دوسری شادی کا لڈو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

” ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ منہ میں ﻟﮕﺎ ہوﺍ ﺩﺍﻧﺖ بظاہر ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺳﺎ ﻣﺤﺴﻮﺱ ہوﺗﺎ ہے ﻣﮕﺮ ﺟﺐ ﻭﮦ ﮔِﺮﺗﺎ ہے ﺗﻮ ﺩﻭ ﺩﺍﻧﺘﻮﮞ ﺟﯿﺴﺎ ﺑﮍﺍ ﺧﻼ ﭼﮭﻮﮌ ﺟﺎﺗﺎ ہے ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻭہاﮞ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﺭﮐﮫ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺗﺼﺪﯾﻖ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ“ ہیں ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺍﯾﮏ ﺩﺍﻧﺖ ﮔِﺮﺍ ہے؟

ﮐﭽﮫ ﺭِﺷﺘﮯ ﺟﺐ ﭘﺎﺱ ہوﺗﮯ ہیں ﺗﻮ ﺍﺗﻨﮯ ﺍہم ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﮯ“ ﻣﮕﺮ ﺟﺐ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺗﮯ ہیں ﺗﻮ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﮍﺍ ﺧﻼ ﭼﮭﻮﮌ ﺟﺎﺗﮯ ہیں ﮐﮧ کئی ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﺍِﺱ ﺧﻼ ﮐﻮ ﭘُﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ”ازدواجی زندگیاں بھی کچھ ایسی ہی ہوتی ہیں۔ آپ ایک شادی کرتے ہیں جس میں آپ ماں باپ کی دعائیں اور بہن بھائیوں کا پیار آپنا حق سمجھ کر وصول کرتے ہیں۔ پھر بچوں کی کُلکَاریاں بچے آپ کی انگلی پکڑ کر چلنا سیکھتے ہیں اولاد کے خون میں باپ کی شفقت رَچ بَس جاتی ہے۔ بیٹے آپ کی جان بن جاتے ہیں اور بیٹیاں جِگر کے ٹکڑے اولاد کو اپنے پاپا پر فخر ہونے لگتا ہے۔

بیوی بے چاری بھی یہ منظر دیکھ کر دور کھڑی اپنی قسمت پر تالیاں بجاتی ہے اور شکر بجا لاتی ہے کہ اللہ نے میرا گھر بسا دیا۔ پھر رنگ میں بَھنگ ڈَلتی ہے۔ آوارہ خوشبو کا ایک جھونکا اونچی دیواریں پھلانگ کع اِس گھر کو آگ کی طرح اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ پاپا جانی کی ایسی مَت نِکلتی ہے۔ کہ پاپا جی! ایک ”دوسری“ کی زُلف گِرہ گِیر کے اسِیر ہو جاتے ہیں۔ یہ بے ٹیما عشق اِس قدر ظالم اور بَد لِحاظ ہوتا ہے۔ کہ اِسے وہ نونہال اور مدتوں کی خدمت گزار بیوی بھی زہر لگنے لگتی ہے۔

چشمِ فلک نے اکثر ایسے مکروہ نظارے دیکھے ہیں۔ کہ جب ایسے بے موسمی معاشقوں نے کئی سجے سجائے سدا بہار گھر پُھونک کر رکھ دیے۔ چلو مان بھی لیا جائے کہ ہر دوسرا بندہ گھر کی مرغی سے اُکتا چکا ہے۔ ڈھلتا ہوا شباب یا پھر سیکس اپیل کی کمی۔ یا پھر کچھ اور مگر کیا گارنٹی ہے کہ دوسرا لڈو آپ کو یہ بد ہضمی نہیں کرے گا

چار دنوں کے لئے شاید آپ کو لگے گا کہ آپ نے یہ تیر مار کر کوئی سرخ پھولوں کا کاروبار کر لیا ہے۔ مگر اصل میں یہ کانٹوں کی وہ تجارت ہے جس کی چُبھن انے والی نسلیں اپنے دل میں محسوس کرتی ہیں۔ بڑوں کے قول اور عِلم و ادب کی ساری کتابیں چھان ماریں۔ اپ کو ہر جگہ سے یہی اشارے ملیں گے۔ کہ جس خوشی میں ظلم کا ہلکہ سا بھی تڑکا لگ جائے۔ سمجھو کہ وہ خوشی آپ کے گلے پڑ گئی۔ ساری عمر ڈھول کی طرح آپ دونوں طرف سے بجیں گے۔

مجھے چھوڑیئے! آپ اپنے اردگرد دیکھ لیں۔ آپ کو گئے وقتوں کے کئی شِہتِیر چند رومانوی راتوں کے عِوَض گلیوں کے ککّھ بنے نظر آئیں گے۔ ہمارا معاشرہ دوسری شادی ایکسپٹ ہی نہیں کرتا اولاد تو دشمن ہو ہی جاتی ہے۔ پورے کا پورا محلہ بھی آپ سے کنی کترا کے گزرتا ہے۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ چند مہینوں بعد جب نئی سہاگن پہلی بیوی کا روپ دھارتی ہے۔

تو پھر غلطی کا احساس ناگن کی طرح کھڑا ہو جاتا ہے مگر افسوس کہ تب تک زہر پورے بدن کا احاطہ کر چکا ہوتا ہے

” سب کچھ لٹا کے ہوش میں آئے تو کیا کِیا“

جب اللہ نے ہیرے جیسی اولاد دے دی خدمت گزار شریک حیات بخش دی میری جان تو پھر زندگی کی لوز فنٹسی کو ریویو کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ زوال فطرت ہے۔ ایک دن ہر پھول اپنی رعنائی کُھوتا ہے۔ چاند آخر کتنی راتیں سمندر کی لہروں کو بے چین رکھ سکتا ہے بالآخر اس کے نصیب میں ڈھلنا ہوتا ہے۔ تو پھر کیا ضرورت ہے بیٹیوں کے جگر کاٹنے کی اور بیٹوں کو ساری عمر کے لئے اپنا دشمن بنانے کی۔ جانتا ہوں یہ ایک ایسی خواہش ہے جو مَردوں کے جسم سے شاید جان سے بھی بعد میں نکلے۔ لیکن ہمارا معاشرہ اسے قبولے تب نا۔ دوسری شادی بے شک سنت ہے۔ اس صورت میں جب آپ عدل میں نبیوں کے ہم پَلہ ہوں اور یہ ہو نہیں سکتا۔ تو پھر کیا پڑی ہے روز قیامت آپ اپنے رب کے حضور جُھکے ہوئے پہلو کے ساتھ پیش ہوں۔ جی ہاں رسول اللہۖ کا فرمان ہے : ” جس کسی کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان میں سے کسی ایک کی طرف مائل ہو جائے (یعنی ان دونوں میں عدل نہ کرے ) تو و ہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو مفلوج ہو گا“۔

دوستو اگر آپ بھی کسی ایسی ہی آوارہ خوشبو کا شکار ہیں۔ تو اسے احترام سے چاروں قل پڑھ کر اپنے سے جدا کر دیجیئے۔ اس ڈیڑھ عشقیہ آگ کے گولے کو مٹی میں دفنا دیجیئے۔ نہیں تو یہ آپ کی مٹی پلید کر دے گا۔ احتیاط عالی جا احتیاط! محض چند لمحوں کے نشاط کے لئے اپنی ریئل لائف کا ستیاناس مت کیجیئے۔ مانا کہ دوسرا لڈو دیکھنے میں بہت دلکش اور سویٹ ہوتا ہے۔ مگر عشق میں اندھا بندہ کیا جانے کہ یہ اتنا ہی خود کش اور زہریلا بھی ہوتا ہے۔ یاد رکھیئے یہ پچھلی عمر کا لڈو صرف آپ ہی کی جان نہیں لیتا بلکہ آپ کی جان سے وابستہ کئی جانوں کو بے جان کر دیتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •