جنس عورت اور فرشتوں کی لعنتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فرحت ہاشمی ایک بہت قابل لائق فائق خاتون سمجھی جاتی ہیں۔ ان کو سننے اور ماننے والے بہت ہیں۔ ایک تازہ ویڈیو خطاب میں انہوں نے عورت کے فرائض بیان کیے اور صاف صاف کہہ دیا کہ بیوی اپنے شوہر کی خواہش اور طلب پر ہر دم خود کو حاضر رکھے۔ شوہر کی جنسی بھوک کو مٹانا بیوی پر فرض ہے اور حدیثوں سے ثابت کر دیا کہ شوہرکو ”نہ“ کہنا گناہ میں شامل ہے۔

توقع کے عین مطابق مردوں نے اس پر بڑے مثبت کامینٹس دیے۔ ان کے بیانیے کو خوب پذیرائی ملی۔ عورتیں بے چاریاں چپ ہیں۔ ان سے پوچھتا ہی کون ہے کہ وہ کیا چاہتی ہیں۔ دبی دبی سی سسکیاں اٹھیں۔ ایک آدھا کامینٹ آیا بھی تو پدر شاہی غرا کر جھپٹی۔

اسلام کی نظر میں سب انسان برابر ہیں۔ اسلام میں جنس کی بنیاد پر عورت مرد کی کوئی تفریق نہیں۔ اسلام میں عمل اور اجر میں بھی مرد وعورت مساوی ہیں۔

قرآن پاک کے علاوہ کئی احادیث رسولؐ میں بھی عورتوں کے حقوق، فرائض اور ان کی معاشرے میں اہمیت کا ذکر موجود ہے۔ ایک حدیث کے مطابق تو عورت کو نازک آبگینوں سے تشبیہ دی گئی ہے، تو کیا یہ نازک آبگینے سخت رویے کی ٹھیس برداشت کرسکتے ہیں؟ عورت کو اس کی خوشی اور رضا کے بغیر چھونا یا خود کو مرد کے سامنے بالجبر پیش کرنا یا پیش ہونے پر مجبور کرنا بھی تو جبر ہے اور ہمارا دین تو واضح طور پر کہتا ہے کہ اس میں ”اکراہ‘‘ یعنی جبر نہیں ہے۔

تسلیم کیا جاتا ہے کہ اسلام دینِ فطرت ہے تو جنسی عمل بھی عین فطرت کے مطابق ہے۔ جبکہ عملی اعتبار سے دیکھیں تو جنس مذہب سے زیادہ انسان کی فطرت، اس کی امنگوں اور خواہشات کا موضوع ہے۔ مرد و زن کے بیچ ہونے والے جنسی عمل میں دونوں برابر کے فریق ہیں، تو یہ جنسی عمل بیوی کے لیے بھی اتنی ہی تسکین کا باعث ہونا چاہیے۔ لیکن عورت کے جذبات اور خواہشات کو نظرانداز کر کے جب مرد صرف اپنے لیے لمحاتی لذت کشید کرتا ہے تو عورت اسے اپنے جسم کا استحصال سمجھتی ہے۔ عورت کوئی دستر خوان تو نہیں جہاں جنسی بھوک مٹائی جائے۔ زن و مرد کا یہ باہمی ملاپ خوشی اور تسکین کا باعث نہ ہو تو یہ صرف ایک حیوانی عمل ہی کہلائے گا۔

عورت کو مرد کی نظریں ہی بتاتی ہیں کہ وہ عورت ہے۔ چہرے اور جسم پر اٹھنے والی مرد کی نظر عورت پہچان لیتی ہے، کہ کب کس نظر پر اس نے مسکرانا ہے اور کس نظر پر ناگواری سے سمٹ جانا ہے۔ اگر شوہر کو اپنی بیوی کے جسم اور جذبوں کے اسرار نہیں پتا تو شادی کے رشتے میں بھی ریپ ہی ہو گا نا۔ جب مرد اس حقیقت سے لا علم رہیں کہ عورت کو چھونا کیسے ہے تو عورتوں کے جذبات اور جسم ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں۔ ان میں مرد کا لمس آگ لگاتا ہی نہیں۔ اور پھر عورت کی اس جنسی و جذباتی بیزاری کو دبانے کے لیے ایسی حدیثیں و تاویلیں گھڑی جاتی ہیں۔

فرحت ہاشمی صاحبہ آپ کا علم کتابی ہے۔ اس طبقے سے تعلق ہے جو ساری عمر اپنے جسم کی نفی میں گزارتے ہیں کہ ہمارے ہاں عورت کو ابتدائی عمر سے ہی ڈھانپ ڈھانپ کر اسے اس کے جسم سے شرم دلائی جاتی ہے۔ پھر وہ اپنے ہی جسم کی مانگ کو محسوس کرنا بھی گناہ سمجھتی ہے۔ آپ جنسی عمل سے محبت کو نکال کر اس کی جگہ محض فرض اور ذمہ داری کو ڈال کر کیا اسے ایک بیگار نہیں بنا رہیں؟ محض مرد کو خوش کرنے یا آخرت سنوارنے کے لیے خود پر جبر کرتے ہوئے مرد کے ساتھ جنسی عمل کو آپ عورت کے لیے یک طرفہ بنا رہی ہیں۔

جنس مذہب کے کلیوں قاعدوں سے بڑھ کر انسانی فطرت اس کی امنگوں اور خواہشات کا معاملہ ہے۔ یہ دو جمع دو چار والی بات ہے۔ حلال اشیا بھی درست ترتیب سے نہ کھائی جائیں تو وہ مضر صحت ہو جاتی ہیں۔ ہر کام کا ایک سلیقہ ایک ترتیب ہوتی ہے۔ مرد اگر سیکس میں عورت کے جذبات کا احساس کرے گا اور اسے بھی اس عمل سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملے گا تو مرد کو مذہب کی آڑ لے کر چھڑی سے عورت کو پیٹنا ہی نہیں پڑے گا۔ اور نہ ہی ان روایات کی رسی سے باندھ کر اس اپنے بستر پر ذبح کرنا پڑے گا۔

مرد کے جنسی جذبات بڑی آسانی سے امڈ آتے ہیں۔ وہ تو کم سِن بچیوں اور ذہنی نا بالغوں کو دیکھ کر بھی بھڑک اٹھتے ہیں۔ لیکن عورت کا دل جب تک اس پر آمادہ نہ ہو وہ اسے ایک نا خوشگوار عمل سمجھتی ہے تو اسے نکاح کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ نکاح کے بعد بیوی پر تابع فرمانی فرض ہے، شوہر پر بھی تو دل داری فرض ہے۔ نکاح تو تبھی جائز ہے جب دونوں فریق اس پر راضی ہوں۔ کہیے کتنی لڑکیوں سے واقعی ان کی مرضی پوچھی جاتی ہے؟ کتنی اپنے دل سے اس پر راضی ہوتی ہیں؟ یا لڑکی اس مرد کے لیے دل میں جذبات رکھتی ہے؟ وہ مرد اس کے لیے جاذب نظر ہے؟ کیا وہ تصور میں اس کے قرب سے خود کو خوش دیکھتی ہے؟

فرحت صاحبہ آپ یقینی طور پر ایک اچھی زندگی گزار رہی ہیں۔ نام کے ساتھ ڈاکٹر بھی لگا ہے۔ ڈگری ہولڈر ہیں۔ پھر بھی اپ اس قدر لاعلم کیوں ہیں؟ جب آپ کے شوہر کمرے سے آواز لگا کر آپ کو طلب کرتے ہیں تو کیا آپ ہر دم حاضر سروس ہوتی ہیں؟ اپنی خوشی سے؟ اگر ہاں تو آپ خوش قسمت ہیں لیکن اگر فرشتوں کی لعنتوں سے ڈر کر؟ تو آپ کی حثیت ایک جنسی کھلونے سے زیادہ نہیں۔

آپ کینیڈا میں ایک پر تحفظ زندگی گزار رہی ہیں۔ جائیے پاکستان میں تبلیغ کیجیے۔ وہاں کی عورتوں سے ملیں۔ پوچھیں ان سے کہ وہ روز کن کن عذابوں سے گزرتی ہیں۔ مردوں کو علم دیجیے کہ عورتیں انسان بھی ہیں۔ ان کے جذبات بھی ہیں۔ آپ کے یہ فرشتے ان مردوں پر لعنت کیوں نہیں بھیجتے جو خود تو آسودہ ہو جاتے ہیں لیکن بیوی کی پیاس کا احساس تک نہیں ہوتا۔ آپ کوئی حدیث عورت کی اس جائز خواہش کو پورا کرنے کی ہدایت پر بھی نکالیے یا آپ کا علم ادھورا ہے؟ عورت کے وقار کو اہمیت دیجیے۔ کیا یہ عورت کے انسانی وقار کے مطابق ہے کہ وہ شوہر کی جنسی غلام بن کر رہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •