ڈاکٹر فرحت ہاشمی سے کچھ سوالات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کس طرح سے آپ نے ایک پورا لیکچر صرف عورت کو برائی کی جڑ بنانے پر دے دیا اور مرد کو مکمل طور پر اس سے ماورا قرار دے دیا؟ نبی آخر الزماں تو اپنے کپڑے تک خود سی لیتے تھے اور آپ کے معاشرے کے مرد پانی تک لا کر ہاتھ میں نہ دینے والی بیوی کو قابل تعزیر اور بری عورت سمجھتے ہیں تو یقینا اس کے پیچھے یہی اسباق ہیں جو دین کے نام پر ان کو سکھائے جاتے ہیں۔ پیغمبر اسلام تو حضرت عائشہ کو ایک طعنہ تک نہیں دیتے، ان کے انسانی حقوق کی عزت رکھتے ہیں چاہے خود دل میں کس قدر تکلیف سے ہوں اور آپ کے معاشرے کے شوہر بغیر شک کے بھی بیوی پر ہر طرح کے ظلم کی انتہا کر دیتے ہیں اور شک کی صورت میں تو بات مار سے شروع ہو کر، بچے چھین لینے اور چولہے پھٹنے تک جاتی ہے۔

عورت کا پیار پانا اس قدر آسان ہے کہ باہر کا مرد دو میٹھے بول بول کر پٹا لیتا ہے مگر گھر کے اندر کا مرد وہ میٹھے بول نہیں بولتا کیونکہ آپ کا دین دار معاشرہ اس سے اس کا تقاضا ہی نہیں کرتا۔ تقاضا کرتا ہے تو یہ کہ مرد کی آواز پر دوڑی چلی آئے ورنہ اس سے دور دور بیٹھے، بڑوں کے سامنے شوہر کے قریب نہ ہو، والدین کے سامنے شوہر سے بات نہ کرے۔ آپ کا معاشرہ عورت کے ہاتھ پاؤں باندھ کر منہ پر پٹی لگا کر مرد کے سامنے پھینک دیتا ہے کہ جاؤ یہ تمھاری ملکیت ہے اس سے جو چاہے کرو اب اس پر کیا گیا کوئی بھی ظلم ظلم نہیں بلکہ آپ کا حق ہے۔

آنحضور کی سیرت میں اس طرح کے شوہرانہ رویے کیوں نہیں ملتے جس طرح کے ہمارے ہاں پائے جاتے ہیں؟ حضرت عائشہ نے نسوانیت کی عزت اور وقار بلند رکھا کیونکہ ان کے پیچھے بھی ان کے پیغمبر کا دیا ہوا علم اور سمجھ تھی۔ حضرت عائشہ نے وقار کے ساتھ زندگی گزاری۔ یہ حق، یہ وقار اور عورت کی اس عزت کی آپ کے اس درس نے دھجیاں اڑا دیں! دینی مبلغین عورت کے حقوق کو تو نظر انداز کیے جاتے ہیں مگر مرد کے حقوق پر بات کرتے فصاحت و بلاغت کی ندیاں بہا دیتے ہیں۔

عورت اس دنیا کی سب سے نرم مخلوق ہے جسے بہت آسانی اور بہت پیار سے اپنا بنایا جا سکتا ہے، اسے بدلا جا سکتا ہے۔ تبھی اسلام نے بار بار عورت سے نرمی اور محبت کا برتاؤ کا سلوک کرنے کی تلقین کی۔ کیا حجتہ الوداع میں پہاڑی پر کھڑے ہو کر نبی پاک نے اپنی امت کو حکم نہیں دیا کہ ”عورتوں کے معاملے میں خدا سے ڈرو! “۔ جبکہ ہمارے ہاں بات عورت کے حسن سلوک سے شروع ہو کر اسی کی سزا تک ختم ہو جاتی ہے۔ آپ کے درس مرد کو اس محبت کی ترغیب تو نہیں دیتے مگر عورت کے گلے میں مرد کی ساری کمزوریوں کا الزام ضرور ڈال رہے ہیں۔

رشتوں میں محبت اور احترام کا نہ ہونا، ایک دوسرے کے احساسات کا ادراک نہ ہونا دراصل رشتوں اور گھروں کو خراب کرتا ہے، عورت کا انکار خراب نہیں کرتا۔ عورت شوہر کو انکار کیوں کرتی ہے اس کی وجوہات پر بھی تو کوئی بات کرے۔ آپ یہ بھول رہی ہیں کہ عورت اور مرد خدا کے بنائے دو جیتے جاگتے ہوش وحواس والے افراد ہیں جن کے رویے، جذبات اور ضروریات ہیں۔ دونوں کے رویے اس تعلق پر برابر کا اثر ڈالتے ہیں آپ کب تک عورت کو مرد کے بگڑے ہوئے تعفن زدہ امیج کے ساتھ خود کو ایڈجسٹ کرنے کا سبق دیتی رہیں گی؟

سنت سے کتنی مثالیں آپ پیش کریں گی جن پر ہمارے ہاں کے شوہروں کے رویوں کی بنیاد ہے؟ کیا نبی کریم اپنی بیویوں پر حکم صادر کرتے تھے، کیا آپ نے حضرت خدیجہ کا کاروبار بند کروا دیا تھا؟ کیا آپ اپنی بیویوں کی خواہشات کو رد کرتے تھے؟ کیا آنحضور مسجد نبوی میں کھیلنے والے حبشیوں کا تماشا حضرت عائشہ کو خود نہیں دکھاتے تھے؟ ”نوجوان لڑکی جو کھیلنے کی حریص یوتی ہے اس کی قدر کیا کرو“ کیا یہ بھی صحیح بخآری ( 443 ) میں نہیں لکھا؟ تو ان عوام الناس کے اجتماعات سے کوئی ان احادیث کی وضاحت کیوں نہیں کرتا؟

ہم اپنی مرضی سے دین کے معانی کو محدود کرتے کرتے اس میں سے بشریت کا خاتمہ کر چکے ہیں، ہم نے احتیاطی نوٹ تیار کرتے کرتے دین کے حقوق و فرائض کے تناسب کا بیٹرہ غرق کر دیا ہے۔

آپ کو کس نے یہ غلط خبر دی کہ ہمارے ہاں عورتوں کو یہ بتایا ہی نہیں جاتا کہ وہ شوہر کی خواہش پر لپکنے سے انکار نہیں کر سکتیں کیونکہ یہ گناہ ہے؟ یہی تو وہ واحد سبق ہے جو ہر طرف سے دن رات صبح شام عورت کو دیا جاتا ہے۔ میڈیا، ڈراموں، ناولز سے لے کر ماؤں، بہنوں، سہیلیوں تک ہر کوئی ان فرشتوں سے ہی تو ڈراتا ہے جو صرف ان عورتوں کو گالیاں دینے پر مامور ہیں جو شوہر کو انکار کرتی ہیں۔ عورت کے انکار پر کیا کیا غیظ وغضب اترتے ہیں اس پر سب شور مچاتے ہیں مگر اسی حدیث کے پہلے حصے کی کوئی وضاحت نہیں کرتا کہ شوہر کو بیوی کو پکارنے سے پہلے اس پر کیا کیا حقوق و فرائض لاگو ہوتے ہیں، کیا اس کے لئے بھی کوئی لوازمات ہیں کہ نہیں؟

کیا کوئی فرشتوں کی جماعت ایسی بھی ہے جو اپنی بیویوں سے بدسلوکی کرنے والوں، ان کے حقوق کا خیال نہ کرنے والوں پر بھی لعنت بھیجنے کا فریضہ کم سے کم آدھی رات تک ہی سر انجام دے لے۔ مجھے یقین ہے ایسا بھی کچھ کہا ہو گا ہمارے پیارے نبی نے مگر صدیوں سے مرد کو تقویت دیتا یہ مرد علما کا اور ان کے زیر سایہ پنپنے والی خواتین عالمین کا طبقہ شاید ان کو بہت عرصہ پہلے بھول بیٹھا ہو۔ کیونکہ مجھے تو یقین ہے کہ خدا سے بڑھ کر کوئی انصاف نہیں کر سکتا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ عورت کے فرائض لکھے اور مرد کے صرف حقوق!

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •