جانور راج: پون چکی ناگزیر ہے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تمام جانور، سہمے ہوئے اور خاموش، واپس باڑے میں کھسک آئے۔ ایک ساعت ہی میں کتے بھی لپکتے ہوئے آئے۔ ذرا دیر تو کوئی بھی نہ سمجھ سکا کہ یہ مخلوق آئی کہاں سے؟ مگر جلد ہی یہ عقدہ بھی حل ہو گیا: یہ وہی پلے تھے، جنہیں نپولین نے ان کی ماؤں سے لے لیا تھا اور علیحدگی میں پالا تھا۔ گو ابھی ان کی بڑھوار پوری نہ ہوئی تھی مگر وہ بڑے جثے کے کتے تھے اور دیکھنے میں بھیڑیوں جیسے خوفناک لگتے تھے۔ وہ نپولین کے قریب ہی کھڑے تھے۔ صاف نظر آرہا تھا کہ وہ اسی طرح دمیں ہلا رہے تھے جیسے دوسرے کتے، جانی صاحب کو دیکھ کے ہلاتے تھے۔

نپولین، کتوں کے جلو میں، اس چبوترے پہ چڑھا، جہاں کبھی میجر نے کھڑے ہو کے خطاب کیا تھا۔ اس نے کہا کہ اب سے اتوار کی صبح کے جلسے نہیں ہوا کریں گے۔ اس نے کہا کہ وہ غیرضروری اور وقت کا ضیاع تھا۔ آئندہ سے فارم کے انتظام سے متعلق اہم معاملات سؤروں کی ایک خاص کمیٹی حل کیا کرے گی جس کی صدارت نپولین خود کرے گا۔ ان کا اجلاس، الگ سے ہوا کرے گا اور وہاں جو بھی فیصلہ ہو گا وہ بعد ازاں سنا دیا جائے گا۔ تمام جانور بدستور اتوار کی صبح، جھنڈے کو سلامی دینے اور ”وحوشِ انگلستان“ کا ترانہ گانے کے لئے اکٹھے ہوا کریں گے اور ہفتے بھر کے کام کاج کے لئے احکامات وصو ل کیا کریں گے لیکن اب مزید مباحثے نہیں ہوں گے۔

نپولین کے تڑی پار ہو جانے کے باوجود، جانوروں کو یہ فیصلہ بہت ناگوار گزرا۔ بہت سے تو اس پہ احتجاج بھی کرتے اگر ان کے پاس کچھ مضبوط دلائل ہوتے۔ حد یہ کہ باکسر تک ذرا سا پریشان ہوا۔ اس نے کنوتیاں کسیں، کئی بار ماتھے پہ آئی ایال کو جھٹکا، اور اپنی سوچوں کو مجتمع کرنے کی بڑی کوشش کی مگر آخر وہ گفتگو کے لئے کچھ بھی سوچنے سے قاصر ہی رہا۔ کچھ سؤر ہی ذرا زیادہ بولنے والے تھے۔ پہلی قطار میں بیٹھے چار جوان پٹھورے سے سؤروں نے انکار کی تیز چیخ بلند کی، اچھل کر کھڑے ہوئے اور ایک ساتھ بولنا شروع کر دیا۔ مگر اچانک ہی نپولین کے چو گرد بیٹھے کتے، گھمبیر اور دھمکی آمیز انداز میں غرائے، سؤر خاموشی سے واپس بیٹھ گئے۔ پھر بھیڑیں کان پھاڑ دینے والی آواز میں چوتھائی گھنٹے تک، ”چار لاتیں گندی، دو لاتیں اچھی“ ممیاتی رہیں اور اس طرح کسی بھی بحث، مباحثے کا موقع ہی نہ رہا۔

بعد ازاں چیخم چاخ کو، فارم کے دورے پہ بھیجا گیا تاکہ وہ سبھوں کو نئے انتظامات کے بارے میں بتا سکے۔

”کامریڈز! “ اس نے کہا، ”مجھے یقین ہے کہ سبھوں کو کامریڈ نپولین کی اس قربانی کا احساس ہے جو انہوں نے خود پہ یہ بارِ گراں لاد کر اٹھائی ہے۔ یہ مت سوچیں کامریڈز کہ قیادت ایک عیاشی ہے! اس کے برعکس، یہ ایک بھاری اور کڑی ذمہ داری ہے۔ کامریڈ نپولین سے زیادہ کوئی بھی اس بات پہ یقین نہیں رکھتا کہ تمام جانور برابر ہیں۔ وہ تو تم لوگوں کو اپنے لئے فیصلہ کرتے دیکھ کر بہت ہی خوش ہوتے لیکن کامریڈز، آپ کبھی غلط فیصلہ کر بیٹھتے تو، سوچیں ہم کہاں جاتے؟ تصور کریں کہ آپ نے سنو بال کے پیچھے چلنا قبول کر لیا تھا، اس کے پون چکی کے سبز باغ کے پیچھے، سنو بال، جو کہ اب ہم جانتے ہیں ایک مجرم ہی تھا، اس کے پیچھے؟ “

”وہ گاؤتھان کی جنگ میں بے جگری سے لڑا تھا۔ “ کوئی بولا۔

”بہادری ہی سب کچھ نہیں ہوتی۔ “ چیخم چاخ نے کہا۔ ”وفاداری اور اطاعت شعاری زیادہ اہم ہیں اور گاؤتھان کی جنگ کا تو یہ ہے کہ میں سمجھتا ہوں وقت آنے پہ ہم سب کو پتا چل ہی جائے گا کہ سنو بال کردار اس میں کچھ زیادہ ہی بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ نظم و ضبط، کامریڈز! آہنی نظم و ضبط! یہ ہی آج کا نعرہ ہے۔ ایک غلط قدم اور ہمارا دشمن ہم پہ آپڑے گا۔ یقیناً کامریڈز! آپ اور ہم، جانی صاحب کی واپسی کے خواہاں نہیں؟ “

ایک بار پھر سب لاجواب ہو گئے۔ ظاہر سی بات ہے، جانور، جانی صاحب کو واپس نہیں لانا چاہتے تھے۔ ؛ اگر اتوار کی صبح ہونے والے مباحثے، جانی کو واپس لانے کا سبب بن سکتے تھے تو ان کو بند ہونا چاہیے تھا۔ باکسر جسے اب کچھ سوچنے کا وقت ملا تھا سب کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے بولا: ”اگر کامریڈ نپولین یہ کہہ رہے ہیں تو یہ درست ہی ہوگا۔ “ اور تب ہی سے اس نے اپنے ذاتی مقولے، ”میں پہلے سے زیادہ محنت کروں گا“ کے ساتھ یہ مقولہ بھی اپنا لیا کہ ”نپولین ہمیشہ درست ہوتا ہے۔ “

تب تک موسم بھی ذرا کھل گیا تھا اور بہاریہ کاشت کے لئے زمین گاہنے کا کام بھی شروع ہو چکا تھا۔ وہ باڑہ جس میں سنوبال کام کرتا تھا، بند کیا جا چکا تھا اور سب سمجھتے تھے کہ کہ فرش سے سب نقشے وقشے مٹا دیے گئے ہوں گے۔ ہر اتوار کی صبح دس بجے سارے جانور بڑے گودام میں جمع ہو کے اپنے پورے ہفتے کے کام کے احکامات وصول کرتے تھے۔ بوڑھے میجر کا سر جس پہ اپ گوشت پوست باقی نہ رہا تھا، پھلوں کے باغ سے کھود کر نکالا گیا تھا اور جھنڈے تلے ایک کھونڈی پہ، بندوق کے ساتھ سجا دیاگیا تھا۔

پرچم کشائی کے بعد جانوروں کوگودام میں داخل ہونے سے پہلے قطار بنا کے کھوپڑی کے سامنے سے مؤدب انداز میں گزرنا پڑتا تھا۔ اب وہ پہلے کی طرح سب اکٹھے نہیں بیٹھتے تھے۔ نپولین، چیخم چاخ اور ایک سؤر، جس کانام ’عاجز گھنٹوی‘ تھا اور جو نظمیں کہنے اور گیت لکھنے کی خداداد صلاحیت سے مالا مال تھا، بلند چبوترے پہ بیٹھتے تھے۔ جبکہ نو کتے ان کے گرد نیم دائرے میں کھڑے ہوتے تھے اور باقی سؤر ان کے پیچھے بیٹھتے تھے۔ تمام جانور ان کی طرف منہ کر کے گودام کے باقی حصے میں بیٹھتے تھے۔ نپولین، ہفتے بھر کے احکامات، بڑے کھردرے اور عسکری انداز میں پڑھ کر سناتا تھا اور ”وحوشِ انگلستان“ کا ترانہ بس ایک بار گانے کے بعد، جانور منتشر ہو جاتے تھے۔

سنو بال کے تڑی پار ہونے کے تیسرے اتوار، جانور، نپولین کے منہ سے یہ سن کے کچھ حیران سے ہوئے کہ پون چکی کو بنانا ہی پڑے گا۔ اس نے اپنا ارادہ بدلنے کی بابت کچھ توجیہہ نہ دی بس اتنا کہا کہ یہ کام، جو معمول سے زیادہ ہو گا کڑی مشقت کا طالب ہو گا اور ان کے راشن میں کٹوتی بھی ممکن ہے۔ منصوبہ البتہ باریک ترین تفصیل تک بھی مکمل ہو چکا ہے۔ سؤروں کی ایک خاص کمیٹی پچھلے تین ہفتے سے اس پہ کام کر رہی تھی۔ پون چکی کی تعمیر جس میں کئی ترامیم بھی کی گئی ہیں، مکمل ہونے میں دوسال لگیں گے۔

اس شام، چیخم چاخ نے دوسرے جانوروں کو علیحدگی میں بتایا کہ نپولین تو کبھی بھی پون چکی کی تعمیر کے خلاف نہیں تھا۔ اس کے برخلاف وہ ہی تو ابتدا میں پون چکی کی تعمیر کا حامی تھا اور یہ تمام نقشے جو، انڈے سینے کے برآمدے میں سنوبال نے بنائے تھے، درحقیقت نپولین کے پرانے کاغذات سے چرائے گئے تھے۔ پون چکی، اصل میں تو نپولین ہی کی تخلیق تھی۔ ’تو پھر کیوں‘ کسی نے پوچھا، ’وہ اس کی مخالفت میں اتنی شدت سے بولا تھا۔ ‘

یہاں چیخم چاخ نے بڑی عیاری سے جواب دیا کہ وہ تو کامریڈ نپولین کی ہوشیاری تھی۔ اس نے بظاہر پون چکی کی مخالفت کی تھی، یہ سنوبال سے چھٹکارا پانے کی ایک حکمت عملی تھی، سنوبال جو کہ ایک خطرناک کردار اور بری صحبت تھا۔ اب جبکہ سنو بال راستے سے ہٹ چکا ہے تو منصوبہ اس کی در اندازی کے بغیر آگے بڑھ سکتا ہے۔ یہ، چیخم چاخ نے کہا، داؤ پیچ کہلاتے ہیں۔ اس نے ادھر سے ادھر اچکتے اور ایک سرخوشی کے عالم میں اپنی دم لہراتے اور ہنستے ہوئے کئی بار دہرایا، ”داؤپیچ، کامریڈز، داؤپیچ۔ “ جانوروں کو کچھ سمجھ نہیں آیا کہ اس لفظ کا کیا مطلب تھا مگر چیخم چاخ کا اندازِ گفتگو بہت مؤثر تھا اور اس کے ساتھ کھڑے تین کتے بہت ہی دھمکی آمیز انداز میں غرا رہے تھے چنانچہ انہوں نے یہ سب وضاحت بنا کسی مزید سوال کے قبول کر لی۔

اس سیریز کے دیگر حصےجانور راج: سنو بال کا فرارجانور راج! کرپٹ انسانوں سے نجات کے بعد
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •