی جب تین مرتبہ پاکستان کے وزیراعظم رہنے والے نواز شریف قید میں ہوں گے تووہ سب کردار جو ان کے ارد گرد منڈلاتے دکھائی دیتے تھے غائب ہوجائیں گے۔

Read more

ایک دن نیب کے قید خانے میں

پچھلے کئی ماہ سے نیب کا ادارہ لائم لائٹ میں ہے۔ روز کسی پیشی یا گرفتاری کی وجہ سے نیب کا ذکر ٹی وی اور اخبارات میں آرہا ہے۔ کچھ دن قبل ڈاکٹر مجاہد کامران کو نیب نے حراست میں لیا بعد ازاں انہوں نے میڈیا میں نیب کے حوالات سے گلے شکوے کیے اسی طرح احتساب عدالت میں اپنی پہلی پیشی پر خواجہ سعدد رفیق نے نیب کے حوالات کے واش رومز میں لگے کیمروں پر سوالات اٹھائے۔ عام تاثر یہی ہے کہ نیب کے حوالات میں بد ترین انتظام ہیں یاشاید وہاں پر گرفتار لوگوں کے ساتھ نیب کی جانب سے برا سلوک کیا جارہا ہے۔

Read more

شہباز شریف کی عدالت میں تصویر بنانے پر میری پیشی

احتساب عدالت میں شہباز شریف کی پہلی پیشی میں کمرائے عدالت میں پہنچنے کے لیے مجھے صبح 6 بجے عدالت کا گیٹ عبور کرنا پڑا تھا۔ بصورت دیگر کمرائے عدالت تک پہنچنا ممکن نہ ہوتا۔ اس بات کا احساس سماعت کے بعد باہر رہ جانے والے دوستوں نے مجھے دلایا تھا۔ ساتویں پیشی پر مگر میں نیند کے ہاتھوں بے بس تھا اور عدالت کے مرکزی گیٹ پر پہنچنے پر گھڑی مجھے 8 بج  کر چالیس منٹ کا وقت بتا رہی تھی۔ کورٹ رپورٹرز اچھی طرح جانتے ہیں اہم سماعت پر اتنی دیر سے پہنچنے کا مطلب، خبر آپ کے ہاتھ سے گئی، کے مترادف ہے۔ مگر میری خوش بختی کمرائے عدالت کے باہر دیوار بنے پولیس اہل کاروں کو عبور کر کے میں اندر پہنچ گیا۔ کمرائے عدالت کے چاروں اطرف میں پولیس کے اہل کار بڑی تعداد میں موجود تھے۔

Read more

پنجاب میں حکومت کس کی ہے؟

عام محفلوں میں ہر دوسرا شخص یہ سوال ضرور پوچھتا ہے کہ آخر پنجاب میں حکومت کس کی ہے۔ عام آدمی سوچتا ہے صحافی با اثر ہوتے ہیں یہ ہمارے مسئلے حل کرواسکتے ہیں۔ ہم بتاتے تو ہیں شاید سمجھا نہیں پاتے کہ ہمارا کام مسئلے کی نشاندہی کی حد تک کا ہے، مسئلہ حل پھر بھی اقتدار کی کرسی پر بیٹھے افراد اور افسر شاہی نے کرنا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ادھر ہم ایک خرابی کی طرف توجہ دلاتے ہیں اگلے دن مسائل کانیا انبار ہمارے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔

عام آدمی تو ایک طرف جن لوگوں کو عوام نے اسمبلیوں میں بھیجا ہے ان کی بے بسی دیکھ کر بھی لگتا ہے جیسے یہ مسائل ٹھیک ہو ہی نہیں ہوسکتے۔ گوجرانوالہ کی خاتون رکن اسمبلی شاہین رضا پنجاب کے وزیراعلی عثمان بزدار کے کمرے میں دہائی دیتی داخل ہوئیں انھوں نے پنجاب کے طاقت ور وزیراعلی کو بتایا کہ کیسے ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ شعیب طارق نے ”بڑے لوگوں“ سے دشمنی مول لے کر ناجائز تجاوزات کا خاتمہ کیا، وہ تجاوزات جن کو مسمار کرنا پچھلے کئی سالوں سے ناممکن ہوچکا تھا وہ مسمار کردی گئیں۔

Read more

غیر ملکیوں سے انٹرنیٹ پر دیسی محبتیں اور شادیاں

ٹیلنٹ کی اور محبت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ محبت ایک عالمگیر سچائی ہے، اسے روکا نہیں جا سکتا، دبایا نہیں جا سکتا، چھپایا نہیں جاسکتا۔ یہ کسی بھی وقت کسی سے بھی ہو سکتی ہے۔ یہ ذات، رنگ، نسل، سٹیٹس سے بالاتر جذبے کا نام ہے۔ یہ ہزاروں کلومیٹر فاصلے پر بیٹھے انسان کو سات سمندر پار کرنے پہ مجبور کردیتی ہے، ایسی ہی چند محبتوں کا ذکر کرنے کو دل چاہ رہا ہے۔ 8 اکتوبرکی بات ہے جب سونگ میونسن تھائی لینڈ سے اوکاڑہ پہنچی۔

اسی طرح پچھلے سال عارفوالا کے رہائشی گلشان روکس بھٹی کی دوستی فن لینڈ کی دوشیزہ سے ہوئی جس کے بعد دونوں نے اس دوستی کو رشتے دار ی میں بدلنے کا فیصلہ کرلیا اور کیتھرن نے گلشان روکس بھٹی کو فن لینڈ بلوا کر اپنے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک کر لیا بعد ازاں گلشان اپنی غیر ملکی بیوی کیتھرن کو عارف والا ساتھ لے آیا تھا۔

Read more

پنجاب کے بجٹ اجلاس میں اپوزیشن کا ہنگامہ

قومی اسمبلی کے فلورپر جب سپیکر اپوزیشن کو بات کرنے کی اجازت دے رہے تھے تو حکومتی وزراءکے لیے یہ بات ہضم کرنا کافی مشکل تھا۔ آٹھویں مرتبہ پارلیمنٹ کے رکن بننے والے سید خورشید شاہ نے ایوان کو بتایا کہ یہ 1988ءکے بعد پہلا واقع ہے جب اپوزیشن لیڈر کو گرفتار کرلیا گیا۔ سپیکر قومی اسمبلی نے خود رات گئے ایک پروگرام میں اعتراف کیا کہ انہیں شہباز شریف کی گرفتاری کے وقت اطلاع ملی کہ اپوزیشن لیڈر کوگرفتار

Read more

آپ کا نیا خادم اعلی

یہ شاید مجھے نہیں جانتے۔ میرے بارے میں طرح طرح کی باتیں پھیلائی جارہی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ میں بول نہیں سکتا، میڈیا کا سامنا کرنے سے ڈرتا ہوں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ کہا جارہا ہے کہ میں اپنے عظیم قائد کی توقعات پر پورا نہیں اتر پاؤں گا۔ میرے ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے مجھے مینجمنٹ کا بالکل کوئی تجربہ نہیں وہ یہ بات کرتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ میں پانچ سال تحصیل ناظم بھی

Read more

احتساب عدالت میں شہباز شریف پر کیا گزری؟

حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کو روک لیا گیا۔ اس موقع پر کارکنان نے اونچی آواز میں کہنا شروع کردیا کہ یہ شہباز شریف کے بیٹے ہیں انہیں جانے دیں۔
عدالت میں شہباز شریف نے موقف ختیار کیا کہ تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔ میں نے ایک دھیلے کی بھی کرپشن نہیں کی۔ شہباز شریف اپنے مخصوص انداز میں انگلی ہلا کر بات کرتے رہے۔
جب مسلسل تیسری مرتبہ حمزہ شہباز سماعت کے دوران کمرہ عدالت کی کھڑکی کے پاس باہر کھڑے کارکنوں کو چپ کروانے گئے تو باہر کھڑے کارکن نے کہا آپ لوگوں کی وجہ سے آج پارٹی تباہ ہوچکی ہے۔
شہباز صاحب ہمیں تو صاف پانی فراہم نہیں کرسکے مگر ہم نے انہیں آج صاف پانی دے دیا ہے۔

Read more

اولمپک لیول کے ٹیلنٹ کو ضائع ہونے سے بچائیے

یہ سوچنا کافی دشوار ہے کہ کیسے جنوبی پنجاب کے ایک گاؤں سے پاکستان کا بہترین اتھیلٹ بغیر کسی ٹریننگ کے تیار ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر جب وسائل بھی نہ ہونے کے برابر ہوں اور آپ کا تعلق بھی ایک غریب گھرانے سے ہو۔ اس سب کے باوجودیہ سب ممکن ہوا۔ جنوبی پنجاب کے چھوٹے سے گاؤں کا رہنے والا ندیم محنت مزدوری کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالتارہا، وہ اپنے بچوں کو بھی اپنے ساتھ مزدوری

Read more

بیگم کلثوم نواز، جبر اور جمہوریت

عروج اور زوال کی کہانی ہمیشہ کہیں نہ کہیں جنم ضرور لیتی ہے، نا صرف جنم لیتی ہے بلکہ ہمارے سامنے سبق آموز کئی داستانیں چھوڑ جاتی ہے۔ برسوں اقتدار میں رہنے والے اور آج مصائب میں گھرے شریف خاندان کی رہائش گاہ جاتی امرا پہ کھڑا کئی منظر دیکھ کر دنگ ہوں۔ شہر سے دور اس بستی جاتی امرانے شریف خاندان کی وجہ سے خاص شہرت پائی ہے۔ یہی گھر ہے جہاں ایک آمر کے سامنے والی ڈٹ جانے

Read more

سمجھ میں نہیں آتا

عام طور پر یہ سوال روز کسی نہ کسی نئے انداز کے ساتھ سامنے آجاتا ہے۔ کبھی کبھار کوئی الٹی سیدھی بات بنا کر اس کا جواب دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر سچی بات تو یہ ہے کہ یہ ایک سوال اتنے سوالوں کو جنم دیتا ہے کہ ہمیں بے بس کر دیتا ہے۔ چلیے ان سوالوں کو دیکھتے ہیں۔ سب سے پہلا سوال اگر ہم سب ہی اپنے ملک کے اتنے بڑے خیر خواہ ہیں تو ملک

Read more

قصہ ٹی وی پر عمران خان کی بری تصویر تلاش کرنے کا

سچ پوچھیں تو مجھے بالکل یقین نہیں آیاکہ تبدیلی آچکی ہے۔ عوام کے محبوب لیڈر عمران خان وزیراعظم پاکستان بن چکے ہیں۔ کیا واقعی تین بار وزیراعظم بننے والے نواز شریف نے اڈیالہ جیل میں عید گزاری ہے؟ مجھے اس بات پر بھی یقین نہیں ہے کہ ایوان وزیراعظم کے معاملات دیکھنے والی خاتون جو کچھ ماہ پہلے بہت طاقت ور تھی۔ وہ آج جیل میں ہے۔ کیاپاکستان کے سب سے بڑے صوبے پر مسلسل دس سال تک حکومت کرنے

Read more

یہاں ٹیلنٹ کی قدر نہیں

ہمارے ہاں ٹیلنٹ کی قدر نہیں کی جاتی یہ بات روز کسی نہ کسی سے سنتا ہوں ایسے لگتا ہے یہ جملہ ہماری قوم کا ٹریڈ مارک بن گیا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہاں ایک سے بڑھ کر ایک ذہین فطین لوگ موجود ہیں مگر ہم انہیں پہچان نہیں پارہے۔ یہاں تک کہ وہ خود روز اپنی ذہانت اور ٹیلنٹ کا اعلان کرتے ہیں مگر ہم پھر بھی ان کی قدر نہیں کرتے۔ ٹیلنٹ کی بے توقیری کی

Read more

صرف ایک دوست۔۔۔

پچھلے کچھ دنوں سے معصوم سی خواہشات ذہن میں ابھرتی ہیں سوچتا ہوں آپ سے شئیر کر لی جائیں۔ میں سمجھتا ہوں اگر زندگی میں مسائل دن بہ دن بڑھتے چلے جائیں۔ آپ کا باس اچھے مزاج کا نہ ہو، آپ کا ادارہ تنخواہ دو ماہ بعد دیتا ہو، گاڑی سٹارٹ ہونے سے پہلے دھکا مانگتی ہو، گرل فرینڈ ملنے سے پہلے خرچہ مانگتی ہو، دوست اکٹھے ہونے پر ٹریٹ لیتے ہوں، بہن بھائی گھر پہنچنے پر فرمائشیں ڈالتے ہوں،

Read more

اچھا کالم کیسے لکھا جائے؟

ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ سوال ”اچھا کالم کیسے لکھا جائے” کے پوچھنے والوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے؛ حالاں کہ ہم نے اپنے دس درجن دوستوں کے علاوہ کسی کو نہیں بتایا، کہ ہم بھی اچھا کالم لکھتے ہیں۔ یہ ہمارے دوست کی شادی کی تقریب تھی، ہمارا کالج فیلو کئی سالوں بعد وہاں مل گیا۔ کہنے لگا پتا چلا تم کالم نگار بن گئے ہو یار تم بتاؤ گے تو نہیں لیکن پھر بھی پوچھنے میں

Read more

وہ سب جو نہ ہوسکا

25جولائی سے پہلے لاہور اور اسلام آبادکے بیشتر قومی و صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں ٹی وی پروگرام کے سلسلے میں جانے کا موقع ملا۔الیکشن سے پہلے کی گہما گہمی اور پولنگ کا دن یہ دو مختلف باتیں ہیں۔یہ اس لیے کہہ رہا ہوں خود کئی حلقوں کا نتیجہ دیکھ چکا ہوں ان حلقوں میں عوام کی رائے سن چکا ہوں۔پورے لاہور میں الیکشن ضرور تھا مگربات صرف اس حلقے پر زیادہ ہورہی تھی جہاں سے عمران خان اور خواجہ

Read more

ایک سیلف میڈ اور محنتی دوست کی کامیاب کہانی

مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی ہم ہر وقت مایوسی کا رونا کیوں پیٹتے ہیں۔ ہم اچھے خواب کیوں نہیں دیکھتے، اچھی امید کیوں نہیں باندھتے۔ ٹھہریے یہ سب کچھ ممکن ہے۔ جی ہاں! کچھ محنتی لوگ ابھی اس دنیا میں باقی ہیں۔ نہیں یقین تو ابھی ملواتا ہوں۔ یہ میرا دوست تنویر رشید ہے۔ اس نے شروع سے ہی کچھ نہ کچھ کرنے کی ٹھان رکھی تھی۔ کہنے والے کہتے ہیں ہمیشہ بڑا سوچو، جتنے بڑے خواب دیکھو

Read more

کیونکہ میں درویش ہوں۔۔۔

آج اس دور میں جب ہر کوئی مشہور ہونا چاہتا ہے، نوجوان چاہتے ہیں کہ وہ راتوں رات سپر سٹار بن جائیں ایسے میں کچھ لوگ ابھی بھی باقی ہیں جو ان سب چیزوں کو پسند نہیں کرتے۔ اس ضمن میں چند مثالیں پیش کیے دیتا ہوں۔ میرے پہلے دوست جو یہ بات پسند کرتے ہیں ان کوآسٹرولجسٹ کہا جائے۔ بہت سادہ قسم کے انسان ہیں۔ جتنا کوئی عام آدمی دولت، شہرت اور عزت کو پسند کرتا ہے یہ اتنا

Read more

میڈیا، جنس اور جلد شہرت پانے کا شارٹ کٹ

ویسے تو ہمارے شعبے میں اسے روٹین کا معاملہ ہی سمجھا جاتا ہے۔ آڈیو کی بازگشت ہے جوسوشل میڈیا پر وائرل ہے یہ ایک قومی اخبار کے چیف ایڈیٹر کی ہے اس آڈیو میں موصوف خاتون سے جو باتیں کر رہے ہیں۔ وہ یہاں لکھے جانے کے قابل نہیں ہیں۔ یہ کالم میرے گھر سمیت کئی گھروں میں پڑھا جاتا ہے۔ اس لیے یہ کام مجھ سے نہیں ہوگا۔ اگرچہ انہیں کرتے ہوئے شرم نہیں آئی مگر مجھے لکھتے ہوئے

Read more

اللہ کا بڑا کرم ہے

  گزشتہ سال یہی دن تھے۔ ان سطور کے لکھنے والے کو اللہ کے گھر حاضری کی سعادت نصیب ہوئی۔ ارادہ تو تقریبا دو سال سے تھا، مگر کچھ مسائل کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو سکا۔ جب بظاہر آثار نہیں لگ رہے تھے، تب حاضری ممکن بھی ہو گئی۔ اسباب بھی بن گئے، رکاوٹیں بھی دور ہوگئیں۔ یہ اپنی جگہ خوش بختی ہے۔ لوگ تمنا کرتے ہیں، کچھ کی پوری بھی ہوجاتی ہے۔ خود ہمارے جاننے والوں میں

Read more

میں سب ٹھیک کرسکتا ہوں

پروفیسر صاحب میرے محلے دار ہیں، یہ اکنامکس کے مایہ ناز ٹیچر تھے۔ کچھ سال پہلے ریٹائرڈ ہوگئے۔ کبھی کبھار ملاقات بھی ہوجاتی ہے۔ ایک دن مجھے دور سے آتے دیکھ کر کھڑے ہوگئے میں نے پاس آکر سلام کیا۔ پروفیسر صاحب نے سلام کا بھرپور جواب دیا۔ کہنے لگے میں کافی دنوں سے سوچ رہا تھا تم سے دل کی بات کر ہی ڈالوں۔ تم میڈیا میں کام کرتے ہو شاید کچھ کرسکو۔ گھر واپس پہنچنے کی جلدی کے

Read more

ہم ایسے کیوں ہیں؟

ہم کیوں ہربات پر شکوے کرتے ہیں،ہم کیوں ہر چھوٹے مسئلے پرچیخنا چلانا شروع کردیتے ہیں،ہم کیوں ٹریفک سگنلز کی پاپندی نہیں کرتے،ہم کیوں اپنے ملک کا احترام نہیں کرتے،ہم کیوں امریکا،انگلینڈ جانا چاہتے ہیں،ہم کیوں بڑوں کی عزت نہیں کرتے،ہم کیوں نان ایشوز پر شور مچاتے ہیں،ہم کیوں ہرمسئلے پرصرف حکومتوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں،ہم کیوں اپنی عدلیہ پر منفی رائے دینے سے باز نہیں آتے،ہم کیوں چند افراد کی وجہ سے افواج پاکستان کو برا بھلا کہنے

Read more

شاہ جی اور گجر صاحب ہمارے اچھے دوست ہیں

شاہ جی شاہ جی کا شمار ہمارے پرانے دوستوں میں ہوتا ہے۔ شاہ جی نے ہمیں بتایا ہے کہ انہیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ جو معلومات ان کے پاس ہیں وہ کسی کے پاس نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر پاناما کیس کی بات کرتے ہوئے وہ والیم ”10“ کا ذکر کرتے ہیں جو ابھی تک کھولا نہیں گیا، اس والیم کی ساری معلومات شاہ جی اپنے دوستوں کی محفلوں میں سرگوشیوں کی صورت میں سناتے ہیں اور ساتھ

Read more

غیر مقبول کالم

مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ میں عام طور پر ایسے کالم لکھنے سے گھبراتا ہوں۔ کیونکہ پاپولر ٹرینڈ کے سامنے ٹھہرنا کافی مشکل ہوتا ہے اس لیے اس قسم کی” بیوقوفی‘‘ سے پرہیزکو بہتر سمجھتا ہوں۔ پھر بھی اپنی بات کہنے کے لیے مجھے اس عنوان کا سہارا لینا پڑا ہے تاکہ پڑھنے والے کسی بھی مشکل کا شکار ہوئے بغیر کالم پڑھنے یا نہ پڑھنے کا فیصلہ آسانی سے لے سکیں۔ کمیونکیشن تھیوریز کی کلاس

Read more

آپ کی شخصیت کاکیا خلاصہ ہے؟ 

فیس بک نے ایک نئی ایپ متعارف کروائی ہے جس کے مطابق فیس بک اکاؤنٹ ہولڈرلنک پر کلک کرتا ہے اس کے بعد فیس بک کا خود کار نظام متعلقہ فرد کو اس کی شخصیت سے متعلق خلاصہ بتاتا ہے۔ خلاصہ کا مطلب ہے کسی چیز کا بہترین حصہ، نچوڑ یا لب لباب کہہ لیجیے۔ فیس بک کی اس ایپ پر جائیں تو لکھا آتا ہے”ہم میں سے ہر ایک منفرد اور حیرت انگیز شخصیت کا مالک ہے۔ ہر ایک

Read more

داستان شجاعت

چوہدری شجاعت حسین کا شمار منجھے ہوئے سیاستدانوں میں ہوتا ہے۔ یہ دوبار وزیرداخلہ بھی رہ چکے ہیں، 2004ء میں وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی کے استعفی کے بعددو ماہ کے لیے وزیراعظم بھی رہے۔ یہ ان دنوں بچی کھچی مسلم لیگ ق کے صدر بھی ہیں۔ چوہدری شجاعت حسین پاکستانی سیاست میں کا ایسا کردار ہیں جس کی فعالیت پانچ دہائیوں تک پھیلی نظر آتی ہے۔ سیاسی میدان میں ان کا رول کسی صورت بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا

Read more