سلطنتِ مغلیہ سے سلطنتِ شغلیہ تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موجودہ حکومت اپنی سی پوری کوشش کر رہی ہے کہ کچھ ایسا کر گزرے کہ عوام کو پرانے پاکستان کی نسبت تبدیلی محسوس ہو، حلف اٹھاتے ہی حکومت نے معیشت کی ترقی کو انقلابی اقدامات کرنے شروع کیے جن میں سب سے پہلے ”مرغی انڈا“ اسکیم متعارف کروائی گئی تھی مگر خدا برا کرے اُن حکمرانوں کا جو عوام کو لیپ ٹاپ، اسکالرز شپ اور مفت تعلیم کے خواب دکھا دکھا کر ہڈحرام بناچکے تھے، نوجوانوں کی سہل پسندی کا یہ حال ہے کہ سامنے لیپ ٹاپ دھر کر تھیسس، اسائمنٹس اور سمسٹرز کا مکر کر کے والدین کو دکھاتے رہتے ہیں، مجال ہے جو کوئی اُٹھ کر ڈربہ صاف کرنے، مرغیوں کو دانہ ڈالنے یا بازار جا کر انڈے بیچنے کو راضی ہو، ملک میں ویسے بھی عقل مندوں کی کمی ہے جب ہی زرداری اور نواز کو ووٹ زیادہ ملتے ہیں تو عوام کو اِس اسکیم کی اہمیت کیسے سمجھ آتی؟ اِس لیے اس اسکیم کی افادیت سمجھانے کو ایک پرانا لطیفہ یاد آ رہا ہے، وہ سناتا ہوں شاید عمران خان کے مخالفین کی عقل کام کرنے لگے۔

دو دوست کئی برسوں بعد ملے تو حال احوال کے بعد اولاد کی تعلیم، ترقی اور شادیوں بارے ایک دوسرے میں پوچھا۔
” سنا بشیرے تیرے لڑکے کیا کرتے ہیں؟“ ایک دوست نے پوچھا۔
” یار اللہ کا بڑا کرم ہے۔ میرا اہک لڑکا تحصیلدار دوسرا تھانیدار ہے۔ “

” واہ یار واہ۔ پر تیرا تیسرا لڑکا کیا کرتا ہے؟ “
”، یار او نالائق نکل گیا۔ نہ تعلیم نہ نوکری بس لوگوں کے مال ڈنگر اور مرغیاں چوری کرتا ہے“ بشیرے نے جواب دیا۔

” بشیرے یار اسے گھر سے نکال“ پہلے دوست نے مشورہ دیا۔

” اسے گھر سے کیا نکالوں میں تو آپ اس کے گھر میں رہتا ہوں“ بشیرے نے جواب دیا۔

دوستوں یہ لطیفہ ثابت کرتا ہے کہ ”پڑھے لکھنے پنجاب“ سے بہتر مرغیوں انڈوں کا کاروبار ہے۔ کیونکہ تعلیم دلوا کر اولاد کو کھونے سے بہتر ہے کہ ”مرغی پال یا مرغی اچھال“ کاروبار کیا جائے تا کہ کل کو والدین اپنی اولاد کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزار سکیں۔

حکمرانوں کے تبدیلی وژن کو اگر یہ قوم ایک بار رد کرتی تو میں اِسے نادانی یا کم عقلی سمجھ کر کڑوا گھونٹ کر لیتا، مگر میرے کپتان کے ”لیڑین وٹس ایپ“ جیسے انقلابی قدم کو بھی اِس گندگی پسند قوم نے ہوا میں اڑا دیا۔

اگر دیکھا جائے تو دنیا کے تمام عظیم ممالک کی مضبوط معیشت، دفاع اور تعلیم کا مکمل انحصار صاف شفاف (صاف چلی شفاف چلی نہیں ) باتھ رومز پر ہے۔ آپ میں نے اکثر دوست ترقی یافتہ ممالک کی سیر کو جاتے رہتے ہیں کیا آپ نے کبھی وہاں ہمارے ملک جیسے گندے باتھ رومز دیکھے؟ یقینا نہیں دیکھے ہوں گے، تو ثابت ہوا کہ ملک باتھ رومز کی صفائی سے ہی ترقی کرتے ہیں۔ ہمارے گاؤں دیہات میں بھی جب کسی کے ہاں پیسہ آنے لگتا ہے، یعنی گھر کی معیشت بہتر ہوتی ہے تو سب سے پہلے گھر میں باتھ روم بنوایا جاتا ہے اگر پہلے سے موجود ہوتو اُسے گرا کر پکا، فکش کموڈ اور ٹائلز سے مزیں کیا جاتا ہے۔ انڈیا جیسے ملک میں تو باتھ رومز کے مسئلے کو لے کر کئی فلمیں بنی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے انڈیا کی معیشت کا گراف اوپر جانے لگا۔

اس دلیل سے میرے دوست باآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ باتھ رومز کا ملکی معیشت کی ترقی سے کتنا تعلق ہے۔ مگر افسوس یہ نالائق قوم تبدیلی سرکار کے اِس انقلابی قدم کو بھی نہ سمجھ سکی اور حکمرانوں کو مجبورا آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔

یہ دونوں پلان ناکام ہونے پر حکومت نے ہمت نہ ہاری اور فورا بلڈورز لے کر چھوٹے دکانداروں، پتھاروں اور برسوں سے آباد بازار پر چڑھ دوڑی۔ کئی سو دکانیں گرائی گئیں، اور لوگوں کو بیٹھ کر کاروبار کرتے کرتے ناکارہ، سہل پسندی اور ہڈ حرامی سے بچانے کو سٹرکوں پر لے آئی۔ یہی لوگ پاکستان کے کاروبار امور کو بہتر سمجھتے تھے مگر باپ دادا کے سیٹ کاروبار پر بیٹھ کر اپنی قابلیت ضائع کر رہے تھے۔ حکومت نے ایک ہی ہلے میں لاکھوں قابل اور کاروباری سمجھ بوجھ رکھنے والوں کو پھر سے زیرو پر لا کھڑا کیا تا کہ وہ دوبارہ خود سے سیٹ ہونے کو محنت کریں اور اِسکا فائدہ ملک و قوم کو ہو۔

یہ ترکیب کسی حد تک کامیاب رہی اور نوجوانِ ملک نے بیروگاری سے تنگ آ کر سیاسی پارٹیز کی سوشل میڈیا ٹیمز جوائن کر لیں اور یوں وہ ملک و قوم کی ترقی میں اپنا تجربہ اور مہارت استعمال کرنے لگے۔ پھر دیکھتے ہیں دیکھتے تمام مرحوم دانشوروں، سائنسدانوں، تجزیہ کاروں اور اداکاروں کے اکاوٹنس نے ملک میں تہلکہ مچا دیا۔ جس کے جواب میں نوجوانوں کو مخالفیں کی ایسی ایسی تصاویر اور ویڈیو دکھائی گئیں جو اس سے قبل غریب دشمن حکومت کی جانب سے بالغان والی سائیٹس بند ہونے کی وجہ سے دیکھنا نا ممکن تھا۔

حکومت وقت کا چوتھا انقلابی قدم سی این جی، پیڑول اور دیگر اشیاء کی قیمتیں بڑھانا تھا۔ بقوم مشرف صاحب اس ملک میں پیسے کی کمی نہیں، ہر شہری کے پاس تیس چالیس ہزار کا موبائل ہے تو کیا مہنگی چیزیں نہیں خرید سکتے، اس پر واوڈا جیسے دانشور نے بھی جتا دیا کہ قوم دو سو روپے لیٹر پیٹرول بھی خرید سکتی ہے تو حکومت نے فوراً اُن کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے پیٹرول کو پر لگا دیے۔ یہ ایک ایسا اقدام تھا جیسے پیلے سکول کے پڑھے پٹواری بالکل سمجھ نہ پائے۔ مجبورا مجھ جیسے اور فواد چوہدری جیسے دانشوروں کو آگے بڑھ کر عوام کو سمجھانا پڑا۔ مجھے فیصل آباد شادی میں بلوایا نہیں گیا تھا اس لیے چوہدری فواد کے سمجھانے کا رزلٹ اچھا اور آ گیا کیونکہ“ لاتوں کے بھوت چماٹ سے بھی سمجھ جاتے ہیں ”

ِگیس پیٹرول اور دیگر اشیاء مہنگی ہونے سے اب لڑکے بالے نہ لڑکیوں کے کالجز کے سامنے موج مستی کر سکتے ہیں اور نہ ہی ون ویلنگ کر کے اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ اشیاء خوردنی مہنگی ہونے کی بدولت اب کوئی بھابھی کسی نند کی دعوت نہیں کرتی جس کی وجہ سے عوام غیبت اور خانگی لڑائی جھگڑوں سے محفوظ ہیں

حکومت وقت کو عوام کی وقتی تکلیف کا ادراک ہے تو مہنگائی سے ہوئی تکلیف کا ازالہ کرنے کو زرداری، حمزہ اور دیگر سیاستدانوں کو گرفتار کر لیاگیا ہے اب یہ لوگ روز خان کے احتساب سے بچنے کو ہزاروں غرباء کے دروازوں پر خاموشی سے آٹا، دال، چاول، چینی اور صدقے کی نقد رقم رکھ کر دعا کی درخواست کرتے ہیں۔

اور یوں ہزاروں گھروں تک خفیہ طور پر صدقہ و خیرات پہنچنے کی بدولت ملک کا ہر غریب پیٹ بھر کھا کر حکومتی ارکان کے تبصروں اور کپتان کے اسرائیلی وزیر اعظم کو خیالوں میں محسوس کر کے سینہ پھلاتے اور بازوں کی مچھلیاں پھڑکاتے دیکھ کر لافٹر تراپی کی بدولت بیماریوں سے محفوظ اور خوش و خرم زندگی گزار رہا ہے۔

میرا خیال ہے کہ واوڈا جیسے زیرک سیاستدان کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے بے شک پانچ ہزار انسانوں کو پھانسی دے دی جائے یا ڈالر پانچ سو کا ہو جائے عوام پھر مسکراتے مسکراتے سوئیں گے اور ترقی کے حسین خواب ( وہ نہیں جو دکھائے گئے تھے ) دیکھتے دیکھتے رات بسر کریں گے۔ کیونکہ تبدیلی آ چکی اب ہم سلطنتِ شغلیہ میں رہتے ہیں نا کہ گارڈ فادر کی سلطنتِ مغلیہ میں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •