جانور بے زبان سہی مگر ہم تو نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے معاشرے میں کہا جاتا ہے کہ جس گھر میں کتا موجود ہو اس گھر میں رحمت کا فرشتہ نہیں آتا۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ہم روز مرہ کی زندگی میں سینکڑوں گناہ کرتے ہیں۔ غیبت، منافقت، حسد، جھوٹ، مکاری اور اس طرح کے بیشتر صغیرہ و کبیرہ گناہ ہماری زندگی کا حصہ رہتے ہیں مگر ان سب کے باوجود ہمارے گھر رحمت اور برکت کے فرشتے اترتے ہیں مگر ایک بے زبان جانور کو ہم گھر میں نہیں رکھ سکتے۔ کیا اللہ تعالی نے کوئی چیز یا کسی جاندار کو فضول بنایا ہے؟ کیا وہ رحمان کسی بے زبان جانور کو اس دنیا میں رہنے کا حق نہیں دیتا؟

میں نے ہمیشہ سنا اور پڑھا تھا کہ کتا انسان کا بہترین دوست ہوتا ہے۔ صرف کتا ہی نہیں آپ نے کوئی بھی پالتو جانور رکھا ہو اس کا نقصان نہیں بلکہ فوائد ہی ملتے ہیں آپ کو۔ ذرا سوچیں، سارا دن کی محنت اور تھکن کے بعد جب آپ برے موڈ کے ساتھ گھر میں داخل ہوں اور گھر میں داخل ہوتے ہی آپ کا پالتو کتا آپ کے آنے کی خوشی میں آپ سے لپٹ جائے یا آپ کی بلی آپ کے گرد گھومنے لگے تو آپ کا موڈ کیسے بدلے گا؟

میں خود ان احساسات کا تجربہ کرتی ہوں۔ آپ اپنا گھر ایک ایسی مخلوق کے ساتھ شئیر کرتے ہیں جو نہ تو آپ کی زبان سمجھتی ہے اور نہ ہی آپ سے کبھی بات کر سکتی ہے مگر آپ کی بہترین دوست کہلاتی ہے۔

اگر ہمارے ملک پاکستان کی بات کی جائے تو یہاں کے قوانین میں انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کے بھی حقوق ہیں مگر بد قسمتی سے جانوروں کے حقوق میں یہاں بات نہیں کی جاتی۔ لوگوں کو اندازہ ہی نہیں کہ ماحولیات کے لیے جانوروں کا ہونا کس قدر ضروری ہے اور یہ زمیں اللہ نے صرف انسانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ جانوروں کے لئے بھی بنائی ہے مگر اس زمین پر رہنے والی اشرف المخلوق خود کو جانوروں پر خدا سمجھتی ہے۔ جانور میں بھی ایک روح ہوتی ہے جیسے ایک انسان میں۔

انہیں دکھ بھی ہوتا ہے اور خوشی بھی۔ درد بھی ہوتا ہے اور سکھ بھی محسوس کرتے ہیں۔ ان غصہ بھی آتا ہے اور پیار بھی۔ انہیں تھکاوٹ بھی محسوس ہوتی ہے۔ بھوک بھی لگتی ہے اور پیاس بھی۔ ہمارے ملک میں جانوروں کو روزگار کے غرض سے استعمال کرنا معمولی بات ہے۔ ”صبح سویرے ایک مزدور اپنی گدھا یا گھوڑا گاڑی تیار کرتا ہے اور سارا دن مزدوری کی تلاش میں دربدر پھرتا ہے“۔ اس میں محنت صرف اس ریڑھی کے مالک کی ہی نہیں ہوتی وہ جانور جو اس کے ساتھ ہے اس کی بھی برابر محنت ہے مگر مالک اس بات کو سمجھنے سے قاصر رہتا ہے۔

یہاں میں اپنا ذاتی تجربہ آپ سے شئیر کرنے جا رہی ہوں کہ ایک مرتبہ میں اپنے روزمرہ کے فرائض سر انجام دینے کے لئے دفتر جا رہی تھی تو میں نے اپنے گھر کے پاس ایک چوک پر ایک مالٹوں کی ریڑھی دیکھی۔ اس ریڑھی کے مالک نے اپنے لئے ٹھنڈے پانی کا کولر اور بیٹھنے کے لئے ایک سٹول کا بھی بندوبست کیا ہوا تھا مگر جس جانور کے ذریعے اُس نے روزگار حاصل کرنا تھا اس کے لئے نہ مجھے کچھ کھانے کا بندوبست نظر آیا اور نہ ہی پانی کا۔

شام کو جب 12 گھنٹے بعد میں واپس گھر آ رہی تھی تو وہ ریڑھی وہیں پر موجود تھی۔ میں نے اس پھل فروش سے پوچھا کہ تم نے اپنے لئے تو پانی اور بیٹھنے کا بندوبست کیا ہوا ہے اور کھانا بھی تم نے کھایا ہی ہو گا، صبح سے تم نے اس جانور کو کچھ کھانے پینے کے لئے دیا؟ اس کا جواب تھا ”نہیں“ باجی۔ یہ تو جانور ہے اس کو کہاں بھوک لگتی ہے ”صبح اس کو کھلا پلا کے گھر سے لاتا ہوں اور ابھی واپس جا کہ بھی اس کو کھانا پانی دوں گا۔ اس شخص کے اس جواب نے مجھے لرزا کر رکھ دیا۔ وہ جانور جو صبح سے دھوپ میں کھڑا ہو کر اس کے لئے روزگار کا وسیلہ بنا ہوا ہے اس انسان کو اس بھوک پیاس کا احساس ہی نہیں۔ اگر اس جانور کو کچھ ہو جائے تو یہ آدمی کیسے کمائے گا؟ کیا سچ میں جانوروں کو بھوک پیاس نہیں لگتی؟ ہمارے مذہب میں تو جانوروں کے حقوق پر زور دیا گیا ہے“

کیا ہمارا جانوروں کے ساتھ وہی برتاؤ ہے جس کی تاکید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے؟ کہا گیا ہے کہ ان پر ضرورت سے زیادہ بوجھ نہ لادو۔ ان کا خیال رکھو۔ انہیں تکلیف اور اذیت مت دو پھر ہم ان بے زبانوں کے ساتھ ایسا رویہ کیوں اختیار کرتے ہیں۔ کیا ہم ان جانوروں کے قابل ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں ہر جگہ ان بے زبان جانوروں کے ساتھ بد سلوکی اور زیادتیاں کی جاتی رہی ہیں اور یہ سلسلہ ابھی تک چل رہا ہے۔ یاد رکھیں! جانور بے زبان ہی سہی لیکن ان کی فریاد عرش بریں پر سننے والی ایک ذات موجود ہے۔ بے زبانوں کی زبان کو سمجھتے ہوئے ان کے احساسات کی ترجمانی کریں۔ ان کے مسائل کو حل کریں۔ انہیں جینے کا احساس دلائیں اور اس احساس کو دوسروں تک بڑھائیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
حمیرا فیاض کی دیگر تحریریں
حمیرا فیاض کی دیگر تحریریں