عام محفلوں میں ہر دوسرا شخص یہ سوال ضرور پوچھتا ہے کہ آخر پنجاب میں حکومت کس کی ہے۔ عام آدمی سوچتا ہے صحافی با اثر ہوتے ہیں یہ ہمارے مسئلے حل کرواسکتے ہیں۔ ہم بتاتے تو ہیں شاید سمجھا نہیں پاتے کہ ہمارا کام مسئلے کی نشاندہی کی حد تک کا ہے، مسئلہ حل پھر بھی اقتدار کی کرسی پر بیٹھے افراد اور افسر شاہی نے کرنا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ادھر ہم ایک خرابی کی طرف توجہ دلاتے ہیں اگلے دن مسائل کانیا انبار ہمارے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔
عام آدمی تو ایک طرف جن لوگوں کو عوام نے اسمبلیوں میں بھیجا ہے ان کی بے بسی دیکھ کر بھی لگتا ہے جیسے یہ مسائل ٹھیک ہو ہی نہیں ہوسکتے۔ گوجرانوالہ کی خاتون رکن اسمبلی شاہین رضا پنجاب کے وزیراعلی عثمان بزدار کے کمرے میں دہائی دیتی داخل ہوئیں انھوں نے پنجاب کے طاقت ور وزیراعلی کو بتایا کہ کیسے ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ شعیب طارق نے ”بڑے لوگوں“ سے دشمنی مول لے کر ناجائز تجاوزات کا خاتمہ کیا، وہ تجاوزات جن کو مسمار کرنا پچھلے کئی سالوں سے ناممکن ہوچکا تھا وہ مسمار کردی گئیں۔
Read more