ڈاکٹر کی ڈائری سے ایک ورق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صبح کی مسحورکن خوشبو ہوا میں پھیلی ہوئی ہے سر سبز شاداب کھیت حد نگاہ تک نظر آرہے ہیں۔ گاؤں کی طرف جانے والی پگڈنڈی نما نئی بنی ہوئی سڑک پر گاڑی برق رفتاری کے ساتھ دوڑ رہی ہے۔ دور آسمان پر سورج ایک مغرور مسکراہٹ کے ساتھ ابھر رہا ہے آس پاس چرند پرند کا شور واضح سنائی دے رہا ہے۔ سڑک کے دونوں اطراف کہیں مٹی کے بنے ہوے کچے گھر وقفے وقفے سے نظر آتے ہیں اور کہیں پکے اینٹوں کے بنے ہوے گھربھی دکھائی دیتے ہیں وہ پگڈنڈی نما سڑک کئی دفعہ بل کھا کرمڑتی ہے تو بھول بھلیوں کا سا گمان ہونے لگتا ہے۔

فضا میں صبح کی مہک صاف محسوس کی جا سکتی ہے سورج کی وہ زرد گیند جس آب و تاب کے ساتھ وہاں ابھرتی ہے ایسا منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ پرندے اپنی حمدو ثناھ میں مصروف ہیں۔ کسان کھیتوں میں اپنے اوزار سمیت کام کاج میں مصروف نظر آرہے ہیں۔ سڑک پر اکا دکا گاڑیاں بھی نظر آتی ہیں۔ سڑک کے ایک طرف نہر بہ رہی ہے جہاں سڑک آخری بل کھا کر مڑتی ہے وہاں نہر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتی ہے اور وہاں گاؤں کا واحد ہسپتال ہے جہاں مجھے سرکار کے بنائے ہوے قانون کے مطابق مجبوری میں جانا پڑا تھا ہسپتال کی دیوار کے ساتھ ساتھ نہر بہ رہی ہے گاڑی ہسپتال کے اندر داخل ہوتی ہے تو ایک طرف پرانی طرز کی سرخ اینٹوں والی ہسپتال کی عمارت نظر آتی ہے اس سے آگے بہت سارے چھوٹے چھوٹے کوارٹر نظر آتے ہیں جو وہاں پر کام کرنے والے عملے کی رہا ئش گاہیں ہیں۔

اور سب سے آخر میں ایک بڑا سا کوارٹر موجود ہے جو غالباً ڈاکٹر کے لیے بنایا گیا تھا۔ دوسری طرف ایک بہت بڑا لان موجود ہے جس میں سینکڑوں کی تعداد میں درخت موجود ہیں گاڑی سے اتر کر اندر حاضری لگا کر واپس آجاتی ہوں اس وقت سورج کی کرنیں جس نرمائی کے ساتھ جسم پر محسوس ہوتی ہیں وہ ایک الگ ہی احساس ہوتا ہے۔ فضا میں پھولوں کی مسحورکن خوشبو پھیلی ہوئی ہے۔ شبنم کی وجہ سے گیلی مٹی قدموں کے نیچے ایک الگ ہی احساس دیتی ہے۔

اتنی خالص ہوا میں سانس لینا اچھا لگ رہا تھا۔ آنکھیں بند کرکے چند گہرے گہرے سانس لے کر اس خالص ہوا کو اپنے اندر اتارنے کی کوش کرتی ہوں۔ اس وقت دل شدت سے یہ چاہتا ہے کہ وقت یہیں ٹھہر جائے یہ مو سم، یہ سورج، یہ خوشبو، سب یہیں ٹھہر جائیں اور میں اس پل میں قید ہو جاؤں پر وقت کو آج تک کون روک سکا ہے اسے تو چلنا ہے۔ اتنے میں ایک بچی کی آواز سنائی دیتی ہے پلٹ کر دیکھتی ہوں تو اسکول یونیفارم میں ایک گندمی رنگ کی شفاف آنکھوں والی لڑکی جس کے دھوپ میں پھرنے کی وجہ سے بال گولڈن براون ہو گئے تھے وہ سات سے آٹھ سال کی عمر کی شرمائی شرمائی سی لڑکی ماں کی انگلی پکڑے کھڑی تھی وہ غالباً سینٹر کے چوکیدار کی بیٹی تھی۔

جسے اس کی ماں اسکول چھوڑنے جا رہی تھی۔ اس کی ماں شکوہ کرنے لگی کہ دیکھیں ڈاکٹرصاحبہ اسکول نہ جانے کی ضد کر رہی ہے آپ اسے سمجھائیں اسکول نہیں جائے گی تو آپ کی طرح ڈاکٹر کیسے بنے گی وہ بچی ذرا سا سمجھانے پر اسکول چلی گئی وہاں سے فارغ ہو کر جب اندر جاتی ہوں تو کمرے میں ہسپتال کی پرانی طرز کی بنی ہوئی کھڑکی کی جالی سے چھن کر سورج کی کرنیں زمین پر پڑ رہیں تھیں۔ بلب کی مدھم روشنی اورسرکاری ہسپتال کا وہ کمرہ عجیب خوابناک سا منظر پیش کررہا تھا۔

اس ماحول کی خاصیت یہ تھی کہ وہاں شہر کی طرح آلودگی نہیں تھی۔ وہاں انٹر نیٹ نہیں تھا۔ وہاں ٹی وی بھی کم کم گھروں میں ہی پایا جا تا تھا۔ وہاں وقت ٹھہر جاتا تھا وہاں لوگوں کے پاس ایک دوسرے سے بات کرنے کا وقت تھا۔ بہت عرصے بعد میں نے لوگوں کو آپس میں لڑتے دیکھا تھا ورنہ جس دنیا سے میرا تعلق تھا وہاں تو فیس بک اور واٹس ایپ کی لڑائیاں ایک دوسرے کو بلاک کرنے کی حد تک ہوتی تھیں انسانوں کو انسانوں سے ٹکراتے دیکھ کر بڑی حیرت ہوتی تھی کبھی کبھی میرا دماغ اس نقطے پر پھنس جا تا تھا کہ یہ زندگی حقیقت ہے یا وہ جس سے میں آئی ہوں کیو نکہ ان دونوں میں سے کوئی ایک خواب اور دوسرا حقیقت تھا۔

دس بجے کے قر یب جب چائے کی شدت سے طلب محسوس ہوتی تھی تو گاؤں کے کسی گھر سے دودھ منگا لیا جا تا تھا نائب قاصد کو یہ تاکید کرکے بھیجا جا تا تھا کہ دودھ کے پیسے دے کر آنے ہیں مگر گاؤں والوں کے خلوص کے آگے وہ تاکید کہاں چلتی تھی ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں کی چائے کے دودھ کے بھی اب ہم پیسے لیں گے بڑی حیرت ہوتی تھی ورنہ شہروں میں تو لوگ دوسروں کا بھی حق چھین لیتے ہیں اور وہاں تو الٹی ہی گنگا بہتی تھی وہ چائے کم دودھ پتی زیادہ جس میں چینی کی زیادتی کی وجہ سے شربت کا عکس زیادہ محسوس ہوتا تھا جب دس بجے میری میز پہ پہنچتا تھا تو سارا اسٹاف اکٹھا ہو جایا کرتا تھا نائب قاصد روز یہ سوال کرتا تھا کہ میڈم چائے کیسی بنی ہے اور میں روز جھوٹ بولتی تھی کہ بہت اچھی بنی ہے کیونکہ دل رکھنا میری فطرت کا حصہ ہے میں شہر کا باسی تھی جو پانی ملے دودھ میں مزید پانی ڈال کر چائے پیتے ہیں

یا پھر کیمیکل ملا ڈبے والا دودھ استعمال کرنے کے عادی ہوتے ہیں اس خالص چائے کی سمجھ مجھے کہاں آنی تھی خیر آٹھ ماہ بعد وہ چائے نما شربت مجھے اچھی لگنے لگی تھی وہاں جب میں کسی مریض کا علاج کرتی اور وہ صحت یاب ہو جاتا تو وہ شکریہ ادا کرنے ضرور آتا تھا ایک باباجی تو چائے کا جگ بنا کر لاے اور ساتھ میں بسکٹ بھی کبھی کبھی حیرت ہوتی تھی کہ یہ لوگ کس دنیا کہ باسی ہیں اتنی محبت کیسے کر لیتے ہیں یہ لوگ۔ میری دنیا کہ لوگ تو نفرتیں بانٹتے نہیں تھکتے تھے شاید اس خالص ماحول کا اثر تھا کہ وہاں کی محبتیں بھی خالص ہوتی تھیں۔

وقت کے ساتھ ساتھ میں اس آب و ہوا کا حصہ بن گئی تھی۔ جب ہسپتال سے چھٹی ہوتی تھی تو سورج سوا نیزے پر آچکا ہوتا تھا مجھے وہ منظر زیادہ پسند تھا سورج کی پیلی گیند ہلکے نیلے آسمان پر پوری آب و تاب کے ساتھ جگمگاتی تھی نئی بنی ہوئی سڑک پر سورج کی کرنیں جب پڑتی تھیں تو آئینے کا سا گمان ہونے لگتا تھا ہسپتال سے باہر نکلتے ہی ساتھ بہتی نہر میں بھینسیں نہاتی نظر آتی تھیں سڑک کے کنارے کھیتوں پہ جب سورج کی کرنیں پڑتی تھیں تو گرمی کی شدت سے وہ مزید دھکتے ہوئے نظر آتے تھے گہرے رنگ کی سڑک کے اطراف وہ دھکتے ہوئے کھیت اور دور آسمان پر جلتا ہوا سورج اس منظر کی ایک الگ ہی کشش تھی۔

وقت گزرنے کے ساتھ میں اس ماحول کاحصہ بن گئی تھی وہ شفاف آنکھوں والی لڑکی میری دوست بن گئی تھی جو سب سے چھپ کر مجھے روزانہ ایک پھول لا کر دیتی تھی اور جب اس سے کوئی یہ پوچھتا کہ بڑے ہو کر کیا بننا ہے تو وہ کہتی ڈاکٹر انیقہ۔ مجھے اس کی آنکھیں بہت پسند تھیں شفاف کسی بھی قسم کی منافقت سے پاک فرشتوں جیسی آنکھیں وہ گھنٹوں میرے پاس بیٹھ کے باتیں کرتی تھی جو مجھے بہت پسند تھیں گو کے مجھے سمجھ کم کم ہی آتی تھی۔

کچھ عرصے بعد میرا وہاں سے تبادلہ ہو گیا اور میں دکھی دل کے ساتھ وہ جگہ چھوڑ آئی۔ اب بھی کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ وہاں واپس جاوں اور دیکھوں کیا آج بھی وہاں صبح ایک مغرور سورج اپنے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرے نکلتا ہے کیا آج بھی جب وہاں گھاس پر گیلی مٹی میں کھڑے ہو کر درختوں کے بیچ گہرا سانس لو تو روح میں سکون اتر جاتا ہے کیا آج بھی وہاں شفاف آنکھوں والی لڑکی سب سے چھپ کر پھول لے کر آتی ہے کیا آج بھی وہاں وقت ٹھہر جاتا ہے۔

کیا آج بھی وہاں لوگ بغیر کسی لالچ کے محبت کرتے ہیں۔ شاید مجھے زندگی کبھی موقع دے اور میں اس جگہ واپس جاوں اور وہ سب دوبارہ سے محسوس کر سکوں تب تک میں دعاگو ہوں کہ وہ علاقہ کبھی ترقی یافتہ نہ ہو تاکہ وہ فضا ہمیشہ خالص رہے وہاں ہم جیسے لوگ نہ ہوں جو اندر سے کچھ اور باہر سے کچھ ہوں وہاں لوگوں کو لوگوں سے ٹکرانے کا وقت ملتا رہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •