آئیڈیلزم کی شکار پاکستانی قوم کے ساتھ پھر ہاتھ ہو گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرہ ارض پر رہنے والا ہر انسان چونکہ اجتماعی معاشرے کا فرد ہے۔ لہذا اس کی زندگی پر بیرونی عوامل کم بیش کسی نہ کسی شکل میں اثر انداز ضرور ہوتے ہیں۔ سیاسی جدوجہد ہو یا انقلاب کی عالمی تحریکیں، یہ ہمشہ ظلم و جبر کے خلاف عوام کی سماجی رویے کی عکاس ہوتی ہیں۔ غریب اور درمیانی طبقہ ہمیشہ سے ایسی تحاریک کی بنیاد ہوتا ہے۔ کیونکہ کسی بھی معاشرے میں متاثرین کی بڑی تعداد کا تعلق اسی طبقے سے ہوتاہے۔

آئیڈیلز م وہ خواب ہے جو ظلم و جبر کا شکار عوام کو بیچا جاتا ہے۔ ایسے اعلانات اور وعدے کیے جاتے ہیں کہ اگر عوام ہماری تحریک کی کامیابی میں کردار ادا کریں گے تو ہم ہر محرومی کو دور کریں گے، آپ کے ہر درد کا ازالہ ہو گا۔ عوام کے لئے ایک ایسی فلاحی ریاست قائم کی جائے گی جس میں انسانوں کے درمیان طبقاتی فرق نہ ہونے کے برابر ہوگا۔ راوی کا قلم چین ہی چین کی مالا جپتا رہے گا۔

مگر یاد رکھیں انسان نے جب سے صنعتی ترقی شروع کی ہے۔ ہمارے ہر فیصلے پر سرمایہ دارنہ سوچ کی اجارہ داری ہے۔ کسی بھی تحریک کی کامیابی یا ناکامی سے بہت سارے طاقت ور افراد اور اداروں کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ عوامی جدوجہد کے باوجود تحریک کی کامیابی سے عوام کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ پاکستان میں اس کی مثال عدلیہ بحالی کی تحریک ہے۔

ہر ملک میں نئی جماعتیں نئے پرکشش عوامی نعروں کے ساتھ میدان سیاست میں آتی ہیں۔ ان کی کامیابی کا انحصار عوامی نبض چانچنے کی صلاحیت اور عوامی بے چینی کے قرار کی خاطر تیز بہ ہدف نسخوں پر ہوتا ہے۔ انڈیا میں ”عام آدمی پارٹی“ ایسے ہی سیاسی منظر نامہ پر ابھری اور عام آدمی کے مسائل کو لے کر اپنے پہلے انتخابات میں ہی کامیاب ہوگئی۔ مگر پھر سیاسی مجبوریوں اور حالات کے جبر کی وجہ سے اپنے ہر اصول کو اقتدار میں رہنے کی خاطر روندتی چلی گئی۔

ایسا ہی کچھ پاکستان میں ہوا، جہاں قوم نواز زرداری کی باریوں والی سیاست سے تنگ تھی۔ ان کے لئے عمران خان کو تبدیلی کا پیامبر اور عوام کا مسیحا بنا کر دوبارہ لا نچ کیا گیا۔ ہوسکتا ہے کچھ حضرات کو لانچ کر لفظ نا گوار گزرے تو گزارش یہ ہے کہ جب تک خان صاحب اپنی آئیڈیلزم والی سیاست کے علمبردار رہے۔ ان کی جماعت کی پارلیمنٹ میں موجودگی ان کی اپنی ذات کی حد تک محدود تھی۔ ایک لحاظ سے یہ پاکستانی سیاست کا المیہ بھی ہے کہ یہاں مقامی سیاست برادری، جاگیرداری اور سرمایہ داری کی تابع ہے۔

ایسے میں خان صاحب کے لئے اسمبلیوں میں فرشتے منتخب کروا کر لانا قریب قریب نا ممکن تھا۔ اسی صورت حال سے نا امید ہو کر تحریک انصاف نے طاقت کے مراکز کے ساتھ ہاتھ ملا کر مینار پاکستان میں ایک پھرپور عوامی جلسے سے اپنی نئی طرز کی سیاست کی بنیاد رکھی۔ مینار پاکستان کا جلسہ بلاشبہ اس طرز سیاست کا نقطہ آغاز تھا جس کے خان صاحب اپنی ساری سیاسی زندگی میں مخالف رہے۔ اس جلسے کے بدولت جو عوامی پذیرائی عمران خان کے حصہ میں آئی، آج تک اس کا سحر کسی نہ کسی شکل میں باقی ہے۔

اقتدار میں آنے اور رہنے کے لئے خان صاحب نے اپنے ہر اس اصول کو توڑا جس کے وہ علمبردار تھے۔ اپنے ان سیاسی مخالفین کوحلیف بنانے پر مجبور ہوئے جنہیں وہ کبھی چپڑاسی رکھنے کو تیار نہ تھے۔ قاتل لیگ اور ایم کیو ایم کے ساتھ اتحاد پر مجبور ہوئے۔ میڈیا پر آمرانہ دور سے بھی بدتر پابندیاں ہیں۔ دن رات کرپشن کا رونا دھونے کرتے ہوئے خان صاحب کو یہ کیوں نہیں دکھائی دیتا کہ ان کے دائیں بائیں جہانگیر ترین اور علیم خان کھڑے ہیں۔ جن میں سے ایک سند یافتہ کرپٹ اور دوسرا کرپشن کے مقدمات میں شامل تفتیش ہے۔ وہ تبدیلی جس کا خواب عوام کو کئی سال بیچا گیا وزارت عظمی کے کوڑا دان میں پڑی گل سٹر رہی۔ خان صاحب وزیر اعظم تو بن گئے ہیں مگر اس دوران مینار پاکستان کے سائے تلے تبدیلی کی نوید سنانے والا عمران خان کہیں گم ہو گیا ہے۔
آئیڈیلزم کی متلاشی پاکستانی قوم کے ساتھ ایک دفعہ پھر ہاتھ ہوگیا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عثمان جگت پوری کی دیگر تحریریں
عثمان جگت پوری کی دیگر تحریریں