سپیشل آپریشن ایگزیکٹو جاسوسی تنظیم اور مملکت خداداد پاکستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دوسری جنگ عظیم انیس سو انتالیس سے لے کر انیس سو پینتالیس تک برطانیہ یورپ اور کچھ ایشیا کے ممالک کے درمیان لڑی گئیی۔ یہ تاریخ کی ایک مہلک ترین فوجی جنگ تھی جس میں ایک محتاط اندازے کے مطابق پانچ کروڑ سے زیادہ لوگ ہلاک ہو ئے۔ کروڑوں لوگ اس جنگ کے دوران مہلک ہتھیاروں کے استعمال سے متاثر ہوئے۔ جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے گئے جس سے یہ شہر صفحہ ہستی سے مٹ گیے اور ایک لاکھ لوگ موت کے منہ میں چلے گیے۔

ساٹھ لاکھ سے ز یادہ یہودیوں کو جرمنی میں ہلاک کیا گیا جس کو ہولوکاسٹ کا نام دیا گیا۔ برطانیہ اور جرمنی اس جنگ کے دو بڑے حریف تھے۔ جرمنی پر ایڈلف ہٹلر کی حکومت نے یورپ کے کمزور ملکوں پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد جرمنی نے روس پر بھی حملہ کر دیا۔ برطانیہ کی مدد کے لئے امریکہ بھی آ گیا۔ دوسری طرف جاپان نے چین اور برطانوی زیر تسلط نو آبادیوں جس میں متحدہ ہندوستان برما اور تھا ئیی لینڈ وغیرہ پر حملہ کر دیا۔ یورپ کے علاوہ جہاں جہاں برٹش ڈچ فرنچ اور جرمن نو آبادیاں تھیں وہ ممالک بھی بالواسطہ اس جنگ کی لپیٹ میں آ گیے تھے۔

برطانیہ میں مئیی 1940 میں سر ونسٹن چرچل وزیر اعظم بنے۔ اس وقت دوسری جنگ عظیم شروع ہو چکی تھی۔ جنگوں میں جاسوسی تنظیمیں ایک اہم رول ادا کرتی ہیں۔ برطانیہ میں اس وقت MI 6 کے علاوہ دو تین اور چھوٹی چھوٹی جاسوسی تنظیمیں جاسوسی کا کام کر رہی تھیں۔ سر ونسٹن چرچل وزیراعظم بنتے ہی ایک ایسی خفیہ تنظیم کی ضرورت محسوس کی۔ جو دشمن ملک کے اند ر رہ کر وہاں بدامنی پھیلایے۔ اس ملک کے لوگوں کو برطانیہ کی حمایت پر آمادہ کرے۔

ا س کے لیے انہوں نے چھوٹی تنظیمیں بند کر کے ایک بڑی تنظیم بنانے کی منظوری دی۔ جس کے اغراض و مقاصدبہت ہی خفیہ رکھے گیے۔ 22 جولا ئیی 1940 کو تین چھوٹی جاسوسی تنظیمیں ضم کر کے ایک نئی تنظیم دی سپیشل آپریشن ایگزیکٹو Special Operations Executive (SOE کی بنیاد رکھی گئییی۔ اس وقت کے اقتصادی جنگ کے وزیر ہہگ ڈالٹن Minister of Economic Warfare Hugh Dalton اس کے سربراہ بنے۔ اس تنظیم کا بنیادی مقصد جرمنی کے زیر تسلط مقبوضہ یورپ، جاپان کے زیر تسلط مقبوضہ شمال مشرقی ایشیا اوردوسرے حریف جنگی ممالک میں جاسوسی کرنا۔ تخریب کاری کرنا۔ یورپ میں جرمن مخالف تحریک کو سپورٹ کرنا اور اس کے علاوہ اپنی حریف جنگی قوتیں جن میں اٹلی جاپان اور جرمنی کے خلاف یورپ اور ان کے کالونی ممالک میں ان کے خلاف نفرت پھیلانا تھا۔ انگلینڈ میں دی سپیشل آپریشن ایگزیکٹو تنظیم کے بارے میں معدودے چند لوگوں کو علم تھا جن میں حکومت کے چند چیدہ چیدہ یا وہ لوگ شامل تھے جو اس تنظیم کے لئے کام کرتے تھے۔

لندن کی بیکر سٹریٹ میں اس کا ہیڈکوارٹر ہونے کی وجہ سے اس کے ایک نام غیرقانونی بیکر سٹریٹ ”Baker Street Irregulars سے بھی یاد کیا جاتا تھا۔ یہ تنظیم سر ونسٹن چرچل کی خفیہ آرمی کے نام سے بھی جانی جاتی رہی ہے۔ یا پھر اسے وزارت بدمعاشی جنگ Ministry of Ungentlemanly Warfare“ کا نام بھی دیا گیا۔ سیکورٹی کی وجہ سے ان سالوں میں اس تنظیم کا وجود خفیہ رکھا گیا اور اسے مختلف ناموں کے کور کے نیچے رکھا گیا۔

بحریہ فضائییہ اور جنگ آفس کی مختلف برانچوں کے جعلی ناموں سے بھی اس کو کور کیا گیا۔ یہ تنظیم ان تمام ممالک میں کام کرتی تھی جن پر برطانیہ کی حریف طاقتوں نے حملہ کیا تھا یا پھر قبضہ کر لیا تھا۔ سوائے ان ممالک کے جہاں حلیف امریکہ یا روس کی فوجوں کا تسلط تھا۔ اس کے علاوہ غیر جانبدار ممالک اور جہاں حریف قوتیں کے حملہ کا خطرہ ہوتا تھا وہاں بھی اس تنظیم کی سرگرمیاں جاری رہتی تھیں۔ اس تنظیم کے تیرہ ہزار سے زیادہ ملازم تھے جن میں میں بتیس سو سے زیادہ عورتیں شامل تھیں۔

اس کے پہلے انچارج ڈالٹن جس کا تعلق آئیرش ریپبلکن آرمی سے تھا نے اس کو اسی طرح چلانے کی کوشش کی۔ ڈالٹن نے اپنی یاداشتوں میں ایک جگہ لکھا ہے۔ کہ تنظیم کا چارج سنبھالنے کے بعد جب میں چرچل سے پہلی بار ملا تو اس نے مجھے کہا کہ جاؤ اور یورپ کو آگ لگا دو۔ ان کے بعد اور بہت سی مشہور شخصیات نے اس تنظیم کی باگ ڈور سنبھالی۔ ہندوستان کا وائیسرائے بننے سے قبل لارڈ ماونٹ بیٹن بھی کچھ عرصہ اس کے سربراہ رہے۔

اس تنظیم میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے لوگ بھرتی کئے گیے۔ ان میں ڈاکٹر۔ انجنیر۔ بزنس مین۔ پروفیسرز اور گورنمنٹ کے مختلف شعبوں میں کام کرنے والے لوگ شامل تھے۔ یورپین ممالک کے امرا اور نواب بھی اس کے لیے کام کرتے تھے۔ پولینڈ کی ایک اعلی حکومتی عہدیدار امیر نوابزادی کرسٹینا سکاربیک Countess Krystyna Skarbek بھی اس کے لیے کام کرتی رہی ہے۔ فرانس میں زیر زمین مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث وائیلٹ سزابو Violette Szabo بھی اس کا حصہ رہا ہے۔

نور عنایت خان ٹیپو سلطان کی پڑنواسی تھی۔ اس کا باپ ہندوستان کا ایک صوفی گلوکار تھا اور اس کی ماں امریکن خاتون تھی۔ اس نے بھی برطانیہ کی اس سیکرٹ سروس میں ریڈیو آپریٹر کی حثیت سے شمولیت اختیار کی۔ ابتدا ئیی تربیت کے بعد اس کی تعیناتی فرانس میں ہوئیی۔ چونکہ نور عنایت خان کے بچپن کا زیادہ عرصہ فرانس کے شہر پیرس میں گزرا تھا اور اسے فرنچ زبان پر پورا عبور حاصل تھا۔ وہ کافی عرصہ چھپ کر پیرس میں برطانیہ کے لیے جاسوسی کا کام کرتی رہی۔

لیکن ایک جرمن ڈبل ایجنٹ کی وجہ سے وہ دو سال بعد پکڑی گئی۔ جرمن فوج نے اس کو بہت ٹارچر کیا۔ لیکن نور عنایت خان نے بہت ہمت سے کام لیا اور جرمن فوج کو اپنے اور اپنی فوج کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ اس پر جرمنی کی فوج نے ستمبر 1944 میں اس کو گیس چیمبر میں ڈال کر ہلاک کر دیا۔ برطانوی حکومت نے جنگ میں اس کی گراں قدر خدمات انجام دینے پر اس کو برطانیہ کے سب سے بڑے اعزاز جارج کراس سے نوازا۔ چند سال قبل ایک برطانوی ہندوستانی خاتون مصنف شرابانی باسو Shrabani Basu نے ہندوستانی شہزادی نور عنایت خان کی زندگی پر ایک کتاب جاسوس شہزادی نور عنایت خان کی زندگی کی کہانی Spy Princess: The Life Of Noor Inayat Khan لکھی ہے۔

جس میں اس کی زندگی اور اس کی برطانوی حکومت کے لیے جنگ میں خدمات کا احاطہ کیا ہے۔ اس تنظیم میں بھرتی کے لیے بنیادی صلاحیتوں میں اس علاقہ۔ ملک کی زباں پر مکمل عبور کے علاوہ اس ملک کے بارے میں مکمل ادراک ہونا ضروری تھا۔ مخصوص ممالک میں وہاں اس ملک کے خلاف کام کرنے والی قوتوں کو خفیہ طور پر اپنے ساتھ ملانا۔ ملکوں میں ان کے اپنے لوگوں جن میں ڈاکٹر۔ انجنیر۔ بزنس مین۔ پروفیسرز۔ گورنمنٹ کے مختلف شعبوں میں کام کرنے والوں کو اپنی تنظیم میں شامل کرنا اور پھر وقت پڑنے پر انہی لوگوں کو اپنے ہی ملک کے خلاف استعمال کرنا اس تنظیم کا کام تھا۔

جب 1944 میں جنگ عظیم دوم ختم ہوتی نظر آ رہی تھی تو اس تنظیم کی افادیت بھی کم ہونے لگی۔ 1945 میں جنگ کے ختم ہونے کے بعد چرچل کے الیکشن ہارنے پر لیبر پارٹی برطانیہ میں حکومت سنبھال لی۔ جنھوں نے جنوری 1946 میں سرکاری طور پر اس تنظیم کو ختم کر دیا۔ اس سے وابستہ بہت سارے سینئیر لوگ مالیاتی شعبوں میں چلے گیے۔ کافی لوگ اپنے اصلی شعبوں میں لوٹ گیے اور باقی باقاعدہ ایجنٹوں کو MI 6۔ کی قایم کردہ نئی ذیلی برانچ سپیشل آپریشن برانچ میں لے لیا گیا۔

سرکاری طورپر تو اس تنظیم کو ختم کر دیا لیا لیکن MI 6 نے سپیشل آپریشن ایگزیکٹو کو اپنے ادارہ میں دوبارہ بحال کیا اور ایک اندازے کے مطابق یہ تنظیم اب بھی اسی طرح سرگرم ہے جیسے دوسری جنگ عظیم کے دنوں میں تھی۔ دنیا اور خاص کر پاکستان کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس طرح کی تنظیمیں آج بھی کام کر رہی ہیں۔ ہمارے سرکاری افسروں کی ایک بڑی تعداد امریکہ برطانیہ کنیڈا اور دوسرے ممالک کی شہریت رکھتی ہے۔ ماضی میں ہما رے پروفیسرصاحبان کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مخصوص نظریات کا پرچار کرتے رہے ہیں۔ بلکہ کچھ تو باقاعدہ غیر ملکی تنظیموں کے آلہ کار بنے رہے ہیں۔ لگتا یہ ہے کہ سپیشل آپریشن ایگزیکٹو کی طرح کی بہت سے ممالک کی تنظیمیں ہمارے پیارے ملک پاکستان کے اندر کام کرتی رہی ہیں اور اب بھی کر رہی ہیں جن کا کام ہی یہاں پر جمہوری قوتوں کو کمزور کرنا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سب مل کر ایسی تنظیموں کے خلاف مل کر کام کریں تا کہ ملک آگے بڑھ سکے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •