درست سمت کا یقین


\"Rashidدرست سمت پر روانگی کے بیانات ہر دور حکومت میں پورے وثوق کے ساتھ دیئے جاتے رہے ہیں۔ اب بھی ایسی ہی پیغامات حکومتی حلقوں کی جانب سے عوام تک پہنچائے جا رہے ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ماضی میں بھی ہم سب یہی سنتے آئے ہیں کہ ملک مسلسل بہتری کی طرف آگے بڑھ رہا ہے۔ ایک اور رجحان ہے جو خطرہ محسوس ہوتے ہی کہتا ہے کہ ملک \”نازک موڑ پہ ہے\”۔ اس یقین کے ساتھ کہ کبھی نہ کبھی یہ ترقی عوامی دہلیز تک پہنچ جائے گی۔ جتنا بھی لمبا سفر ہو اور جتنے کٹھن راستے ہوں بحرحال منزل تک رسائی حاصل ہو ہی جاتی ہے۔ لیکن دوسری طرف جب ملک کے حالات پہ نطر پڑتی ہے تو پھر سمت سے ڈر لگتا ہے، طرح طرح کے وہم سر اٹھاتے ہیں کہ ہر بار بار ایک جیسی باتیں سن لیتے ہیں مگر بہتری کی کوئی شکل نجانے کیوں بن نہی پا رہی۔ ایک طرف قرض کی معیشت کا جال ہے جس میں پھنسے جانے کی اطلاع بھی ہے اور دوسری طرف امداد کے نام پہ دامن پھیلائے موجود ہیں جیسے مخلوق اپنے خالق کے دربار میں کھڑی ہو کر مانگتی ہے۔ قرض کی سمت بلند ہے اوپر کی طرف جاتی ہوئی شاید یہی درستگی ہے کہ ہم ہر سال بیرونی قرضوں کی نشو و نما کر رہے ہیں اور گزشتہ 13 سالوں میں تاریخ کی سب سے بلند سطح کو بھی پچھلے مہینے دیکھ لیا۔ مگر سمت کا جہاں تک تعلق ہے وہ بدستور ترقی کی طرف ہے، بھئی اسے کیا جانیں؟ ایسی میٹھی گولیاں لیتے لیتے ایک دور گزر گیا ہے مگر ہم تو بہتری کی طرف لپکےجا رہے ہیں بہتری نے اب شاید لوگوں کو اژدھے کی مانند نگلنا ہے تب کہیں جا کے تسلی ہو گی ورنہ یہ حالات بھی کم نہیں ہیں۔ خدا کے ہاں تلافی میں اتنی دیر نہیں ہوتی اور نہ بہتری میں اتنی رکاوٹیں حائل ہوتی ہیں۔ جتنی دیر ان دنیاوی درباروں میں لگتی ہے۔

اس سب کے باوجود ہمیں عزت نفس کی قربانی پہ کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ ہمیں قرض ملتا رہے اور اس کے بدلے میں ہم اپنی قومی مفادات کو داؤ پہ لگاتے رہیں گے۔ ہم احسان فراموش نہیں یا پھر عالمی طاقتیں اتنی احسان فراموش ہیں کہ ہر مشکل گھڑی میں ہم اکیلے کھڑے ہوتے ہیں۔ ہم نے اپنی حیثیت کو پوری دنیا میں آج ایک سوال بنا دیا ہے مگر ہم مسلسل ان کاری بھی ہیں۔ اب منکر کا علاج اس لئے نہیں ہو سکتا کہ اپنی اصلاح کی گنجایش کو تسلیم نہیں کرتا، جب مانے گا نہیں کوئی تو اس سے یہ توقع کیسے رکھی جا سکتی ہے کہ وہ درست سمت مین ہمیں لئے جا رہے ہیں۔ ہمین صاف دکھائی دیتا ہے کہ رہنماؤں کی منزلیں اور پیروکاروں اور معتقدین کی منزلیں جدا ہیں۔ یہ ہر سال کو اچھا کہنے کی نوید دیتے ہیں مگر شاید ان کے فیصلوں سے ان کی اپنی اچھائی کا کوئی راز ہو جو عیاں نہیں۔ ان کے مسائل جدا ہیں ان کی ترجیحات میں فرق ہے ان کے روز کے تجربات کی تلخی مختلف ہے۔ ان کے کھانے مختلف، یہ پہنتے مختلف، عام آدمی کی اولاد ٹاٹ کے سکولوں میں مستقبل کے سحر انگیز خیالات میں ڈوبے ہوئے ہیں کہ نجانے کب عملی زندگی کا گرم، گرد آلود بگولا اٹھا کے انہیں دنیا کی دھول میں اڑا دیاتا ہے۔ یہ سپنوں کی صلاحیت سے محروم ہو کر روٹی کی فکر میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف قائدیں کے بچوں کو یہ تک معلوم نہیں کہ \”ٹاٹ\” ہوتی کیا ہے اور کس کام آتی ہے۔ بے روزگاری جو اس قدر شدت کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے اس کو قابو کرنے کے لئے صرف اچھی اچھی باتیں نہیں بلکہ ٹھوس اقدامات کی ضرورت پڑے گی۔

ہمارے ہاں حادثات ہی تبدیلی کا باعث بنتے ہیں اور حادثات کے نتیجے میں ہونے والی تبدیلی نہایت کم ہی سود مند ثابت ہوتی ہے۔ ایسے حادثات کی وجوہات پہ دھیان نہ دینے کی وجہ یقینا یہی ہے کہ عام آدمی کی زندگی ایسے واقعات میں زیادہ متاثر ہوتی ہے اور ان کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ کوئی فرق نہیں پڑتا اور تقدیر کو یہی منظور ہوتا ہے۔

راہ چلتے کوئی اندھی گولی کسی راہ گیر کی کھوپڑی کو پار کر جاتی ہے اور خون میں لت پت اس پیدل چلنے والے انسان کی دنیا سے بے دخلی کا پروانہ کیا اہمیت رکھتا ہے اور ویسے بھی قدرت کا کام ہے اس میں کس کا دخل ہو سکتا ہے۔ کچھ عرصہ کسی گمنام قاتل کے نام سے مقدمے پہ غور ہو گا پھر دنیا کی اس بڑی سکرین پہ عام آدمی کی کوئی نئی فلم لگ جائے گی۔ یہ دکھ اور درد سمٹ کے ایک گلی میں آئے گا پھر منہ چھپا کے ایک گھر میں داخل ہو جائے گا اور پھر سب افراد کی مسکراہٹ کو کچھ عرصے کے لیے غائب کرتے کرتے ماں کے سینے پہ کسی جونک کی طرح چمٹ جائے گا۔ سب اس غم سے آزاد ہو جائیں گے مگر ماں کی آغؤش میں یہ غم تا دم مرگ موجود رہے گا۔

فرقہ واریت کا عفریت کسی نوجوان کے لہو کو گرما کے بخشش کی مراعات کے عوض سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کو سلب کر لیتا ہے۔ عقیدت اور حریت کے نام پہ جو استحصال ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں جو لاشیں گرتی ہیں اس میں بھی قدرت ہی کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ حالانکہ خدا نے زندگی کو اس بے دردی سے ختم کرنے کا کوئی حکم نہیں دیا۔

جان لیوا بیماریوں کے حملے کی بر وقت تشخیص کی سہولت ممکن نہیں اور سسک سسک کر مرنے کے بعد بڑی آسانی سے کہہ دیا جاتا ہے کہ وقت پورا ہو گیا باقی تو فقط بہانہ تھا۔ جب کہ حالات کا اتنا سنگین اور گھناؤنا کردار ہماری توجہ نہیں حاصل کر سکتا۔ مہنگی ادویات کو خریدنے کی سکت نہ رکھنے پہ لوگ میڈیا پہ آ کے اپیل کرتے ہیں اور پھر ریاستی ذمہ داران کو خیال آتا ہے اور اپنی سخاوت کے پہتے چشموں سے چلو بھر پانی کسی مسکین کو پلا کے نہ صرف داد وصول کرتے ہیں بلہ خود پسندی کو مزید اور پہلے سے زیادہ اپنبا لیتے ہیں۔ عام آدمی اس کو احسان سمجھ کر اپنا سر جھکا لیتا ہے وہ نہیں جانتا کہ جو کچھ اسے دیا گیا وہ اس کا حق تھا اور حق کو حقدار تک پہنچانا فرض ہوتا ہے نہ کہ احسان۔۔۔ جس کے بوجھ تلے وہ اپنے آپ کو دبتا محسوس کرتا ہے۔

ریاستی قوانین کا اطلاق اکثر سمجھوتوں تک محدود ہو جاتا ہے اور عام آدمی نگاہیں انصاف کے انتظار مین لگا کر اس کی راہ تکتے تکتے اپنی بینائی کھو دیتا ہیے۔ یہ کیسی سمت ہے جس کی درستگی کے دعوے تو بہت ہوتے رہے ہیں لیکن اس سمت نے کسی بہتری کا کوئی اشارہ نہیں دیا کسی سائے کی کوئی جھلک دکھائی دیتی ہے، نہ کسی غیر آلود ہوا کا گزر ہوتا ہے۔ لوگ مر رہے ہیں اور درخت بری طرح کٹ رہے ہیں۔ سائنس میں پڑھا تھا کہ دونوں جاندار اشیا میں شمار ہوتے ہیں تو کیا یہ جان کی قربانی ان کی اپنی رضا کے لئے دی جا رہی یا جان جسے قدرت نے عطا کیا وہ چھینی جا رہی ہے۔ نجانے کیوں اس سب کو قدرت کا امتحان کہ کر خود کو اس سارے معاملے سے یوں دور کر لیا جاتا ہے کہ ہم اس تباہی میں شریک نہیں۔ نہ ماحول کو جینے کے قابل چھوڑا ہے نہ حالات ایسے رہنے دئے ہیں کہ لوگ زندگی کو گزارنے کی بجائے سنوارنے کا سوچتے خود جینے کے ساتھ ساتھ دوسروں کی زندگیوں کا بھی احساس کرتے۔ یہ سب اختیار قدرت نے کبھی چھینا نہیں، مگر ہم نے ہمیشہ ایسی وجوہات کو تراشا جو دراصل بہانے تھے۔ ہر نئے دور میں پچھلے دور کی بے ضابطگیوں کو الزام دیا جاتا ہے اور ایسا ہم مسلسل سنتے اور دیکھتے آئے ہیں۔ عقیدت اور احترام کی اقدار ہمارے سماج کا حصہ ضرور ہیں ہمارا یقین کہتا ہے کہ یہ اقدار ہمیں گمراہی سے بچائے رکھنے میں مدد فراہم کریں گی لیکن ایسا نہیں ہیو سکتا کہ خدا کی تلقین کو ہم بھول جائیں جو ہمیں عقل کے استعمال پہ اکساتی ہے۔ ہر صفت کو اعتدال پہ رکھ کر ہی درست سمت کا فیصلہ ہو سکتا ہے نہ کہ زبانی ورد کرنے سے سمت درست ثابت ہو جائیگی۔

Facebook Comments HS