قطری ڈیل کے بارے میں عارف نظامی کا دعویٰ بے بنیاد ہے: ہم سب خصوصی تجزیہ سیل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

“ہم سب خصوصی تجزیہ سیل” کے مطابق سینئر صحافی عارف نظامی کا یہ دعویٰ وزن سے خالی ہے کہ قطر حکومت نے نواز شریف کو رہا کرنے کے بدلے پاکستان کو 15 ارب ڈالر کی پیشکش کی ہے۔ ہم سب خصوصی تجزیہ سیل کے ارکان نے عارف نظامی کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے درج ذیل نکات پیش کئے ہیں۔

1.      امیر قطر کے حالیہ دورے کے دوران پاکستان میں سرمایہ کاری کے حجم کے بارے میں متضاد اطلاعات پائی جاتی ہیں۔ قطری حکام کے مطابق ان کی حکومت نے 3 ارب قطری ریال کی پیش کش کی ہے جب کہ پاکستان کے مشیر خزانہ نے تین ارب امریکی ڈالر کی مدد کا دعویٰ کیا ہے۔ اگر ابتدائی امداد کے حجم میں اس قدر تفاوت بیان کیا جا رہا ہے تو 12 ارب ڈالر کی خطیر رقم کی پیش کش باور نہیں ہوتی۔

2.      سابق پاکستانی صدر پرویز مشرف سمیت تمام متعلقہ ذرائع نے 2000 میں ہونے والی ڈیل کے ضمن میں سعودی شاہ عبداللہ، سعودی خفیہ ادارے کے سربراہ پرنس مقرن اور لبنانی سیاست دان ہریری کا ذکر کیا ہے جب کہ امیر قطر کا کہیں ذکر نہیں آیا۔ عارف نطامی کے دعویٰ کا یہ حصہ بھی محل نظر ٹھہرتا ہے کہ “جب پاکستان میں ڈیل یا ڈھیل کی بات ہوتی ہے تو اس میں قطر کا ایک کلیدی رول ہوتا ہے” نیز یہ کہ پرویز مشرف کے دور میں نواز شریف سے ڈیل کا سارا عمل امیر قطر کی وساطت سے ہوا تھا۔

3.      پاکستان نے حال ہی میں آئی ایم ایف سے تقریباً چھ ارب دالر کے بیل آؤٹ پیکج پر مذاکرات مکمل کئے ہیں۔ اس معاہدے پر رسمی دستخط ہونا باقی ہیں لیکن اس کے نتیجے میں ڈالر کی قیمت اور اشیائے ضرورت کی مہنگائی کی صورت میں پاکستان معیشت پر گہرے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ اگر پاکستانی حکومت کو نواز شریف کی رہائی کے بدلے میں 12 سے 15 ارب ڈالر ملنے کی کوئی ٹھوس امید ہوتی تو اسے آئی ایم ایف کی کڑی شرائط منظور کرنے کی کیا ضرورت تھی؟

4.      عارف نظامی کہتے ہیں کہ نواز شریف کو علاج کی ضرورت ہے اس لئے وہ ملک سے باہر جائیں گے تاہم عارف نظامی نے اس کی کوئی وضاحت نہیں کی کہ ملکی سیاست میں ابھرتی ہوئے رہنما مریم نواز کے ملک سے باہر جانے کا کیا جواز ہو گا جب کہ ایسا کرنے سے ان کی سیاسی ساکھ کو ناقابل تلافی دھچکہ پہنچے گا۔

5.      عارف نظامی کے دعوے کا یہ حصہ بھی سوالیہ نشانات رکھتا ہے کہ “شہبازشریف اور حمزہ شہباز ملک میں ہی رہیں گے اور اپنے اوپر بنے مقدمات کا سامنا کریں گے”۔ ملکی سیاست سے معمولی واقفیت رکھنے والے حلقے بھی آگاہ ہیں کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز مزاحمتی سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتے اور نہ ہی وہ اپنے طور پر مسلم لیگ نواز کی قیادت پر گرفت قائم رکھ سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں نواز شریف اور مریم نواز کے بیرون ملک جانے کے بعد شہباز شریف اور حمزہ شہباز کا ملک میں ٹھہرنا اور مقدمات کا سامنا کرنا غیر منطقی معلوم ہوتا ہے۔

6.      وزیر اعظم عمران خان نے آج (25 جون) کو حکمران جماعت کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں صرف یہ اطلاع دی ہے کہ “شریف خاندان میں سے مبینہ طور پر کسی نے عرب ملک کے ساتھ رابطہ کیا ہے لیکن عرب ملک کے سربراہ نے کہا ہے کہ یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے”۔ گویا وزیر اعظم نے نہ صرف کسی براہ راست رابطے کی تصدیق نہیں کی بلکہ متعلقہ عرب ملک کا نام تک ظاہر نہیں کیا۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ وزیر اعظم کے مطابق متعلقہ ملک نے اس معاملے میں دخل اندازی سے صاف انکار کیا ہے۔

“ہم سب خصوصی تجزیہ سیل” کا کہنا ہے کہ عارف نظامی ملک کے نہایت باخبر صحافی ہیں اور ماضی میں ان کی دی ہوئی خبروں کی تصدیق کا ریکارڈ قابل رشک ہے تاہم نواز شریف کی رہائی کے بارے میں مبینہ قطری پیش کش کے دعویٰ کی حقائق کی روشنی میں تصدیق نہیں ہوتی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •