ریورس لرننگ، وزیراعظم کا شاندار طریقہ تعلیم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم نے ٹیگور کا جملہ خلیل جبران سے کیا منسوب کیا کہ سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہو گیا۔ کپتان کو کوئی کچھ بھی کہے، میری نظر میں وہ اس قوم کی تعلیم کا سبب ہیں۔ دشمنوں سے اکثر آپ نے ایک گھسا پٹا جملہ دنیا کی اس ذہین ترین قوم کے بارے میں سنا ہو گا۔ کہ جس قوم میں کتابیں تھڑے پر ملتی ہوں اور جوتے شو کیس پر، تو اس قوم کو کتابوں کی نہیں جوتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ پس جوتوں کے فراونى اور علم کى کمى کے ستر برسوں کے بے سمت سفر کے بعد بالآخر اس ہجوم کو قوم بنانے والا ایک میر کارواں میسر آ گیا۔ جس کے پاس عصائے کلیمی بھی ہے اور تخت سلیمانی بھی۔ نوری، ناری، خاکی، سب اس کے مطیع و تابع۔ یہاں تک کہ خلائی مخلوق، ( اوہ، غلط تشریح سے گریز کریں ) یعنی کہ جنات بھی بنی گالوی سرکار کے مرید ہیں۔

یہ وہ سالار ہے جو سکندر بنا۔ سالار سکندر وہی جس کا آئی کیو، پیش گوئیوں والے نعمت شاہ ولى کے بعد دور حاضر کے پسندیدہ ناولوں کے مطابق کائنات کا بہترین آئی کیو ہے۔ اس سالار سکندر کے دور سے قبل یہ ہینڈ سم کپتان ہی تھا جو سرحد کے دونوں اطراف کی خواتین کا ہیرو تھا۔ جس کا فسوں ان پر بھی چلا جو نا قابل تسخیر سمجھے جاتے تھے۔ چاہے وہ افراد ہوں یا ادارے۔

جس کے آنے سے جہاں ایک طرف چہار سو ارب ہا ارب، اور عرب ہا عرب برکات و دراہم و ریالیات کی بارش شروع ہو گئی۔ وہیں علم کے صدیوں سے خشک پڑے سوتے بھی بہہ نکلے۔ اقبال اور جناح کا یہ شاہین جب قوم کی تقدیر بدلنے کو تخت نشین ہوا تو چشم ناز نے وہ منظر بھی دیکھا کہ کیسے نوری سالوں پر محیط فاصلے چشم زدن میں مٹ گئے۔ قوم کی علمی بے بضاعتی پر پہلا تازیانہ بارگاہ خاکی میں پہلی مرتبہ حاضری کے موقع پر پڑا۔ آمر کے علاوہ کسی عامر، یاسر، ناصر کو گھاس نا ڈالنے والوں نے جب کپتان کو خود قصر خاکی کے دروازے پر آکر نا صرف سیلیوٹ کیا بلکہ شعبہ تعلقات والوں کی جانب سے باقاعدہ مسکراہٹوں والی تصاویر کا اجرا ہوا، تبھی دانشوران ملت سمجھ گئے تھے کہ جہل کی اندھیرى سرنگ ختم ہوئی۔ علم کا اجالا طلوع ہوا۔ گزرے دس ماہ میں شاید ہی کوئی دن ایسا جاتا ہو کہ قوم اپنے محبوب قائد کے علم سے فیض یاب نا ہوتی ہو۔ دانشوروں کی سیاپا فروشی کے دن ہویدا ہوئے۔ اب سرکار کے ایوانوں سے براہ راست قوم کی تعلیم کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

کینیڈا والے شیخ الاسلام جو بطریق منام، اسلاف کی شاگردی کا دعوی کرتے تھے۔ ان کے سیاسی کزن کا طریقہ تعلیم ان سے بھی زیادہ دلچسپ ہے۔ کپتان جو اپنے دور کرکٹ میں ریورس سوئنگ کا ماہر القادری سمجھا جاتا تھا۔ اپنے دور حکومت میں وہ ریورس لرننگ کی تکنیک کا موجد قرار پایا۔ مستقبل کے مورخ کى تاریخ میں جہاں ایک طرف کپتان کی جانب سے بلاد اسلامیہ کے شیوخ کی بے لوث مہمان نوازی کا چرچا ہو گا، وہیں علم و حکمت کی اس بے بہا ترسیل پر اس کا نام سنہرے الفاظ میں لکھا جائے گا۔

اس فدویانہ تمہید میں اگر آپ کو اصل بات کی سمجھ نہیں آ رہی تو اس میں آپ کا قصور نہیں۔ راقم کے جذبات کی وارفتگی اس کا سبب ہے۔ راقم کا تعلق خود شعبہ تدریسِ طب سے ہے۔ لہذا میں یہ سمجھتا ہوں کہ مشکل سے مشکل تھیوری پڑھانی ہو یا عملی مثال سمجھانی ہو، یہ کپتانی طریقہ کار ہر لحاظ سے موزوں ترین ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ اس طریق کار سے کیسے دنیائے تعلیم میں ایک انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔

مجوزہ کپتانی طریقہ تعلیم، جسے ہم نے ریورس لرننگ کا نام دیا ہے۔ اس میں ایک مشکل ترین کانسپٹ کو طلبا، یا پھر بعض صورتوں میں جہلا کے سامنے متضاد یا مجہول کانسپٹ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر آپ ایک سگریٹ نوش فرد یا گروہ کو لاکھ سمجھاتے رہیں کہ سگریٹ نوشی صحت کے لیے مضر ہے۔ لیکن وہ نہیں مانیں گے۔ چاہے آپ کتنی ہی خوفناک ترین تصویریں خود مظروفِ سگریٹ پر چھاپ دیں۔ لیکن کپتانی ریورس لرننگ طریقہ تعلیم کے تحت آپ کو صرف کسی موقر ذریعے سے سگریٹ نوشی کے طبی فوائد بیان کرنے ہیں۔ مثلاً کسی میڈیکل سیمینار میں کہہ دیجئے کہ روزانہ تین سگریٹ پینے سے کولیسٹرول کم ہوتا ہے، ہارٹ اٹیک کا خطرہ نصف رہ جاتا ہے، نظر تیز ہوتی ہے، اور ہاں، قوت باہ میں اضافہ بتلانا تو قطعاً مت بھولیے۔

اب رد عمل کا انتظار کریں۔

چند ہی گھنٹے میں سوشل میڈیا پر آپ ایک نیا ٹرینڈ بن چکے ہوں گے۔ آپ کی جہالت کے ہیش ٹیگ قومی سطح پر سرفہرست ٹرینڈ ہوں گے۔ نا صرف طبی ماہرین، بلکہ ہر وہ شخص جو سوشل میڈیا پر ہے، آپ کو سگریٹ نوشی کے وہ نقصانات بھی بتا ڈالے گا جو اب تک کسی طبی جریدے میں شائع بھی نا ہوئے ہوں گے۔ چاہے بتانے والا خود سگریٹ کے ساتھ حسب توفیق چرس یا کوکین کا عادی ہی کیوں نا ہو۔ یوں جلد ہی پوری قوم کو سگریٹ نوشی کے طبی نقصانات پر وہ معلومات حاصل ہوں گی جو کسی بھی آگہى مہم سے حاصل نہیں ہوئی ہوں گی۔ اگرچہ مخالفین آپ کا تمسخر اڑا رہے ہوں گے مگر آپ کسی بھی تنقید سے لاتعلق ہو کر اپنا علمی مقصد پورا ہونے پر تنہائی میں مسکرا رہے ہوں گے۔ امید ہے اس مثال سے آپ کپتان کی تدریسی خدمات کو سمجھ گئے ہوں گے۔

ٹھیک اسی طریق کار پر گزشتہ دس ماہ کے دوران بانیٔ نیا پاکستان اس ملت کی رہنمائی میں مصروف ہیں۔ نا صرف کپتان خود، بلکہ ان کی ٹیم کے کھلاڑی بھی کسی سے کم نہیں۔ مشکل سے مشکل کلیہ کا معکوس نظریہ پیش کر کے وہ کتابوں سے بُعد رکھنے والے بیس بائیس کروڑ لوگوں کو لائبریریاں، کتب اور انٹرنیٹ کھنگالنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •