ابن بطوطہ کے مولد سے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کوئی چوبیس سال بعد دانے پانی کی کشش نے پھر سے بحر اوقیانوس کے کنارے پر لا پٹکا ہے۔ اس سے پہلے اس سمندر کی، جسے اہلِ عرب ”اطلس“ کے نام سے پکارتے ہیں، زیارت مغربی افریقہ کے سواحل پر ہوئی تھی۔ اس بار اس خادم کا ہفتے بھر کا قیام شمالی افریقہ کے ملک مراکش کے شہر طنجہ میں ہے۔ تقریب یہ ٹھہری کہ ایک مبتذل لطیفے کے مصداق اتفاق سے اپنے ادارے کی سوریا میں قیادت اس نالائق کے ناتواں کندھوں پر ہے اور طنجہ میں ہمارے ادارے کے ملکی سربراہوں کا ایک اجتماع ہے۔ اجتماع عرب ممالک میں ترقیاتی پالیسیوں اور درپیش بحرانات پر ہے، سو اس سے ہمارے قارئین کو کیا دلچسپی ہوگی۔ البتہ ایک اجنبی کی نظر سے جو عمومی مشاہدات گزرے ان میں دل چسپی کا کچھ سامان احباب کے لیے ضرور ہوگا۔

تاریخ سے مس رکھنے والے احباب جانتے ہوں گے کہ طنجہ مشہور زمانہ سیاح اور ابن انشا کے پیش رو ابنِ بطوطہ کا مولد ہے۔ یہیں سے روانہ ہوکر وہ تب کی معلومہ دنیا کے کونوں کی خبر لایا، کچھ عرصہ خاقان چین اور سلطانِ دہلی کے دربار میں بھی گزارا، اپنے اسفار کو قلم بند کیا اور واپس طنجہ آکر یہیں کی خاک میں سوگیا۔ اس کے علاوہ طنجہ شہر آبنائے جبرالٹر کے دہانے پر واقع ہے جہاں بحیرہ روم اور بحر اوقیانوس کا اتصال ہوتا ہے۔

اسی آبنائے کے پرلے کنارے پر مشہورِ زمانہ جبل الطارق یا جبرالٹر ایستادہ ہے۔ یہاں آنے سے قبل علامہ اقبال کی نظم ”طارق کی دعا“ کے باندھے ہوئے ماحول اور افسانوی اردو میں لکھی گئی تاریخ کے زیرِ اثر اس خادم کا تصور تھا کہ طارق بن زیاد بڑے بڑے بادبانی جہازوں میں لمبی سمندری مسافت طے کرکے ہسپانیہ پہنچا ہوگا اور بددل سپاہیوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے ان جہازوں کو آگ لگادی ہوگی کہ لڑنے مرنے کے علاوہ دوسرا راستہ نہ بچے۔

یہ سارا رومان کافور ہوگیا جب دیکھا کہ مراکش اور جبل الطارق کے درمیان مسافت نو میل سے بھی کم ہے اور موسمی دھند کے باوجود یہ چٹان ہمہ وقت طنجہ سے نظر آتی ہے۔ کوئی بروجن داس کی طرز کا مشاق تیراک ہو تو بہت کم وقت میں تیر کر بھی عبور کرلے۔ یہ خادم اپنے ناقص مطالعے کی وجہ سے یہ بتانے سے قاصر ہے کہ معاصر عربی تاریخ میں اس واقعے کی منظر نگاری کس طرح کی گئی ہے۔ علماء سے گزارش ہے کہ رہ نمائی فرمائیں۔

یہ شہر مختلف ادوار میں ہسپانیہ، پرتگال، فرانس کے زیرِ نگیں رہا ہے چنانچہ ان کے اثرات اس کی عمارات کے طرزِ تعمیر میں جابجا بکھرا پڑا ہے۔ اس خادم کو ان تینوں ممالک کی سیر کا موقع نہیں ملا ہے اور نہ ہی فن عمارت سازی میں کوئی درک ہے لیکن ہم راہی مختلف عمارات کی جانب اشارہ کرکے بتاتے ہیں کہ کہاں کہاں کس تہذیب کا نقش نمایاں ہے۔ سرکاری زبانیں عربی اور فرانسیسی ہیں۔ اس کے علاوہ جا بجا ایک نامانوس رسم الخط بھی نظر آتا ہے جو بربر زبانوں کی ایک شاخ ”امازیغ“ ہے۔

لوگوں کے نین نقش عرب، بربر، رومی، افریقی خون کی آمیزش کا پتا دیتے ہیں۔ پرانا شہر ایک پہاڑی پر واقع ہے جس کے دوحصے ہیں۔ ایک ”مدینہ“ کہلاتا ہے اور دوسرا تنگ لیکن ”قصبہ“۔ قصبہ فصیل کے اندر ہے اور تنگ، پُر پیچ گلیوں کی بھول بھلیوں پر مشتمل ہے۔ مدینہ اس کے متصل ہے اور بیروت اور دمشقِ قدیم کے کچھ حصوں کے مانند نسبتا فراخ اور سیدھی گلیوں کی صورت رکھتا ہے۔

یہ خادم اس سے پہلے مضامین میں اہلِ اسلام اور گندگی کے چولی دامن کے ساتھ پر ماتم کرتا رہا ہے، جسے ایک خوش گوار دھچکا شام میں لگا تھا۔ طنجہ آکر تو دمشق بھی کچھ گندا گندا لگنے لگا ہے۔ فیس بک پر تصاویر دیکھ کر احباب نے کہا کہ اپنے وطن جیسا ہی ماحول ہے۔ عرض یہ ہے کہ یہ مشابہت محض تصویری ہے۔ یہاں کی صفائی ستھرائی اور خندہ روئی ہمارے ہاں مکمل مفقود ہے۔ تنگ گلیاں جن میں دھوپ تک بہ مشکل داخل ہوتی ہے، فرش پر تنکا تک نہیں رکھتیں۔

پورا شہر زیرِ زمین نکاسی آب کے نظام سے منسلک ہے۔ صرف ایک کونے میں دیوار پر عربی میں لکھا دیکھا کہ ”یہاں پیشاب کرنا منع ہے“ اور نظر آیا کہ لوگوں نے اسے اپنی حاجتِ ضروری رفع کرنے کے لیے مناسب ترین مقام سمجھا ہے۔ نجانے یہ اس تنبیہہ کا اثر ہے یا کیا، چونکہ اور کہیں بھی اثراتِ مثانہ سرِ عام دیکھنے یا سونگھنے کو نہ ملے۔ اے اہلِ وطن، سن لو کہ یہ ملک کینیا، بنگلادیش، تنزانیہ کی صف میں شامل ہے جہاں پلاسٹک کے لفافے عرف ”شاپر بیگ“ پر پابندی ہے اور یہ بھی کوڑے کے انباروں کی عدم موجودگی کا سبب ہوسکتا ہے۔ چلتے چلتے سبزی اور گوشت کی مسقف منڈی سے گزر ہوا جہاں زندگی میں پہلی بار ذبح کیے گئے خرگوش کھال سمیت لٹکے دیکھے۔ حیرت ناک بات یہ تھی کہ دکان کے اندر ناک گھسیڑنے پر بھی کسی قسم کی کوئی ناگوار بو نہ ملی، جو ہمارے ہاں کی جدید سپر مارکیٹوں تک میں موجود ہوتی ہے۔

اہلِ اسلام کو ایک اور نوید ہو کہ اس ملک میں یہودیوں کی ایک معتد بہ تعداد صدیوں سے امن و آشتی سے رہتی ہے۔ آمد کے پہلے روز ہی ”مقبرۃ الیہود“ کا بورڈ ایک دیوار پر لکھا دیکھ کر حیرت ہوئی۔ پھر اندرون شہر کی گلیوں میں کئی جگہ یہودی عبادت گاہ سائنا گاگ نظر آئے۔ عتیقات یعنی انٹیک کی دکانوں پر یہودی عبادات کا سامان مثلاً مینوراہ نامی شمع دان، تورات شریف رکھنے کے روپہلے جزدان، نجمِ داود سے سجے طغرے عام نظر آتے ہیں۔ قیافے سے ان میں سے بہت سے دکان دار بھی یہودی لگے چونکہ کئی کے پاس کاونٹر میں اندر کی جانب تورات رکھی نظر آئی۔

یہاں اہلِ اسلام کا غالب طبقہ کچھ صوفی منش اور فقہ شافعی کا پیروکار ہے۔ چنانچہ سمندر سے نکلنے والی ہر چیز تازہ بہ تازہ دسترخوانوں کی زینت ہوتی ہے۔ تازگی کا اندازہ بو کی عدم موجودگی سے ہوتا ہے۔ جیسا کہ ہم لوگوں کی خوراک میں روٹی اور مشرق بعید میں چاول بنیادی اجزاء ہیں، یہاں ”کُس کُس“ نامی چیز ہے جو گندم اور جو کے موٹے آٹے کو ہلکا سا بھون کر بنائی جاتی ہے۔ روایتی پکوان یہاں کا ”تعجین“ کہلاتا ہے جو مٹی کی سر ڈھکی قابوں میں مختلف اجزاء لکڑی کے کوئلے پر ہلکی آنچ پر پکایا جاتا ہے۔

کچھ پنجاب کے پکوان ”گُھنے“ اور یو پی کے دوپیازے کے بیچ کا سا سمجھ لیجیے، اگرچہ اس سے کہیں کم ثقیل۔ احباب ہماری عربی کی زبوں حالی سے واقف ہیں۔ بہ مشکل شامی لہجے پر کچھ قدرت بہم پہنچائی تھی کہ مراکشی عربی سے پالا پڑ گیا۔ ایک امر باعث اطمینان ہے کہ یہاں قمیص کو شام و لبنان کے برعکس ”امیص“ نہیں کہاں جاتا۔ بلکہ ”قاف“ کا مخرج کچھ پاکستان طرز پر ”کاف کلمن“ سے نزدیک ہے۔

طنجہ کا جدید حصہ جہاں ہمارا قیام ہے، وہ کسی بھی جدید یورپی شہر کی طرح ہے۔ ہماری قیام گاہ یہاں کے ریل گاڑی کے سٹیشن کے عین بالمقابل ہے۔ اس خادم کے مرحوم ماموں منیر خان صاحب نے تمام عمر ریلوے کی ملازمت کی تھی۔ وہ ریل گاڑی کی ٹھکا ٹھک کے اتنے خوگر تھے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد مکان لیا تو ایسی جگہ جو ریلوے لائن کے برابر تھی اور شب و روز میں بیسیوں گاڑیاں شور مچاتے وہاں سے گزرتی تھیں۔ یہاں اس آس پر آتے تو بہت مایوس ہوتے۔

ریل گاڑی یہاں بجلی سے چلتی اور علامہ اقبال کے دوست نواب ذوالفقار علی خان کے موٹر کے مانند بالکل خموش ہے۔ جو تیز رفتار گاڑی کاسا بلانکا، فاس، رباط اور طنجہ کو ملاتی ہے، اس کا نام ”برّاق“ ہے۔ یہ خادم تو اب تک سوار نہیں ہوا چنانچہ کہہ نہیں سکتا کہ ”لائٹ آف سپیڈ“ کا التزام ہے یا نہیں۔ کچھ ہم کاروں نے استعمال کی ہے اور وہ اس کے آرام دہ ہونے اور صفائی کے پرستار نکلے۔

مراکش کا شمار درمیانی آمدنی والے ممالک میں ہوتا ہے چنانچہ ذرائع رسل و رسائل اعلی اور بہت ذہانت سے ترتیب دیے گئے ہیں۔ اس سے اندازہ کیجیے کہ دس لاکھ کی آبادی کے اس شہر کی تمام بجلی کی ضروریات شمسی اور ہوائی توانائی سے پوری ہوتی ہیں۔ تس پر یہ کہ انٹر نیٹ کی اتنی تیز رفتار کا تجربہ زندگی میں پہلی بار ہوا۔ حکومتی اقدامات اور سرمایہ کاروں کے لیے سہولیات اپنی جگہ، لیکن اس نظام کی روانی میں کچھ ہاتھ لوگوں کی تمیز داری کا بھی ہے۔

چار روزہ قیام کے دوران پورے شہر میں اکلوتا ٹریفک کا اشارہ دکھائی دیا۔ اور صرف ایک بار ہلکا سا ہارن سنائی دیا۔ شہر سمندر کے کنارے کنارے بسایا گیا ہے اور ساحل پر ایک فراخ فٹ پاتھ چلا جا رہا ہے۔ بتایا گیا کہ اس پورے فٹ پاتھ کے نیچے گاڑیاں کھڑے کرنے کی جگہ ہے لہذا کہیں پارکنگ کی وجہ سے اژدحام نہیں بنتا۔ ایک خاصیت جو لبنان میں کم اور شام میں مکمل مفقود ہے، راستے پر پیدل چلنے والے کا حق مقدم ہے۔ کوئی بچہ بھی سڑک پر پر قدم رکھ دے تو دونوں جانب کا ٹریفک رک جاتا ہے۔

اس کے باوجود یہ دیکھ کر تاسف ہوا کہ بھک منگوں کی تعداد دمشق جیسے جنگ زدہ شہر سے کہیں زیادہ ہے۔ اکثر جگہ ہٹے کٹے لوگ دامن کشاں ہوتے ہیں اگرچہ بوڑھے اور معذور بھی ہوتے ہیں۔ شاید یہ سرمایہ دارانہ طرزِ پیداوار کا جزوِ لاینفک ہو۔ اس پر برادرم ذیشان ہاشم جیسا کوئی دانش ور ہی روشنی ڈال سکتا ہے۔ یہ خادم تو اب تک حیران ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •