ریورس لرننگ، وزیراعظم کا شاندار طریقہ تعلیم
ہم سب کے دیرینہ قارئین اس ویب سائٹ کے بعض کرتا دھرتا کرم فرماؤں کے مابین جاری لسانی جنگ و جدل سے بخوبی واقف ہیں۔ لسانی فسادات میں کبھی صرف و نحو کے قوانین نشانہ بنتے ہیں تو کبھی غیر زبانوں سے درآمد شدہ الفاظ پر طبع آزمائی کی جاتی ہے۔ مگر تلفظ کا تحفظ سب سے زیادہ تختہ مشق بنتا ہے۔ ایک جانب سے جانے مانے استادوں کا شعری و نثری کلام اپنی تائید میں پیش کیا جاتا ہے تو دوسری جانب کے دوست مستند ذخیرۂ لغات سے اپنا موقف مضبوط کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ اسی پس منظر میں جینئس وزیر اعظم نے اپنے اقتدار کا آغاز ہی قوم کا تلفظ درست کرانے سے کیا۔ اب بھلا کنٹینر پر چار ماہ مسلسل بنا اٹکے تقریر کرنے والے کے لیے الفاظ ہاتھ باندھے کھڑے نا ہوتے ہوں گے کیا؟ تو حلف جیسے زندگی کے اہم ترین موقع پر الفاظ کی ادائیگی کون سا مشکل امر تھا۔
لیکن ادھر الفاظ میں ذرا سا الجھاؤ آیا، ادھر پوری قوم لغت لیے نکل کھڑی ہوئی۔ اب بچے بچے کو معلوم ہو گیا کہ کس قیامت کی قیادت ہمیں نصیب ہوئی جو روز قیامت کو روز قیادت بول گئی۔ اسی طرح قوم کا عقیدہ ختم نبوت پر ایمان مزید مستحکم ہوا جب ہر فرد نے وزیر اعظم کی تصحیح کی خاطر خاتم النبیین ص کا درست تلفظ ادا کرنا شروع کر دیا۔ اسی طرح روحانیت اور رعونیت کے مابین باریک سی صوتی لکیر بھی کچھ عرصہ پہلے واضح طور پہ سامنے آئی۔
سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی جناب وزیر اعظم نے اپنی خدمات پیش کیں جب نظریہ اضافت سے مکمل طور پر نا بلد قوم کو روشنی کی رفتار والی ٹرین کا مژدہ سنایا۔ آئن سٹائن کے نظریہ کے تحت روشنی کی رفتار سے سفر کرنے والی ٹرین مادے کی کمیت سے آزادی پا جاتی۔ یوں مادہ کی نفی کر کے مادہ پرستی میں مدہوش خوابیدہ قوم کو جگانے کی کوشش کی گئی۔ اسی میدان میں سائنس و ٹیکنالوجی کے موجودہ وزیر نے بھی 55 روپے فی کلومیٹر کی سستی مگر برق رفتار ہیلی کاپٹر سواری سے متعارف کروایا۔ جس کے جواب میں مخالفین کو ایک مرتبہ پھر گوگل پر خرافات کی بجائے پڑھائی کرنی پڑی۔
دوسری جانب دینیات کے مضمون کو صرف ضیائی تحفہ سمجھ کر سر سے اتارنے والی قوم پر ہر چند روز کے بعد ایسی معکوس معلومات کا انکشاف کیا جاتا ہے کہ کیا لبرل، کیا بنیاد پرست، سب کو ہی تفاسیر و تواریخ کے بنیادی ماخذ سے مراجعت کرنی پڑتی ہے۔ کسے معلوم تھا کہ تاریخ کے دو کمرے ہیں۔ ایک قبل از مسیح اور ایک بعد از مسیح۔ خان احساس نا دلاتا تو حضرت عیسىٰ علیہ السلام کی تاریخى حیثیت سے نا واقفیت ہى رہتى۔
خدا لگتی کہیں، کیا اب سے چند روز قبل آپ کو غزوات کی تاریخ مکمل یاد تھی۔ جنگ عظیم دوئم میں جاپان اور جرمنی کی بات بھی اسی جذبہ تعلیم کو جگانے کی خاطر کی گئی تھی۔ کسی نے گوگل میپ پر دونوں ممالک کے درمیان فاصلہ ناپا تو کسی نے وکی پیڈیا پر اتحادی افواج اور متحارب قوتوں کی صف بندی کا مطالعہ کیا۔ اسى طرح گولان، فلسطین اور شام کے اسرائیل کے ساتھ تعلق پر بھی کسى معلوماتی پروگرام پر جناب وزیر اعظم کے جادوئى فقرے بھارى ہیں۔ جغرافیہ اور تاریخ کی تدریس کا محض ایک جملے میں ایسا حسین امتزاج آج سے پہلے دنیا کی کس عسکری یا سویلین حکومت نے پیش کیا ہو گا۔
معاشیات کے میدان میں تو علم و حکمت کا ایک سیل رواں ہے جو سونامی کی طرح فرزندان ملت کو بہائے لیے جا رہا ہے۔ ٹکے کے سامنے روپے کی کم قدری سے پہلے بھلا کس کو معلوم تھا کہ ٹکے ٹکے کے لوگ جیسا محاورہ کیونکر معرض وجود میں آیا تھا۔ ڈالر مہنگا ہونے سے معیشت پر کیسے کیسے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ چینی محض چار روپے بڑھنے سے کس طرح محسن کے اربوں احسانات کا بدلہ چکایا جاتا ہے۔ محسن کتنا ہی جہاں گیر ہو اور امیر ترین ہو، ایک دن تو احسانات کا قرض اتارنا ہی ہوتا ہے۔ چاہے چار چار روپے کر کے ہی۔
یہاں تک کہ جس قوم کو معلوم تک نہیں تھا کہ گزشتہ قیادت کے مصنوعی اقدامات سے کیسی کھوکھلی معاشی ترقی دکھائی جا رہی تھی۔ آج یہ عالم ہے کہ ہر کس و ناکس اپنا پیٹ کاٹ کر نوزائیدہ مملکت نیا پاکستان کی تعمیر و ترقی اور حقیقی معاشی نمو کی خاطر پورے جوش و خروش سے بر سر پیکار ہے۔
گویا صرف علمی ہی نہیں عملی میدان میں بھی خان نے اپنا سکہ جما دیا ہے۔
رہ گیا ہمارا آپ کا مشترکہ مگر متروک اثاثہ، ادب۔ ۔ تو حالیہ ٹوئٹ سے وزیر اعظم کا یہی مقصد تھا جو پورا ہوا۔ کراچی سے پشاور تک کس شہر میں معدودے چند کے علاوہ کسی کو ٹیگور یا خلیل جبران کا معلوم تھا۔ لیکن آج دیکھ لیجیے، پوری دنیا میں ان دونوں فراموش کردہ ہستیوں کے افکار پر غور و فکر کیا جا رہا ہے۔
مخالفین لاکھ طنز کرتے رہیں کہ وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی نہیں بنایا جا سکا۔ مگر ناچیز کی رائے میں اس کی ضرورت ہی کیا ہے۔ جب وزیر اعظم خود اپنی ذات میں دنیا کی موثر ترین یونیورسٹی ہیں۔
اور یہی علمی انقلاب اس تبدیلی کا حاصل وصول ہے۔

