اسٹوڈنٹس یونینوں کی بحالی کا مقدمہ


\"farooqپاکستان کی سیاست میں اگر آج چند بچے کھچے برد بار سنجیدہ مزاج بہتر سیاست دان نظر آتے ہیں تو یہ بس وہی ہیں جن کی سیاسی تربیت اسٹوڈنٹس یونین کے دور میں ہوئی۔ آج 32 برس بعد اسٹوڈنٹس یونین پر پابندی کے نقصانات بالکل واضح ہو چکے ہیں۔

اسٹوڈنٹس یونینوں پر پابندی سے پہلے الیکشنز کے ذریعے فیصلہ ہوجاتا تھا کہ یونیورسٹی یا کالج میں طلبا کا کونسا گروپ غیر نصابی سرگرمیاں چلائے گا لیکن پھر ہار جیت کے تعین کے اس مہذب اصول پر پابندی لگ گئی اور اس کے بعد یہ فیصلے طاقت و تشدد کے بل پر ہونے لگے۔ زیادہ ہر دلعزیزی کی جگہ زیادہ قوت جیت کا حربہ ٹھہرا۔ خون خرابہ شروع ہوگیا۔ جھگڑے پہلے بھی ہوا کرتے تھے لیکن کبھی کبھار اور وہ بھی کم اور غیر آتشیں۔ ضیا الحق کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے اسٹوڈنٹس یونینوں پر پابندی پر اٹھنے والے احتجاج کو دبانے کے لئے جمعیت جیسی پاکٹ یونیں کو آتشیں اسلحہ دیا اور انہیں تھنڈر اسکواڈ بنانے کی آزادی دی۔ اعتراض تنظیموں پر تھا اور ختم کی گئیں یونینیں۔ کیونکہ مہذب جمہوری لبرل رویوں کو قتل کرنا تھا نہ کہ مذہبی فاشسٹ طریقوں کو۔

آمریت کی نیت اسٹوڈنٹس یونینوں پر پابندی کے ذریعے تعلیم نظام میں بہتری لانی ہوتی تو وہ جمعیت اور دیگر مذہبی اور لسانی تنظیموں کی پشت پناہی نہ کرتے۔ اصل مقصد حقیقی سیاسی طاقت کو روکنا تھا کہ طلبہ جس کا اہم بازو تھے اور جو مارشل لا کو چیلنج کر رہی تھی۔ اس لیے اصل سیاسی جماعتوں کی جگہ مذہبی اور لسانی فاشسٹ گروپوں کو دی گئی۔

یہاں سے این ایس ایف، لبرلز، یو ایس ایم اور بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں کا زور ٹوٹا اور ان کی جگہ لی جمعیت، اے پی ایم ایس او، پختوں ایس ایف، پنجابی اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن اور جئے سندھ نے۔ مارشل لا والوں نے طلبہ یونین دور کی لاٹھیوں اور ہاکیوں کو جواز بنا کر یونینوں کو ختم کیا اور اپنی پروردہ فاشسٹ سوچ کی حامل مذہبی اور لسانی تنظیموں کو اسٹین گنیں اور کلاشنکوفیں فراہم کیں۔ یہاں بھی نیت تعلیمی اداروں میں امن کا قیام نہیں بلکہ امن کا بگاڑ تھی ورنہ کیا امر مانع تھا کہ وہ خفیہ والے جو چار طلبہ کے جلسے سے پہلے آن دھمکتے تھے۔ وہ جو فوٹو اسٹیٹ مشینوں میں سے ہمارے مارشل لا مخالف ہینڈ بلوں اور پمفلٹوں کی بو سونگھ لیا کرتے تھے اسی مارشل لائی دور میں انٹلی جنس کے بھیڑیوں کی ناک کے نیچے سے گزر کر آتشیں اسلحہ تعلیمی اداروں میں کیونکر رائج ہوا۔ صاف نظر آتا ہے کہ ایسا آمریت کی مرضی سے ہوا اور ارادتاً کیا گیا۔ البتہ لسانی، فرقہ ورانہ، اور جہادی لٹریچر کے فوٹو اسٹیٹ ازم پر کوئی پابندی نہیں تھی گویا سرکاری سرپرستی حاصل تھی۔

حیرت نہیں ہونی چاہیئے کہ ان کو مارشل لا والوں نے کھل کھیلنے کا موقع دیا۔ مارشل لا آمریت نے اس ملک میں لسانی اور مذہبی طلبہ تنظیموں کو پروان چڑھایا۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ گروپ بنانا انسانی فطرت ہے۔ مثبت سیاسی گروپ نہ ہونے سے گروپ بنانا تو ختم نہیں ہو جاتا، صرف اس کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ نیشنل ایشوز کے اصول پر گروپ نہیں بنیں گے تو زبان اور عقیدے کی بنیاد پر بنیں گے پر بنیں گے ضرور کہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے۔ اسی طرح جمہوری نظام کو غیر جماعتی سیاست کی صورت میں \’\’مفلوج\’\’ کروانے کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ سیاسی نظریات کی بنیاد پر گروہ بند ہونے کے بجائے علاقائی، لسانی، اور مسلکی بنیادوں پر منسلک ہوگئے اور وہی مسلکی گروہ آج پاکستان کو منہدم کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔ ثابت ہوا کہ سیاسی نظریاتی گروہ بندی کو مٹانے کا نتیجہ لسانی، علاقائی اور مسلکی گروہ بندی کی صورت میں نکلتا ہے۔

آج 32  سال بعد کوئی عقل کا اندھا ہی یہ کہہ سکے گا کہ طلبہ تنظیموں پر پابندی لگنے سے کوئی بہتری آئی۔ یونینوں اور ان کو منتخب کرنے کا قانونی طریقہ ختم ہوگیا لیکن تنظیمیں ختم نہیں ہوئیں کیونکہ گروپ بنانے کی انسانی فطرت کو بدلا نہیں جا سکتا۔ لہٰذا گروپوں میں برتری کے تعین کے لئے تنظیموں کے مابین الیکشن کا راستہ روکے جانے کے سبب سر پھٹول ہوئی اور تعلیمی اداروں میں الیکشن کے دوران ہونے والی معمولی نوعیت کی چپقلشوں کی جگہ مہلک تشدد نے لے لی اور جو آج بھی جاری ہے۔

حل یہی ہے کہ طلبہ تنظیموں کے بیچ برتری کی اس کشمکش کو چینلائز کیا جائے۔ ان کو یہ امید دلائی جائے کہ طاقت کے بل پر نہیں طلبہ کی پسند اور ووٹ کے بل پر برتری قائم کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح ہارنے والے کو بھی امید رہے کہ پکچر ابھی باقی ہے۔ اس بار نہیں تو اگلے برس سہی۔ یہ خیال نہ ہو اور برتری کے تعین کے لئے جمہوری قانونی راستہ بند ہو کیوں کہ قانون تو پھر بھی رہتا ہے بس اس کا عنوان جس کی لاٹھی اس کی بھینس ہو جاتا ہے۔

جمہوری حکومت دوسری مدت پوری کرنے جا رہی ہے۔ تیسرے جمہوری الیکشن صرف ایک سال دور ہیں۔ جمہوری روایتوں کی اہمیت اپنی جڑیں گہری کر رہی ہیں لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ تنظیموں کو قانونی راستے سے ووٹ کے ذریعے اپنی برتری ثابت کرنے کا موقع دیا جائے۔ تشدد کا راستہ صرف اسی صورت روکا جا سکتا ہے جب معاملات طے کرنے کے مہذب اور جمہوری راستے موجود ہوں۔ صرف اور صرف اکثریت کے فیصلے پر مبنی حل ہی وہ واحد راستہ ہے جو تشدد کو روکنے کی کسی نسبتاً بہتر صلاحیت رکھتا ہے، ہر وہ راستہ جو اس اصول سے ہٹ کر گزرتا ہو صرف اور صرف وحشت اور بربریت کے شہر پہنچتا ہے۔

نئی نسل کو تشدد سے دور رکھنا ہے تو ان کی سرگرمیوں کو جمہوری اصولوں پر استوار کرنا ہوگا اور اس کے لئے طلبہ یونینوں کی قانونی حیثیت اور اسٹوڈنٹس یونینوں کے الیکشن کے نظام کو بحال کرنا ہوگا تا کہ کل ہماری اسمبلیوں میں رضا ربانی جیسے مزید عظیم مدبر بھی بیٹھے ہوں۔

Facebook Comments HS