سیاست اب بچوں کا کھیل ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچپن بہت سہانا دور ہے اور اتنا سنہری کہ گزرتا وقت بھی اس کی چمک کو ماند نہیں کر سکتا۔ بچپن میں کھیلے گئے کھیل ہمیشہ یاد رہتے ہیں اور ”بڑھتی“ عمر میں ”گھٹتی“ یاداشت بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ ہم نے بچپن میں جو کھیل کھیلے وہ آج تک ازبر ہیں۔ کہیں بھی بچوں کو کھیلتا دیکھ لیں تو شدت سے وہی کھیل یاد آتے ہیں۔ جب بھی موقع ملے اپنے ہم عصر لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر وہ پرانی یادیں ضرور تازہ کرتے ہیں۔

کھیل کوئی سا بھی ہوتا، بچپن کے اصول ایک سے ہی تھے۔ سارے بچوں کی نفسیات بھی ایک جیسی تھی۔ اگر کوئی ”غلطی“ ہو جائے تو اس کا الزام ”دوسرے“ کے سر منڈھ دینا۔ اگر کوئی کھیل میں شامل نہ کرے تو اس کے کھیل کو ”خراب“ کرنا۔ (ہمیں بھی کھلاؤ ورنہ کھچ ماریں گے ) ہمارے بچپن کا مقبول عام نعرہ تھا۔ ساری شرارتیں مل کر کرنا اور اگر پکڑے جاؤ تو سزا کے وقت باقی ”بچ“ جانے والوں کے نام بھی ”اگل“ دینا (ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے ) ۔ اگر کلاس میں کسی کا کوئی ٹیسٹ خراب ہو گیا اور سزا ملی تو گھر آکر سر عام اس کا ”بھانڈا“ پھوڑ دینا۔ اپنی باری آئے تو اپنی ”نالائقی“ چھپانے کے لئے دوسرے کی خامیوں کی تشہیر کرنا تاکہ اپنی طرف سے ”توجہ“ ہٹائی جا سکے۔

بچپن گزرا اور ہم پریکٹیکل لائف کے دھارے میں شامل ہوئے۔ نجانے خدا کو کون سی ادا اتنی پسند آئی کہ ہمارے لئے پیشہ پیغمبری کا انتخاب کر ڈالا۔ حکم ربی سے سرتابی کی مجال ممکن ہی نہیں۔ ہم بخوشی جنرل ایجوکیشن سے خصوصی تعلیم کے شعبے میں رچ بس گئے۔ یہاں آئے تو جانا کہ بچے نارمل ہوں یا خاص، نفسیات سب کی ملتی جلتی ہے۔ دور کوئی بھی ہو، کھیل کوئی بھی ہو ”اصول“ آج تک وہی پرانے چلے آ رہے ہیں۔

ہمارا کام چونکہ ”ذہنی“ پسماندہ بچوں کی تعلیمی اور سماجی بحالی ہے، تو چیلنجز بھی زیادہ درپیش ہیں۔ ان مشکلات سے نپٹنے کے لئے ”حوصلہ“ بھی زیادہ درکار ہے۔ ذہنی پسماندہ بچے بھلے جتنے بھولے بھالے ہوں اصول وہ بھی نارمل بچوں کے اپنا کے چلتے ہیں۔ اگر کسی سے غلطی ہو جائے تو فوری دوسرے کیطرف اشارہ کرتا ہے۔ کسی کھیل میں شامل نہ کیا جائے تو کھیل کو ”بساط بھر“ خراب کردینا۔ کوئی کام ٹھیک سے نہ ہو پائے تو الزام ”دوسرے“ کے سر منڈھ دینا۔ اپنی خراب کارکردگی کا ”ذمہ دار“ دوسرے کو ٹھہرانا۔

میرے پاکستانیو! آج کل ہمیں اپنی ملکی ”سیاست“ بھی بچوں کے کھیل جیسی لگتی ہے۔ بڑھتی عمر نے اگر یاداشت پہ اثر نہ ڈالا ہو تو یاد کریں ایک ”لاڈلا“ نیا نیا سیاسی کھیل میں آ شامل ہوا۔ ضد بھی وہی کہ ”ہمیں بھی کھلاؤ ورنہ خچ ماریں گے“۔ اور خچ بھی ایسی ماری کہ کھیل شامل ہو کر ہی ”دم“ لیا۔ خوش بختی کا ہما سر پہ منڈلا رہا ہو تو تخت بھی مل جایا کرتے ہیں۔ سانپ سیڑھی کے کھیل میں بخت بھی کھل جایا کرتے ہیں۔ شروع شروع کے دن تو یہی سوچ کے گزار دیے کہ ابھی ”سرکار“ اس کھیل میں نئے نئے آئے ہیں ذرا وقت لگے گا امور سلطنت کو سمجھنے میں۔ لیکن کیا کیجئے کہ وہ تو اپنے ”بچپن“ کے ا صول ”پچپن“ میں بھی ساتھ اٹھا کے لائے تھے۔

ایک سال مکمل ہونے کو آیا ہے لیکن ہماری تبدیلی سرکار سے نا تخت سنبھل رہا ہے نہ ہی وقت۔ اور وہ ہیں ہر تقریر کی ”تان“ سابق حکمرانوں پہ آ کے توڑتے ہیں۔ اپنی پہلے سال کی ”خراب کارکردگی“ پہ پردہ ڈالنے کے لئے پچھلی حکومتوں کو موردالزام ٹھہراتے ہیں۔ جب بات اپنی نالائقی پہ آتی ہیے تو بلاوجہ پرانے ”راگ“ سناتے ہیں۔ جس موڑ پہ غلطی ہوتی ہے اسے چھپانے کے لئے ”بے تکی“ تاویلیں گھڑ لاتے ہیں۔ سلطان سازوں نے سلطنت تو عطا کر دی ہے کچھ عقل بھی عنایت کر دیں کہ ”پچپن“ میں آکے بچپن کے اصول کسی کھیل میں لاگو نہیں ہوتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •