سلیکٹڈ وزیراعظم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گذشتہ ہفتہ کا سب سے اہم مذاق قومی اسمبلی سے نمودار ہوا۔ ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے عمر ایوب کی تحریک استحقاق کو منظور کرتے ہوے وزیراعظم کو سلیکٹڈ کہنے پر پابندی لگا دی۔ منتخب عوامی (؟ ) وزیر اعظم کو (کسی طاقتور ادارے ) کا چنا ہوا یا لگایا ہواآدمی کہنا پارلیمنٹ اور اس میں موجود افراد کی توہین قرار دیا گیا اور حکم جاری کیا گیا کہ یہ کہنا غیر قانونی ہے۔ سب سے پہلے سلیکٹڈ کا لفظ بلاول بھٹو نے اپنی پہلی تقریر میں دانستہ یا نا دانستہ طور پر عمران خان کو مبارک باد دیتے ہوے استعمال کیا تھا اور اس پر حکمران جماعت نے بغیر سوچے سمجھے بھر پور دادبھی دی تھی۔

پاکستان میں ہر وقت سیاسی مخالفین پر دباؤبرقرار رکھا جاتا ہے۔ حکمران پارٹی اور اس کے اتحادی مخالفیں کی طرف سے الزامات کا شکار رہتے ہیں اور اپوزیشن کو حکمرانوں کی سختیوں اور طعنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان دو کے علاوہ تیسرا بڑا حصہ داربھی شطرنج کا سب سے ماہر کھلاڑی ہونے کا دعویٰ دار ہے اور کبھی سامنے سے اور کبھی اپنے پیادوں کی مدد بظاہر چھپ کر ہر دور میں دونوں طرف سے کھیلنے میں کامیاب رہا ہے۔ اور سب سے زیادہ کامیاب الیکشن مہم ہمیشہ ان کی ہی رہی ہے۔ مثبت اور منفی دونوں طرح کی الیکشن مہم ہر فریق ہر وقت جاری رکھتا ہے۔

مثبت انتخابی مہم عام طور پر امیدوار کی ذاتی زندگی کے بارے میں ہوتی ہے کہ وہ کہاں جوان ہوا، اس نے کیا کام کیے۔ اس کی ذاتی اور خاندانی اقدار کیسی ہیں۔ ان چیزوں کو اجاگر کر نے کا مقصد ہوتا ہے کہ عوام کو تسلی کروائی جاے کہ جس امیدوار کو وہ چنیں گے وہ ان کے مفادات کا بھر پور تحفظ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ حکمران پارٹی اپنے منصوبوں اور ملکی خزانے سے اپنے حلقہ یاراں کے انتخابی حلقوں میں ترقیاتی کاموں کی مدد سے بھی اپنے ووٹ بینک کو مضبوط کرتی ہے۔ ہر فریق اپنے مخالفین کی خامیوں اور غلطیوں کو اچھال کر منفی پروپیگنڈا کابھی سہارا لیتا ہے۔ منفی ہتھکنڈوں میں جھوٹ سچ کی پرواہ نہیں کی جاتی۔

لندن مئیرکے پچھلے الیکشن میں منفی اور مثبت دونوں قسم کی انتخابی مہم زورو شور سے چلائی گئی۔ صادق خاں کی انتخابی مہم کا محور اس کا ایک ڈرائیور کا بیٹا ہونا تھا اور اس کے مقابل کازور اس کے خلاف منفی تشہیر پر تھا۔ اس کا الزام تھا کہ وہ مسلمان ہونے کی وجہ سے مذ ہبی دہشت گردی کا حامی ہے۔ نئے منتخب شدہ مئیر صادق خاں مثبت طریقہ کار کی کامیابی کی واضح مثال ہیں۔ کنزر ویٹو امیدوار زک گولڈ سمتھ، جو عمران خان کے سابقہ برادر نسبتی ہیں اور خان صاحب ان کی مہم میں شامل بھی رہے، اور ان کے حامیوں کی منفی، ناپسندیدہ اور انتہائی نامناسب انتخابی مہم ان کے لئے ذلالت کا ہی باعث بنی۔ جیتنے والے مئیر نے فتح کے بعدکہا کہ لندن کے باسیوں نے امید کو خوف پر حاوی نہیں ہونے دیا اور بہتر کو چن لیا۔

مودی نے خود کے لئے چوکیدار کا نام چنا اور کہا کہ وہ اپنے عوام کے مفادات کا محافظ ہے، اس کے مخالف راہول گاندھی نے نعرہ بلند کیا کہ چوکیدار چور ہے۔ نعرہ تو مقبول ہو گیا لیکن راہول بری طرح شکست کھا گیا۔

”India Shining“ بھارتیا جنتا پارٹی کا 2004 کے الیکشن میں نعرہ تھا۔ واجپائی کے دور میں بہت زیادہ معاشی ترقی کو بنیاد بنا کر اس کو اچھالا گیا۔ بیس ملین ڈالر حکومتی فنڈ سے بھی اس پر خرچ کیے گئے۔ مخالفین نے طبقاتی ناہمواری، بڑھتی ہوئی غربت اور بیروزگاری کونعرہ بنایا اور یہی نعرہ بعد میں واجپائی کی الیکشن میں ناکامی کی وجہ بنا۔

مثبت طریقہ سے الیکشن مہم کی کامیابی اور ناکامی کی یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ مثبت رویے اگر چہ مدد گار ہوتے ہیں لیکن الیکشن جیتنے کے لئے صرف ان پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان میں زیادہ تر آمریا ان کے حامیوں کی حکومت رہی ہے۔ آمر کی موجودگی میں مثبت سیاسی کام کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ اس کے اپنے چیلے سیاست میں دندناتے پھرتے ہیں اور بے دست و پا سیاستدان در در کے بھکاری بن کر اس کی چوکھٹ پر بھی ناصئیہ فرسائی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اگر کبھی موقع مل بھی جاے تو سیاست دانوں کو مسلسل کام نہیں کرنے دیا جاتا جس وجہ سے مثبت طریقہ سے کارکردگی کی بنیاد پر الیکشن نہیں لڑے جا سکتے۔ پاکستان میں منفی پروپیگنڈا ہی آمریت کی قوتوں اور جمہوری پارٹیوں کا ہتھیار رہا ہے۔ آمر کی تو حکومت ہی غیر قانونی ہوتی ہے وہ کیا مثبت بات کر سکتا ہے اوربے اختیارسیاست دان کچھ اچھا کر بھی لیں تو ناجائزذرائع اختیار کرنے اور کرپشن کا منفی پروپیگنڈا اور اس کے ساتھ مقدمات کا سامنا کرنے کا خوف اور جیلیں ان کو الیکشن کے قابل ہی نہیں رہنے دیتی ہیں۔ اس لئے حکمرانی کے تمام امیدوار صرف منفی طریقے ہی اختیار کرتے ہیں۔

پوری دنیا میں انتخابات اور سیاست میں منفی پروپیگنڈا کی قبولیت بہت زیادہ ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ منفی خیالات اور نعرے حقیقت کے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔

امریکی انتخابات میں دیکھا گیا ہے کہ جتنا سخت مقابلہ ہوگا اتنا ہی منفی پروپیگنڈا زیادہ ہوگا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی پوری مہم ہی منفی ہتھکنڈوں پر مشتمل تھی۔ اگر چہ منفی مہم سے لوگ نفرت کرتے ہیں لیکن اس کے بعدووٹر امیدواروں کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل کرتے ہیں اور ان کے مسائل بھی زیادہ اچھی طرح اجاگر ہوتے ہیں۔

منفی مہم جب اچھی طرح چلائی جاے تو اس کے نتائج بھی اچھے نکلتے ہیں۔ اگر چہ کبھی کبھی اس کو چلانے والا نقصان بھی اٹھاتا ہے۔ اس لئے منفی نعرے لگاتے وقت دھیان رکھنا پڑتا ہے کہ اس کا رد عمل بعض مرتبہ شدید اور خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔

جب منفی حملہ صحیح جگہ پر کیا جاتا ہے تو اس کے نتائج بھی اچھے نکلتے ہیں۔ کیونکہ لوگ منفی باتوں کو زیادہ یاد رکھتے ہیں۔ بھٹو کا مذہبی سیاسی پارٹیوں اور خصوصی طور پر مولانا مودودی کو سامراج کا پٹھو اور فوج کی بی ٹیم قرار دینا زبان زد عام ہو گیا۔ شدید اور نقصان دہ رد عمل سے بچنے کے لئے اس بات کا دھیان رکھا جاتا ہے کہ صرف اسی نقطہ کو اچھالا جاے جس کے بارے میں عوام الناس کو پہلے سے ہی کچھ شک ہے۔ اسی جگہ پر گولڈ سمتھ نے غلطی کی اور صادق خاں کو انتہاپسندوں کا ہمدرد ظاہر کرنے کی ناکام کوشش کی، جبکہ زیادہ تر لوگوں کے نزدیک اس طرح کے خیالات کو کوئی اہمیت نہ تھی۔

بھٹو نے ایوب خاں کے خلاف مہم کا آغازمعاہدہ تاشقند میں ”جنگ میں جیتی ہوئی بازی میز پر ہارنے“ کے نعرہ سے کیا۔ جنگ اور معاہدہ کے بارے میں عوام کے خیالات پہلے ہی اچھے نہ تھے، بھٹو نے ان کو زبان دے دی۔ بھٹو نے اپنے ساتھیوں پر بھی پھبتیاں کسیں جو مقبول ہو گئیں۔ مولانا وسکی اس کی خوبصورت مثال ہے۔ جنرل ضیا الحق کی مونچھوں پر تبصرہ تو بھٹوکی جان لے گیا۔ بینظیر کے بھائی مرتضیٰ بھٹو نے آمر کی حکومت کے خلاف عسکری جدو جہد کی جس کو ملک سے غداری اور بغاوت قرار دیا گیا۔ یہ نعرہ بینظیر بھٹو اور پیپلز پارٹی کا ابھی تک پیچھا کررہا ہے۔ نواز شریف اور اس کے حواریوں نے مخالفوں پر ہر قسم کا سچا جھوٹا الزام لگایا۔ مسٹر ٹین پرسینٹ ان کا انتخابی نعرہ تھا۔ مسلم لیگ کے شیخ رشید بے نظیر اور بلاول بھٹو کے خلاف اخلاق سے گری ہوئی گفتگو کرنے کو قابل فخر گردانتے ہیں مولانا سینڈ وچ کا منفی نعرہ اپنوں نے ہی پیادے کو قابو میں رکھنے کے لئے ایجاد کیا۔ مولانا ڈیزل عمران خان کا پسندیدہ نعرہ ہے۔

عمران خان نے الیکشن سے بہت پہلے ہی نئے انتخابات کی مہم کا آغازکر دیا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کو 2014 میں ہی وزارت عظمیٰ چھوڑنے کے لئے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ عمران خاں نے غلطی سے اپنوں کو ہی ایمپائر کہہ دیا، جو ان کے ساتھ ہی نتھی ہو گیا۔ لیکن وہ جو خود کو شیر کا شکاری کہتے تھے، ان کا نام لینے کی کسی میں بھی ہمت نہ تھی۔ اس لئے کبھی خلائی مخلوق اور کبھی محکمہ زراعت کہا گیا۔ دھرنا کے دوران نواز شریف اور زرداری کے خلاف بہت سا منفی پروپیگنڈا کیا گیا۔ چور، ڈاکو، خائن کے القابات دیے گئے۔ اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے سیسلین مافیا اور گاڈ فادر کے الفاظ سے نوازا گیا۔

منفی تشہیری مہم پاکستان کے تمام سیاستدانوں کے لئے ہمیشہ پسندیدہ رہی ہے۔ اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں۔ میثاق جمہوریت کے بعد کچھ حالات بہتر ہونے کی امید بندھی تھی، لیکن عمران خان کے کھیت میں گھس آنے سے نئی اگنے والی ساری فصل اس شتر بے مہار نے پیروں تلے روند ڈالی۔

لوگ سیاستدانوں کے بارے میں مثبت کی بجاے منفی باتوں پرزیادہ یقین کرتے ہیں۔ ان کے بارے میں بہت کم منفی باتیں ملیں گی جنہیں لوگ ماننے سے انکار کریں گے۔ میڈیا میں بھی منفی باتوں کو زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔

میڈیا ہمیشہ تشدد اور برائی کو زیادہ پسند کرتا ہے۔ بری باتیں اور قتل وغارت خبروں میں زیادہ جگہ حاصل کرتے ہیں۔ ایک انسان یا جانور کو مرنے سے بچانے کی نسبت ان کا مرنا زیادہ بڑی خبر ہوتا ہے۔ میڈیا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ

’If it bleeds، it leads‘

اسی لئے ہر منفی بات کو میڈیا اچھالتا ہے اور وہ عوام میں بھی زیادہ تیزی سے قبول کی جاتی ہے۔ صحافت کی بنیاد ہی تنازعات اور غلطیوں کو ڈھونڈھ کر اچھالنا ہے۔ منفی با ت، جھوٹی یا سچی، فوراً اہم خبر بن جاتی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ منفی حملہ پہلے کرو، زور سے مارو اور مارتے چلے جاؤ۔

اس اصول کو مد نظر رکھتے ہوے پچھلی دہائی میں عمران خان اور اس کے دیدہ و نا دیدہ حواریوں نے منفی نعروں اور جھوٹی سچی کہانیوں پر مشتمل شاندار مہم چلائی ہے۔ لیکن اب جو دھتکارے گئے، نکالے گئے، ان کی باری ہے۔ وہ اس معاملہ میں بھی بہت تجربہ کار ہیں۔ وہ زیر عتاب بھی ہیں، اب ڈپٹی سپیکر کی رولنگ ان کے منہ نہیں بند کرسکتی۔ پارلیمنٹ کے موجودہ ماحول میں یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ سپیکر محترم اس حکم پر عمل درآمد کروا سکیں گے۔ بلکہ اپوزیشن کو ان پر طنز کرنے کا اب اور بھی اچھا موقع مل جاے گا وہ بار بار وزیر اعظم کوسلیکٹڈ کہیں گے سپیکر ان الفاظ کو حذف کرے گا تو وہ طرح طرح کے نئے ملتے جلتے اور ذو معنی الفاظ ڈھونڈھ کر حکمرانوں کو تنگ کریں گے۔

اب (فیض صاحب سے معذرت کے ساتھ)
دیدہ و دل کو سنبھالو کہ سر شام ’عروج‘
سازو ساماں بہم پہنچا ہے رسوائی کا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •