طلاق کا حق اور معاشرتی بے حسی

پاکستانی معاشرے میں طلاق کا لفظ کسی گالی سے کم نہیں ہے۔ یہ لفظ ہمارے معاشرے میں کسی لڑکی کے خاندان اور متاثرہ لڑکی کے لئے وبال جان بن جاتا ہے کیونکہ ہمارے یہاں عموما عورت کو ہی طلاق کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ معاشرے کی سوالیہ نظریں اور بولتی زبانیں جس طرح اس کے کردار کو گھیرتی ہیں اس کا آپ اور میں تصور بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ طلاق خاندانوں کے ٹوٹنے اور ان کی بدنامی کا سبب

Read more

بوند بوند ایک نعمت

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے پناہ نعمتوں سے نوازہ ہے۔ پانی ایک ایسی نعمت ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔ پانی فطرت کا ایک قیمتی اثاثہ ہے۔ ہماری زندگی کا دارومیدار ہی پانی پر ہے اور اگر کہا جائے کہ پانی بقائے حیات ہے تو بجا نہیں ہوگا۔ صاف اور خالص پانی ہماری زندگی کے لئے اتنا ہی ضروری ہے جتنی آکسجن۔ پانی ہماری خوراک نہیں مگر ہماری خوراک کا اہم جزو ہے۔ یہ پیاس بجھاتا ہے اور تسکین

Read more

رحمت ہے تو نعمت ہے

ہمارے معاشرے میں جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کی پیدائش کے ساتھ ہی اس کی جنس کے مطابق ان سے برتاؤ شروع کردیا جاتا ہے۔ لڑکی ہے تو اسے گلابی رنگ کے کپڑے پہنائے جاتے ہیں اور لڑکے کو نیلے رنگ کا لباس پہنایا جاتا ہے۔ ان کے کھلونوں کا انتخاب ان کی صنف کے مطابق کیا جاتا ہے کہ اگر لڑکی ہے تو گڑیا اور گھریلو کھلونے دیے جاتے ہیں۔ اس کے ناز اور نخرے اٹھائے جاتے

Read more

پردیسی پریاں اور دیسی شہزادے

گزشتہ دنوں میں نے ایک چینل پر خبر دیکھی کہ باسٹھ سالہ پرتگالی خاتون بہاولپور کے ستائیس سالہ عرفان کی محبت میں پاکستان پہنچ گئی، محترمہ نے اسلام قبول کیا اوردونوں نے شادی بھی رچا لی۔ دونوں کی عمر میں تقریبا پینتیس سال کا فرق تھا۔ خیر خبرتواچھی تھی آخر ایک محبت اپنے انجام کو پہنچی۔ اسی طرح ہی کچھ عرصہ پہلے سیالکوٹ کے 21 سالہ کاشف کی اکتالیس سالہ امریکی خاتون سے محبت کا قصہ بھی کچھ ایسے ہی

Read more

پاکستانی صحافت۔ توبہ توبہ

2002 کے بعد پاکستانی میڈیا کو ایک نئی شکل ملی، الیکٹرانک میڈیا کا ایک نئے دورکا آغاز ہوا اور گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ میڈیا ترقی پاتا گیا۔ ہمارے یہاں صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے اور جمہوری ممالک میں صحافت کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ مگر ملک کو ترقی یافتہ، خوشحال، سیاسی و سماجی لحاظ سے طاقتور بنانے کے لئے صحافت کو اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھانے کی ضرورت ہے۔ ایک وقت تھا جب

Read more

جانور بے زبان سہی مگر ہم تو نہیں

ہمارے معاشرے میں کہا جاتا ہے کہ جس گھر میں کتا موجود ہو اس گھر میں رحمت کا فرشتہ نہیں آتا، میں اکثر سوچتی ہوں کہ ہم روز مرہ کی زندگی میں سینکڑوں گناہ کرتے ہیں، غیبت، منافقت، حسد، جھوٹ، مکاری اور اس طرح کے بیشتر صغیرہ و کبیرہ گناہ ہماری زندگی کا حصہ رہتے ہیں مگر ان سب کے باوجود ہمارے گھر رحمت اور برکت کے فرشتے اترتے ہیں مگر ایک بے زبان جانور کو ہم گھر میں نہیں رکھ سکتے۔ کیا اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز یا کسی جاندارکو ٖفضول بنایا ہے؟ کیا وہ رحمان کسی بے زبان جانور کو اس دنیا میں رہنے کا حق نہیں دیتا؟

Read more