لڑکیوں کو کیوں چھیڑا جاتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کوئی سڑک ہو یا پارک، بس سٹاپ ہو یا دفتر لڑکیوں کو چھیڑے جانے کے واقعات ہر جگہ رُو نما ہوتے ہیں۔ میں نے ایک بار مال روڈ پرایک لڑکے کو ایک ایسی لڑکی پر آوازہ کستے ہوئے دیکھا جو مغربی طرز کا لباس زیبِ تن کیے ہوئے تھی۔ لڑکی نے پلٹ کر دیکھا نہ کوئی بات کی۔ اس کی رفتار میں فرق آیا اور وہ تیز تیز چلتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔ میں نے جب اس لڑکے سے پوچھا کہ اس کے اس عمل کی وجہ کیا ہے تو اس نے منہ بنا کر جواب دیا: ”آپ نے اس کے کپڑے دیکھے تھے؟ وہ خود چھِڑنے آئی تھی۔“

مجھے اس کا جواب مطمئن نہیں کر سکا۔ کیا واقعی لڑکی کا لباس یہ طے کرتا ہے کہ اُس کے ساتھ کیسا سلوک کیا جائے؟ بہت سے لوگ ایسا ہی سمجھتے ہیں۔ بد اخلاق اور بد کردار افراد اپنی مذموم حرکات کا یہی جواز پیش کرتے ہیں اور اپنے تئیں خود کو بے قصور ثابت کرنے کی نا کام کوشش کرتے ہیں۔ حالاں کہ حقیقت اس کے بر عکس ہے۔

کہیں پر کسی لڑکی کو چھیڑا جائے تو اکثر لوگ دبے لفظوں میں کہتے ہیں کہ ضرور لڑکی کا کوئی قصور ہو گا۔ مثلاً وہ باہر نکلی ہی کیوں تھی؟ اسے اکیلے جانے کی ضرورت کیا تھی؟ اس نے کپڑے ایسے پہنے ہوں گے؟ لڑکی نے کوئی اشارہ دیا ہو گا، تبھی تو فلاں کی ہمت ہوئی وغیرہ وغیرہ۔ ایک طبقہ فوراً ایسے موقع پر پردے کی اہمیت اور لڑکیوں کے باہر نہ نکلنے کے فوائد پر روشنی ڈالنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔

دنیا کا ہر شخص چاہتا ہے کہ وہ اچھا دکھائی دے۔ وہ اچھا لباس پہنتا ہے۔ بالوں کی تراش خراش سے جوتے کے ڈیزائن تک بہترین کا انتخاب کرتا ہے۔ کیا مرد باہر نکلتے ہوئے اپنے بالوں کو بگاڑ لیتے ہیں یا پریس شدہ کپڑوں کو اچھی طرح مسل کر ان پر سلوٹیں ڈال کر پہنتے ہیں؟ کوئی مرد اپنے آپ کو بد نما بنا کر باہر نہیں نکلتا بلکہ بنا سنوار کر ہی نکلتا ہے۔ کسی لڑکی نے تو کبھی نہیں کہا کہ فلاں مرد بہت بن سنور کر نکلا تھا، اس لئے میں نے اسے چھیڑا ہے۔

بات نہ بننے سنورنے کی ہے نہ لباس کی۔ مسئلہ سوچ کا ہے۔ جو لڑکے لڑکیوں کو چھیڑتے ہیں، دراصل وہ اپنے پراگندہ خیالات اور پست سوچ کو چھپانے کے لیے اس طرح کے عذر تراش لیتے ہیں۔ یعنی اگر کوئی لڑکی خوبصورت نظر آ رہی ہے، اپنے لباس یا بناؤ سنگھار سے پر کشش لگ رہی ہے تو صنفِ مخالف کو حق حاصل ہو گیا ہے کہ وہ اسے چھیڑیں۔

یہ بھی خوب نظریہ ہے کہ لڑکیا ں چادر لپیٹ کر چار دیواری کے اندر رہیں، باہر کبھی نہ نکلیں اگر انتہائی ضرورت ہو تو کسی مرد کے ساتھ باہر جائیں۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ باہر جاتے ہوئے کسی لڑکی کے ساتھ اس کے بھائی کو بھیجا جاتا ہے جو اس لڑکی کے ساتھ چلتے ہوئے ہر راہگیر کو کھا جانے والی نظروں سے گھور رہا ہوتا ہے کیونکہ وہ خود جب اکیلا باہر نکلتا ہے تو اپنے محلے کی لڑکیوں سے لے کر دور دراز کے شہروں تک وہ ہر رنگ اور ہر شکل کی لڑکی کو چھیڑ چکا ہوتا ہے۔

یقین کیجیے کہ جو لڑکیاں برقع پہن کر یا بڑی بڑی چادروں میں خود کو چھپا کر نکلتی ہیں چھیڑے جانے کے واقعات ان کے ساتھ بھی ہوتے ہیں۔ چھیڑے جانے کے لئے کسی کا محض لڑکی ہونا ہی کافی ہے بلکہ اگر کسی جھاڑی پر دُپٹا ڈال دیں تو فرسٹریشن کے مارے ہوئے نوجوان اسے بھی چھیڑیں گے۔

اصل مسئلہ ہی فرسٹریشن ہے۔ جس معاشرے میں سینما جانے پر نوجوان کو سرزنش کی جاتی ہو، فٹ بال، ہاکی اور کرکٹ کھیلنے والے کو نکما، نا لائق اور بے کار سمجھا جاتا ہو، سیر و سیاحت کرنے والے کو آوارہ کہا جاتا ہو، موسیقی سے شغف رکھنے والے کو مراثی کا طعنہ دیا جاتا ہو، مصوری اور رقص سیکھنے والے کو وعظ و نصیحت سے سیدھے راستے پر لانے کی کوشش کی جاتی ہو، ادبی ذوق رکھنے والے اور شاعری کرنے والے کو حسن پرست، دل پھینک اور اس سے گھٹیا درجے کے القابات دیے جاتے ہوں وہاں فرسٹریشن اور جنسی گھٹن کے مارے ہوئے نوجوان ہی پیدا ہوتے ہیں۔

ایسے میں اگر لڑکیاں چھیڑے جانے سے محفوظ نہیں ہیں تو حیرت کی کوئی بات نہیں ہے۔ جب تک لڑکیوں کو انسان نہیں سمجھا جائے گا معاشرے میں کسی تبدیلی کا آنا ممکن نہیں ہے۔ بعینہ اگر لڑکیوں کو کسی دوسرے سیارے کی مخلوق بنا کر رکھا جائے گا تو ایسے واقعات میں اضافہ ہی ہو گا کمی واقع نہیں ہوگی۔ عورت بھی اسی زمین کی خاکی مخلوق ہے بہتر ہے کہ اسے بھی اس سماج کا ایک فرد ہی سمجھا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •