سرکاری افسران کی تعلیم بالغاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جنوری 2017 کی بات ہے ہمیں مڈ کیر ئیر مینجمنٹ کورس (Mid Career Management Course) مختصر اً ایم سی ایم سی میں شرکت کا سرکاری حکم نامہ موصول ہوا۔ یہ انتظامی کورس نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی لاہور کے تحت منعقد ہوتا ہے۔ تمام وفاقی سرکاری ملازمین کی گریڈ 18 سے گریڈ 19 میں ترقی اسی کورس میں کامیابی سے مشروط ہے اس کا دورانیہ چودہ ہفتے ہوتا ہے۔ کورس میں نظم و ضبط کا کافی خیال رکھنا پڑتا ہے۔ اسی لیے معیاری اور عمدہ کورس مانا جاتا ہے۔

17 فروری 2017 کی سہانی صبح تھی جب ہم تئیسویں ( 23 rd ) ایم سی ایم سی کے لیے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ بمقام سول سروسز اکیڈمی میں جلوہ افروز ہوئے۔ سب سے پہلے اکیڈمی کے شناختی کارڈ کے لیے ہماری من مو ہنی صورت کیمرے میں محفوظ کی گئی تاکہ سند رہے اور کورس کی سختیوں سے تنگ آ کر بھاگنے کی صورت میں پکڑنے کے کام آئے۔ جسمانی اور ذہنی معائنے کے لیے ایک عدد طبیبہ موجود تھیں۔ ہم اپنے میڈیکل رپورٹ (Medical Report) لیکران کے سامنے حاضر ہوئے۔ انھوں نے بغور دیکھا اور ہمار ا حجم کثیر دیکھ کر وزن کم کرنے کا مشورہ دیا۔ ہم نے عرض کیا کہ محترمہ وزن کے ساتھ ہماری یہ جنگ عظیم گزشتہ پندرہ سال سے جاری ہے۔ لیکن اس لامتناہی جنگ میں اب تک وزن کا پلڑا بھاری رہا ہے۔ البتہ اب ہم جذبہ نوکے ساتھ اس کوہ گراں کو سر کرنے کی کوشش کریں گے۔

انھوں نے بہ عالم مایوسی ہمیں گھورا اور فرمایا کہ جناب یہ کورس میس میں بسیار خوری کے باعث آپ سمیت سب طلبا کے وزن میں اضافے کی پیش گوئی ہے۔ بعد میں کورس کے اختتام پر ان کا یہ مفروضہ سچ تابت ہوا۔ خیران صاحبہ نے ہمیں چارونا چار پروانہ صحت عنایت کر دیا۔

اس کے بعد ہمیں ایک امتحانی کمرے میں لے جایا گیا۔ وہاں ہماری صلاحیتوں کو جانچنے کے لیے دو عدد امتحانی پرچے ہمارے منتظر تھے جن میں سے ایک کمپیوٹر کا تھا۔ ان پرچوں کو ہم اپنی تمام تر ذہنی اور علمی صلاحیتیں کو بروئے کار لانے کے باوجود پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکے۔ بعد میں سب طلباء کے کمپیوٹر میں حاصل کردہ انتہائی قلیل نمبر جو اجتماعی ندامت کا باعث تھے نوٹس بورڈ (Notice Board) پر چسپاں کیے گئے۔ اس سے غالباً یہ باور کروانا مقصود تھا کہ ہمیں اس کورس کی اشد ضرورت ہے۔

اگلی صبح پہنچے تو تعلیم بالغاں کے لیے کمرا جماعت سج چکا تھا۔ ہر طرف سیاہ سفید سوٹوں، نیلی پیلی ٹائیوں اور لال ہری قباؤں کی بہار تھی۔ کمرہ جماعت میں پہنچتے ہی ہمیں گشتی کمپیوٹرز یعنی لیپ ٹاپ (Lap Top ) کے آگے جھونک دیا گیا یعنی سر منڈواتے ہی اولے پڑے۔

اس بات کا بھی قطعاً کوئی خیال روانہ رکھا گیا کہ
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

ظالمانہ سرمایہ کارانہ معاشی نظام کی پیداوار، مائیکروسافٹ ایپلی کیشنز (Microsoft Applications) نے سب طلباء بالخصوص بزرگ طلباء کو اذیت میں مبتلا کیے رکھا۔ سب نے بل گیٹس کو برا بھلا کہا۔ ان بزرگوں کا اگلے جہان کے حساب کتاب کا وقت تھا اور انھیں دنیا کے بکھیڑوں میں الجھا دیا گیا۔

اس کے بعد رونمائی حالات حاضرہ یعنی کرنٹ ایشو پر یزنیٹیشن (Current issue Presentation ) شروع ہوئی۔ اس میں ہر طالب علم کو باری باری دور حاضر کے کسی مسئلے کا حل پیش کرنا تھا۔ اس کا آغاز ہوا تو پہلے ہی دن اندازہ ہو گیا کہ اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے۔ ہر مقرر فیکلٹی (Faculty ) کے تا بڑ توڑ تنقیدی حملوں کے سامنے محبوس شکار کی طرح بے بس نظر آیا۔

ہم نے یہی سوچا کہ تنقیدی جائزے کے وقت چونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہمارے پیروں تلے زمیں کھسکے اور ہم اس میں گڑ جائیں، اس لیے دفاعی حکمت عملی اختیار کی جائے۔ یوں ممکن ہے، طوفان تھم سکے اور ہم تقریر مکرر سے بچ جائیں جس کا کئی طلباء کو سامنا ہوا۔ ہماری حکمت عملی کامیاب ہوئی اور چند ناخوشگوار نشاندہیوں کے بعد ہماری رونمائی اختتام پزیر ہوئی۔

مقرر طلبا میں چند نوآموز تھے اور چند گھاگ بھی۔ مقررین میں کبھی ڈراما چھوٹی سی دنیا کے جانو جرمن، کبھی پی ٹی وی کی ناشر خبر یعنی نیوز کاسٹر (news Caster) مہ پارہ صفدر اور کبھی سیاست کی بے نظیر کی جھلک نظر آئی۔

کچھ تذکرہ مہمان مقررین کا بھی ہو جائے جنہیں اسباق کے لیے مدعو کیا جاتا تھا۔ چند مقررین خود سے سرگوشیاں کرتے محسوس ہوئے اور چند اتنے بلند آہنگ تھے کہ صوتی آلودگی پھیلانے کا موجب بنے۔ لیکن سامعین کو چپ سادھے سبھی کی باتیں سننا تھیں۔

ریسرچ انالسز (Research Analysis) یعنی تحقیقی جائزہ جسے (Simulation Exercise) یعنی تمثیلی کاوش بھی کہا جاتا ہے، سے پالا پڑا۔ اس میں پانچ سے چھ افراد ایک راہنما کی سر براہی میں کسی بھی سماجی یا انتظامی مسئلے کا حل ڈھونڈتے ہیں اور گروپ میں ہر فرد کی اپنی انفرادی ذمہ داری بھی ہوتی ہے۔

ان گروہوں میں بعض ایسے صاحبان کو بھی لیڈر یعنی راہنما بنا دیا گیا جن کی اپنے گھر میں بھی کوئی بات نہیں سنتا۔ اس طرح کے بے چارے راہنما تحقیق کے بجائے اس کوشش میں سرگرداں رہے کہ اپنے باغی اور من چلے ارکان کو کیسے نکیل ڈالی جائے۔ چند گروپس (groups) میں صورتحال اس کے برعکس تھی۔ وہاں بے چارے ارکان اپنے راہنما کو منہ زور گھوڑا بننے سے روکنے میں ہمہ تن گوش رہے۔ ہم نے بہ چشم خود چند معصوم ارکان کو اپنی راہنما استانیوں سے ڈانٹ کھاتے دیکھا۔

ملکی مطالعاتی دورے کے لیے ناموں کی تقسیم کی گئی تو ہمارا قرعہ فال جنوبی پنجاب یعنی ملتان بہاولپور کے لیے نکلا۔ دیگر تین گروہ بالخصوس شمالی علاقہ جات یعنی ایبٹ آباد، مظفر آباد گروپ ہمیں حقارت بھری نظروں سے گھورنے لگے اور ہم منہ چھپائے، سر جھکائے پھرتے رہے۔ خود کار مدافعاتی نظام کے تحت ہمارے گروہ کی خواتین و حضرات آپس میں ایک دوسرے کو تسلیاں و تشفیاں دینے لگے۔

ملتان کے ایسے ایسے فضائل بیان کے گئے جو خود اہل شہر میں بھی نہ تھے۔ خوشگوار موسم کی پیشین گوئیاں کی گئیں۔ ہمارے اپنے ڈاکٹر بادل (ہمارے گرپ میں موجود پی ایچ ڈی ماہر موسمیات) سے ماہرانہ رائے لی گئی۔ ایک صاحب نے تو یہاں تک مبالغہ آرائی کی کہ ملتان میں آئندہ چند روز میں گرد آلود ہواؤں کے ساتھ برف باری کا امکان غالب ہے۔ ہمارے محترم نگران استاد صاحب نے بھی یہی فرمایا کہ بیٹا خوش نصیب وہ ہے جو اپنے نصیب پر خوش رہے۔

خیریہ گرم، گرد آلود سفر شروع ہوا اور گرم جوشی کے ساتھ بخیر و عافیت اختتام پزیر بھی ہو گیا۔ دراصل گرمی اور گرد سے کیا ڈرنا۔ آخر کار ہم سب نے بھی اسی گرم خاک میں گرد آلود ہونا ہے۔

ٓآخر میں انفرادی تحقیقی مقالے کا ذکر ہو جائے۔ پہلے ہی دن ہمیں ریسرچ مینوئل (Research Manual ) یعنی راہنما کتابچہ برائے تحقیق تھما دیا گیا۔ تحقیق کو اس راہنما کتاب کے مطابق ڈھالنے کی تلقین کی گئی۔ یہاں یار لوگوں کے لیے سب سے بڑی دشواری (similarity Index ) یعنی پیمانہ مما ثلت کے مطلوبہ معیار کی پیروی تھی۔ یہ دشواری بھی بالآخر سب نے عبور کر لی۔ تحقیقی مقالے کو جمع کروانے کی تاریخ قریب آپہنچی تو تالیف قلبی ہوئی کہ اب کورس کا اختتام چراغ سحری کی طرح قریب ہے۔

سچ یہ ہے کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (NIM) کے جوہریوں نے ہم جیسے بے ہنگم پتھروں کو تراش تراش کر قیمتی لعل بنانے کی بھر پور کوشش کی جس میں وہ بڑی حد تک کامیاب رہے۔ ہم نے بھی اپنی لگن سے ان کی لاج رکھ۔ آخری دن تقریب تقسیم اسناد ہوئی اور یہ کورس بہت سی خوشگوار یادیں چھوڑ کر اختتام پزیر ہو گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •