ڈاکٹر فرحت ہاشمی سے کچھ سوالات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عورت کی ملازمت کو بھی آپ نے شوہر کی ناراضگی اور گھر میں بگاڑ کی بڑی وجہ بتا دیا۔ کیا پاکستان کی ہر عورت باہر نوکری کرتی ہے؟ کیا عورت گھر میں سارا دن چولہے پر کھڑی، برتن دھوتی، صفائیاں کرتی تھکتی نہیں؟ کیا صرف بچے پالنے کی ہی ذمہ داری اس کو سارا دن تھکا دینے کے لئے کافی نہیں؟ اور ایسا کیسے ہوا کہ آپ خود تو یونیورسٹی میں نوکری کریں، سکاٹ لینڈ جا کر تعلیم بھی حاصل کریں اور پھر اپنے ادارے، سکول اور کالج بھی بنائیں جن کی برانچز ہر شہر اور قصبے میں پھیل جائیں، پھر آپ صبح شام ٹی وی پر میڈیا میں درس بھی دیں، مشہور بھی ہوں، مقبول بھی ہوں تو آپ کا گھر سے باہر نکلنا جائز چونکہ آپ دین کو فروغ دے رہی ہیں جبکہ اگر کوئی عورت اپنے بچوں کی بہتر تعلیم کے لئے سکول میں پڑھا رہی ہے، یا آپ کی قوم کی بیٹیوں کے بہتر اور محفوظ علاج یا تعلیم کے لئے ہسپتال یا سکول کالج میں ڈاکٹری یا نوکری کر رہی ہے، یا آپ کے حقوق کی حفاظت کے لئے میڈیا میں آواز اٹھا رہی ہے یا گھر چلانے کے لئے کسی ہوٹل، مارکیٹ یا فیکٹری میں کام کر رہی ہے تو آپ نے اس کو ایک بری عورت قرار دے دیا۔ یعنی اپنے بچوں، گھر زندگی اور معاشرے کی طرف سے آپ پر تو بھرپور ذمہ داری پڑتی ہے مگر یہ ذمہ داری دوسری عورتوں پر پڑ جائے تو وہ سب بری عورتیں بن جاتی ہیں جن پر فرشتے رات بھر لعنت بھیجتے ہیں؟

بیوی کے انکار پر شوہر کہیں اور دیکھے گا؟ کہیں اور دیکھنے سے مراد دوسری شادی تو نہیں؟ کیا مرد کا دوسری شادی کے لئے ”کہیں اور دیکھنا“ حرام ہے؟ یا یہ کہیں اور دیکھنا غیر محرم عورتیں ہیں جن کو محرم بنانے کی مرد کو کوئی خواہش نہیں اور اس کے ان گناہوں کا بار بھی بیوی کے کندھے پر پڑتا ہے؟ شوہر کو خدا نے دوسری، تیسری اور چوتھی بیوی کا حق دیا ہے۔ آپ کے دین نے مذہب میں سے اس کو بھی خارج کر دیا؟ اگر ایک بیوی تھکی ہوئی ہے اور شوہر کہیں اور دیکھنے کا خرچہ اٹھا سکتا ہے تو دوسری بیوی کر لے۔

اپنے لئے حلال کام کا انتخاب کرے۔ دوسری شادی نہ گناہ ہے نہ حرام اور نہ پہلی بیوی کی حق تلفی جب تک کہ وہ اس کی طرف اپنی ساری ذمہ داریاں برابر سے نبھاتا رہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ عورت بھی مرد کی ساری عمر کی ملازمت سے تھک جاتی ہے اور ایسے میں اس کی ذمہ داریوں میں ایک دوسری عورت کی شمولیت خود اس کی ذمہ داریوں کو بھی بانٹنے میں مدد دیتی ہے عورت تو مرد کے ہاتھوں اس ذلالت سے ڈرتی ہے جو وہ دوسری بیوی لانے کے بعد پہلی کے ساتھ کرتا ہے۔

شوہر بھی بیوی سے اکتانے لگتا ہے جو دونوں ہی فریقین کے لئے نفسیاتی مسائل اور ذہنی خلفشار کا باعث بنتا ہے۔ بہتر ہوتا کہ آپ اپنی عورتوں کو تعلیم دیتیں کہ مرد کو اس کا حق دینا کوئی آپ پر ظلم نہیں اور مرد کو یہ سبق دیتیں کہ دوسری شادی کریں مگر پہلی کے پورے حقوق کا خیال رکھیں۔ اس کی بجائے آپ انہیں یہ سبق دے رہی ہیں کہ مرد کہیں دوسری بیوی نہ لے آئے، کیا یہ کفر ہے؟ آپ عورت کو خوفزدہ کر کے اس احساس کو تقویت دے رہی ہیں کہ دوسری شادی کی اجازت دے کر اسلام نے دراصل غلطی کی ہے۔ یعنی جو سبق آپ کو پسند نہیں اسے کتاب میں سے اڑا دیں؟

پپہلے تین منٹ کے لیکچر کے بعد پھر شوہر کے ”ناروا زیادتی“ یا ”نا جائز مطالبہ“ کے الفاظ خاصے سمجھ میں نہ آنے والے لگے۔ عورت سے سارے حقوق لے لینے کے بعد پھر اس کے ساتھ اور کون سا ظلم ناجائز اور کون سا عمل ناروا مانا جائے؟

وہ شوہر جو سڑک پر کھڑے سڑکیں بنا رہے ہیں مگر آپ کے خیال میں ان کی بیویاں گھروں میں مخمل کے بستر پر لیٹی سٹار پلس دیکھتی ہوں گی۔ جو شوہر باہر سڑک پر دھوپ میں ہو گا اس کی بیوی بھی تو گرمی میں چولہے پر کھڑی ہو گی، جس کے دفتر میں اے سی نہیں اس کے گھر میں بھی نہیں ہو گا تو پھر کس پیمانے سے آپ نے مردوں کو مظلوم اور عورت کو ظالم ثابت کر دیا۔ یعنی مذہبی نقطہء نظر، سماجی نقظہ نظر، اخلاقی اور جذباتی نقظہ نظر، ہر طرف سے صرف مرد ہی ہمدردی کا، محبت کا، خدمت کا اطاعت کا حقدار ہے۔

اور ہر کوڈ آف کنڈکٹ سے صرف عورت ہی مجرم ٹھہرے گی، وہی نبھا بھی کرے گی وہی سرنڈر بھی کرے گی ورنہ وہی جہنم میں جائے گی۔ جنت تو صرف شوہر کے لئے بنائی گئی ہے۔ میں کوئی عالمہ نہیں۔ میں آپ کی احادیث کے جواب میں احادیث بھی نہیں سنا سکتی۔ میں صرف سوال اٹھا سکتی ہوں جو میں اٹھا رہی ہوں۔ مگر اس ملک میں لاکھوں مرد اور عورتیں ایسے ہیں جو یہ سوال اٹھانا بھی حرام سمجھتے ہیں پھر اگر اس طرح کے صریح درس سے معاشرے کے بہت سے بگاڑ پروان چڑھتے ہیں، غلط رویوں اور رحجانات کو فروغ ملتا ہے تو عقل، سمجھ اور علم رکھنے کے باوجود غلط پیغام دینے والوں سے کوئی مواخذہ تو ہونا ہی چاہیے ورنہ لاکھوں ہی لوگ ایسے ہوں گے جن کا تماتر اسلام صرف اسی وڈیو لیکچر پر مشتمل ہو گا۔ حکومت وقت سے بھی درخواست ہے کہ جس طرح مدرسوں کو قومی دھارے میں لانے کی بات کی جا رہی ہے اسی طرح اس طرح گھر گھر لیکچر دینے والی خواتین کے لیکچرز کی بھی مانیٹرنگ کی ضرورت ہے۔ آپ کی نسلوں کو اسلام کے نام پر کیا سکھایا جا رہا ہے اس کا بھی قومی سطح پر کوئی ریکارڈ تو ہونا ہی چاہیے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •