خلائی خاوند

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں رہنے والے خلائی مخلوق سے تو واقف ہوں گے جس کا کافی زیادہ چرچا ر ہتا ہے۔ مگر میں آج آپ کو خلائی خاوند کے متعلق بتاوں گی۔ بچپن سے ہی خاوند نام کی چیز نہ ہو تے ہو ئے بھی ہم لڑکیوں کی زندگی میں شامل ہو تی ہے۔ ہمارے بیٹھنے سے لے کرہمارے جاگنے، بات کرنے، کپڑئے پہننے، سجنے سنوارنے، پسند نہ پسند تک سب میں ہی یہ خلائی خاوند صاحب شامل ہوتے ہیں۔

میں اپنا ذاتی تجربہ بیان کرتی ہوں کہ مجھے ساڑھی باندھنا بہت پسند ہے میرا دل چاہتا ہے کہ میں ساڑھی با ندھوں مگر میر ی اماں مجھے اجازت نہیں دیتی ہیں وہ کہتی ہیں کہ اپنے شوہر سے اجازت لینا اور پہن لینا شادی کے بعد۔ مطلب کہ شوہر ہو تو میں اجازت بھی لوں ابھی تو شادی بھی نہیں ہوئی مگر وہ موصوف میر ی زندگی میں نہ شامل ہو تے ہوئے بھی میر ی زندگی میں شامل ہیں۔

اگر کبھی ٹانگیں پھیلا کربیٹھ جاؤ تو کہا جاتا ہے کہ تمیز سے بیٹھا کرو اگلے گھر بھی جانا ہے۔ بندہ سوچتا ہے کہ اگلے گھر نے تو میرے اس گھر کا سکون و آرام بھی غارت کیا ہوا ہے اگر باہر گھومنے کی اجازت بھی مانگو تو یہی کہا جاتا ہے کہ شادی کے بعد جانا اپنے خاوند کے ساتھ مطلب کہ خاوند صاحب ہر جگہ ہر مو قع پر نہ ہوتے ہو ئے بھی مو جود ہو تے ہیں اور ہمکو نہ چاہتے ہو ئے بھی ان ”خلائی خاوند صاحب“ کی عزت کرنا پڑ تی ہے ہم لڑکیوں کو باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے کہ خاوند کی عزت کیسے کرنی ہے، اس کے سامنے تو بالکل اونچی آواز میں بات نہیں کرنی ہے اور ہم کو نہ چاہتے ہوئے بھی ان خاوند موصوف کی عزت کرنا پڑتی ہے۔

اگر کسی پروفیشن کا انتخاب کرنا ہو تو ضروری ہدایت دی جاتی ہے کہ ایسے شعبہ کا انتخاب کرنا جس میں آپ کے ہونے والے مو صوف خیالی خاوند کو کوئی اعتراض نہ ہو اب وہ خاص خیالی یا خلائی خاوند کی پسند نہ پسند کا ہمیں کیا معلوم۔ میری ایک کو لیگ نے میڈیا اس لئے چھوڑا ( حالانکہ وہ سکر ین پر بھی نہیں کام کرتی تھیں ) کہ اس کے خاندان کو خد شہ تھا کہ میڈیا میں ہونے کی وجہ سے اس کا کوئی اچھا ر شتہ نہیں آ رہا کیو نکہ لڑکے میڈیا میں کام کرنے والی لڑکی کو ”عزت دار“ نہیں سمجھتے اور اس لئے اس کو لیکچرار شپ کی طر ف بھیج دیا گیا کیو نکہ ان کو سو فیصد یقین تھا کہ اس کے ہونے والے خاوند موصوف کو اس شعبہ میں کام کرنے پر اعتراض نہیں ہو گا کیوں کہ ٹیچنگ بہت ہی معزز شعبہ ہے کوئی کیسے اس پر اعتراض کرسکتا ہے۔

یہ تو ہوگئی ہم لڑکیوں کی کہانی۔ دوسری طرف لڑکوں کے لئے معاملہ بالکل ہی الٹ ہو تا ہے لڑکیوں کو تو تمیز سکھائی جاتی ہے کہ اگلے گھر جانا ہے کسی اگلے کی زندگی میں جانا ہے مگر لڑکوں کو یہ بات نہیں بتا ئی جاتی ہے کہ کسی نے تمہارے گھر بھی آنا ہے وہ لڑکی اپنا سب کچھ چھوڑ کرتمہارے گھر آئے گی اس کے ساتھ اچھا سلو ک کرنا۔ اس کے کچھ ادھورے خواب ہو نگے ان کو پورا کرنے کی کو شش کرنا اس کی کچھ ان کہی خواہشیں ہو نگی ان کا احترام کرنا اس کا بھی ایک دل، ایک د ماغ اور سب سے بڑ ہ کرایک عدد زبان ہو گی اس کو بو لنے، سو چنے، سمجھنے، اور سب سے بڑھ کراختلاف رائے کا حق د ینا اور اسے ایک انسان سمجھنا جو سب سے ضروری ہے۔

مگر افسوس ان کی تربیت میں یہ تمام باتیں شامل نہیں ہو تیں ہیں بلکہ ان کی تربیت میں تو حاکمیت، ضد، انا، کو شامل کیا جاتا ہے بلکہ انکی زیادہ تر توجہ جہیز میں ملنے والے بڑے ٹی وی، فر یج، گاڑی، مو ٹر سائیکل، ماں بہنوں کے لئے آنے والے سونے کے زیورات کی طر ف کروائی جاتی ہے پاکستانی ایک فلم ”لوڈ ویڈنگ“ کا ڈائیلاگ ہے نہ کہ ”مرد جتنا بھی غیرت مند ہو سوتا وہ جہیز کے بستر پر ہے“

سچی بات بتاوں ہم لڑکیوں کو خلائی خاوند کا ہمارے جہیز کے بیڈ پر سو نے پر بالکل بھی اعتراض نہیں ہے کیوں کہ ہم کو جہیز ہمارے لئے کم اور ہمارے خاوند موصوف کے لئے زیادہ دیا جاتا ہے اور ہم تو اس معاشرے میں رہتیں ہیں جہاں بیٹیوں کو جائیداد میں حصہ نہیں دیا جاتا مگر جہیز ضرور دیا جاتا ہے اور کبھی جائیداد میں حصہ مانگ بھی لیں تو باپ بھائی کی غیرت کو ایسی ٹھیس پہنچتی ہے کہ بیان سے باہر ہے اس لئے جہیز لے کرہم لڑکیوں کو لگتا ہے کہ ساری زندگی میکے میں آنکھ اٹھا کر آسکتی ہیں کہ بھائی جہیز ہی تو لیا ہے کو نسا جائیداد میں حصہ۔

خیر اس بحث کو سمیٹتے ہیں اور اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ جس طر ح ہم لڑکیوں کو بچپن سے خلائی خاوند سے متعارف کروایا جاتا ہے اس طر ح لڑکوں کو بھی جہیز سے آزاد کروا کرایک جیتی جاگتی ”خلائی زوجہ“ سے متعارف کروایا جائے تو یہ دونوں ایک دوسرے کو میاں بیو ی کے بو جھ سے آزاد ہو کرانسان سمجھنا شروع کردیں گے اور دونوں کی ہی زند گی سہل ہو جائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •