سیلیکٹڈ وزیراعظم: عمر ایوب کی تحریک استحقاق اور ڈپٹی سپیکر کی رولنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہفتے کے پانچ دن صبح اُٹھتے ہی یہ کالم لکھنے کے بعد جن دنوں اسلام آباد میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہورہا ہو، پارلیمان پہنچنا ضروری ہوجاتا ہے۔ کئی گھنٹے پریس گیلری، لاؤنج اور راہداریوں میں خوراک کی تلاش میں سرگرداں جنگلی جانوروں کی طر ح ”مزے کی باتیں“ یا ”خبر“ کو ڈھونڈنے کے بعد گھر لوٹ کر ”دی نیشن“ کے لئے انگریزی کالم لکھنا ہوتا ہے۔ اتوار کی صبح یہ کالم لکھنے کے بعد خود کو بہت تھکا ہوا محسوس کیا۔ گھر سے نکلنے کی ہمت نہیں تھی۔ قومی اسمبلی نہ جاسکا جہاں اتوار کے باوجود دوپہر میں بجٹ پر تقاریر کرنے حکومتی اور دیگر اراکین رسم دُنیا نبھانے کے لئے جمع ہوئے تھے۔

پیر کی صبح اُٹھتے ہی اخبارات دیکھے تو شہ سرخیوں کے ذریعے نمایاں ہوئی خبر کی بدولت علم ہوا کہ قومی اسمبلی میں کسی رکن کی جانب سے وزیر اعظم کو سیلیکٹڈ پکارنے پر پابندی لگادی گئی ہے۔ ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے یہ حکم عمر ایوب کی تحریک استحقاق کی وجہ سے صادر کیا۔ عمرایوب اِن دنوں وزارت بجلی کے مدارالمہام ہیں۔

گوہر ایوب خان کے فرزند اور فیلڈمارشل ایوب خان کے پوتے ہیں۔ عملی سیاست کا آغاز انہوں نے جنرل مشرف کے دور میں کیا تھا۔ ان کے والد گریجویٹ نہ ہونے کے سبب 2002 کے انتخابات میں حصہ نہیں لے پائے تھے۔ ان کی جگہ ہری پور سے منتخب ہوئے۔ شوکت عزیز صاحب نے انہیں وزارتِ خزانہ میں اپنا معاون وزیر لگایا۔ اس حیثیت میں ایمانداری کی بات ہے عمر ایوب خان نے ریاستی معیشت کی پیچیدگیوں اور اس کے حوالے سے افسر شاہی کی چالوں سے ابھرے گورکھ دھندوں کو سمجھنے کی سنجیدہ طالب علم کی طرح یکسوئی سے بے پناہ کوشش کی۔

ذاتی طورپر ایک بہت ہی با اخلاق شخصیت ہیں۔ مجھے ان سے ہمیشہ بہت احترام ملا۔ ان کی مرحومہ والدہ بھی بہت شفیق انسان تھیں۔ جنرل حبیب اللہ کی دُختر اور فیلڈمارشل کی بہو ہوتے ہوئے انہوں نے اقتدار کے کھیل سے متعلق کئی لمحات کو بہت قریب سے دیکھا تھا۔ کسی دعوت میں مجھے دیکھ کر بہت شفقت سے اپنے پاس بلاکر بٹھاتیں۔ مجھے ان سے بہت کچھ سیکھنے کے مواقع نصیب ہوئے۔ عمر ایوب کے بارے میں تنقیدی الفاظ لکھتے ہوئے لہذا شرم محسوس ہوتی ہے۔

بدنصیب صحافی کی مگر کچھ پیشہ وارانہ ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ بسا اوقات انہیں نظرانداز کرنا غفلت نہیں اخلاقی جرم کے مترادف ہوتا ہے۔ 1985 سے قومی اسمبلی کی کارروائی کو مسلسل رپورٹ کرتے ہوئے میں یہ کہنے کو مجبور ہوں کہ محض کسی موضوع پر ”تحریک استحقاق“ پیش کرنے کے بعد آپ سپیکر سے ”فوری اور سستا“ فیصلہ حاصل کرہی نہیں سکتے۔ ایوان کا کوئی رکن جب ”تحریک استحقاق“ پیش کرے تو سپیکر کو فقط یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ وہ قواعد وضوابط کے مطابق ہے یا نہیں۔

اس حوالے سے وہ مطمئن ہوجائے تو ایوان کی ”اجازت“ سے مذکورہ تحریک کو اس کمیٹی کے حوالے کردیا جاتا ہے جو ”استحقاق“ کے معاملات کو نبٹانے کے لئے بنائی گئی ہے۔ اپوزیشن کی جماعتوں کو اس کمیٹی میں مناسب نمائندگی میسر ہے۔ ”استحقاق“ کے معاملے پر حتمی فیصلہ مذکورہ کمیٹی کا حق واختیار ہے۔ ڈپٹی اسپیکر ”سرسری سماعت“ کے بعد اس حوالے سے کوئی حکم صادر نہیں کرسکتا۔ حکم مگر صادر ہوچکا ہے۔ اب کوئی رکن عمران خان صاحب کو قومی اسمبلی میں کھڑے ہوکر ”سیلیکٹڈ“ پکارنہیں سکتا۔

اس ایوان میں یہ لفظ سب سے پہلے بلاول بھٹو زرداری نے اس روز استعمال کیا تھا جب عمران خان ایوان میں باقاعدہ ووٹنگ کے بعد وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے۔ بلاول بھٹو زرداری نے انہیں اس منصب پر فائز ہونے کی بدولت ”مبارکباد“ دینے والی تقریر کی تھی۔ اس کے اختتام پر انہوں نے سیلیکٹڈ کا لفظ استعمال کیا۔ لطیفہ یہ بھی ہے کہ عمران خان صاحب نے ڈیسک بجاکر بلاول بھٹو زرداری کی مذکورہ تقریر کو سراہا بھی تھا۔

” سیلیکٹڈ“ میں چھپے طنز کو سمجھنے میں وزیر اعظم اور ان کے وفاداروں کو بہت دیر لگی۔ ہماری سیاست میں ان دنوں یہ لفظ ایک بہت ہی شرمندہ کردینے والی صورت حال کو شاعرانہ ا نداز میں بھرپور طریقے سے بیان کرنے کے لئے استعارے کی صورت استعمال ہورہا ہے۔ قومی اسمبلی میں اس کے استعمال پر پابندی استعارے کی شدت کو کند نہیں کر پائے گی۔ وزیر اعظم کے عمر ایوب اور قاسم سوری جیسے وفادار کبوتر کی طرح اپنی آنکھیں بند کرکے مذکورہ استعارے کو ہماری سیاسی لغت سے ہٹا نہیں پائیں گے۔

پیر کے روز بلاول بھٹوزرداری نے قومی اسمبلی میں بجٹ کے بارے میں تقریر بھی کرنا ہے۔ یہ کالم دفتر بھیجتے ہی میں قومی اسمبلی چلاجاؤں گا۔ دیکھنا ہوگا کہ موصوف سیلیکٹڈ کے استعمال پر لگی پابندی کو کس طرح مترادفات کی تلاش کے لئے استعمال کریں گے۔

سیلیکٹڈ لفظ کے مناسب یا غیرمناسب ہونے کے بارے میں کسی بحث میں الجھے بغیر میں اصرارکرتا ہوں کہ میری دانست میں وزیر اعظم کے منصب کا احترام سیاسی اعتبار سے واجب ہے۔ اس کالم کے باقاعدہ قارئین کو یاد ہوگا کہ پانامہ دستاویزات کی بنیاد پر اچھلے سکینڈل کے ہنگامہ پرور ایام کے دوران تواتر سے نواز شریف صاحب کو یاد دلاتا رہا کہ وزیر اعظم ہوتے ہوئے بھی ریاست کے گریڈ 20 سے 21 تک کے افسروں پر مشتمل JITکے روبرو پیش ہوتے ہوئے وہ اپنے منصب کی بے توقیری کے مرتکب ہورہے ہیں۔

بہتر یہی تھا کہ وہ JITکے روبرو پیش ہونے سے قبل اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیتے۔ چند روز قبل عمران خان صاحب نے بجٹ پیش ہونے کے چند ہی گھنٹوں بعد قوم سے رات گئے ایک خطاب کیا۔ ٹی وی سکرینوں پر جس شرمناک انداز میں وہ خطاب چلامیں نے انتہائی خلوص سے اسے وزیر اعظم کے منصب کی توہین شمار کیا۔ ایک دُکھ بھرا کالم لکھا۔ منتخب نمائندوں کے احترام اور توقیر کے بارے میں پریشان ہوئے عمر ایوب اور قاسم سوری کو مگر یاد نہیں رہا کہ وزیر اعظم کے مذکورہ خطاب کے ذریعے دیے ایک پیغام کے فیصلے پر عملدرآمد کے لئے اب ایک کمیشن بن چکا ہے۔

یہ کمیشن کئی حوالوں سے ایک ”مہاJIT“ بنانے کے مترادف ہے۔ اس کے سامنے 2008 سے 2018 تک کے سالوں کے دوران منتخب ہوئے وزرائے اعظم اور وزرائے اعلیٰ کا پیش ہونا ضروری ہوگا۔ سرکاری افسروں پر مشتمل کمیشن کو یہ بتانا ہوگاکہ غیر ملکی قرضوں سے بنایا فلاں فلاں میگاپراجیکٹ جسے منتخب کابینہ کی ایک کمیٹی منظور کرتی ہے کن بنیادوں پر وسیع تر قومی مفاد کے لئے ضروری تھا۔ خلقِ خدا اس کی ضرورت محسوس کر بھی رہی تھی یا نہیں۔

منتخب حکومتوں کا یہ ”استحقاق“ ہے کہ وہ اپنی دانست میں خلقِ خدا کی خدمت کے لئے ضروری شمار ہوتے چند منصوبوں کی بنیاد رکھیں۔ ان کی تکمیل کے لئے غیر ملکی قرضے بھی درکار ہوتے ہیں۔ منتخب حکومتوں کا مذکورہ ”استحقاق“ مگر اب غیر ملکی قرضوں کے بارے میں تحقیقات کے لئے بنائے کمیشن کے قیام کے بعد ہمیشہ کے لئے ختم ہوچکا ہے۔ مستقبل میں ایسے ہی کمیشن کے سامنے شاید عمر ایوب خان کو بھی پیش ہونا پڑے گا۔ کاش وہ اس ”استحقاق“ کی پامالی پر بھی توجہ دینے کی تھوڑی ہمت دکھاتے۔
بشکریہ نوائے وقت۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •