بوڑھا چارلی اور ریمبراں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”ٹھیک ہے آقا! دنیا میں بے وقوف اُس سے بھی کہیں زیادہ پائے جاتے ہیں جتنا انہیں خیال کیا جاتا ہے، شاید اِسی لیے آپ کے فن کی ساحری لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل رہی، ورنہ آپ کی ہر تصویرمیں ایک دھڑکتا ہوا پل اپنی بازیافت کی تلاش میں کائنات کی وسعتوں سے کلام کرتا ہے اور یہ چارسمتی نظام۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “

چارلی دنگ رہ گیا۔

اُسے پہلے کبھی مصوری پر اتنی شاندار گفتگو سننے کا اتفاق نہیں ہوا تھا حالانکہ وہ ان لوگوں میں سے تھا جنھوں نے کچھ نہ بھی کیا ہو تو کم از کم سب کچھ دیکھ اور سن ضرور چکے ہوتے ہیں۔ ریمبراں نے اُس کی ہر تصویر پر ماہرانہ تبصرہ کیا اور اُسے بتایا کہ اگر وہ چیدہ چیدہ تبدیلیاں کرنے پر آمادہ ہو جائے تو اُس کی کرافٹ، خواص کے ساتھ ساتھ عوام کے لیے بھی قابلِ فہم ہو جائے گی۔

چارلی اگلے چھ مہینوں تک اُس کی ہدایات کی روشنی میں کام کرتا رہا اور وہ بخوبی اندازہ لگا سکتا تھا کہ چیزیں کم پیچیدہ اور زیادہ پر اثر ہوتی جارہی تھیں۔ اِس دوران اُس نے کام کے علاوہ کسی بھی چیز کے بارے میں نہیں سوچا مگر جیسے ہی تصویروں پر نظرِ ثانی مکمل ہوئی، وہ ایک بار پھر مشہور ہونے کے بارے میں سوچنے لگا۔ اُسے یقین تھا کہ اِس بار دنیا کی کوئی طاقت، اُسے نامور مصور بننے سے نہیں روک سکتی۔

چارلی جب کئی سالوں بعد خود ساختہ گوشہ نشینی چھوڑ کر باہر نکلا تو پہلے پہل وہ خود کو ایک ایلین تصور کر رہا تھا، مگر جلد ہی سب کچھ معمول پر آگیا۔ اُس نے سب سے پہلے اپنے پرانے دوستوں سے روابط بحال کیے اور اُن کے ذریعے نوجوانوں کی اگلی کھیپ سے متعارف ہوا۔ پھر اُس نے مختلف ثقافتی تنظیموں کے عہدیداران سے علیک سلیک بڑھائی اور اُنہیں اپنی فنی خدمات سے آگاہ کیا ؛ اِس دوران ریمبراں اُس کے ساتھ ہی رہا۔

شروع میں تو سب ٹھیک تھا مگر جونہی چارلی اپنی سوچ کو مصوری کے دائرے سے نکال کر زندگی کے تیز دھارے میں واپس آیا، ریمبراں اُس کے لیے مشکلات پیدا کرنے لگا۔ مثلاً جب وہ ”سلور گلو“ نام کی ایک عالمی سند یافتہ ثقافتی تنطیم کے صدر سے ملاقات کرکے باہر نکلا تو ریمبراں بولا:

”آقا! میں نے آپ سے زیادہ خوشامدی اور جھوٹا انسان آج تک نہیں دیکھا۔ غضب خدا کا آپ نے اِس منحوس کے پیروں میں گرنے کے علاوہ باقی تو کچھ بھی نہیں چھوڑا۔ حالانکہ یہ آدمی بالکل ہونق اور حسِ لطیف سے یکسر عاری ہے اور جو صرف اپنی لومڑ جیسی مکار اور چاپلوس فطرت کے باعث اِس کرسی پر بیٹھا ہے۔ “

اِسی طرح جب وہ مصوروں کے ہفت روزہ اجلاس میں ایک ادھیڑ عمر خاتون سے مراسم بڑھا کر اٹھا تو ریمبراں نے اُسے بہت حقارت سے دیکھا اور کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بولا:

”آپ تو بہت ہی گھٹیا نکلے آقا! یعنی آپ نے اِس عورت کے بھدے ہونٹوں اور ادھ جھڑے بالوں کی صرف اِس لیے تعریف کی تا کہ اِسے بے وقوف بنا کر اپنی مٹھی میں جکڑ لیں، ورنہ سچ تو یہ ہے کہ آپ کو اِس کی چھاتیوں کے اُبھار اور کولہوں کی نرمی کے علاوہ، کسی بھی چیز سے کوئی سروکار نہیں۔ “

چارلی اُس کی لاف زنی سن کر آگ بگولا ہوگیا اور اُس نے مصمم ارادہ کر لیا کہ آئندہ وہ اکیلا ہی باہر جایا کرے گا۔

اگلے روز اس نے ریمبراں کو کمرے میں بند کیا اور پکاڈلی سٹریٹ کی طرف نکل گیا۔ وہ کافی دیر تک اِدھر اُدھر گھومتا اورجلتے بجھتے نیون سائن دیکھتا رہا۔ اس نے نائٹ کلبزکے سائن بورڈ خاص طور پر بہت اشتیاق سے پڑھے، مگر جونہی وہ ٹکٹ خریدنے اور اندر جانے کا سوچتا، اُس کی سانسیں غیر متوازن ہو جاتیں ؛ تنگ آکروہ کرائی ٹیرین تھیٹر میں جا گھسا اور ”کنگ لیئر“ سے محظوظ ہونے کی کوشش کرتا رہا۔

اِس سارے عمل کے دوران وہ بالکل تنہا تھا، لیکن جیسے ہی وہ ریجنٹ سٹریٹ میں داخل ہوا، کسی نے اُس کے شاخوں کو مضبوطی سے پکڑا اور دبا دیا۔ ۔ وہ ایک دم پیچھے مڑا؛ سامنے ریمبراں کھڑا تھا۔ واپسی کا پورا راستہ اُس کے طنز آلود اور مضحکہ اُڑاتے جملوں میں کٹا۔ اُس نے چارلی کو بتایا کہ چونکہ وہ بچوں سے نفرت کرتا ہے لہٰذا اُس میں اور ایک کریہہ الصورت مگرمچھ میں کوئی فرق نہیں۔

اگلی بار چارلی نے اسے رسیوں سے باندھا اور اسٹور میں پھینک دیا۔ میرل بون روڈ تک راستہ صاف تھا مگر جیسے ہی وہ مادام تساؤ کے عجائب گھر میں داخل ہوا اور اُس نے صوفیہ لورین کے مومی مجسمے پر ہاتھ پھیرا، تو ریمبراں ایک دم سے ظاہر ہوگیا، اور بُرا سا منہ بناتے ہوئے کہنے لگا:

”فلمی اداکاراؤں کے بارے میں سوچنے والے مرد عقل سے پیدل ہوتے ہیں آقا! “

آنے والے دنوں میں چارلی نے ہر وہ کوشش کرکے دیکھ لی جو اِس صورتِ حال میں ممکن تھی، مگر ریمبراں ٹس سے مس نہ ہوا۔ وہ اُس کے ساتھ یوں گندھ گیا تھا جیسے بہت زیادہ چبا کے تھوکی ہوئی چیونگ گم، بالوں کے ساتھ لِت ہوجاتی ہے۔

جب اصلاح کا ہر طریقہ ناکام ہوگیا تو آخرکار اُس نے ریمبراں کو قتل کرنے کا سوچا۔

اسے پورا اطمینان تھا کہ ریمبراں پہ سوچ پڑھنے میں ناکام رہا ہوگا کیونکہ جس وقت یہ خیال اُس کے ذہن میں کوندا، وہ ہائیڈ پارک کے ایک نسبتاً سنسان گوشے میں بالکل اکیلا تھا اور اتنے دنوں میں کم از کم وہ یہ بات تو جان ہی گیا تھا کہ ریمبراں صرف وہی خیالات پڑھ سکتا ہے جو اُس کی موجودگی میں سوچے جائیں (یعنی وہ اُس کے سامنے اپنے آپ کو خالی الذہن رکھ کر بہ آسانی یہ معاملہ نمٹا سکتا تھا) ۔

منصوبے کی رات، چارلی آٹھ بجے سے ہی گھات لگا کے بیٹھ گیا۔ ویسے تو ریمبراں جلد سو جانے کا عادی تھا مگر اُس رات وہ جاگتا رہا۔ چارلی نے اُسے اخبار کے پزل حل کرتے اور پھر ہیرالڈ کا تازہ شمارہ پڑھتے دیکھا تو بہت حیران ہو ا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہیں اِسے سب معلوم تو نہیں پڑگیا؟ اُس نے تھوڑا بوکھلا کر سوچا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اونہوں! ایسا تو ممکن ہی نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ اپنے کسی اندیشے کو زیادہ وزن دینے کے موڈ میں نہیں تھا۔

رات آہستہ آہستہ گہری ہوتی چلی گئی۔

ساڑھے بارہ بجے کے قریب چارلی کو پہلی جھپکی آئی، مگر ریمبراں ابھی تک ہشاش بشاش بیٹھا تھا ؛ میگزین ختم کرنے کے بعد وہ ٹی وی دیکھنے لگا۔

ساڑھے تین بجے کے لگ بھگ، جب ریمبراں اپنے بیڈ پر لیٹا توچارلی اُس وقت تک کم از کم دوبار اونگھ چکا تھا ؛ اپنے شکار کو لیٹتا دیکھ کر اُس کے حواس پوری طرح سے بیدا ر ہو گئے اور وہ اُس کے گہری نیند میں جانے کا انتظار کرنے لگا۔

جیسے ہی ریمبراں نے پہلا خراٹالیا، چارلی نے اس کا لحاف اُتارا اور خنجر کا ایک نپا تلا وار کر ڈالا۔

بدقسمتی سے اُس کا نشانہ خطا گیا۔

ابھی وہ دوسرے وار کے لیے پر تول ہی رہا تھا کہ ریمبراں نے اپنی آستین سے ایک نسبتاً بڑا خنجر نکالا اور اُس کی شہ رگ کاٹ ڈالی۔

چارلی دھڑام سے نیچے جاگرا اور پھر نہیں اُٹھا۔

”آپ تو جانتے ہیں آقا! میرا کوئی قصور نہیں تھا۔ “ ریمبراں نے نہایت بے چارگی سے اِدھر اُدھر سر پٹختے ہوئے کہا۔

٭۔ ٭

دو دن بعد چارلس کاپر فیلڈ کی لاش دریافت کی گئی تو ساتھ ہی ایک خنجر پڑا ملا۔ پولیس کو یہ معلوم کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگی کہ اِس پر متوفی کی اپنی انگلیوں کے نشان ثبت تھے۔

کچھ عرصے بعد شہر کی ایک معروف ثقافتی تنظیم کے زیرِ اہتمام، اُس کی تصویریں نمائش کے لیے پیش کی گئیں جنہیں تمام بڑے ناقدین نے سراہا اور جو پہلے تین دنوں میں ہی ساری کی ساری بِک گئیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2