ڈاکٹر فرحت ہاشمی سے کچھ سوالات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر فرحت ہاشمی کا میریٹل ریپ سے متعلقہ وڈیو لیکچر جو مجھے کسی نے خاص طور پر دیکھنے کے لئے بھیجا دیکھنا ایک اذیت کا عمل بن گیا۔ حیرت بھی ہوئی، افسوس بھی! ۔ ان کے درس پر بات کرنا اس لئے بہت ضروری ہے کہ پاکستان میں ان کی بات ہزاروں لاکھوں مرد و عورت بہت غور سے سنتے ہیں۔ صرف ان کی بات ہی نہیں بلکہ ان کی طالبات کی ایک کثیر تعداد ان سے یہی علم حاصل کر کے اپنے دور دراز کے چھوٹے سے چھوٹے شہروں اور علاقوں تک اسی علم پر مبنی ادارے چلا رہی ہیں اور مدرسہ سسٹم کی طرح الھدی سسٹم بھی معاشرے میں اپنی جڑیں گہری کرتا جا رہا ہے۔

اگر پدر شاہی کو تقویت دیتا یہ علم گھروں کے اندر تک پاکستان کے آخری کونے تک عورتوں کے سینہ بہ سینہ منتقل ہوتا ہے تو اس معاشرے میں کوئی بھی تعمیری تبدیلی لانا محض ایک دیوانے کا خواب ہی ہے۔ مذہب کے نام پر دینی سکالر اگر معاشرے میں پھیلی برائیوں، ان کی وجوہات اور اثرات سے لاعلم سارے معاشرے کے گناہوں کو عورتوں اور بیویوں کے کاندھے پر لادتے رہیں گے تو آپ اپنے ہاتھوں ایک جامد کر دیے گئے مذہب کو مزید مجبور و بے بس کرتے چلے جائیں گے۔

کیا معاشرے کے انتہا پسند اور پدر شاہی معاشرے کے رنگ میں رنگ کر ڈاکٹر فرحت ہاشمی کی بصیرت بھی جامد ہو چکی ہے یا معاشرے میں پھیلے بگاڑ اور طاقت کے غیر متناسب تقسیم نے عورت پر کس کس طرح کے ظلم ڈھا رکھے ہیں اس سے وہ لاعلم ہیں؟ ان کی کہی ہر بات نے بہت سارے سوال میرے سامنے کھڑے کر دیے اورمیں چاہتی ہوں کہ اس درس کے بعد ڈاکٹر صاحبہ سے کچھ سوال پوچھنا میرا فرض ہے۔

شوہر اور ریپ کی بات سن کر یقینا میرا بھی سر چکرا گیا۔ مجھے سب سے پہلے تو یہ بتایا جائے کہ کس مذہبی شق کی بنیاد پر آپ ایک ایسے مرد کو ایک عورت کا شوہر بنا سکتے ہیں جس کی طرف اس کا دل ہی راغب نہیں۔ مجھے کوئی یہ بتائے باپ اور بھائی کو یہ حق کون سا اسلام دیتا ہے کہ جس مرد کے لئے اس کے دل میں جگہ نہیں اسے اس کی زندگی کے سب سے طویل ترین سفر کا ہمسفر بنا دیا جائے؟ کیا اسلام میں لڑکی کی رضا کو اولیت نہیں دی گئی؟

تو یہ کیوں نہیں کہتے کہ کہ نکاح کی بنیاد دونوں فریقین کی پسند پر رکھی جائے جس سے وہ ہمیشہ ایک دوسرے کے دل کی آواز سنتے رہیں نہ کہ دل کو قابل جہنم قرار دے کر صرف گھر کے مرد کے فیصلے کو مذہب کا اور سچائی کا درجہ دیا جائے۔ اسلام کی روح خراب ہو جاتی ہے اگر اس میں سے روح کا ذکر نکال دیا جائے، اعمال کی بنیاد نیتوں پر رکھنے والا دین اتنے اہم معاشرتی تعلق میں سے اس نیت، اور دلی رضامندی سے کس طرح کوتاہی برتی سکتا ہے؟

لیکن بات یہ ہے کہ جو بات عورتوں کے حقوق کو تقویت دیتی ہے وہ ہم دھیرے سے منہ موڑ کر چپکے سے کہتے ہیں تا کہ یہ طاقتور معاشرہ بگاڑ کا شکار نہ ہو جائے، اس میں مرد کی طاقت کا توازن نہ بگڑ جائے لیکن ایسے بیانات جن سے عورت کی گردن مروڑی جا سکے اسے مجرم قرار دے کر دو جوتے لگائے جا سکیں ایسے بیانات بلند و بانگ دیے جاتے ہیں۔

۔ جو مرد عورت کی خواہش کا احترام نہیں کر سکتا، اور جس مرد کی طرف عورت کا دل راغب نہیں ہوتا، اس کی ضرورت اور مجبوری کو سمجھ اور اسے حل نہیں کر پاتا وہ کس طرح صرف ایک نکاح نامے کی بنیاد پر عورت کے تماتر مالکانہ حقوق حاصل کر سکتا ہے اور نکاح نامہ بھی وہ جو پیروں میں پگڑی رکھ کر سر پر بندوق رکھ کر یا لڑکی کو کم علم ’کم تعلیم رکھ کر یا دنیا سے مخفی رکھ کر ایک دن اچانک اس کے ہاتھوں میں باپ اور بھائی کی حاکمیت کے بعد شوہر نام کے ایک نئے حاکم کے حق پر جاری کر دیا گیا ہو۔

۔ مجھے کوئی بتائے کہ جس مرد سے عورت کے دل کا، جسم کا، خواہشات کا اور خوابوں کا رشتہ ہو اس کی طرف عورت کا دل کیوں راغب نہیں ہوتا؟ اس لئے کہ ان تعلقات کو بناتے اس کا یہ بشری اور انفرادی حق ہی تسلیم نہیں کیا جاتا کہ بحثیت ایک فرد، ایک انسان، خدا کی ایک مخلوق وہ بھی اپنی ایک رضا ایک خواہش رکھتی ہے جب آپ اس کے مخالف جا کر یا اسے دبا کر اسے ان فیصلوں پر مجبور کریں گے جن پر اس کا دل ہی راضی نہیں تو شوہر کے حقوق کی بات تو بہت دیر سے آتی ہے میری نظر میں تو اس نکاح کی حیثیت ہی باطل ہو جاتی ہے جس میں دونوں فریقین کی رضا شامل نہ ہو۔

پھر اس کے بعد اگر زبانی کلامی عورت کی رضا شامل بھی ہو تو پھر بھی کیوں وہ شوہر کی طرف راغب نہیں؟ ایسا کون سا جادو ہے جو مرد کرتا ہے اور عورت پر بے اثر ٹھہرتا ہے؟ یہاں تو حق مہر بخشوائے جاتے ہیں اور وراثتیں معاف کی جاتی ہیں، یہاں تو بیویاں نوکریاں چھوڑ کر گھروں میں بیٹھ جاتی ہیں، یہاں تو قرضوں میں، گھروں کی تعمیر اور گاڑیوں میں عورتوں کے زیور بک جاتے ہیں۔ یہاں تو ابھی بھی ایک بڑی آبادی میں بیوی پر خرچہ چونچلے اور عیاشی سمجھی جاتی ہے۔

، اگر عورتوں کی اکثریت آپ کی باتوں سے مرد کی طرف راغب ہو سکتی ہے تو مرد کی دی گئی محبت اور عزت سے اس سے کہیں زیادہ جلدی راغب ہو سکتی ہے۔ پھر کیوں نہیں وہ محبت جس کا پرچار آ پ کے معاشرے کا مرد ہر گلی ہر نکڑ پر کرتا ہے گھر کے اندر بیوی کے سامنے کرتا؟ کیوں بیوی کو زر خرید غلام سمجھ کر اس کے احساسات، جذبات اور خواہشات سے روگردانی کرتا ہے اور پھر اس سے توقع کرتا ہے کہ وہ اپنے سر پر ڈالی گئی تماتر ذمہ داریوں کے جھنجھٹ چھوڑ کر محض ایک پکار پر لپکتی چلی آئے؟

یہی مرد جس بیوی کو ماسی، بچوں کی آیا، ماں باپ کی خدمتگار، بھائی بہنوں کی تابعدار، بھی بنانا چاہتا ہے اور پھر ساتھ ہی ساتھ اس دن بھر کی تابعدار بیوی کے تھکے جسم سے ایک آواز پر خوشبوئیں لٹاتی گانے گاتی محبوبہ کی توقع بھی کرتا ہے۔ کیا واقعی آپ سمجھتی ہیں کہ عورت ایک مٹی کا مادھو ہے جس کے کوئی ارمان، جذبات، خواہشات کچھ بھی نہیں؟ جس کے مرد کے اوپر کوئی بھی حقوق نہیں؟ کوئی اس ملک کے مرد اور عورتوں کو بتائے کہ سورۃ البقرہ میں ”تمھارا حق عورتوں پر ہے اور عورتوں کا تم پر“ سے کیا مراد ہے؟ تو کیا ان حقوق میں وہ تمام توجہ، محبت، حسن سلوک نہیں آتا جس کے مردوں کے حق پر درس دے دے کر برصغیر کے علما کی زبانیں نہیں تھکتیں۔ اور سورۃ النسا میں ”اور ان کے ساتھ حسن معاشرت اور اچھے انداز میں بودوباش اختیار کرو! “

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •