افواہوں کے شہر کی دلہن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پولیس نے آکر صورت حال کو کنٹرول کیا۔ اس واقعے کو بنیاد بنا کر لیڈی ڈاکٹر کے خلاف محکمانہ درخواستیں دی گئیں۔ اخباروں میں خبریں لگوائی گئیں اس کے خلاف اشتہار چھپوا کر بازار میں تقسیم کیے گئے، دیواروں پر نازیبا کلمات لکھوائے گئے، حتٰی کہ اس کی محکمانہ انکوائری لگ گئی۔ اسی دوران میرا وہ دوست جسے دوست کہنا دوستی کی توہین کے سوا کچھ نہیں، مجھے ملا اور بڑی ڈھٹائی سے کہنے لگا کہ لیڈی ڈاکٹر میرے ساتھ اچھی ہو جائے تو میں درخواست دینے والوں کو منا لوں گا۔

وہ لیڈی ڈاکٹر میری کولیگ تھی اور مجھے ان نا مساعد حالات کا علم تھا جس میں وہ بیچاری بمشکل اپنی تعلیم مکمل کر پائی تھی۔ اس کی والدہ بچپن میں فوت ہو گئی تھی اور اس کے باپ نے دوسری شادی کرلی تھی۔ اس کی خالہ نے اسے پالا تھا اور تعلیم کا خرچ بھی برداشت کیا تھا۔ میں نے شہر کے کئی لوگوں سے بات کی اور مرنے والی عورت کے بھائی سے ملا۔ اس کو سمجھایا کہ اس کی بہن کی موت لیڈی ڈاکٹر کی غفلت کی وجہ سے نہیں ہوئی پھر بھی اس کو کچھ پیسے دیے کچھ منّت ترلا کیا۔ شکر ہے وہ مان گیا اور لیڈی ڈاکٹر کے خلاف دی گئی درخواست واپس لے لی۔

لیڈی ڈاکٹر کی تو کسی حد تک گلو خلاصی ہو گئی مگر میری جان شکنجے میں آگئی۔ افواہوں کا سارا زور اب میری ذات کے گرد گھومنے لگا۔ پہلے تو یہ افواہ اڑائی گئی کہ میں نے لیڈی ڈاکٹر سے ایک لاکھ روپے لے کر اس کی صلح کروائی ہے اور آدھے پیسے خود کھا گیا ہوں۔ کئی دنوں بعد یہ افواہ دم توڑ گئی تو میرے اور لیڈی ڈاکٹر کے معاشقے کی خبر چلا دی گئی۔ شہر میں جتنے منہ تھے اتنی باتیں۔ ان لوگوں کو شاید کوئی اور کام آتا نہیں تھا۔

یہ لوگ پیٹھ پیچھے لوگوں کی برائیاں کرنے کے ماہر تھے۔ میرے ناکردہ معاشقے کی خبر میرے خاندان تک پہنچادی گئی۔ پہلے پہل تو والدہ نے مجھے سمجھایا۔ پھر بھائی جان نے میری کلاس لی۔ یہیں پر بس نہیں ہوئی میرے ہونے والے سسرال تک میں کھلبلی مچ گئی۔ ابھی اسی سال تو میری یاسمین سے منگنی ہوئی تھی۔ ایک دن میری ہونے والی ساس باقاعدہ ہمارے گھر آئی اور اچھا خاصہ ہنگامہ کردیا۔ بات بڑھی تو یہ کہ کر منگنی توڑ دی کہ ہم نے تو شریف بچہ سمجھ کر رشتہ کیا تھا، یہ تو ایک نمبر کا بدمعاش نکلا۔ شکر ہے اس کے لچھن کھل کر سامنے آگئے۔

مجھے اس شہر کے لوگوں نے زچ کردیا تھا اور میں بوکھلا سا گیا تھا۔ ہر کسی سے لڑنے کو دل کرتا تھا۔ کوئی محبت سے ملنے آ بھی جاتا تو اسے جاسوس سمجھتا۔ لوگوں کی مسکراہٹ میں تصنع اور بناوٹ نظر آنے لگی۔ میں ہر کسی کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگا۔ دوست دشمن اور دشمن جانی دشمن لگنے لگے، راتوں کو ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھتا، نیند میں خلل آنے سے ذہن پر عجیب سا بوجھ پڑنے لگ گیا، جس کی وجہ سے روزمرہ کے افعال سرانجام دینا بھی مشکل ہو گیا۔

مریض دیکھتے دھیان کہیں اور چلا جاتا، دوائیوں کے نام تک بھول جاتا۔ ایک دن میں نے ٹھنڈے دل سے تمام معاملات پر غور کیا۔ میں اس نتیجے پر پہنچا کہ میری تکلیف کی واحد وجہ یہ شہر ہے۔ میں اگر یہ شہر چھوڑ دوں تو میری بہت سی مشکلات دور ہو جائیں گی۔ میں نے تبادلے کی محکمانہ درخواست دے ڈالی۔ میں نے فیصلہ کر لیا کہ اگر تبادلہ نہ ہوا تو چھٹی لے لوں گا یا پوسٹ گریجویٹ ایڈمشن لے لوں گا، جو بھی کرنا پڑا اس شہر نارسا سے نکل جاوں گا۔ میرا ڈائریکٹر معقول آدمی تھا اس نے پوری بات سننے کے بعد میرے تبادلے کا حکم جاری کردیا۔

اس شہر میں وہ میری آخری شام تھی۔ لیڈی ڈاکٹر نے مجھے چائے پر بلایا ہوا تھا۔ وہ بہت ممنون تھی۔ میں نے اس کی بہت مدد کی تھی۔ لیکن میرے انجام سے بہت آزردہ تھی۔ اسے میری منگنی ٹوٹنے کا بھی علم ہو گیا تھا۔ اس نے کہا مجھے افسوس ہے کہ میری وجہ سے آپ کو پریشانی آئی۔ آپ میری وجہ سے ناحق بدنام ہوئے۔ میں آپ کی مدد نہ لیتی اگر میرے سر پر کوئی میرا اپنا ہوتا۔ میرے ساتھ میری خالہ ہے جس نے مجھے پالا ہے، بس اور کوئی نہیں یا آپ ہیں۔

آپ جارہے ہیں مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے میرے سر سے چھت سرک رہی ہے۔ جیسے میری چادر کوئی چھین کر لے جا رہا ہے۔ کاش آپ۔ وہ کچھ کہتے کہتے رک گئی۔ اس کا چہرہ حیا کی سرخی سے بھر گیا۔ اس نے اپنی نمناک آنکھوں سے میری طرف دیکھا۔ ان آنکھوں میں التجا تھی۔ میں نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں جھانکا۔ گھنی پلوں کے نیچے وہ سیاہ آنکھیں میرے لئے بچھی جارہی تھیں۔ قدرت کو ہم دونوں پر ترس آ گیا تھا۔ محبت کا دیوتا ہم پر مہربان ہو گیا تھا۔ ثنا میری زندگی کا حصہ بن گئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •