خبروں کو تڑکا کیسے لگا سکتے ہیں (ڈیو بیری)۔


\"dave-barry\"

امریکہ کے متعلق ایک بہترین چیز یہ ہے کہ اخبارات جو چاہیں وہ چھاپ سکتے ہیں۔ اور دوسری بہترین چیز یہ ہے کہ کوئی شخص بھی مجبور نہیں ہے کہ وہ یہ سب خرافات پڑھے۔

امریکہ میں پریس کی آزادی کو پانچویں آئینی ترمیم کے ذریعے یقینی بنایا گیا ہے۔ یہ ترمیم کہتی ہے کہ ”تم اپنے ہمسائے کی بیوی پر بری نظر نہیں رکھو گے“۔ نہیں نہیں، ایک منٹ، یہ تو بائبل کے دس خدائی احکامات میں سے ایک ہے۔

بہرحال آئین جو کچھ بھی پریس کے متعلق کہتا ہے، امریکیوں کو بہت زیادہ شکرگزار ہونا چاہیے کہ وہ یہ کہتا ہے۔ سوویت یونین میں پریس کو سرکاری خبررساں ایجنسی تاس کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے، جو کہ عالمی واقعات کو بہت پرلطف پیرائے میں بیان کرتی ہے:۔

ماسکو، تاس، سوویت سرکاری خبر رساں ایجنسی نے آج بتایا ہے کہ سوویت فوجی دستے پولینڈ، چیکو سلواکیہ، ہنگری، ایران، البانیہ، منگولیا، مصر، ناروے اور ساسکاتچیوان میں داخل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے یہ مداخلت مقامی تحاریک آزادی کی درخواست پر کی ہے جو کہ مغربی سرمایہ دار استعماری ڈنڈا بردار سامراجی غلاموں، جو کہ بیواؤں کو چھرے بھونکتے ہیں، بچے کھا جاتے ہیں، اور کتوں کو پتھر مارتے ہیں، کے خلاف لڑ رہی ہیں۔ تاس نے بتایا ہے کہ سوویت فوجیں اپنے ایٹمی طاقت سے چلنے والے ٹینکوں میں اس وقت تک مٹرگشت کرتی رہیں گی جب تک کہ یہ ممالک خطرے سے مکمل طور پر محفوظ نہیں ہو جاتے ہیں۔

میں تصور کر سکتا ہوں کہ روسی قوم تاس کو کتنا بڑا لطیفہ سمجھتی ہو گی۔ میں شرط لگا سکتا ہوں کہ کیسے وہ ہر صبح بے تابی سے اپنے اخبار کا انتظار کرتے ہوں گے تاکہ وہ سب کچھ جان سکیں جو کہ دنیا میں کہیں بھی نہیں ہو رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ان کے سسٹم کی ہمارے سسٹم پر ایک بہت بڑی برتری ہے۔ کیونکہ روسی حکومت ہمیشہ جھوٹ بولتی ہے، اس لیے لوگ ہمیشہ تاس کے بیان کی الٹ بات کو سچ جانتے ہیں۔

ہماری طرف صورتحال بہت پیچیدہ ہے۔ ہماری حکومت بھی بے تحاشا جھوٹ بولتی ہے، مگر وہ اخبارات کو بعینہ ایسے ہی جھوٹ چھاپنے پر مجبور نہیں کر سکتی ہے جیسا کہ ان سے بولا گیا ہوتا ہے۔ وقتاً فوقتاً کوئی سرپھرا رپورٹر سچ جاننے کی کوشش کر لیتا ہے، اور بسا اوقات وہ کامیاب بھی ہو جاتا ہے۔ سو آپ کافی یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ آپ جو کچھ بھی پڑھ رہے ہیں وہ جھوٹ ہے، لیکن روسیوں کی طرح آپ اس بات پر سو فیصد اعتماد نہیں کر سکتے ہیں۔

امریکی اخبارات کا صد فی صد قابل اعتبار سیکشن وہ ہوتا ہے جس میں ستاروں کی چال، موسم کا حال، معاشی پیش گوئیاں، سٹاک مارکیٹ کی خبریں وغیرہ ہوتی ہیں۔ یہ ہمیشہ ہی جھوٹی ہوتی ہیں۔

امریکی اخبارات کے ساتھ ایک بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ نہایت مثبت انداز میں نہایت بورنگ معاملات سے چپکے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہیلسنکی معاہدے کو لے ہیں۔ آپ بالکل بھی پروا نہیں کرتے ہیں کہ ہیلسنکی معاہدہ کیا بلا ہے، اور کوئی بھی نارمل شخص، بقائمی ہوش و حواس، اس کی پروا نہیں کر سکتا ہے۔ آپ امریکہ کے کسی بھی شراب خانے یا شاپنگ مال میں چلے جائیں تو آپ کسی کو یہ کہتے نہیں سن پائیں گے کہ ”ہیلسنکی مذاکرات کا کیا بنا دوستو؟“۔ لیکن اخبارات تو معمولی سی افواہ پر بھی اس پر ڈھیروں سطریں لکھنے پر تلے ہوئے ہیں۔

اسی طرح اخبارات کو دیوانگی کی حد تک صدارتی ترجمان اور پریس سیکرٹری کے بیانات شائع کرنے کا شوق ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی قابل فخر تاریخ میں آج تک کسی بھی پریس سیکرٹری نے کوئی ایسی بات نہیں کی جو کہ خبر سمجھی جائے۔ آپ خود سوچیں، اس کی تو جاب ہی یہی ہے کہ کسی کو معمولی سا شبہ بھی نہ ہو پائے کہ صدر امریکہ کیا سوچ رہے ہیں۔ اس کے باوجود ہر صبح واشنگٹن کے درجنوں رپورٹر پریس سیکرٹری کے دفتر میں پہنچ جاتے ہیں اور اس کا کہا ہوا ایک ایک لفظ لکھ ڈالتے ہیں۔ مثلاً

پریس سیکرٹری: میں بعض معاملات کی تصیح کرنا چاہتا ہوں جو کہ کل کے کچھ اخبارات میں شائع ہوئے ہیں جن میں مجھ سے یہ بیان منسوب کیا گیا ہے کہ صدر کا موڈ اس وقت خبردار قسم کے رجائیت کا ہے۔ میں نے یہ ہرگز بھی نہیں کہا تھا۔ میں نے کہا تھا کہ صدر کا موڈ اس وقت محتاط قسم کی رجائیت کا ہے۔

رپورٹر: کیا یہ صدر کے موڈ میں ایک تبدیلی ہے؟

پریس سیکرٹری: نہیں یہ تبدیلی کی بات غلط ہے۔ صدر محترم مسلسل دو دن سے محتاط رجائیت کے موڈ میں ہیں۔

اس وقت تک ایک عام شہری کو نیند میں مبتلا ہو جانا چاہیے۔ لیکن واشنگٹن کے رپورٹروں کا خیال ہے کہ یہ بہت دھماکہ خیز قسم کی خبر ہے۔ وہ کسی صدارتی اہلکار کی تلاش میں دوڑ بھاگ کریں گے جو کہ ان کو ایک کونے میں لے جا کر نہایت خفیہ انداز میں بتائے گا کہ صدر کا پریس سیکرٹری خواہ بے پر کی اڑا رہا ہے، حقیقت یہی ہے کہ صدر کا موڈ اس وقت پرامید قسم کی احتیاط کا ہی ہے۔

اگلے دن تمام اخبارات ایک مکمل اخباری صفحے کی خبریں شائع کریں گے جن میں صدر کے موڈ پر بات کی گئی ہو گی۔ تمام رپورٹر ان خبروں کو پڑھتے ہیں۔ صدارتی اہلکار انہیں پڑھتے ہیں۔ ان کے علاوہ ہر ایک شخص، جس میں صدر امریکہ بھی شامل ہیں، اس صفحے کو نظرانداز کر کے سیدھا کھیلوں کے صفحے کو کھولتا ہے۔

میرا خیال ہے کہ برطانوی اخبارات کی اپروچ بہتر ہے۔ وہ حکومت کے سرکاری اقدامات کو نظرانداز کر دیتے ہیں، ویسے برطانوی حکومت نے پچھلی نصف صدی میں کیا بھی کچھ نہیں ہے، اور ایک ایسی چیز پر فوکس کرتے ہیں جس میں پڑھنے والے کو دلچسپی ہوتی ہے، یعنی سیکس پر۔ اگر آپ برطانوی اخبارات کی شہ سرخیاں پڑھیں تو آپ کو یہی لگے کہ ممکنہ طور پر صرف ملکہ کے سوا، پوری برطانوی حکومت میں ہر شخص ہی جنسی جنونی ہے۔

”آٹھ ممبران پارلیمنٹ اپنے بستروں میں موجود برہنہ لال بیگ سمیت گرفتار“۔ یہ ایک ایسی خبر ہے جسے آپ بے تابی سے پڑھیں گے۔ میں امریکی اخبارات کے ریگن انتظامیہ کے بارے میں ایسی خبریں شائع کرنے کا متمنی ہوں۔

لیکن ہمیں حقیقت کا سامنا کرنا ہی ہو گا۔ ریگن انتظامیہ نہایت ہی بورنگ دکھائی دینے والے لوگوں سے بھری ہوئی ہے، ایسے لوگ جو کہ سرمایہ کاری کی فائلوں اور ان سے میچنگ پینسل اور ربڑ اٹھائے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر اخبارات یہ بتانے لگیں کہ یہ لوگ کیا کہتے ہیں تو پورا کا پورا ملک ہی صرف چند ہفتوں کے اندر اندر شدید گہری نیند میں مبتلا ہو جائے گا۔ لوگ اپنے دفتروں میں، گھروں میں، گاڑیاں چلاتے ہوئے، اور جہاز اڑاتے ہوئے سوئے پائے جائیں گے۔ پورا ملک برباد ہو جائے گا۔ اخبارات کو ان اعلی اہلکاروں کے بارے میں جنسی سکینڈل شائع کرنا اپنا قومی فریضہ سمجھنا چاہیے۔ انہیں جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ ایسا سچ لکھ سکتے ہیں:۔

واشنگٹن: نائب صدر جارج بش کے بیانات کا ایک عمیق تجزیہ کرنے سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ انہوں نے کبھی بھی اس بات سے عوامی طور پر انکار نہیں کیا ہے کہ انہوں نے ایک ہوٹل میں پورے دو ہفتے ایک گھاس کاٹنے والی مشین کے ساتھ بسر کیے ہیں۔ تصور کریں کہ یہ خبر کسی معتبر اخبار، جیسا کہ نیویارک ٹائمز، میں شائع ہوتی ہے۔ پورے ملک میں تہلکہ مچ جائے گا۔ لوگ ایک مرتبہ پھر نئے سرے سے سرکاری امور میں دلچسپی لینے لگیں گے۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar