بابر سے شہباز شریف تک اولاد کا دکھ اور خوشی

ظہیر الدین بابرنے ایک ایسی عظیم سلطنت کی بنیاد رکھی جو کابل و قندھار سے لے کرجنوبی ہندوستان تک پھیلی ہوئی تھی۔ جو ڈھائی سو سال تک قائم رہی جس نے ہندوستان کی تاریخ میں ہی نہیں بلکہ دنیا کی تاریخ میں عظیم سلطنت کا نام پایا۔ بابر نے اپنی چھوٹی عمر میں کئی جنگیں افغانستان میں لڑیں اور بھارت میں ابرہیم لودھی، رانا سانگا وغیرہ کی بھاری فوجوں سے مدمقابل ہوا۔ وہ صرف دس بارہ ہزار جنگوؤں کے ساتھ برصغیر میں داخل ہواتھا اور دہلی پر حکومت بنا لی لیکن صرف پونے چار سال کا دور حکومت اسے تاریخ میں امر کر گیا۔

Read more

سوتر منڈی کے حاجی صاحب اور فیاض الحسن چوہان

فیاض الحسن چوہان سے اطلاعات کی وزارت توواپس لے لی گئی مگر چوہان صاحب وزارت چھوڑتے ہوئے بہت سی یادیں ہمیں دے گئے ہیں۔ سابق صوبائی وزیر اطلاعات نے منسٹر بلاک کے آفس سے الحمرا میں ڈیرے لگائے تو یہاں کی گہما گہمی دیدنی تھی۔ الحمرا آرٹ کونسل میں واقع دفترمیں ہفتے کے سات دن چہل پہل اور بھرپور رونق رہتی تھی۔ فیاض الحسن چوہان ٹی ٹوئنٹی میچ پسند کرتے تھے انہیں ٹیسٹ میچ سے ”بوریت“ ہوتی تھی۔ وہ اپنی اننگز شاہد آفریدی کی طرح کھیلنا چاہتے تھے جس اننگز میں ہر بال پہ چھکا لگایا جاتا ہے مگر سیاست ٹیسٹ میچ ہے یہاں آپ کو مستقل طور پر اچھا پرفارم کر کے دکھانا پڑتا ہے۔ وہ بہت جلدی میں سب کچھ کرنے کے خواہشمند تھے ایسا محسوس ہوتا تھا وہ کم وقت میں بہت زیادہ کام کرنے کی آرزو دل میں رکھتے تھے۔

Read more

ابھے نندن کی واپسی اور شاکراللہ کے والدین

بتایا گیا تھا کہ رات کے اندھیرے میں زبردستی ہمارے ملک میں گھسنے کی کوشش کرنے والے زبردستی کے مہمان کو صبح کے اجالوں میں رہا کیا جائے گا۔ مجھے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی رہائی سے پہلے واہگہ بارڈر پہنچنا تھا۔

دو دن قبل بارڈر کے ساتھ واقع دیہات ”بھانوچک“ جانے کا بھی اتفاق ہوا سچ پوچھیں تو اس گاؤں کے لوگوں سے مل کر اچھا لگا۔ آپ سوچیے سرحد پر تناؤ ہودونوں ملکوں کے درمیان تلخیاں شدید سے شدید تر ہورہی ہوں اس سب کے باوجود بھانو چک کے مکینوں کے معمول میں کوئی فرق نہیں آیا تھا۔ بازار میں چند چھوٹی دکانیں جن کے باہر لوگ خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ بتایا گیا کہ بارڈر کی کشیدگی کا پتا تو چلا ہے لیکن یہ سب ان کے لیے نیا نہیں ہے۔

Read more

میرا دوست نواز شریف

پنجاب کی خزانے کی وزارت سے تین مرتبہ پاکستان کے وزیراعظم بننے والے نواز شریف کا سیاسی سفر کسی سے ڈھکا چھپانہیں مگر عام لوگوں کے لیے نواز شریف کی شخصیت ایک راز ہے ایسا راز جو ابھی تک لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہے۔ کچھ لوگ نواز شریف کوعاجزی و انکساری کا پیکر مانتے ہیں کچھ کے لیے یہ نرم گرم اور بہترین راہنما جبکہ کچھ پرانے دوست انہیں مغرور، گھمنڈی اور پرانے حساب برابر کرنے والا کہتے ہیں بہرحال کچھ بھی کہا جائے اس میں کوئی شک نہیں نواز شریف قسمت کے دھنی ہیں جب ان پر سارے دروازے بند نظر آتے ہیں تبھی چلتی ہوا انہیں اقتدار کی کرسی پہ لا بٹھاتی ہے۔ لوگ انہیں ناکام سیاست دان بھی کہیں تب بھی یہ حقیقت ہے کہ اس وقت وہ واحد آدمی ہیں جو تین مرتبہ پاکستان کے وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ بلاشبہ نواز شریف نے غیر معمولی قسمت پائی ہے۔ نواز شریف کی شخصیت کے حوالے ضیاء شاہد یاداشتیں ترتیب دی ہیں۔

Read more

کوٹ لکھپت جیل کا قیدی نمبر 4470 کیوں خاموش ہے؟

سیاست ٹیسٹ میچ ہے اسے آپ 20 اوورز کا میچ سمجھ کر نہیں کھیل سکتے۔ اس میں آپ پہلی اننگز ٹھیک نہ کھیل پائیں تو اگلی اننگز پہ فوکس کرکے میچ میں کم بیک کیا جاتا ہے۔ تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے نواز شریف کوٹ لکھپت جیل میں ہیں ٹی وی چینلز ان دنوں جمعرات کا دن قیدی نمبر ”4470 کے نام کرتے ہیں۔ جمعرات کی صبح سے جیل کے باہر رونق لگنا شروع ہوجاتی ہے کارکنان جمع ہوتے ہیں پارٹی قائدین آتے ہیں اپنے قائد سے ملتے ہیں اور کارکنان کو تسلیاں دے کر چلے جاتے ہیں۔ میاں نواز شریف ملاقاتیوں سے حال چال پوچھنے کے بعد خاموش ہوجاتے ہیں ملاقاتیوں میں کچھ جذباتی، کچھ سنجیدہ، کچھ دانا قسم کے رہنما، صحافی اوردوست بھی شامل ہیں۔ جیل میں ملنے والے پوچھتے ہیں حالات کب ٹھیک ہوں گے تو میاں صاحب اپنے مخصوص لہجے میں تسلی دیتے ہوئے دعا کے لیے کہتے ہیں۔

Read more

چند مغالطے

مندرجہ ذیل واقعات مجھے وٹس ایپ اور فیس بک پر پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ بل گیٹس کبھی پاکستان نہیں آئے مگر یہ واقعہ ان سے منسوب کیا جاتا ہے اسی طرح خلیل جبران نے جب pity the nation نظم لکھی ہوگی اسے بالکل بھی یقین نہیں ہوگا کسی دن اس کی تخلیق کے ساتھ یہ…

Read more

شریف خاندان اور احسان فراموشوں کی فہرست

کہتے ہیں وقت سب سے بڑا مرہم ہے یہ جیسے جیسے گزرتا ہے آپ کے زخم ٹھیک ہوتے چلے جاتے ہیں مگر شاید سیاست میں گنگا الٹی بہتی ہے۔ یہاں ہر گزرتا لمحہ زخموں کو پھر سے تازہ کردیتا ہے۔ کون جانتا تھا کہ کہانی یہ رخ بھی اختیار کرے گی جب تین مرتبہ پاکستان…

Read more

ایک دن نیب کے قید خانے میں

پچھلے کئی ماہ سے نیب کا ادارہ لائم لائٹ میں ہے۔ روز کسی پیشی یا گرفتاری کی وجہ سے نیب کا ذکر ٹی وی اور اخبارات میں آرہا ہے۔ کچھ دن قبل ڈاکٹر مجاہد کامران کو نیب نے حراست میں لیا بعد ازاں انہوں نے میڈیا میں نیب کے حوالات سے گلے شکوے کیے اسی طرح احتساب عدالت میں اپنی پہلی پیشی پر خواجہ سعدد رفیق نے نیب کے حوالات کے واش رومز میں لگے کیمروں پر سوالات اٹھائے۔ عام تاثر یہی ہے کہ نیب کے حوالات میں بد ترین انتظام ہیں یاشاید وہاں پر گرفتار لوگوں کے ساتھ نیب کی جانب سے برا سلوک کیا جارہا ہے۔

Read more

شہباز شریف کی عدالت میں تصویر بنانے پر میری پیشی

احتساب عدالت میں شہباز شریف کی پہلی پیشی میں کمرائے عدالت میں پہنچنے کے لیے مجھے صبح 6 بجے عدالت کا گیٹ عبور کرنا پڑا تھا۔ بصورت دیگر کمرائے عدالت تک پہنچنا ممکن نہ ہوتا۔ اس بات کا احساس سماعت کے بعد باہر رہ جانے والے دوستوں نے مجھے دلایا تھا۔ ساتویں پیشی پر مگر میں نیند کے ہاتھوں بے بس تھا اور عدالت کے مرکزی گیٹ پر پہنچنے پر گھڑی مجھے 8 بج  کر چالیس منٹ کا وقت بتا رہی تھی۔ کورٹ رپورٹرز اچھی طرح جانتے ہیں اہم سماعت پر اتنی دیر سے پہنچنے کا مطلب، خبر آپ کے ہاتھ سے گئی، کے مترادف ہے۔ مگر میری خوش بختی کمرائے عدالت کے باہر دیوار بنے پولیس اہل کاروں کو عبور کر کے میں اندر پہنچ گیا۔ کمرائے عدالت کے چاروں اطرف میں پولیس کے اہل کار بڑی تعداد میں موجود تھے۔

Read more

پنجاب میں حکومت کس کی ہے؟

عام محفلوں میں ہر دوسرا شخص یہ سوال ضرور پوچھتا ہے کہ آخر پنجاب میں حکومت کس کی ہے۔ عام آدمی سوچتا ہے صحافی با اثر ہوتے ہیں یہ ہمارے مسئلے حل کرواسکتے ہیں۔ ہم بتاتے تو ہیں شاید سمجھا نہیں پاتے کہ ہمارا کام مسئلے کی نشاندہی کی حد تک کا ہے، مسئلہ حل پھر بھی اقتدار کی کرسی پر بیٹھے افراد اور افسر شاہی نے کرنا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ادھر ہم ایک خرابی کی طرف توجہ دلاتے ہیں اگلے دن مسائل کانیا انبار ہمارے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔

عام آدمی تو ایک طرف جن لوگوں کو عوام نے اسمبلیوں میں بھیجا ہے ان کی بے بسی دیکھ کر بھی لگتا ہے جیسے یہ مسائل ٹھیک ہو ہی نہیں ہوسکتے۔ گوجرانوالہ کی خاتون رکن اسمبلی شاہین رضا پنجاب کے وزیراعلی عثمان بزدار کے کمرے میں دہائی دیتی داخل ہوئیں انھوں نے پنجاب کے طاقت ور وزیراعلی کو بتایا کہ کیسے ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ شعیب طارق نے ”بڑے لوگوں“ سے دشمنی مول لے کر ناجائز تجاوزات کا خاتمہ کیا، وہ تجاوزات جن کو مسمار کرنا پچھلے کئی سالوں سے ناممکن ہوچکا تھا وہ مسمار کردی گئیں۔

Read more