بوڑھا چارلی اور ریمبراں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

٭ وہ خود کو نہایت عظیم مصور سمجھتا تھا حالانکہ آج تک اُس کی کوئی ایک تصویر بھی نہیں بکی تھی۔
٭ اُسے مائیکل اینجلو اور ڈائیونچی کی طرح میورلز بنانے کا شوق تھا تاہم کسی چرچ نے اُس کی صلاحیتوں سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش نہیں کی۔
٭ تیسرے درجے کے نقاد تک اُس کے نام سے لا علم تھے اور وہ سماجی تقریبات میں بالکل نہیں بلایا جاتا تھا۔
٭ عام لوگ بھی اُس کی عزت نہ کرتے ا ور اُسے چارلس کاپر فیلڈ کے بجائے بوڑھا چارلی کہہ کربلاتے۔
٭ دیکھا جائے تو اُس کی زندگی ناکامی کا ایک چلتا پھرتا شاہکار تھی جس میں فقط ایک لفظ یعنی ”نہیں“ واضح تھا جو ہر مقام پر اُس کا منہ چڑاتا اور اُسے ذلیل کرتا رہا۔
٭۔ ٭

جب اُس نے فنِ تعمیرات کی پڑھائی چھوڑ کر مصوری کو بطور پیشہ اپنانے کا فیصلہ کیا تو اُس وقت وہ اپنے بہتر مستقبل کے بارے میں کافی پُر امید تھا۔ وہ اکثر چشم تصور سے دیکھتا کہ برٹش آرٹ میوزیم کی انتظامیہ اُس کی تصویروں کو خریدنے کے لیے بے چین ہے اوربکنگھم پیلس سے اُس کے نام خصوصی بلاوا آیا ہے تاکہ وہ عظیم مصوروں کے ایک بہت بڑے اجتماع میں انگلستان کی نمائندگی کر سکے۔ اِنہی خوابوں کے طلسم میں گرفتار، اُس نے ہر قابلِ ذکر نمائش میں اپنی تصویریں فروخت کے لیے رکھیں مگر لوگ اُنہیں مجہول خیالات کا پلندہ کہہ کر دھتکار دیتے اور وہ اندر ہی اندر کڑھتا رہ جاتا۔

وہ ایسے تمام لوگوں کو غلیظ مکھیوں کی طرح بھن بھن کرنے والی مخلو ق سمجھتا جو اُس کی تمام تر ریاضت پھبتیوں میں اُڑا کر نیوڈز کے گرد اکٹھے ہو جاتے۔ اُسے وہ نرم دل لوگ بھی پسند نہیں تھے جو اُس کی تصویروں کو بُرا بھلا کہنے کی بجائے آرٹ کی مجموعی زوال پذیری کا شکوہ کرتے اور پھر مہنگے داموں پکاسو یا بریٹ وٹلی کی پینٹنگ خرید لیتے (چاہے بعد میں وہ اُن کے مہمان خانوں میں الٹی ٹنگی نظر آئے ) ۔

جلد ہی وہ اِس ساری صورتِ حال کو بورژوا ذہنیت کا شاخسانہ قرار دے کر قصباتی سطح پر ہونے والی نمائشوں میں قسمت آزمانے نکل کھڑا ہوا۔ اُس نے ایک مفروضہ بھی گھڑا کہ کند ذہن شہریوں کے برعکس مضافات میں رہنے والے لوگ آرٹ کی زیادہ سمجھ بوجھ رکھتے ہیں مگر یہاں بھی اس کی دال نہ گل پائی۔

ایک روز جب اُسے یقین ہوگیا کہ اب مشہور ہونے کی کوئی صورت باقی نہیں رہی تو اُس نے پوری دنیا کو جہالت کا بدبودارمنبع قرار دیا اور اپنے گھر کی چار دیواری میں قید ہوگیا۔ عموماً لوگ مایوسی کی انتہا پر پہنچنے کے بعد خودکشی کا کوئی ایسا طریقہ وضع کرتے ہیں جس کے ذریعے وہ کم وقت میں آسانی سے مر سکیں، مگر وہ اُن بزدلوں میں سے نہیں تھا جو خود کو پوری طرح سے آزمائے بغیر منوں مٹی تلے جا سوئیں۔

٭۔ ٭

کافی سوچ وبچار کے بعد اُس نے اپنے گھر کو ایک بڑی سی لائبریری میں ڈھال لیا اور کتابیں پڑھنے میں جُت گیا۔ وہ خرگوش اور مرغابی پکانے کی ترکیبیں بھی اُتنی ہی سنجیدگی سے پڑھ ڈالتا، جتنی سنجیدگی اُسے نیومرولوجی اور کلیری وائن کی کتابیں پڑھتے وقت درکار ہوتی۔

ابتداء میں وہ بالکل بھی ضعیف الاعتقاد نہیں تھا مگر جوں جوں اُس کی عمر بڑھتی گئی، وہ کالے علوم کی طرف راغب ہوتا گیا۔ اُس نے بہت عرق ریزی اور جاں فشانی کے بعدایک نظریہ تشکیل دیا کہ اگروہ اپنے ہمزاد کو تسخیر کر لے تَو اُس کی مشہور ہونے کی آرزو پوری ہو جائے گی۔

ایک با ر سمت کا تعین ہونے کی دیر تھی کہ اُس نے ساری توانائیاں ہمزاد کی تلاش پر مرکوز کر دیں۔ ہزاروں کتابیں کھنگالنے کے بعد بالآخر اُسے ہمالہ کے ایک عمر رسیدہ جوگی کا تجویز کردہ عمل پسند آگیا اور اُس نے مطلوبہ سامان کے حصول کے لیے بھاگ دوڑ شروع کر دی۔ اپنے تمام تر محدود وسائل کے باوجود وہ دس کالی مرغیوں کی آنتیں، پانچ جنگلی سوروں کی کھوپڑیاں، سانپ کی کینچلی، عربی گھوڑے کی لید، ہاتھی دانت کا برادہ، لوبان، کافور اور اِس طرح کی دوسری کئی چیزوں کا انتظام کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ اور یوں چِلّہ شروع ہوا۔

محھے محیر العقول واقعات کی ابتداء توپہلے ہی دن سے ہو گئی مگر آہستہ آہستہ اِن میں شدت آنے لگی۔

سب سے پہلے ایک کنکھجورا نمودار ہوا اور اُس کے کان میں گھس گیا۔

پھر ہوا میں اُڑتے اور تیزی سے ڈنگ چلاتے ایک بچھو نے اُس کی پیشانی پر کاٹ لیا۔

پچیسویں دن ایک بدنما چڑیل ظاہر ہوئی اور اسے قتل کرنے کی دھمکیاں دینے لگی۔

تین دن بعد ایک ننگ دھڑنگ بھوت بھی آٹپکا۔

آہستہ آہستہ منحوس شکلوں والے بونے اور غصے سے بھرے ہوئے جن بھی اکٹھے ہوتے چلے گئے حتیٰ کہ چالیسویں روز کمرے میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔

پانچ سروں والی چمگاڈریں اور سو فٹ لمبے چوہے، اُسے مسلسل ڈراتے رہے۔

کئی بار اُس کا پیشاب خطا ہوا مگر وہ چِلّے سے باہر نہیں نکلا بلکہ نہایت صبرواستقامتسے مقررہ وقت ختم ہونے کا انتظار کرتا رہا۔

جیسے ہی گھڑیال نے بارہ بجائے، ایک زور دار دھماکہ ہوا اور ساری بلائیں اتنے زور سے چیخیں کہ کمرے میں بھونچال آگیا۔

وہ ایک جھٹکے سے ہوا میں بلندہوا اور عقبی د یوار سے جا ٹکرایا۔

جب تک اُس کے اوسان بحال ہوئے، عفریتوں کا ٹولہ کہیں غائب ہوچکا تھا۔ ٹھیک اُسی لمحے ایک شخص نمودار ہوا جو ہو بہو اُس جیسا، مگراُس سے تھوڑا کم بوڑھا تھا۔

” میرا نام ریمبراں ہے اور اب سے میں تمہارا غلام ہوں۔ خوش آمدید آقا! “ نووارد اُس کے پیروں کو چھوتے ہوئے بولا۔

چونکہ چارلی آج تک عزت نام کی ہر چیز کے لیے ترستا آیا تھا، اِس لیے اُس کی روح اندر تک سرشار ہو گئی، مگر اُس نے چہرے کے تاثرات سپاٹ رکھے اورآواز کو ہر ممکن حد تک گھمبیر بناتے ہوئے بولا:

” ٹھیک ہے، ٹھیک ہے، مگر سوال یہ ہے تم میرے لیے کیا کر سکتے ہو؟ ’‘

”آپ کی سوچیں پڑھنے اور آپ کو مفید مشورے دینے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ “

چارلی یہ سُن کر اتنا مایوس ہوا کہ اُس کا جی چاہا اپنے سارے بال نوچ ڈالے۔

”بال نوچنے کا کوئی فائدہ نہیں آقا! آپ پہلے ہی شدید قسم کے گنجے پن کا شکار ہیں۔ ویسے تو خیر اِس بیماری کا کوئی شافی علاج نہیں۔ البتہ نائیجریا میں ایک جڑی بوٹی اُگتی ہے جو آپ کو اِس مصیبت سے نجات دلا سکتی ہے۔ “

”ٹھیک ہے تو پھر میں حکم دیتا ہوں کہ وہ جڑی بوٹی فوراً حاضر کی جائے۔ “ چارلی کا لہجہ ایک دم شاہانہ ہوگیا (حالانکہ وہ جان چکا تھا کہ اُس نے محض گھاٹے کا سودا کیا ہے اور اُس کی کو ئی ایک خواہش بھی پوری نہیں ہو سکتی) ۔

”کتنی خوشی کی بات ہے آپ ایک حقیقت پسند انسان ہیں اور پہلے سے جانتے ہیں کہ آپ کا حکم بھلے سرآنکھوں پر، مگر اس کی تعمیل ممکن نہیں۔ “ ریمبراں نے اتنے اطمینان سے جواب دیا جیسے وہ چشمِ زدن میں نائیجیریا سے جڑی بوٹی توڑ کرلے بھی آیا ہو۔

چارلی نے اپنے اندر مایوسی کی ایک شدید لہر محسوس کی۔ پھر اُس نے ایک ایک کرکے ساری ناکامیوں کو احاطۂ تصور میں لانے کی کوشش کی جن میں سب سے زیادہ تکلیف دہ، ایک کامیاب عمل کے بعد انتہائی بدتمیز اور کاہل غلام کا حصول تھی۔

اُس نے اپنی تمام تصویروں پر ایک حسرت بھری نگاہ ڈالی اور انتہائی سنجیدگی سے اُنہیں راکھ کا ڈھیر بنانے کے بارے میں سوچنے لگا۔

”نہیں آقا! آپ کو اتنے عظیم شاہکار جلانے کے بجائے اچھے وقت کا انتظار کرنا چاہیے جو اَب زیادہ دور نہیں، بلکہ بالکل بھی دُور نہیں۔ “

چارلی کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔

”کیا کہا؟ “ اُس نے تھوڑا جھجکتے ہوئے پوچھا۔ ریمبراں نے اپنی بات دُہرادی۔

ایک دم چارلی کا پارہ بلند ہوگیا۔

”شاہکار؟ اور یہ منحوس تصویریں؟ میں تو اِنہیں محض خدا کا ایک عذاب سمجھتا ہوں جو یقینا بچپن یا جوانی کی کسی غلط کاری کے باعث میرے سرمنڈھ دیا گیا۔ ایک استعمال کیے ہوئے کنڈوم سے بھی زیادہ بے وقعت اور بے معنی تصویریں جنہیں آج تک کوئی سمجھ ہی نہیں پایا اور تم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم جو محض ایک گھٹیا غلام ہو، اب مجھے، یعنی مجھے بتاؤ گے کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لعنت ہو؟ “ چارلی کسی خاموش آتش فشاں کی طرح اچانک ہی پھٹ پڑا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •