اٹھارہویں ترمیم آخر ہے کیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اٹھارہویں ترمیم کے نقصانات اقلیتوں کے لئے بھی زیادہ ہیں۔ اقلیتوں کو بھی صوبوں کی طرح تقسیم کردیا گیا۔ سندھ کے ہندو دوسرے شہروں اورصوبوں کی طرف ہجرت کرنے پہ مجبور ہوگئے کیونکہ ان کی عزتوں کو خطرہ ہے۔ عید کے دنوں میں غریبوں نے خودکشیاں کیں کیونکہ بچوں کو کچھ نہیں دے سکتے تھے۔

حالیہ بجٹ اجلاس کے دوران ایک اقلیتی ممبر سندھ میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا رونا روتے ہوئے اٹھارہویں ترمیم کو ختم کرنے کا مطالبہ کررہے تھے۔
اٹھارہویں ترمیم آخر ہے کیا؟ ہمارے ہاں لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید کوئی ایک آدھ شق کا اضافہ ہوا یا کوئی شق حذف ہوئی جبکہ ایسا نہیں۔

چلیں آج آپ کو اس کا مختصر سا تعارف کروا دیتی ہوں۔ جیسے کہ اس میں ایک دو نہیں بلکہ تقریبا 100 آئینی مقامات پر تبدیلیاں کی گئیں۔ جن میں اہم بات صوبائی خودمختاری ہے۔ یعنی صوبوں کے جو اختیارات وفاق کے پاس تھے وہ انہیں دے دیے گئے اب صوبے جانیں اور ان کے باشندے جانیں وفاق بری الذمہ ہوگیا۔ اسی بات کا اقلیتی رہنما شور مچاتے ہیں کہ ہماری کوئی سنتا نہیں اور سیاسی قیادت صوبائی خود مختاری کا تمام تر فائدہ خود سمیٹ رہی ہے۔

دوسری بات سیاستدانوں نے مارشل لاء کا راستہ روک دیا۔ ریاست اور آئین سے غداری میں ملوث افراد کے لیے سخت سزائیں تجویز کی گئی کہ آئندہ کوئی فوجی جنرل آئین توڑنے کی جرات نہ کرسکے۔ اس میں اعلی عدلیہ کو بھی سرینڈر کروادیا گیا کہ آئین توڑنے والے کو غدار قرار دیا جائے گا اور اس کی سزا کو چیف جسٹس بھی معاف نہیں کرسکے گا یعنی سخت کارروائی کی جائے گی۔ مزید یہ کہ صدر کے اختیارات محدود کردیے گئے تھے اور صدارتی اختیارات پارلیمان کو منتقل کیے گئے۔ مطلب یہ کہ پارلیمانی نظام کو فوقیت دے دی گئی۔

یہ مختصر سا تعارف یہ سمجھانے کے لئے دیا کہ عام آدمی سمجھ لے کہ زرداری صاحب کیوں اس ترمیم کا ذکر بڑے فخر سے کرتے ہیں کہ انہوں نے قوم کو کسی بڑی مصیبت سے نکال لیا۔ آپ خود ہی فیصلہ کر لیجیے کہ اس میں عوام کو کتنا تحفظ ملا اور سیاستدانوں کو خود کتنا فائدہ ہوا۔ عوام کا حال تو اقلیتی نمائندگی نے بتا دیا آپ کو۔

میرے نزدیک اٹھارہویں ترمیم کی سب سے اہم شق 5 سے 16 سال کی عمر تک تعلیم مفت اور ہر شہری کے لئے لازمی قرار دینا تھی جسے یقینی بنانے کا عزم تو کیا گیا لیکن اس پر رتی برابر بھی توجہ نہ دی گئی۔ آج بھی حصول علم پاکستانیوں کا خصوصا غریب اور اب اس مہنگائی کے عالم میں متوسط طبقے کے لئے بھی بڑا مسئلہ ہے۔ پرائیویٹ سکولزکی فیسوں کو تو چھوڑئیے جو اخراجات وہ ہر سال نصاب کی تبدیلی اور یونیفارم میں ردوبدل کے بہانے والدین کے کندھوں پر ڈالتے ہیں وہ ان کی کمر تو کیا نا دکھائی دینے والے خواب تک توڑ دیتے ہیں۔

سرکاری سکولوں کے اساتذہ سے لے کر عمارت تک ہر بات میں انقلابی تبدیلیاں درکار ہیں کیونکہ علمی بددیانتی اور خیانت یہاں عام ہے۔ طلبہ کا استاد کا احترام نہ کرنے کے پیچھے خود استاد کا بڑا ہاتھ ہے۔ اپنے پیشے کی توقیر سلامت نہ رکھ سکتے والے عزت کو اپنا حق نہ سمجھیں۔ یہاں دل لرزا دینے والی داستانوں ہیں کہ مقدس درسگاہوں کو نفسانی خواہشوں نے عزت و عظمت کی پامال گاہ بنا ڈالا۔ انسانیت شرمسارہوئی اور کہیں چھپ گئی۔

یہ ایک ایسا سنگین مسئلہ ہے جو قوم کی جڑوں میں دیمک کی طرح جا چپکا۔

علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔ یہ حکم خداوندی بھی ہے اور ضرورت بھی لیکن دیکھئے ہم نے اپنے فرض کے ساتھ کیا کیا! ہم نے علم کو دولت اور ہوس جیسی بلاوں کے سپرد کردیا۔ آپ کے پاس پیسہ ہوگا تو آپ تعلیم کے حقدار ہیں دوسری صورت میں سکولوں کالجوں میں تذلیل تضحیک اور بعض صورتوں میں بے حرمتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ استاد کا شاگرد سے رشتہ احترام کا نہیں مفاد کا رہ گیا۔ دولت مند گھرانوں کے بچے استاد کا احترام نہیں کرتے جبکہ غریب گھرانوں کے بچوں کی اساتذہ بے توقیری کرتے ہیں۔
اٹھارہویں ترمیم اگر صرف اس ایک شق پہ عملدرآمد کروا لیتی کہ ہر شہری کی تعلیم یکساں طور پر لازمی اور مفت ہے تو ہم کہتے کہ ہاں زرداری صاحب کا داد وصول کرنا بنتا ہے!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سعدیہ کیانی کی دیگر تحریریں
سعدیہ کیانی کی دیگر تحریریں